بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
” منزہ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ میں (سب جہانوں کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے “۔ تبرک یہ برکت سے تفاعل کے وزن پر ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی تقدس ہے یعنی وہ پاک ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہمیشہ رہنے والا ہے پس وہ ایسا دائم ہے جس کے وجود کا اول نہیں اور اس کے دوام کا آخر نہیں۔ الذی بیدہ الملک دنیا و آخرت میں زمین و آسمان کی بادشاہی اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے قبضہ قدرت میں بادشاہی ہے، جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت عطا فرماتا ہے، وہ زندگی عطا کرتا ہے، وہ موت عطا کرتا ہے، وہ غنی کرتا ہے، وہی فقر دیتا ہے، وہ عطا فرماتا ہے، وہی روک لیتا ہے۔ محمد بن اسحاق نے کہا : اسی کے قبضہ قدرت میں نبوت کی بادشاہی ہے جس کے ساتھ اتباع کرنے والوں کو عزت عطا فرماتا ہے اور مخالفت کرنے والوں کو ذلت دیتا ہے (2) ۔ وھو علی کل شی قدیر (1) وہ انعام کرنے اور انتقام لینے پر قادر ہے۔
Top