بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Al-Qurtubi - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
1 ۔ 3:۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم عام قراءت دال کی جزم کے ساتھ وقف کی صورت میں ہے کیونکہ یہ حروف تہجی میں سے ایک ہے جس طرح الم اور المر ہے۔ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت حسن بصری ‘ ابن اسحاق اور نصر بن عاصم نے صاد پڑھا ہے یعنی دال کے نیچے کسرہ ہے اور تنوین نہیں۔ اس کی قراءت کی وجہ سے دو مذہب ہیں : (1) یہ صادی یصادی سے مشتق ہے جب یہ عارض کے معنی میں ہو اسی سے فانت لہ تصدی۔ ) عیس ( ہے یعنی تو اس کا سامنا کرتا ہے مصادۃ کا معنی معارضہ ہے اسی سے ایل لفظ صدی ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو خالی جگہوں مینآواز کے مقابل ہوتی ہے اس کے معنی ہے قرآن کے مقابل ہو اپنے عمل کے ساتھ اور اس کے اوامرر پر عمل کر اور اس کی نواہی سے رک جا۔ نحاس نے کہا : یہ مذہب حضرت حسن بصری ؓ سے مروی ہے انہوں نے اسکے ساتھ تفسیر بیان کی ہے ان کی قراءت صحیح روایت ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی ہے اس کی تلاوت کیجئے اس کی قراءت کا سامنا کیجئے۔ دوسرا مذہب یہ ہے کہ دال اجتماع ساکنین کی وجہ سے مکسور ہے عیسیٰ بن عمر نے صاد یعنی دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کی مثل قاف اور نون ہے اس کا آخر مفتوح ہے اس بارے میں بھی تین مذہب ہیں : (1) یہ اتل کے معنی میں ہو (2) فتحہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے ہوا اور فتحہ کو اتباع کی وجہ سے اختیار کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ حرکات میں سے خفیف ترین حرکت ہے (3) یہ قسم کی بنا پر حذف ہے اور فعل قسم موجود نہیں جس طرح تیرا یہ قول ہے : اللہ لا فعلن ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اغراء کی وجہ سے منصوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے حضرت محمد ﷺ نے مخلوقات کے دلوں کو شکار کیا اور انہیں مائل کیا یہاں تک کہ وہ آپ پر ایمان لے آئے۔ ابن ابی اسحاق نے صاد پڑھا ہے یعنی دال مکسور ہے اور اس پر تنوین ہے اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ یہ حرف قسم کے حذف کی وجہ سے مجرور ہے۔ یہ قول بعید ہے اگرچہ سیبویہ نے اس کی مثل کو جائز قرار دیا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس ان اصوات کے مشابہ قرار دیا گیا ہو جو غری منصرف ہیں ہارون اعور اور محمد بن سمیقع نے اسے صاد ‘ قاف اور نون پڑھا ہے کیونکہ یہ اکثر مبنی ہوتا ہے جس طرح منذ ‘ قط قبل ‘ بعد۔ ص کو جب تو مورت کا نام بنائے تو یہ منصرف نہ ہوگا جس طرح جب تو کسی مئونث کا نام اسم مذکر سے رکھے تو وہ منصرف نہیں ہوتا اگرچہ اس کے حروف قلیل ہی کیوں نہ ہوں۔ حضرت ابن عباس اور حضرت جابر بن عبداللہ سے ص کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے عکرمہ نے کہا : نافع بن ازرق نے حضرت ابن عباس ؓ سے ص کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ص مکہ مکرمہ میں ایک سمندر تھا اسی پر رحمن کا عرش تھا جب رات اور دن نہیں تھا۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : ص سے مراد وہ سمندر ہے جس کے ذریعے دو نفخوں کے درمیان اللہ تعالیٰ مخلوقات کو زندہ کرے گا۔ ضحاک نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : ص ایک قسم ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ قسم اٹھائی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے یہ سدی نے کہا اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ محمد بن کعب نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کی چابی ہے جو صمد ‘ صانع المصنوعات اور صادق الوعد ہیں۔ قتادہ نے کہا : یہ رحمن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ ان سے ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے (1) ۔ مجاہد نے کہا۔ یہ سورت کا آغاز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان چیزوں میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ خاص کیا ہے۔ والقرآن وائو کی وجہ سے یہ اسم مجرور ہے وائو ‘ باء کا بدل ہے۔ قرآن کی قسم اٹھائی مقصد اس کی عظمت شان پر آگاہی تھی کیونکہ قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے یہ سیوں میں موجود ہر مرض کی شفا ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کا معجزہ ہے۔ ذی الذکر۔ صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے جس کی علامت یاء ہے یہ ایسا اسم ہے جس میں حرف علت ہے اس میں اصل ذوی ہے جو فعل کا وزن ہے۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل نے کہا : ذی الذکر کا معنی ہے ذی البیان۔ ضہاک نے کہا : اس کا معنی ذی الشرف یعنی جو اس پر ایمان لایا وہ اس کے لئے دارین میں شرف کا باعث ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لقد انرزلنا الیکم کتبا فیہ ذکر کم) الانبیاء (10: اس آیت میں ذکرکم سے مراد تمہارے لئے شرف ہے۔ قرآن بذات خود شریف ہے کو قن کہ یہ ایک معجزہ ہے اور ان چیزوں پر مشتمل ہے جس پر غیر مشتمل نہں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذی الذکر سے مراد ہے اس میں اس چیز کا ذکر ہے امور دین میں سے جس چیز کے وہ محتاج ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذی الذکر سے مراد ہے اس میں اس چیز کا ذکر ہے امور دین میں سے جس چیز کے وہ محتاج ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذی الذکر سے مراد ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی عظمت کا ذکر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ موعظت اور ذکر والا ہے جواب قسم محذوف ہے۔ کئی وجہ سے اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو قسم ص ہے کیونکہ اس کا معنی ہے حق پس یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان والقرآن کا جواب ہے جس طرح تو کہتا ہے : حق واللہ ‘ نزل واللہ ‘ وجب واللہ۔ اس صورت میں والقرآن ذی الذکر پر عطف کرنا بہت اچھا ہے اور فی عزۃ و شقاق پر وقف تام ہوگا ‘ یہ ابن انباری کا قول ہے اور غلبی نے یہی معنی فراء سے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جواب بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق۔ ہوگا کیونکہ بل سابقہ امر کی نفی اور اس کے غیر کا اثبات ہے ‘ یہ قلبی نے کہا گویا یوں کلام کی والقرآن ذی الذکر۔ بل الذین کفرو فی عزۃ و شقاق۔ یعنی وہ حق قبول کرنے اور حضرت محمد ﷺ سے دشمنی میں اندھے ہوگئے ہیں یا والقرآن ذی الذکر یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو کہ تو جادوگر ‘ جھوٹا ہے کیونکہ وہ آپ کی سچائی اور امانت کو پہچانتے ہیں بلکہ وہ حق کو قبول کرنے سے تکبر کر رہے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ق والقرآن المجید۔ بل عجبوا ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا جواب کم اھلکما ہے گویا گلام یوں ہوگی والقرآن لکم اھلکنا جب کم کو موخر کیا تو لام کو حذف کردیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے و الشمس واضحھا۔ ) لشمس ( پھر فرمایا : قد افلح) الشمس (9: اصل میں لقد افلح تھا۔ مہدوی نے کہا : یہ فراء کا مذہب ہے ابن انباری نے کہا اس تو جیہ کی بنا پر فی عزۃ و شقاق پر وقف مکمل نہ ہوگا۔ اخفش نے کہا : جواب قسم ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب۔ ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین۔ ) الطارق ( ابن انباری نے کہا : یہ قبیح ہے کیونکہ دنوں کے درمیان کلام طویل ہوگئی ہے اور آیات و قصص بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ کسائی نے کہا : جواب قسم اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ان ذلک لحق تخاصم اھل النار۔ ابن انباری نے کہا : یہ پہلے سے بھی زیادہ قبیح ہے کیونکہ کلام قسم اور جواب قسم میں بہت طویل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا جواب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ان ھذا لرزقناما لہ من نفاد۔ ہے۔ قتادہ نے کہا : جواب مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہے والقران ذی الذکر ‘ لتبعثن ہے۔ فی عزۃ بلکہ کافر تکبر میں مبتلا ہیں اور حق کو قبول کرنے سے رکے ہوئے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے و اذا قیل لہ اثق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم) البقرۃ (206: عربوں کے ہاں عزت سے مراد غلبہ اور قہر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : عزیز۔ یعنی غالب ہوا اور مال سلب کر لاا اسی معنی میں و عزنی فی الخطاب۔ ہے یعنی وہ مجھ پر غالب آگیا جریر نے کہا۔ بعر علی الطریق بمنکبیہ وہ اونٹ اپنے دونوں کندھوں کے ساتھ راستے پر غالب آجاتا ہے۔ شقاق یعنی اختلاف اور جدائی کو ظاہر کرنے والے ہیں۔ یہ شق سے ماخوذ ہے گویا یہ ایک حصہ میں ہیں اور وہ دوسرے حصہ میں ہیں اور سورة بقرۃ میں اس کے بارے میں گفتگو مفصل گذر چکی ہے۔ قرن سے مراد قوم ہے جو ان سے زیادہ طاقتور تھے کم کثرت کا معنی دے رہا ہے۔ انہوں نے مدد چاہتے ہوئے اور توبہ کرتے ہوئے ندا کی۔ ندا کا اصل معنی آواز کا بلند کرنا ہے اس معنی میں حدیث القہ علی بلال فانہ اندی منک صوتا بلال پر یہ کلمات پیش کرو کیونکہ اس کی واز تجھ سے بلند ہے ٭ ولات حین مناص حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے توبہ کے ساتھ آواز کو بلند کیا جب کہ یہ تو بہ کا وقت نہ تھا اور نہ ہی یہ وہ وقت تھا جب عمل نفع دے۔ نحاس نے کہا : یہ حضرت حسن بصری کی جانب سے ولات حسین مناص کی تفسیر ہے جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے اس نے ابو اسحاق سے وہ تمیمی سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ولات حین مناص کا معنی ہے یہ کوئی بھاگنے کا وقت نہیں۔ کہا : تمام قوم روک دی گئی۔ کیبف نے کہا : جب وہ جنگ کرتے اور بےبس ہوجاتے تو وہ ایک دوسرے کو کہتے مناص یعنی تم پر بھاگ جانا لازم ہے جب ان پر عذاب آیا تو انہوں نے کہا : بھاگ جائو تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ولات حین مناص۔ قشیری نے کہا : اس تعبیر کی بنا پر تقدیر کلام یہ ہوگی فنا دوا مناص کیونکہ باقی کلام فنا دوا پر دلالت کرتی تھی اسی لئے اسے حذف کردیا گیا یعنی جو تم آوازیں لگا رہے ہو یہ اس کا وقت نہیں۔ اس میں ایک قسم کا استہزاء ہے کیونکہ یہ کہنا بعید از قیاس ہے کہ سابقہ قوموں میں سے جو بھی ہلاک ہوا وہ اضطرار کے وقت یہ کہتا ہو۔ مناص ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ولات حین مناص کا معنی یہ ہو یعنی کوئی چھٹکارے کی صورت میں نہیں اس کو نصب اس لئے دی گئی ہے کیونکہ اس پر لا واقع ہے۔ قشیری نے کہا : اس میں اعتراض کی کی گنجائش موجود ہے کیونکہ اس صورت میں ولات حین مناص میں وائو کا کو ئئی معنی نہیں رہتا۔ جرجانی نے کہا : معنی ہے انہوں نے اس گھڑی کی ندا کی جس سعات کوئی نجات نہیں جب لا کو مقدم کیا اور حسین کو موخر کیا تو اس نے وائو کا تقاضا کیا جس طرح حال تقاضا کرتا ہے جب اسے مبتدا اور خبر بنا دیا جائے جس طرح تیرا یہ قول ہے جاء زید راکبا۔ جب تو اسے مبتدا اور خبر بنا دے گا تو یہ وائو کا تقاضا کرے گا جس طرح جاءنی زید و ھو راکب ہے حسین یہ فنادوا کی ظرف ہے مناص یہ پیچھے ہٹنے ‘ بھاگ جانے اور چھٹکارا پانے کے معنی میں ہے یعنی انہوں نے اس وقت نجات پانے کے لئے ندا کی جس وقت میں ان کے لئے چھٹکارا پانے کی صورت میں نہ تھی۔ فراء نے کہا : امن ذکر لیلی اذنا تک تنوص (1) کیا پہلی کو یاد کر کے جب وہ تجھ سے دور ہوگئی تو اس کی طرف آگے برھتا ہے کہا جاتا ہے : ناص عن قرنہ ینوص نوصا و منا صا یعنی بھاگ کھڑا ہوا۔ نحاس نے کہا : کہا جاتا ہے ناص ینوص جب وہ آگے بڑھے۔ میں کہتا ہوں : اس تاویل کی بناء پر یہ اضداد میں سے ہے۔ نو ص سے مراد وحشی گدے ہیں استناص یعنی پیچھے ہٹ گیا۔ نحویوں نے ولات حین مناص اور اس پر وقف کرنے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کتاب القرات میں اس کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کی ہے۔ سوائے چند باتوں کے جو کچھ اس نے ذکر کیا ہے وہ سب مردود ہے۔ سیبویہ نے کہا : لات یہ مشتابہ بلیس ہے اس میں اسم ضمیر ہے تقدیر کلام یوں ہے لیست احیاننا ہسین مناص۔ حکایت بیان کی گئی ہے کہ عربوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کے ساتھ اسم کو رفع دیتے ہیں اور کہتے ہیں ولات حین مناص۔ یہ حکایت بیان کی گئی ہے کہ رفع قلیل ہے اور خبر مخدوف ہے جس طرح کہ ہم اسم میں مخذوف تھا یعنی تقدیر کلام یوں تھی ولات حین مناص لنا سیبویہ اور فراء کے نزدیک ولات کی تاء پر عطف ہوگا پھر حین مناص سے تو نئی کلام شروع کرے گا ‘ یہ ابن کیسان اور زجاج کا قول ہے۔ ابول الحسن بن کیسان نے کہا : قول اسی طرح ہے جس طرح سیبویہ نے کہا کیونکہ نے اسے یسین کے مشابہ قرار دیا تو جس طرح لیست کہا جاتا ہے اسی طرح لات کہا جاتا ہے۔ کسائی کے نزدیک اس پر وقف ھاء پر ہوگا یعنی ولاہ یہی مبرد بن محمد بن یزید کا قول ہے علی بن سلیمان نے اس سے حکایت بیان کی کہ اس میں دلیل یہ ہے کہ اس پر ھاء کلمہ کی تانیث کے لئے داخل ہوئی ہے جس طرح ثمہ اور ربہ کہا جاتا ہے۔ قشیری نے کہا : بعض اوقات ثمت ‘ ثمہ کے معنی میں کہا جاتا ہے اور ربت ‘ ربہ کے معنی میں کہا جاتا ہے گویا انہوں نے لا میں ھاء کا اضافہ کردیا اور انہوں نے لاہ کہا انہوں نے ثم میں ثمہ کہا ہے جب وصل ہوا تو یہ تاء ہوگئی۔ ثعلبی نے کہا : اہل لغت نے کہا ولات حین دونوں مفتوح ہیں گویا یہ دونوں ایک کلمہ ہیں بیشک یہ اصل میں لا ہے جس میں تاء کا اضافہ کردیا گیا ہے جس طرح رب اور ربت ‘ ثم اور ثمت ابوزبید طائی نے کہا : طلبوا صلحنا ولات اوان فاجبنا ان لیس حین بقاء انہوں نے ہماری صلح کا مطالبہ کیا جب کہ وہ اس کا وقت نہ تھا ہم نے جواب دیا کہ یہ بقاء کا وقت نہیں ایک اور شاعر نے کہا : تذکر حب لیلی لات حینا و امسی الشیب قد قطع القرینا اس نے لیلی کی محبت کو یاد کیا جب کہ وہ اس کا وقت نہ تھا بڑھاپے نے دوستی کو قطع کردیا۔ کچھ عرب اس لفظ کے ساتھ مابعد اسم کو جر دیتے ہیں ‘ فراء نے یہ شعر پڑھا : فلتعرفن حلال ئقا سمولۃ ولتندمن ولات ساعۃ مندم تو جمع شدہ مخلوقات کو پہچان لے گا اور تو شرمندہ ہوگا جب کہ وہ شرمندگی کا وقت نہیں۔ کسائی ‘ فراء ‘ خلیل سیبویہ اور اخفش اس طرف گئے ہیں ولات حین میں تاء حسین سے منقطع ہے وہ کہتے ہیں : اس کا معنی لیست ہے۔ مصا حف جدد اور عتق میں اسی طرح ہے یعنی حین سے تاء کو الگ کردیا گیا ہے ‘ ابو عبیدہ معمر بن مثنی اسی طرف گیا کہا ہے۔ ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا : میرے نزدیک ولا پر وقف ہے اور ابتدا تحین مناص سے ہے اس صورت میں تاء حین کے ساتھ ہوگئی۔ بعض نے کہا : لات پھر وہ کلام کا آغاز کرتا ہے اور کہتا ہے : حین مناص مہدوی نے کہا : ابو عبیدہ نے زکر کیا ہے کہ مصحف میں تاء حین کے ساتھ متصل ہے جب کہ نحویوں کے نزدیک یہ علط ہے اور مفسرین کے قول کے خلاف ہے ‘ ابو عبید کی حجت یہ ہے کہ اس نے کہا : ہم عربوں کو نہیں پاتے کہ وہ اس تاء کو زائد کرتے ہوں مگر وہ ہیں ‘ اوان اور الان میں زائد کرتے ہیں ‘ ابو و جزہ سعدی کا شعر ذکر کیا : العاطفون تحین ما من عاطب و المطعمون زمان این المطعم وہ اس وقت مہربانی کرتے ہیں جب مہربانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا وہ زمانے کو کھلاتے ہیں جب کھلانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ 0 ابوز بید طائی نے شعر ذکر کیا : طلبوا صلحنا ولا تاوان فاجبنا ان لیس حین بقاء (1) انہوں نے ہماری صلح کو طلب کیا جب کہ وہ صلح کا وقت نہ تھا تو ہم نے جواب دیا اب بقاء کا وقت نہیں۔ یہاں اوان میں تاء کو داخل کیا۔ ابو عبید نے کہا : الان میں تاء کو داخل کرنے کے بارے میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ہے ان سے ایک آدمی نے حضرت عثمان بن عفان کے بارے میں پوچھا تھا تو حضرت ابن عمر نے حضرت عثمان کے مناقب کا ذکر کیا پھر فرمایا : اذھب بھا تلان معک۔ اسے لے جا اب وہ تیرے ساتھ ہیں۔ اس قول میں تلان محل استدلال ہے۔ 0 اسی طرح شاعر نے کہا : نول قبل نای داری جمانا و صلینا کما زعمت تلانا ابو عبید نے کہا : اس سب بحث کے باوجود میں نے اس مصحف میں نطر کی جسے امام ” مصحف عثمان “ کہا جاتا ہے تو میں نے پایا کہ تاء حین کے ساتھ متصل ہے وہاں تحین لککھا ہوا ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : جہاں تک پہلے شعر کا تعلق ہے جو اس نے ابو وجزہ کا ذکر کیا ہے علماء لغت نے اسے چار طریقوں سے روایت کیا ہے سب اس کے برعکس ہیں جو اس نے کہا اس میں دو تقدیریں ہیں ابو العباس محمد بن یزید نے اسے روایت کیا ہے العاطفون ولات ماممن عاطف۔ دوسری روایت العاطفون ولات حین تعاطف۔ تیسری روایت جسے ابن کیسان نے روایت کیا ہے العاطفونۃ حین مامن عاطف۔ اس نے اسے وقف میں ھاء اور درمیان کلام میں تاء بنا دیا ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ یہ حرکت کے بیان کے لئے ہے اور اسے ہاء تانیث کے مشابہ قرار دیا ہے۔ چوتھی روایت العاطفونہ حین ما من عاطف۔ اس روایت میں دو تقدیریں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے اور وہی اسماعیل بن اسحاق کا مذہب ہے کہ ھاء نصب کے محل میں ہے جس طرح تم کہتے ہو الضاربون زیدا جب تو ضمیر ذکر کے گا تو تو کہے گہا الضاربوہ سیبویہ نے شعر میں الضار بونہ جائز قرار دیا ہے۔ اسماعیل ‘ سیبویہ کے مذہب کے مواقع تانیث کے ساتھ لایا ہے جس طرح اس نے اس کی مثل میں اجازت دی ہے۔ دوسری تقدیر یہ ہے کہ الغاطفونہ میں ھاء حرکت کو بیان کرنے کے لئے ہے جس طرح تو کہتا ہے : مرینا المسلمونہ یہ وقف کی صورت میں ہے پھر وصل میں بھی اسے اسی طرح رکھا گیا ہے جس طرح وقف میں رکھا گیا تھا جس طرح اہل مدینہ پڑھا : اغنی عنی مالیہ۔ ھلک عنی سلطنیہ۔ ) الحاقتہ ( جہاں تک دوسرے شعر کا تعلق ہے اس میں اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ ولات اورن پر وقف ہے مگر اس میں ایک مشکل ہی ہے کیونکہ اس میں ولات اوان مجرور مروی ہے ‘ جب کہ لات کے بعد جو چیز واقع ہے وہ مرفوع یا منصوب ہے اگرچہ عیسیٰ بن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے ولات حین مناص پڑھا ہے یعنی لات کی تاء اور حین کی نون پر کسرہ پڑھا ہے جب کہ ان سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے ولات حین مناص پڑھا ہے لات کو منبی برکسرہ اور حین کو نصب دی گئی جہاں تک ولات اوان کا تعلق ہے اس میں دو تقدیریں ہیں۔ اخفش نے کہا : اس مين لفظ مضمر ہے یعنی کلام یوں تھی ولات حین اوان۔ نحاس نے کہا : اس قول میں واضح خطا موجود ہے ابو اسحاق سے دوسری تقدیر مروی ہے ولات اواننا مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا تو ضروری ہوگیا کہ اس کو اعراب نہ دیا جائے اور اس پر کسرہ اجتماع ساکننم کی وجہ سے ہے۔ محمد بن یزید نے ولات اوان رفع کے ساتھ پڑھا ہے جہاں تک تیسرے شعر کا تعلق ہے یہ دور اسلام کے شاعر کا شعر ہے جس کے قائل کا کوئی پتہ نہیں اس کے ساتھ دلیل قائم کرنا صحیح نہیں کہ محمد بن یزد نے اسے روایت کیا ہے کمازعمت انت الان اور دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے کما زعمت انت الان اس نے انت سے ہمزہ اور نون کو حذف کردیا۔ جہاں تک ان کا حضرت ابن عجمر ؓ کی حدیث سے استدلال کہے جب آپ نے اس آدمی کے لئے حضرت عثمان ؓ کے مناقب کا ذکر کیا تو اسے کہا اذھب بھا تلان الی اصحابک تو اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ محدث اس حدیث کو بالمعنی روایت کر رہا ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ مجاہد حضرت ابن عمر ؓ سے اس ہدیچ کو روایت کرتا ہے اور اس میں ہے اذھب فاجھد جھدک ایک اور نے اسے روایت کیا ہے اذھب بھا الان معک جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے امام میں تحین پایا ہے تو اس میں بھی ان کی کوئی دلیل نہیں کو ین کہ امام کا معنی ہے کہ وہ مصاحف کا مام ہے اگر وہ مصاحف کے خلاف ہوگا تو وہ مصاحف کا امام تو نہ ہوا تمام مصاحف میں ولات ہے اگر اس میں صرف یہی استدلال کہوتا تو وہ کافی ہوتا مناص کی جمع ماوص ہے۔
Top