بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Saadi - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
(تبارک الذی بیدہ الملک) یعنی وہ ہستی بہت عظمت والی اور بلند ہے اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات، مثلا آسمان اور زمین کو وجود بخشا اور آیت (خلق الموت والحیوۃ) ، اس نے موت وحیات کو پیدا کیا، یعنی اس نے اپنے بندوں کے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے پھر موت سے ہم کنار کرے (لیبلوکم ایکم احسن عملا) تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحب اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو پیدا کرکے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انہیں یہ بھی بتادیا کہ انہیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا ان کو اوامر ونواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا پس جس کسی نے اللہ کے اوامر کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تو اللہ اسے دنیا وآخرت میں بہترین جزادے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے (وھوالعزیز) تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے (الغفور) وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے خاص طور پر جب وہ توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کریں وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔ (الذی خلق سبع سموات طباقا) یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا (ماتری فی خلق الرحمن من تفوات) تم رحمن کی تخلیق میں کوئی بےربطی نہیں دیکھو گے، یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاط سے نفی ہوگئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیبت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں چونکہ ان کا کامل معلوم ہے اس لیے اللہ نے ان کو یار بار دیکھنے اور ان کو کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے (فارجع البصر) عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے اس پر دوبارہ نگاہ ڈال (ھل تری من فطور) کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے ؟ (ثم ارجع البصر کرتین) ۔ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ باربار۔ اس سے مراد کثرت تکرار ہے (ینقلب الیک البصر خاسا وھوحسیر) ، نظر (ہربار) تیرے پاس ناکام اور تھک کرلوٹ آئے گی، یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بےانتہاء خواہش رکھتی ہو، پھر اللہ تبارک وتعالی نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا، چناچہ فرمایا۔
Top