بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mafhoom-ul-Quran - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
صۗ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے ( کہ تم حق پر ہو)
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس عذاب کا بھی علم نہیں جو ہم نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ یہ تو ایسے بات کرتے ہیں جیسے تیرے رب کی رحمت کے تمام خزانے انہی کے قبضہ میں ہیں کہ جیسے چاہیں خرچ کریں۔ اور پھر زمین و آسمان کی بادشاہی انہی کے ہاتھ میں تو ہے۔ ان کو ان تمام قوموں کے بارے میں بتاؤ جو ان سے کئی گنا زیادہ طاقتور اور مضبوط تھیں مگر اپنی گمراہی کے سبب نیست و نابود ہوگئیں ان میں قوم نوح، قوم عاد، قوم فرعون، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم ایکہ یہ سب بڑی بڑی قومیں عذاب سے نہ بچ سکیں تو یہ کیا چیز ہیـں۔ یہ بھی اپنے انجام بد کے انتظار میں ہیں۔ فی لحال تو مذاقاً کہتے ہیں کہ ہمارا اعمال نامہ ابھی ہی ہمیں دے دیں۔ جب سامنے آئے گا تو ان کی سختی آجائے گی تو رب العزت آپ کو تسلی دیتے ہوئے سیدنا داؤد کی مثال دیتے ہیں کہ ان کو دیکھیں انہوں نے صبرو شکر سے کام لیا تو اللہ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے نوازا۔ ان کا ذکر سورة سبا اور انبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ صرف دلیل کے لیے کیا گیا ہے۔ سیدنا داؤد (علیہ السلام) کو حکمت، حکومت، نبوت، بہترین آواز، ہواؤں، پہاڑوں اور پرندوں پر قدرت دے رکھی تھی اور فیصلے بڑے اچھے کرتے تھے۔ معمولی بات پر فوراً استغفار کرتے اسی طرح یہاں بھی ان کی زندگی کا ایک واقعہ سبق دینے کے لیے ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یوں کہ ایک دن وہ اپنے کمرے میں مصروف عبادت تھے کہ اچانک دو آدمی دیوار پھلانگ کر بلااجازت اندر آکھڑے ہوئے۔ آپ سخت حیران ہوئے مگر انہوں نے کہا کہ ہمار ایک جھگڑا ہے فیصلہ کردیں تب انہوں نے دبنیوں والا جھگڑا آپ کے سامنے پیش کیا اور آپ نے فیصلہ کردیا اور وہ دونوں غائب ہوگئے۔ تب آپ کو احساس ہوا کہ کوئی غلطی ہوگئی ہے۔ فیصلہ کرتے ہوئے جو غلطی ہوئی وہ عجلت میں کیا گیا فیصلہ تھا جبکہ معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر فیصلہ کرنا بالکل جائز نہیں یعنی یک طرفہ فیصلہ۔ لہٰذا آپ فوراً سجدے میں گر پڑے اور اللہ سے مغفرت طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا اور آپ کو کچھ خاص ہدایات اللہ کی طرف سے دی گئیں جن میں تین بنیادی باتیں یہ تھیں۔ (از معارف القرآن ) 1۔ ہم نے آپ کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ 2۔ اس حیثیت سے آپ کا بنیادی کام حق کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ 3۔ اور اس کام کے لیے نفسانی خواہشات سے بچنا لازمی شرط ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں کہ ” ذمہ داری کے عہدوں میں سب سے پہلے دیکھنے کی چیز، انسان کا کردار ہے۔ یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کسی شخص کو حاکم، قاضی یا کسی محکمے کا افسر بنانے کے لیے سب سے پہلے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس میں اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے یا نہیں اور اس کے اخلاق و کردار کی کیا حالت ہے ؟ اگر یہ محسوس ہو کہ اس کے دل پر خوف خدا کی بجائے نفسانی خواہشات کی حکمرانی ہے تو خواہ وہ کیسی اعلیٰ ڈگریاں رکھتا ہو اور اپنے فن میں کتنا ماہر ہو پختہ کار ہو اسلام کی نظر میں وہ کسی اونچے منصب کا مستحق نہیں ہے۔ “۔ (از معارف القرآن جلد 7 ص 509) اسی طرح جب عام لوگوں کو دعوت دی جائے کہ کسی شخض کو کسی خاص ذمہ داری کے پورا کرنے کے لیے اپنی رائے کا اظہار کریں یعنی منتخب کریں تو لوگوں کو چاہئے کہ اس کو منتخب کرتے ہوئے پوری طرح تسلی کرلیں کہ آیا اس شخص میں وہ تمام صفات پائی جاتی ہیں یا نہیـں جن صفات کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اگر کسی دباؤ میں آکر یا کسی لالچ میں آکر یا کسی بھی محبوری کی وجہ سے غلط انسان کو منتخب کرنے کے لیے اپنی رائے یا ووٹ دیا گیا تو یہ بہت بڑا گناہ ہوگا کیوں کہ اس سے متعلقہ محکمہ یا ادارہ کا ناقابل تلافی نقصان ہوجاتا ہے۔ اور اس نقصان کی ذمہ داری ووٹ دینے والے پر پڑتی ہے۔ غلط رائے چاہے وہ کسی بندے کے لیے ہو یا کسی مسئلہ کے لیے ہو بڑے گناہ کی بات ہے اور نقصان دہ بھی ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ” خود خلفاء کا بھی یہی معمول تھا۔ سیدنا ابوبکر ؓ ، سیدنا عمر ؓ ، سیدنا عثمان ؓ اور سیدنا علی ؓ کے متعلق ہمیں کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ کوئی پیچیدہ مقدمہ ان کے سامنے آتا جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں وضاحت کے ساتھ کوئی قانون نہ ملتا تو اجتماع عام کیا جاتا۔ اس اجتماع میں ہر شخض رائے دینے کا مجاز تھا بڑا ہو یا چھوٹا مرد ہو یا عورت ہر ایک مشاروت میں شریک ہوسکتا تھا “۔ (از خطبات بہاولپور) ڈاکٹر موصوف مزید لکھتے ہیں کہ ” رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں ہمیں حکومت کی طرف اجتماعی مشورہ مفتیوں اور قاضیوں کی طرف سے انفرادی آراء کا ملنا نظر آتا ہے۔ “ تو یہ ثابت ہوگیا کہ انفرادی یا اجتماعی رائے دینا کس قدرذمہ داری کا کام ہے۔ جس میں ذرا سی لاپرواہی یا بدیانتی بڑے گناہ کے برابر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” جو لوگ راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب تیار ہے۔ کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا “۔ (سورۃ ص آیت : 2)
Top