بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Baseerat-e-Quran - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
صاد ۔ قسم ہے نصیحت سے بھر پور قرآن کی
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے جو دنیا کے لالچ اور نفسانی خواہشات میں مبتلا ہو کر آخرت کی زندگی کو بھلا بیٹھے ہیں ۔ جنہیں اپنی طاقت و قوت پر اس قدر گھمنڈ اور ناز ہے کہ اپنے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتے ان کے اس غرور وتکبر اور گھمنڈ نے ان کو قرآن جیسی کتاب کے انکار پر مجبور کردیا ہے۔ فرمایا گیا کہ یہ کفار جس قوت و طاقت کو بہت کچھ سمجھ رہے ہیں اگر انسانی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ان سے پہلی قومیں بہت زبردست طاقت و قوت کی مالک تھیں مگر جب انہوں نے جاہلانہ عقائد ، ضد ، ہٹ دھرمی اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تو ان کو ہلاک کردیا گیا اور اس وقت کا ان کا رونا ، چلانا اور چیخنا ان کے کام نہ آسکا اور وہ عبرت ناک انجام سے دو چار ہوئے۔ قوم نوح ، قوم عاد ، زبردست طاقت و قوت والا فرعون ، قوم ثمود ، قوم لوط اور بن والے یہ سب کے سب طاقت ور حکومتوں ، سلطنتوں ، اونچی اونچی بلڈنگوں، مال، اولاد اور تجاریوں کے مالک تھے لیکن جب انہوں نے اللہ و رسول کی نا فرمانیوں کی انتہاء کردی تب وہ اپنے غرور وتکبر اور نا فرمانیوں کے سمندر میں ڈوب دیئے گئے اور وہ تاریخ کے صفحات پر قصے کہانی بن کر رہ گئے ، چونکہ ان آیات کے پہلے مخاطب کفار عرب تھے اس لئے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اب تمہارے اندر اللہ کے محبوب اور آخری نبی و رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ موجود ہیں اگر تم نے ان کے ساتھ وہی روش اور انداز اختیار کیا جس کی وجہ سے تم سے پہلی قوموں کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے تو تمہیں اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔ مفسرین نے ان آیات کی مزید وضاحت کے لئے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے جب مکہ کے تمام سردار مل کر نبی کریم ﷺ کے چچا ابو طالب کے پاس پہنچے اور انہوں نے یہ شکوہ کیا کہ اے ابو طالب تمہارا بھیجتا ہمارے بتوں اور رسموں کو براکہتا ہے تم کسی طرح ان کو سمجھائو کہ وہ اپنی بات کریں مگر ہمارے بتوں ، رسوم اور عبادات اور معاشرہ کی رسموں کی برائی کرنا چھوڑ دیں ۔ جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو ابو طالب نے کہا کہ اے محمد ﷺ عرب کے سرداروں نے تمہاری شکایت کی ہے تم اپنا کام کرو کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ میں تو ان سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اس کو مان لیں تو عرب و عجم کی ساری طاقتیں ان کے قدموں میں ہوں گی۔ ابو طالب نے تمام سرداروں کو جمع کر کے یہ کہا کہ محمد ﷺ تو صرف ایک بات کہتے ہیں وہ سن لو ۔ سرداروں نے کہا کہ وہ کون سی بات یا کلمہ ہے جس کی وجہ سے ہم عرب و عجم پر غالب آجائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک کلمہ یہ ہے ” لا الہ الا اللہ ‘ ‘ اس کلمہ پر ایمان لے آئو ساری دنیا پر تمہاری حکومت ہوگی ۔ سرداروں نے بگڑ کر کہا کہ چلو اٹھو اور اپنے بتوں اور رسم و رواج پر ڈٹے رہو کیونکہ یہ محمد ﷺ تو یہ چاہتے ہیں کہ تین سو ساٹھ بتوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود کی عبادت و بندگی کی جائے ۔ یہ ایسی انوکھی اور نئی بات ہے جو ہم نے آج تک کسی ملت اور قوم سے نہیں سنی ۔ سرداروں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان تمام باتوں کے پیچھے کچھ اور بات اور غرض ہے ۔ کہنے لگے کہ کس قدر تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسے شخص کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو ہم میں سے ہی جیسا بشر ہے۔ یہ سب جھوٹ ہے اور جادو گری ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے اتنے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود کو مان لیں ۔ ہم تین سو ساٹھ بت رکھتے ہیں وہ سب مل کر ایک مکہ کا انتظام نہیں سنبھال سکتے وہ ایک معبود کی بات کرتے ہیں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک اللہ تنہاء پورے نظام کائنات کو چلا سکتا ہے ۔ قریشی سردار اٹھ کر چل دیئے اور کہنے لگے کہ اٹھو اور چلو تم اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو اور کسی بات کی پرواہ نہ کرو ۔ وہ کہتے تھے کہ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ نے اپنا کلام نازل کیا ہے حالانکہ عرب میں بڑے بڑے صاحب بصیرت سردار لوگ موجود تھے جو اس بات کے مستحق تھے کہ اتنے بڑے کام کے لئے ان کو منتخب کیا جاتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اپنے آپ کو خود مختار اور بڑا سمجھتے ہیں تو یہ ایسا کریں کہ کسی ذریعہ سے یہ عرش الٰہی تک پہنچ کر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں تا کہ وہاں سے اپنے من پسند لوگوں پر حمتیں نازل کریں ۔ فرمایا کہ یہ لوگ عرش الٰہی یا آسمانوں کی بلندیوں پر کیا پہنچیں گے یہ تو وہ لوگ ہیں جو اپنی اسی سر زمین پر شکست کھا جائیں گے اور اس وقت کوئی چیز ان کے کام نہ آسکے گی ۔ آج یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جس عذاب کی بات کی جاتی ہے وہ جلد از جلد آجائے تا کہ یہ روز روز کی باتیں ختم ہوں فرمایا کہ عذاب کی جلدی کرنے والے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جب ایک چنگھاڑ یا دھماکہ ہوگا یعنی صور پھونکے جانے کے بعد قیامت قائم ہوگی تو پھر کسی کو مہلت یا ڈھیل نہیں دی جائے گی ۔ نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کفار و مشرکین کی باتوں پر صبر کیجئے اور اپنی معمولی معمولی سرداریوں پر ناز کر کے سچائیوں کا انکار کرنے والوں کو حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کی سلطنت اور قوت و طاقت کا حال سنایئے اور ان کو بتادیجئے کہ اتنی بڑی سلطنت کے باوجود وہ اللہ کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے اور ہر وقت اللہ کی طرف رجوع رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے اچھی مثال حضرت دائود (علیہ السلام) کی ہے جو (1) صبر سے کام لیتے تھے۔ (2) صرف اللہ کی طرف دھیان لگائے رہتے تھے۔ (3) وہ صبح شام اللہ کی حمد وثناء اور تسبیح میں لگے رہتے تھے۔ جب وہ زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ہم آواز ہوجاتے تھے۔ (4) ان کی سلطنت ایک مضبوط اور مستحکم حکومت تھی ، ہر طرف ان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور سب پر ان کا حکم چلتا تھا۔ (5) ان کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی۔ (6) وہ نہایت ذہین و ذکی آدمی تھے اور وہ ہر بات کی تہہ تک پہنچ جایا کرتے تھے۔ (7) جب کوئی مقدمہ قیش ہوتا تو وہ اس کا بہترین فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ (8) وہ ہر بات کو اس طرح سمجھاتے تھے کہ سننے والے کے دل میں شک و شبہ نہ رہتا تھا۔ (9) سلطنت کا کاروبار نہایت دیانت ، امانت ، دانائی اور ہوشیاری سے کرتے تھے۔ (10) وہ ہر وقت اللہ کی عبادت و بندگی کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے اپنی روزی پیدا کرتے تھے۔ حضرت ابو دائود (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر آتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ وہ سب سے زیادہ عبادت کرنے والے شخص تھے۔ ( بخاری ، مسلم) ان آیات اور حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی کے عظیم پہلوؤں کا ذکر کر کے کفار عرب کو شرم دلائی گئی ہے کہ وہ اسی مال و دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں پر اس قدر اچھل کود رہے ہیں جب کہ حضرت دائود (علیہ السلام) عظیم سلطنت کے فرماں روا ہونے کے باوجود ہر وقت اللہ کی مخلوق کی خدمت اور اللہ کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو اور ان کی عبادت و بندگی کا انداز وہ بہترین نمونہ ہے جس پر عمل کرنے سے دنیا و آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں عطاء کی جاتی ہیں ، لیکن جو لوگ نا فرمانیوں میں لگے رہتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کا عبرت ناک انجام ہوا کرتا ہے۔
Top