بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
(1۔ 2) یعنی قرآن کریم کو بار بار پڑھو تاکہ ایمان کفر سے اور سنت بدعت سے اور حق باطل سے سچ جھوٹ سے حلال حرام سے اور نیکی برائی سے ممتاز ہوجائے یا یہ کہ ص سے مراد اہل مکہ یا ابوجہل کو ہدایت سے روک دیا گیا یا یہ کہ ص اللہ تعالیٰ کے اسم پاک صادق اس کا مخفف ہے۔ یا یہ کہ اس کے ذریعے سے قسم کھائی گئی ہے قسم ہے قرآن کی جو شرف وبیان والا ہے یعنی جو اس پر ایمان لائے اس کے لیے شرافت والا اور اولین و آخرین کے بیان والا ہے بلکہ یہ کفار مکہ ہی تعصب و برائی اور مخالفت و دشمنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ شان نزول : صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ (الخ) امام احمد، ترمذی، نسائی اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جس وقت ابوطالب یمار ہوئے تو قریش ان کے پاس آئے اور رسول اکرم بھی تشریف لائے قریش نے ابو طالب سے آپ کی شکایت کی ابو طالب نے آپ سے کہا کہ اے بھتیجے تو اپنی قوم سے کیا چاہتا ہے آپ نے فرمایا میں صرف ان سے ایک بات چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کا فرمانبردار ہوجائے گ اور ان کو جزیہ دے گا۔ صرف ایک کلمہ ہے ابو طالب نے کہا وہ کیا، آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ تو سب نے کہا صرف ایک اللہ یہ تو عجیب بات ہے تو ان لوگوں کے بارے میں ص والقرآن سے بل لما یذوقوا عذاب تک یہ آیات نازل ہوئیں۔
Top