بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
(67:1) تبارک : ماضی واحد مذکر غائب تبارک (تفاعل) مصدر۔ وہ بہت برکت والا ہے، وہ بڑی برکت والا ہے، مخاطب کا تبارکت بھی آتا ہے صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے اسی لئے بعض لوگ اسے اسم فعل بتاتے ہیں۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الٰہی ثابت ہونا کے ہیں۔ آیت ہذا میں تنبیہ کی ہے کہ وہ تمام خیرات جن کو لفظ تبارک کے تحت ذکر کیا ہے ذات باری تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہے۔ الذی بیدہ الملک : الذی اسم موصول۔ الملک مبتدائ، بیدہ خبر، دونوں مل کر موصول کا صلہ اور یہ سارا جملہ مل کر فاعل ہے تبارک کا۔ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (دارین کی) بادشاہت ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر۔ واؤ عاطفہ، جملہ کا عطف صلہ بیدہ الملک پر ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Top