بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Baseerat-e-Quran - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ بڑی برکتوں والا ہے جس کے ہاتھ میں (پوری کائنات کی) سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم چھپائو۔ تشریح : اس سورت میں اللہ کی ذات، صفات اور قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہر طرح کی برکتوں، عظمتوں اور تمام بھلائیوں اور کائنات میں ہر طرح کے اختیارات کا مالک ومختار ہے۔ اسی نے زندگی اور موت کو پیدا کیا ہے اور زندگی اور موت کے درمیانی وقفہ کو انسان کی آزمائش بنادیا ہے تاکہ اس آزمائش اور امتحان کے ذریعہ یہ دیکھا جاسکے کہ کون زیادہ حسن عمل پیش کرتا ہے اور کون اپنے گناہوں کا بوجھ لے کر میدان حشر میں پہنچتا ہے۔ اسی کی ساری طاقت و قوت ہے وہ دینے پر آئے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا اور نہ دے تو کوئی اس کو مجبور نہیں کرسکتا۔ وہی ہر ایک کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ یہ کائنات اسی نے بنائی ہے وہی اس کا اتنظام سنبھالے ہوئے ہے۔ اسی نے اوپر تلے سات آسمان اس طرح بنائے ہیں کہ انسان جب بھی ان کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھے گا اس میں بار بار غوروفرک کرے گا تو وہ کہہ اٹھے گا کہ واقعی اللہ کا ایک مضبوط نظام ہے جس میں کہیں بدنظمی، بےترتیبی اور بےربطی نہیں ہے۔ اس میں کہیں کوئی فرق اور شگاف محسوس نہ کرسکے گا۔ وہ ان آسمانوں اور زمین کی خود حفاظت کرتا ہے۔ اسی نے چاند، سورج اور ستاروں کی روشنی سے آسمان کی اس طرح سجا کر ہر طرف حسن و خوبصورتی کو بکھیردیا ہے کہ کہیں ویرانی نظر نہیں آتی۔ غیب کی خبریں حاصل کرنے کے لئے اگر جنات اور شیاطن آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر جلتے انگاروں (شہاب ثاقب) کی بارش کردی جاتی ہے جس سے ان کو آسمانوں سے دور بھگا دیا جاتا ہے۔ کفار و مشرکین کے سادہ زہن رکھنے والوں کو کاہن اپنے اندازوں سے جھوٹی سچی باتیں ملا کر بیان کرتے اور عام لوگ ان پر یقین کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جنات اور شیاطین اول تو آسمانون تک پہنچ ہی نہیں سکتے لیکن اگر وہ کسی طرح آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں تو شہاب ثاقب ان کی خبر لینے کے لئے تیار رہتے ہیں جن کے ذریعہ ان کو آسمانوں سے بھاگنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج یہ کاہن دنیا کی ادنیٰ دولت کمانے کے چکر میں لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب ان کاہنوں اور شیاطین اور جنات کو جہنم کے قریب پہنچایا جائے گا۔ وہ جہنم ان شیاطین اور کاہنوں کو دیکھ کر ایسی دہشت ناک اور ناپسندیدہ آواز نکالے گی کہ جیسے وہ غصہ سے پھٹ پڑے گی۔ اس وقت ان پر ایک ہیبت سوار ہوگی کیونکہ جہنم کا غصہ سے چلانا اور بھڑکتی آگ ان کے ہوش ٹھکانے لگا دے گی۔ اس وقت فرشتے ان سے پوچھیں گے کیا آج کے دن کے عذاب سے ڈرانے والے اور خبردار کرنے والے پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کے پیغمبر ہمارے پاس آئے تھے انہوں نے ہمیں اس دن کے عذاب سے ڈرایا بھی تھا مگر ہم نے ان کی بات کو اہمیت نہ دی۔ ہم نے ان کو جھٹلایا اور یہاں تک کہہ دیا کہ یہ سب کچھ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو اللہ نے تو ایسا کوئی حکم نازل نہیں کیا۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ تم خود ہی بھٹکے ہوئے لوگ ہو۔ وہ کفار و مشرکین بڑی حسرت، ندامت اور ناامیدی کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم ان کی بات سن کر اس کو قبول کرلیتے تو آج یہ جہنم کی آگ اور رسوائی نصیب نہ ہوتی۔ جب یہ کفار و مشرکین اپنے کئے ہوئے جرم کا اعتراف کرلیں گے تو اللہ کے حکم سے فرشتے ان کو گھسٹیتے ہوئے اس جہنم کی طرف لے جائیں گے جس میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ دوسری طرف اللہ کے وہ نیک بندے ہوں گے جنہوں نے اللہ کے پیغمبروں کی بات مان کر خوف الٰہی کے ساتھ محتاظ زندگی اختیار کر ہوگی ان سب کو جنت کو راحتیں، اللہ کی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم عطا کیا جائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ ہر شخص کو حسن عمل پیش کرنا چاہیے اور اپنے دلوں میں خوف الٰہی کی قندیلوں کو روشن رکھنا چاہیے وہ ہر چیز کا خالق ہے اسے ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے کوئی کسی بات کو کھلم کھلا کہے یا چھپا کر کہے اس سے کوئی بات اور کوئی جذبہ پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک پہنچ کر دیکھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے۔
Top