بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Maarif-ul-Quran - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
قسم ہے اس قرآن سمجھانے والے کی
خلاصہ تفسیر
ص (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے (کہ کفار آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں) بلکہ (خود) یہ کفار (ہی) تعصب اور (حق کی) مخالفت میں (پڑے) ہیں (اور اس تعصب و مخالفت کا وبال ایک روز ان پر پڑنے والا ہے جیسا) ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں، سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت) بڑی ہائے پکار کی (اور بہت شور و غل مچایا) اور (اس وقت شوروغل سے کیا ہوتا ہے، کیونکہ) وہ وقت خلاصی کا نہ تھا (اس لئے کہ عذاب جب آ چکے تو یہ بھی قبول نہیں ہوتی) اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے (یعنی جو کہ ان کی طرح بشر ہے) ایک (پیغمبر) ڈرانے والا آ گیا (تعجب کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی جہالت سے بشریت کو نبوت کے منافی سمجھتے تھے) اور (اس انکار رسالت میں یہاں تک پہنچ گئے، کہ آپ کے معجزات اور دعویٰ نبوت کے بارے میں) کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) یہ شخص) خوارق عادت کے معاملہ میں) ساحر اور (دعویٰ نبوت کے معاملہ میں) کذاب ہے (اور) کیا (یہ شخص سچا ہوسکتا ہے جبکہ) اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا (اور سب کے معبود ہونے کی نفی کردی) واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے (جس کی وجہ عنقریب آتی ہے) اور (توحید کا مضمون سن کر) ان کفار کے رئیس (مجلس سے اٹھ کر لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے چلے کہ (یہاں سے) چلو اور اپنے معبودوں (کی عبادت) پر قائم رہو (کیونکہ اول تو) یہ (توحید کی دعوت) کوئی مطلب کی بات (معلوم ہوتی) ہے (یعنی اس بہانہ سے آپ معاذ اللہ ریاست کے خواہاں ہیں۔ دوسرے توحید کا دعویٰ بھی باطل اور عجیب ہے کیونکہ) ہم نے تو یہ بات (اپنے) پچھلے مذہب میں نہیں سنی، ہو نہ ہو یہ (اس شخص کی) من گھڑت ہے (پچھلے مذہب کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے طریقہ کے لوگ ہوئے ہیں، سب سے پیچھے ہم آئے ہیں اور حق پر ہیں، سو ہم نے اس طریقہ کے بزرگوں سے کبھی یہ بات نہیں سنی۔ اور یہ شخص جو نبوت کا مدعی ہے اور توحید کو تعلیم الٰہی بتلاتا ہے، سو اول تو نبوت بشریت کے منافی ہے۔ دوسرے اگر اس سے قطع نظر کی جائے تو) کیا ہم سب میں اس شخص (کو کوئی فوقیت و فضیلت تھی کہ اسی کو نبوت ملی اور اسی) پر کلام الٰہی نازل کیا گیا (بلکہ کسی رئیس پر ہوتا تو مضائقہ نہ تھا۔ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ان پر کیوں نزول ہوا ؟ کسی رئیس پر کیوں نہ ہوا ؟ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس کا اتباع کرتے) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ (خود) میری وحی کی طرف سے شک (یعنی انکار) میں ہیں۔ (یعنی مسئلہ نبوت ہی کے منکر ہیں، خصوصاً بشر کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اور یہ انکار بھی کچھ اس لئے نہیں کہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے) بلکہ (اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ) انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا (ورنہ سب عقل ٹھکانے آجاتی۔ آگے دوسرے طرز پر جواب ہے کہ) کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار زبردست فیاض کی رحمت کے خزانے ہیں (جس میں نبوت بھی داخل ہے، کہ جس کو چاہیں دیں جس کو چاہیں نہ دیں، یعنی اگر رحمت کے سارے خزانے ان کے قبضہ میں ہوتے تب تو ان کو یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ ہم نے بشر کو نبوت نہیں دی، پھر وہ نبی کیسے ہوگیا ؟) یا (اگر سارے خزانے قبضہ میں نہیں ہیں تو) کیا ان کو آسمان اور زمین اور جو چیزیں ان کے درمیان میں ہیں ان (سب) کا اختیار حاصل ہے (کہ اگر اتنا ہی اختیار ہوتا تب بھی یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ یہ آسمان و زمین کے مصالح سے باخبر ہیں، اس لئے جسے چاہیں اسے نبوت ملنی چاہئے۔ اور آگے تعجیز کے طور پر ارشاد ہے کہ اگر ان کو اس پر اختیار ہے) تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیاں لگا کر (آسمان پر) چڑھ جاویں (اور ظاہر ہے کہ یہ اس پر قادر نہیں۔ پس جب انہیں اتنی بھی قدرت نہیں تو آسمان و زمین کی معلومات اور ان پر کیا اختیار ہوگا ؟ پھر ان کو ایسی بےسروپا باتیں کہنے کا کیا حق ہے ؟ مگر اے محمد ﷺ آپ ان کی مخالفت سے فکر نہ کریں، کیونکہ) اس مقام پر (یعنی مکہ میں) ان لوگوں کی یونہی ایک بھیڑ ہے، منجملہ (مخالفین انبیاء کے) گروہوں کے جو (عنقریب) شکست دیئے جاویں گے (چنانچہ غزوہ بدر میں یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور) ان سے پہلے بھی قوم نوح نے اور عاد نے اور فرعون نے جس (کی سلطنت) کے کھونٹے گڑ گئے تھے اور ثمود نے اور قوم لوط نے اور اصحاب آیکہ نے (جن کے قصے کئی جگہ آ چکے ہیں، ان سب سے) تکذیب کی تھی (اور) وہ گروہ (جس کا اوپر من الاحزاب میں ذکر آیا ہے) یہی لوگ ہیں، ان سب نے صرف رسولوں کو جھٹلایا تھا (جیسے یہ کفار قریش آپ کو جھٹلا رہے ہیں) سو میرا عذاب (ان پر) واقع ہوگیا (پس جب جرم مشترک ہے تو عذاب کے اشتراک سے یہ کیوں مطمئن ہیں ؟) اور یہ لوگ (جو تکذیب پر مصر ہیں تو) بس ایک زور کی چیخ (یعنی نفخہ ثانیہ) کے منتظر ہیں جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی (اس سے مراد قیامت ہے) اور یہ لوگ (قیامت کی وعید سن کر تکذیب رسول اور استہزاء کے طور پر) کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب (آخرت میں جو کافروں کو عذاب ہوگا، اس میں سے) ہمارا حصہ تم کو روز حساب سے پہلے ہی دے دے (مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذ باللہ)۔

معارف و مسائل
شان نزول۔ اس سورت کی ابتدائی آیات کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ کے چچا ابو طالب مسلمان نہ ہونے کے باوجود آپ کی پوری نگہداشت کر رہے تھے، جب وہ ایک بیماری میں مبتلا ہوئے تو قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی۔ جس میں ابو جہل، عاص ابن وائل، اسود بن مطلب، اسود بن عبدیغوث اور دوسرے روساء شریک ہوئے۔ مشورہ یہ ہوا کہ ابوطالب بیمار ہیں، اگر وہ اس دنیا سے گزر گئے اور اس کے بعد ہم نے (محمد ﷺ کو ان کے نئے دین سے باز رکھنے کے لئے کوئی سخت اقدام کیا تو عرب کے لوگ ہمیں یہ طعنہ دیں گے کہ جب تک ابوطالب زندہ تھے، اس وقت تک تو یہ لوگ محمد ﷺ کا کچھ نہ بگاڑ سکے، اور جب ان کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے آپ کو ہدف بنا لیا۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم ابو طالب کی زندگی ہی میں ان سے محمد ﷺ کے معاملہ کا تصفیہ کرلیں تاکہ وہ ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دیں۔
چنانچہ یہ لوگ ابوطالب کے پاس پہنچے، اور جا کر ان سے کہا کہ تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے آپ انصاف سے کام لے کر ان سے کہئے کہ وہ جس خدا کی چاہیں عبادت کریں، لیکن ہمارے معبودوں کو کچھ نہ کہیں۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ خود بھی ان کے بتوں کو اس کے سوا کچھ نہ کہتے تھے کہ بےحس اور بےجان ہیں۔ نہ تمہارے خالق ہیں نہ رازق ہیں۔ نہ تمہارا کوئی نفع نقصان ان کے قبضہ میں ہے۔ ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو مجلس میں بلوایا، اور آپ سے کہا کہ بھتیجے ! یہ لوگ تمہاری شکایت کر رہے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو۔ انہیں اپنے مذہب پر چھوڑ دو ، اور تم اپنے خدا کی عبادت کرتے رہو، اس پر قریش کے لوگ بھی بولتے رہے۔
بالآخر آنحضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ”چچا جان ! کیا میں انہیں اس چیز کی دعوت نہ دعوں جس میں ان کی بہتری ہے ؟“ ابوطالب نے کہا”وہ کیا چیز ہے ؟“ آپ نے فرمایا ”میں ان سے ایک ایسا کلمہ کہلوانا چاہتا ہوں جس کے ذریعہ سارا عرب ان کے آگے سرنگوں ہوجائے اور یہ پورے عجم کے مالک ہو جائیں“ اس پر ابوجہل نے کہا”بتاؤ وہ کلمہ کیا ہے ؟ تمہارے باپ کی قسم ! ہم ایک کلمہ نہیں دس کلمے پڑھنے کو تیار ہیں“ اس پر آپ نے فرمایا ”بس لا الہ الا اللہ کہہ دو“ یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ”کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک کو اختیار کرلیں ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔“ اس موقع پر سورة ص کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ (تفسیر ابن کثیر ص، 27، ج 4)
Top