بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Saadi - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
آیت 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لئے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھا دی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کردیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے (عزۃ و شقاق) ” غرور، مخالفت “ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انہوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لئے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کے مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آپہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے، لیکن (لات حین مناص) ” وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔ “ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں تھا۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوگا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ : (آیت) ” یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کرسکیں اور اسے پہچان لیں جیسے کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس کا اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کا اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انہوں نے انکار کرنے والے پر تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا : (ھذا سحر کذاب) ” یہ جادو گر اور نہایت جھوٹا شخص ہے “ ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلا شبہ (اجعل الالھۃ الھا واحداً ) ” اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا۔ “ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہم سر سبنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلصا کا حکم دیتا ہے۔ (ان ھذا) ” یقیناً یہ “ جسے وہ لے کر آیا ہے (لشی عجاب) ” البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔ “ یعنی انکے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ (وانطلق الملا منھم) یعنی اشرفا قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے (ان امشوا واصبروا علی الھتکم) یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمہیں ان کی عبادت سے روک نہ دے (ان ھذا) یہ جو محمد ﷺ بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں (لشی یراد) ” یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔ “ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لئے ہے۔ اس کی دعوت کو صرف ان دلائل وبراہین کے ذریعے سے رد کیا جاسکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کرسکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لئے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمہارے سردار، تمہارے بڑے اور تمہارے قائد بن جائیں۔ (ماسمعنا بھذا) یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا (فی الملۃ الاخرۃ) ” پچھلے مذہب میں۔ “ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پ اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمہارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے، کیونکہ انہوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لئے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباؤ و اجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو (انزل علیہ الذکر من بیننا) ” کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے ؟ “ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لئے مختص کرتا ہے ؟ یہ بھی باطل شبہ ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لئے کون سی دلیل ہے ؟ کیا تمام انباء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انہیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لئے درست نہیں، اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بیشک وہ (فی شک من ذکری) ” میری نصیحت (کتاب) کے بارے میں شک میں ہیں۔ “ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں۔ جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہوگئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آگیا اور وہ اپنے شک پر قائم رہے، تب انہوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لئے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا :: (آیت) ” انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزا نہیں چکھا۔ “ انہیں ایسی باتیں کہنے کی اس لئے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب کا عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جراأت نہ کرتے۔ : (آیت) ” کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے میں “ کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کردیں ؟ کیونکہ ان کا قول ہے : (آیت) ” کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کردیا گیا “ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے جو ان کے قبضہ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر قرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کرسکیں۔ : (آیت) ” یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان کی حکومت ہے “ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں : (آیت) ” تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں “ جو انہیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کردیں۔ یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں ؟ کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے ؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہوگا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہوگی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔ “
Top