بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Jawahir-ul-Quran - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
قسم ہے اس قرآن سمجھانے والے کی2
2:۔ والقران۔ تا۔ و شقاق : یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ والقران الخ، قسم ہے اور جواب قسم محذوف ہے ای مابقی موضع شبہۃ یعنی یہ پند و نصیحت سے لبریز قرآن اس پر شاہد ہے کہ مسئلہ توحید میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کفار کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں کہ مسئلہ میں کوئی شبہ باقی ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین کبر و غرور اور عناد و عداوت میں پرے ہیں۔ اس لیے انکار و جحود پر کمر بستہ ہیں اور ان کے غرور و استکبار کا سبب دنیوی سامان عیش کی فراوانی ہے۔ بل متعت ھؤلاء وآباءھم حتی نسوا الذکر وکانوا قوما بورا (الفرقان رکوع 2) ۔ جب سورة صافات میں بیان ہوچکا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) فرشتے اور جن سب اللہ کی بارگاہ میں عاجز ہیں اور سب کچھ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ وہ خدا کے یہاں شفیع غالب نہیں ہیں اور اس توضیح و تفصیل سے شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ لیکن اس کے باوجود کفار غرور وعناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ ہذا افادہ الشیخ قدس سرہ۔ بعض مفسرین نے انک لمن المرسلین (بیشک تو البتہ رسولوں میں سے ہے) ۔ بعض نے، ما الامر کما قال کفار مکۃ من تعدد الالہۃ، (بات یوں نہیں جس طرح کفار مکہ کہتے ہیں کہ معبود ایک سے زیادہ ہیں) ۔ بعض نے، ما الامر کما یقولون انک ساحر کذاب (بات یوں نہیں جس طرح مشرکین کہتے ہیں کہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے) وغیرہ جواب قمس مقدر مانا ہے (روح، قرطبی، جلالین) ۔ اس ذکر و نصیحت والے قرآن کو تو ماننا چاہئے تھا۔ لیکن کفار ضد میں آکر اس کا انکار کر بیٹھے۔
Top