Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
34۔ 40۔ والقینا علی کرسید جسدا کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے سردار دین کی لڑائی میں کچھ پہلو تہی کرنے لگے تھے اس پر سلیمان (علیہ السلام) نے خفا ہو کر یہ قسم کھائی کہ ایک رات اپنی سو بیبیوں سے صحبت کریں گے جس سے سو لڑکے ان کی اولاد میں لشکر کے سردار پیدا ہوجاویں گے اس قسم کے کھانے کے وقت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لئے ان کی ایک بی بی کے پیٹ سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کو سلیمان کے دکھانے کے لئے ان کے تخت پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کے بھول جانے پر توبہ استغفار کی یہ تفسیر صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ کے چند صحابیوں کی روایتوں کے موافق نہایت صحیح تفسیر ہے۔ دوسری تفسیر وہی ہے جو شاہ عبد القادر صاحب کے اردو فائدہ میں ہے کہ صخرنام کے ایک جن نے دھوکا دے کر سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی حضرت سلیمان کی ایک خادمہ عورت سے لے لی اور وہ انگوٹھی پہن کر سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں بادشاہت کرنے لگا۔ قتادہ کے قول کے موافق چالیس دن تک یہی حال رہا۔ اس چلہ میں صخر جن کے خوف سے سلیمان (علیہ السلام) بستی سے نکل گئے اور ایک گائوں میں چھپ کر رہنے لگے۔ پھر یہ انگوٹھی صخر جن کی انگلی میں سے نکل کر دریا میں جا پڑی اور مچھلی اس کو نکل گئی جو مچھلی پھر سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ لگی اور اس کے پیٹ میں سے وہ انگوٹھی نکلی اور سلیمان (علیہ السلام) پہلے کی طرح پھر وہ انگوٹھی پہن کر بادشاہ ہوگئے۔ اگرچہ اس دوسری تفسیر کو بعضے علما نے یہود کی روایتوں میں شمار کرکے ناقابل اعتبار ٹھہرایا ہے لیکن حاکم 1 ؎ نے اس روایت کو حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کر کے صحیح قرار دیا ہے اور یہ روایت نسائی 2 ؎ میں بھی ہے جس کی سند معتبر ہے ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اصول حدیث کے قاعدہ کے موافق صحیح بخاری و مسلم کی روایتوں کو ترجیح دی۔ جا کر صحیح تفسیر وہی ٹھہرے گی۔ جو پہلے بیان کی گئی اسی واسطے حافظ عماد الدی 3 ؎ ابن کثیر نے دوسری تفسیر کو پسند نہیں کیا اور شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ نے بھی اپنے فارسی کے فائدہ میں اس دوسری تفسیر کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن اگر دونوں قصوں کے مجموعہ کو آیتوں کے مطلب میں داخل سمجھا جائے تو دونوں روایتوں میں کچھ اختلاف باقی نہیں رہتا۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے گرفت کے طور پر ان کی جانچ کی اب پہلی تفسیر کی بنیاد پر وہ جانچ یہ تھی کہ سو لڑکوں کے پیدا ہونے کی امید کی جگہ ایک لڑکا ادھورا پیدا ہوا تھا۔ اور دوسری تفسیر کی بنا پر وہ جانچ یہ تھی۔ کہ چالیس دن تک بادشاہت ضبط ہوگئی۔ پھر جب اس جانچ کے بعد سلیمان (علیہ السلام) نے ایسی بادشاہت کے عطا ہونے کی دعا کی جس کی کوئی دوسری مثال دنیا میں نہ پائی جاوے تو اللہ تعالیٰ نے ہوا اور جنات کو ان کا فرمانبردار کردیا۔ وہ ہوا ظاہر میں تو نرم تھی آندھی نہیں تھی۔ لیکن تاثیر میں ایسی تیز تھی کہ رات دن میں اس کے سبب سے دو مہینہ کا راستہ طے ہوجاتا تھا۔ چناچہ سورة السبا میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اسی واسطے یہاں تو اس ہوا کو نرم فرمایا اور سورة الانبیا میں تیز ہوا فرمایا۔ غرض اوپر کی تفسیر کے موافق ان آیتوں میں اور سورة الانبیا کی آیتوں میں کچھ مخالف نہیں ہے یہ تو ہوا کا کام ہوا۔ جنات جو تعینات تھے وہ کچھ تو عمارتوں کے بنانے کا کام کرتے تھے اور کچھ غوطے لگا کر سمندر میں سے موتی نکالتے تھے اور کچھ اور کام کرتے تھے۔ جن کاموں کا ذکر سورة السبا میں گزر چکا ہے جو جنات سرکشی کرتے تھے ان کو بیڑیاں ڈال کر قید کردیا جاتا تھا۔ آخر کو فرمایا سلیمان (علیہ السلام) بارگاہ الٰہی میں صاحب مرتبہ تھے۔ اس لئے اتنی بڑی بادشاہت ان کو عطا کی جا کر یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ اس بادشاہت کے کاموں میں وہ جس طرح چاہیں تصرف کریں کہ بات میں ان سے کسی طرح کی پرسش نہ ہوگی صحیح سند سے مسند امام 4 ؎ احمد میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ دو ایماندار شخصوں میں دوستی تھی جن میں ایک خوشحال تھا۔ اور دوسرا تنگ دست قیامت کے دن وہ تنگ دست شخص پہلے سے جنت میں جا کر وہاں اپنے دوست کو نہ پاوے گا تو بہت پریشان ہوگا پھر کچھ عرصہ کے بعد جب وہ مال دار شخص بھی جنت میں داخل ہوجاوے گا۔ تو وہ تنگ دست شخص اپنی پریشانی کا حال اس مال دار دوستے سے بیان کرے گا وہ مال دار شخص کہے گا۔ مال داری کے حساب و کتاب نے مجھ کو اتنے عرصہ تک روک رکھا تھا۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ اتنی بڑی بادشاہت کے عطا فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو حساب و کتاب کے جھگڑے سے جو بچا دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا جس احسان کا حال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ (3 ؎ صحیح بخاری باب قول الرجل لا طوفن اللیلۃ علی نساء ص 788 ج 2) (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 309‘ 310) (2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 309‘ 310) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 36 ج 4) (4 ؎ الترغیب والترہیب باب الترغیب فی الفقر الخ ص 240 ج 4)
Top