بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Haqqani - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے
ترکیب : ص قرء الجمہور باسکان الدال و قریٔ بکسر بالالتقاء الساکنین اولکونہ امرا من صادی الشیء قابلہ و عارضہ ای عارض بعملک القرآن و قریٔ بالفتح للتحریک والقرآن الواو للقسم وقیل معطوف علی القسم و ہو صاد و جواب القسم محذوف لقد جاء کم الحق او ما ینا سب المقام، ولات التاء زیدت علی لا کما تزاد علی رب و ثم ربۃ و ثمۃ و اکثر العرب تحرک ھذہ التاء بالفتح و اما فی حالۃ الوقف فبعضھم یقف بالتاء لان الحروف لیست موضع تغیر و بعضھم بالہاء حین علی مذہب سیبویہ خبر لات و اسمھا محذوف لانھا عملت عمل لیس ای الحین حین ھرب و عند الاخفشھی العاملۃ فی باب النفی فحین اسمھا و خبر ھا محذوف ای لاحین مناص لھم والجملۃ حال من فاعل نادوا ای استغاثوا والحال انہ لم یبق وقت الھرب۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ (وقالہ القرطبی) ترمذی و نسائی و احمد و ابن ابی شیبہ و عبد بن حمیدوحاکم و بیہقی و ابن جریر و ابن المنذر وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ جب ابوطالب بیمار ہوئے تو کفار قریش کہ جن میں ابوجہل بھی تھا۔ آنحضرت ﷺ کی شکایت کرنے آئے کہ محمد ﷺ ہمارے معبودوں کی ہجو کیا کرتے ہیں۔ ابو طالب نے ان کے سامنے آپ سے پوچھا، آپ نے فرمایا کہ میں ایک ہی بات ان سے کہتا ہوں۔ اگر مان لیں تو عرب ان کا مطیع ہوجاوے اور عجم جزیہ دیوے لوگوں نے کہا ایک کیا دس بات ایسی ہوں تو مان لیتے ہیں۔ فرمایئے، وہ ایک بات کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ لا الہ الا اللہ یہ سننا تھا کہ کپڑے جھاڑتے ہوئے خفا ہو کر یہ کہتے ہوئے اٹھے کہ سب معبودوں کا ایک معبود کردیا۔ یہ عجیب بات ہے، اس پر یہ سورة ص نازل ہوئی، بل لما یذوقوا العذاب تک۔ ص حروف مقطعات میں سے ہے، ان کے متعلق ہم کئی جگہ بحث کرچکے ہیں۔ قرآن مجید کی قسم کھاکر اور اس کا معزز اور نصیحت ہونا (ذی الذکر) ثابت کرکے یہ فرماتا ہے کہ توحید ہی کا مسئلہ برحق ہے۔ بت پرستی باطل ہے۔ بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق توحید و خدا پرستی میں کوئی شک و تردد کی گنجائش نہیں بلکہ منکر لوگ تکبر اور ضد کی راہ سے نہیں مانتے اور تکبر اور ضد ہمارے مقابلہ میں کیا وجود رکھتی ہے۔ کم اھلکنا من قبلہم من قرن ان سے پہلے ہم بہت سی قوموں کو غارت کرچکے ہیں، جنہوں نے رسولوں سے مقابلہ کیا تھا۔ زور میں آکر پھر جب ان پر بلا آئی تو نادوا الغیاث الغیاث کے نعرے بلند کرنے لگے، چیخنے چلانے لگے مگر کیا فائدہ کوئی بھاگنے کا وقت نہ رہا تھا۔ آخر غارت ہوئے عاد وثمود و قوم لوط وغیرہم۔
Top