بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Dure-Mansoor - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (پوری کائنات کی) بادشاہی ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے
اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کو پیدا کیا ہے تاکہ تمہارے اعمال کی آزمائش ہو سکے 2 ؎ زندگی کو حیات یا حیات کو زندگی کہنا تو روا بھی ہے اور جائز و درست بھی اور یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے سے کیا مطلب ہے اور یہ بات کہ موت بھی مخلوق ہے اور اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ ذرا سمجھنا اس کا مشکل ہے لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ موت چیز کیا ہے تو اس طرح کی ساری مشکل ہوا ہوجاتی ہے۔ اگر زندگی کا سمجھنا مشکل نہیں تو موت کا سمجھنا کیوں مشکل ہے ؟ زندگی ہے تو امر الٰہی ہے اور موت ہے تو الٰہی ہے ۔ گویا امر ہی کا نام زندگی ہے اور امر ہی کا نام موت ہے۔ پھر ایک کو سمجھنا آسان ہو اور دوسری کو سمجھنا مشکل ، آخر کیوں اور کیسے ؟ ذرا مزید غور کریں کہ اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا کیا یہ سب زندگی کے نشانات ہیں اور اس کا نام زندگی ہے تو پھر جب کوئی آدمی اٹھ نہ سکے ، نہ بیٹھ سکے ، نہ چل سکے اور نہ پھر سکے ، نہ کھا سکے اور نہ ہی پی سکے تو یہ سب کچھ موت ہے۔ اگر کسی نے اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا دیکھنا ہے تو کیا نہ اٹھنا ، نہ بیٹھنا ، نہ چلنا ، نہ پھرنا سے ناواقف ہے۔ پھر جو کہتا ہے کہ زندگی تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی تخلیق ہے لیکن موت کی سمجھ نہیں آتی کہ یہ مخلوق ہے اور یہ کہ اگر مخلوق ہے تو کیسے ؟ حالانکہ زندگی بعد میں ہے اور موت زندگی سے پہلے کیونکہ عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد موت تو پھر عدم کیا ہے ؟ موت کا دوسرا نام عدم ہے۔ زیر نظر آیت پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے موت کی تخلیق کا پہلے ذکر فرمایا اور زندگی یا حیوۃ کی تخلیق کا بعد میں اور دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد اس طرح فرمایا گیا ہے کہ : کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَـاَحْیَاکُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ( 2 : 28) ” اے افرادنسل انسانی ! تم کس طرح اللہ تعالیٰ سے انکار کرسکتے ہو جب کہ حالت یہ ہے کہ تمہارا وجود نہ تھا یعنی تم مردہ تھے ، اس نے تم کو زندگی بخشی اور پھر وہی ہے جو زندگی کے بعد موت طاری کرتا ہے اور موت کے بعد دوبارہ زندگی بخشے گا اور بالآخر تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے “۔ وضاحت اس کی عروۃ الوثقیٰ جلد اول میں سورة البقرہ کی محولہ آیت میں ملے گی ۔ اس جگہ مقصود بیان یہ ہے کہ جس چیز کو اس آیت میں موت کہا گیا ہے وہی زیر نظر آیت میں عدم ہے گویا عدم کہو یا موت کہو مقصود دونوں کا ایک ہے اور موت پہلے ہے زندگی بعد میں اور پھر موت بھی اس کا راز ہے اور زندگی بھی اس کا راز اور موت و زندگی کا راز ہی انسان کو یہ بتاتا ہے کہ اس کا اور ہرچیز کا گویا ایک خالق ہے۔ فرمایا یہ موت کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد موت اور پھر زندگی کیوں ؟ خود ہی اس کا جواب بھی ارشاد فرمایا کہ تمہاری انسانوں کی آزمائش کے لیے کہ تم میں کون اچھے اعمال کرتے ہے اور کون ہے جو اچھے اعمال نہیں کرتا اور اس طرح یہ بھی واضح کردیا کہ دنیا کی کسی چیز سے اس کا مواخذہ نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے ، اور کون ہے جو اچھے اعمال نہیں کرتا اور اس طرح یہ بھی واضح کردیا کہ دنیا کی کسی چیز سے اس کا مواخذہ نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے ، اس مواخذہ کا مستحق بھی صرف اور صرف انسان ہی ہے اور اسی کے لیے یہ آزمائش ہے اور یہ بات پیچھے بہت سی جگہوں پر عرض کی جا چکی ہے کہ اس ساری کائنات کی تخلیق کا ماحصل انسان ہے کیونکہ جو کچھ اس میں پیدا کیا گیا ہے سب کا سب انسانوں ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہی اس سے استفادہ کرتے ہیں اور کسی چیز کے پیدا ہونے سے اس چیز کا کوئی فائدہ نہیں ہے خواہ وہ تمہاری یہ زمین ہے اور خواہ اس کے علاوہ دوسری زمینیں ۔ اس طرح خواہ سورج اور خواہ چاند اور خواہ دوسرے سیارے اور اس طرح اس کائنات کی ایک ایک مخلوق پر غور کرتے جائو سب کے سب بولتے جائیں گے اور ہر طرف سے تم کو آواز آئے گی کہ میرے ہونے سے میرا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے جو فائدہ ہے سراسر انسان کا ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ وہ العزیز ہے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی اس کے سامنے ایسا نہیں جس کا اس کے سامنے زور چلے ۔ وہ سارے زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے۔ اس لیے کوئی ایسا نہیں کہ اس کو وہ پکڑ نہ سکے اور اسی طرح کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کی پکڑ سے بچ سکے۔ اس کے لیے صفت غفور کا ذکر کر کے وضاحت فرما دی کہ جو لوگ اس کے قانون کے مطابق اس کی مغفرت کے مستحق ہوں گے ان کی وہ مغفرت فرما دے گا اور وہ کسی دوسرے کی سعی و سفارش کے بغیر ہی اس بخشش کے حق دار ہوں گے۔ آگے چلنے سے پہلے ایک بار پھر مختصر وقت کے لیے اس پر مزید غور و فکر کرتے چلیں کہ اگر کوئی انسان سچے دل اور صحیح اور درست نیت کے ساتھ صرف اور صرف آیت کے اس حصہ پر غور کرے کہ : ( لیبلوکم ایکم احسن عملاً ) تو اس کو دوسری کسی بات پر سوچنے کی ضرورت ہی شاید نہ رہ سکے کیونکہ جس دل میں یہ احساس پختہ ہوجائے کہ یہ دنیا اس کے لیے امتحان گاہ ہے اور یہ حیات مستعار ہے اس کے لیے امتحان کی مدت ہے جو مقرر کردی گئی ہے اور امتحان لینے والا وہ ممتحن (Examiner) ہے جس نے یہ کارخانہ بنایا ہے اور اس کا انتظام اب بھی اسی کے اپنے دست قدرت میں ہے اور انسانوں کی ایک ایک حرکت سے وہ واقف ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کے علم سے باہر ہو اگر یہ یقین پیدا ہوجائے تو کم از کم وہ شخص جس کو یقین حاصل ہو وہ تو کمی بیشی کر ہی نہیں سکتا اور نہ اس کی رغبت کسی گناہ کے کام کی طرف ہو سکتی ہے۔ پھر اگر کوئی کمزوری اس سے سرزد ہو ہی جائے تو وہ فوراً توبہ کرتا ہے اور جب وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں جو توبہ قبول کرنے والا ہو۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کی جس طرح تربیت فرمائی انہی بیانات میں سے ایک بیان مختصر طور پر آپ بھی سنیں لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” اپنی صحت کی حالت میں بیماری کے لئے ، اپنی جوانی کی حالت میں بڑھاپے کے لئے ، اپنے فرصت کے اوقات میں مصروفیت کے لئے اور جب تک یہ مستعار زندگی ہے موت کے لئے ذخیرہ جمع کرلو۔ اس لئے کہ تو نہیں جانتا کہ کل تیرا کیا نام ہوگا “ آپ ﷺ نے یہ نصیحت عبد اللہ بن عمر ؓ کو فرمائی تھی لیکن نصیحت کوئی بھی ہو وہ سب کو برابر فائدہ پہنچاتی ہے جو اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔
Top