بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
1۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں تو تمام ملک عرب و عجم ان کا فرماں بردار ہوجاوے۔ ان لوگوں نے جب آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ آخر وہ کیا بات ہے ‘ ذرا کہو تو سہی ‘ تو آپ نے ان کے رو برو کلمہ توحید پڑھا کلمہ توحید سن کر سب اجعل الاٰلھۃ الھا واحدا اور وماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ ترمذی اور حاکم نے اس شان نزول کی حدیث کو صحیح کہا ہے۔ مجلس سے اٹھتے وقت جو لفظ ان مشرکوں نے کہے ان کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے اپنے بڑوں سے یہ نہیں سنا کہ ان بتوں کو چھوڑ کر خاص اللہ کی عبادت کی جاوے اس واسطے اس نصیحت کو ہم ایک بنائی ہوئی بات جان کر اپنے ٹھاکروں کی پوجا پر ہم تو جمے ہوئے ہیں۔ مکہ کے قحط کے وقت ان ٹھاکروں کی بےبسی کا حال جو معلوم ہوا۔ اس سے یہ لوگ اپنے بڑوں کی اور اپنی غلطی کو سمجھ سکتے تھے۔ چناچہ کئی بار یہ بات ان کو جتلائی گئی ہے۔ اس لئے ان آیتوں میں ان لفظوں کا کچھ جواب نہیں فرمایا۔ ص حروف مقطعات میں سے ہے جن کی تفسیر سورة بقر میں گزر چکی ہے۔ باقی کی آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اس قرآن صاحب نصیحت کی قسم ہے کہ ان مشرکین مکہ کا قرآن جھٹلانا مال داری کے غرور اور سرکشی کے سبب سے ہے۔ نہیں تو یہ لوگ اللہ کے رسول کو بچپنے سے جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے کہیں جا کر کچھ پڑھا نہیں بالکل ان پڑھ ہیں پھر ان پڑھ آدمی اس طرح کا کلام کیونکر بنا سکتا ہے جس کی فصاحت انسان کی طاقت سے باہر ہو پچھلے انبیاء اور امتوں کے قصے اس میں ایسے ہوں کہ جن کو سوائے اہل کتاب کے کوئی نہیں جانتا۔ غیب کی خبریں اس میں ایسی سچی ہوں کہ جس طرح آنکھوں سے دیکھ کر چیز کو کوئی بیان کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے۔ کہ ان پڑھ نبی پر یہ قرآن اترا ہے۔ اور باتیں اس قرآن میں وہ ہیں کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلا سکتے پھر اب اس بات کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ کلام الٰہی نازل ہوا ہے۔ وہ اللہ کے رسول ہیں اس واسطے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ ہر ایک نبی کی امت کے ایمان لانے کے موافق ہر نبی کو معجزہ دیا گیا ہے۔ اور مجھ کو اور معجزوں کے علاوہ قرآن کا ایک معجزہ ایسا دیا گیا ہے۔ جس سے مجھ کو امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب امتوں سے زیادہ ہوں گے۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح کی سمجھ میں آجانے کی باتوں کے سمجھانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ کلام الٰہی اور اللہ کے رسول کے جھٹلانے سے باز نہ آویں گے تو ان سے پہلے کے ایسے لوگوں کا جو انجام ہوا وہی ان کا ہوگا صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ کہ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا۔ جس میں بڑے بڑے کلام الٰہی اور اللہ کے رسول کے جھٹلانے والے بڑی ذلت سے مارے گئے۔ اور مرتے ہی عقبٰے کے عذاب میں گرفتار ہوگئے۔ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو اللہ کے وعدہ کو تم نے سچا پا لیا۔ پھر فرمایا یہ لوگ اللہ کے رسول کو جھوٹا اور جادوگر قرار دے کر یہ جو کہتے ہیں۔ کہ اللہ کا کلام انسان پر نہیں اتر سکتا۔ قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو اس کو کوئی فرشتہ ہمارے پاس لاتا۔ اس کا جواب ان کو کئی جگہ سمجھا دیا گیا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا ان کی طاقت سے باہر ہے۔ اس لئے کوئی فرشتہ بھی ان کے پاس قرآن لے کر آتا۔ تو ضرور انسان کی صورت میں آتا۔ باقی آیتوں کا مطلب وہی ہے۔ جو شان نزول میں بیان کیا گیا۔ (1 ؎ جامع ترمذی شریف تفسیر سورة ص ‘ ص 178 ج 2) (1 ؎ صحیح بخاری باب کیف نزل الوحی ص 744 ج 2) (2 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد ہذا ص 22)
Top