بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Madarik-ut-Tanzil - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
صٓ وَالْقُرْٰانِ ذِی الذِّکْرِ ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّ شِقَاقٍ (ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے۔ بلکہ یہ کفار تعصب اور مخالفت میں ہیں) 1: صؔ نمبر 1۔ حروف معجم میں سے اس حرف کا تذکرہ بطور تحدی اور اعجاز پر متنبہ کرنے کیلئے فرمایا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد قسم کا ذکر کیا جس کا جواب محذوف ہے۔ کیونکہ تحدی اس جواب پر دلالت کر رہی ہے گویا تقدیر کلام اس طرح ہے والقرآن ذی الذکر ای ذی الشرف انہٗ لکلام معجز۔ مرتبے والے قرآن کی قسم بیشک وہ معجز کلام ہے۔ نمبر 2۔ ص یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہو۔ اس طرح کہ وہ سورت کا نام ہو۔ گویا تقدیر کلام اس طرح سے ہو۔ ھذہٖ ص ای ھٰذہ السورۃ التی اعجزت العرب والقرآن ذی الذکر۔ یہ ص نام والی سورت ہے جس نے عرب کو عاجز کرکے رکھ دیا اور نصیحت والے قرآن کی قسم۔ یہ اسی طرح ہے جیسا تم کہو ھذا حاتم واللہ۔ تمہاری مراد اس سے یہ ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی قسم سخاوت میں مشہور ہے۔ اور اسی طرح جب اس سے قسم اٹھائی جائے تو گویا اس طرح کہو گے اَقْسَمُتْ بِصٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ ۔ اِنَّہٗ لَمُعْجِزٌ میں قسم اٹھاتا ہوں۔ صٓ کی اور قرآن نصیحت والے کی بیشک وہ قرآن معجز ہے۔ پھر فرمایا۔
Top