بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Mazhari - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص۔ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
صٓ بعض علماء کے نزدیک صٓ قسم ہے ‘ بعض نے سورت کا نام قرار دیا۔ حروف تہجی کے بیان میں اس کا تذکرہ آچکا ہے۔ محمد بن کعب کے قول پر ‘ اللہ کے نام یعنی صمد اور صادق الوعد کی کنجی ہے۔ ضحاک نے کہا : آ کا معنی ہے : صَدَقَ اللّٰہُ اللہ نے سچ فرمایا۔ حضرت ابن عباس کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ صٓ کا معنی ہے : صَدَقَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔ بعض کے نزدیک صاد بالکسر مصادرت سے امر کا صیغہ ہے۔ صدٰی آواز بازگشت کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے عمل سے قرآن کی آواز بازگشت پیش کرو۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں ہم نے کردی ہے۔ والقران ذی الذکر قسم ہے قرآن کی جو نصیحتوں سے پر ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مطلب یہ ہے کہ عقائد ‘ احکام ‘ وعد و وعید اور پند و نصائح کا واضح بیان قرآن میں مذکور ہے۔ ضحاک نے ذکر کا ترجمہ شرف کیا ہے ‘ جس طرح کی آیت وَاِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ میں ذکر بمعنی شرف ہے۔ اگر آ سے مراد حرف صاد ہو اور اس سے دعوت مقابلہ مراد ہو ‘ یا صدق اللہ ‘ یا صدق محمد ‘ یا اللہ کے اسم صمد وغیرہ کی طرف پوشیدہ اشارہ ہو تو والقران میں واؤ قسم کیلئے ہوگا ورنہ عطف کیلئے ہوگا۔ اخفش (نحوی ادیب مشہور) نے کہا : قسم کا جواب (یعنی جس مضمون کیلئے قسم کے ساتھ کلام کیا گیا ہے) اِنْ کُلٌّ الاَّ کذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ہے۔ اخفش کا یہ قول بعید از فہم ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ جواب محذوف ہے جس پر صٓ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ صٓ کا لفظ دعوت مقابلہ پر دلالت کر رہا ہے ‘ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ قسم ہے قرآن کی کہ یہ ایک معجزہ ہے ‘ یا اس پر عمل واجب ہے ‘ یا محمد ﷺ سچے ہیں ‘ یہ بات وہ نہیں ہے جو کافر کہہ رہے ہیں۔ مؤخر الذکر قول پر آگے والی آیت دلالت کر رہی ہے۔
Top