بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
تبارک۔ یہ لفظ برکت سے ماخوذ ہے ‘ برکت اس زیادتی کو کہتے ہیں جو زیادتی والے کے کمال پر دلالت کرتی ہے اور مقتضی نقصان نہیں ہوتی۔ مخلوق کی صفات میں نقص ہونا لازم ہے ‘ اس لیے وہ کمال وصفی جس پر لفظ تبارک دلالت کر رہا ہے صفات مخلوق سے بالکل منزہ ہوگا (گویا تبارک کا معنی ہوا تعالیٰ اور تنزہ) اللہ پر تمام اسماء وصفی کا اطلاق محض نتائج کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ مبادی ساقط الاعتبار ہوتے ہیں (مثلاً اللہ کا ایک اسم وصفی رحمن ہے۔ رحمت کا معنی ہے ایسا میلان نفس جس کا نتیجہ مہربانی اور احسان ہو میلان نفس مبدء احسان ہے اور احسان میلان نفس کا نتیجہ اور ظاہر ہے کہ اللہ نفس اور نفسانیات سے پاک ہے اس لیے اس کی ذات میں میلان نفس ہونے کا احتمال ہی نہیں میلان نفس تو حقیقت میں نفس کا تاثر ہوتا ہے۔ کسی قرابت ‘ دوستی یا اور کسی قسم کے تعلق کے زیر اثر دل میں رقت اور جھکاؤ پیدا ہوتا ہے اس رقت اور جھکاؤ کا تقاضا ہوتا ہے کہ جس کو دیکھ کر تاثر ہوا ہے اس کے ساتھ مہربانی کی جائے۔ اللہ میں تاثر کہاں ممکن ہے۔ اثر پذیری ‘ کمزوری اور عجز کی نشانی ہے اور اللہ نہ عاجز ہے نہ ضعیف۔ اس لیے اللہ پر لفظ رحمان کا اطلاق اس اعتبار سے نہیں کہ اس کے اندر میلان نفس پیدا ہوتا ہے بلکہ اس کے رحمن ہونے کا معنی یہ ہے کہ میلان نفس کا جو نتیجہ ہوتا ہے اور جو نفسانی میلان کا (انسان میں) باعث ہوتا ہے یعنی احسان اور مہربانی وہ اللہ میں متحقق ہے ‘ پس اللہ رحمن ہے یعنی محسن ہے ‘ منعم ہے ‘ فضل کرنے والا ہے۔ یہی حالت اللہ کے بابرکت ہونے کی ہے۔ برکت کا معنی ہے زیادتی جس کا تقاضا متبرک کا کمال وصفی اور ہر نقص سے تنزہ ہے۔ اللہ کی شان میں زیادتی مقداری نہیں بلکہ مرتبہ اور تنزہ کی ہے۔ پس اللہ صاحب برکت ہے (یعنی بزرگ ‘ شان و الا اور مشابہت مخلوق سے پاک ہے) اور جس طرح دوسرے عظمت ظاہر کرنے والے صیغے (مثلاً کَبِیْرٌ‘ عَظِیْمٌ‘ مَتَعَالی) اللہ کے کمال وصفی پر دلالت کرتے ہیں ‘ اسی طرح یہ لفظ بھی اس کی بڑائی کو ظاہر کرتا ہے۔ الذی بید الملک . لفظ ” ید “ متشابہات میں سے ہے کیونکہ اللہ جسمانی مادی ہاتھ نہیں رکھتا۔ علماء متاخرین نے ید کی تفسیر قدرت سے کی ہے (یعنی اسی کے قبضہ وقدرت میں ملک ہے) ملک یعنی ہر چیز پر اقتدار اور ہر شے پر تصرف۔ وھو علی کل شیء قدیر . یعنی جس چیز کو وہ چاہے اس پر پردہ قدرت رکھتا ہے۔ (مراد یہ ہے کہ شئ اگرچہ مصدر ہے لیکن اس جگہ اسم مفعول کا معنی مراد ہے یعنی مشئی کے معنی میں ہے مشئی سے مراد ہے وہ چیز جس کو اللہ چاہتا ہے۔ اس صورت میں یہ لفظ معدومات ممکنہ کو شامل ہے اور محال کو شامل نہیں کیونکہ محال واقعی وہی ہوتا ہے جس پر نہ ممکن کو قدرت ہوتی ہے ‘ نہ واجب کو (جیسے اللہ کی صفات کمالیہ کا سلب ‘ ذاتِ الٰہی کا فناء وغیرہ) جس چیز کا اللہ ارادہ کرے اس کو کوئی دفع نہیں کرسکتا اس لیے اس کے سوا کسی سے امید و بیم رکھنا جائز نہیں۔ اس آیت میں گویا اللہ کے وجود ‘ اس کے کمال وصفی اور ہر نقص سے پاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور دعوے کا تقاضا ہے کہ دلیل بیان کی جائے اس لیے بعد کو آنے والی آیات کو بطور دلیل ذکر فرمایا۔ دعوئے مذکور کے ثبوت کی کچھ نشانیاں تو خود انسانوں میں موجود ہیں یعنی موت وحیات کی پیدائش ‘ کچھ آسمانوں میں موجود ہیں یعنی آسمانوں کی تخلیق کی ہم آہنگی اور ان کے اندر کسی رخنہ کا نہ ہونا ‘ کچھ زمین میں موجود ہیں یعنی زمین کا قابل سکونت ہونا ‘ کچھ زمین کی پیداوار میں موجود ہیں یعنی (زندہ مخلوق کا) رزق (جو بقائے حیات کا سبب ہے) اور پرندوں کے قطار در قطار جھنڈ۔ ان چیزوں کا ذکر تو بطور دلیل کیا گیا ہے (اس سے اللہ کی قدرت ‘ اس کی صفات کاملہ ‘ اس کی ہستی اور اس کا بےعیب ہونا ثابت ہوتا ہے) درمیان میں ذیلی 1 ؂ طور سے ان کافروں کے عذاب کا بھی تذکرہ کردیا ہے جو نہ صداء حق سنتے ہیں ‘ نہ دلائل و آیات کو سمجھتے ہیں اور ان اہل ایمان کے ثواب کو بھی بیان کردیا ہے جو اللہ کا خوف رکھتے اور براہین و شواہد کے مطالعہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں ‘ فرمایا :
Top