Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Al-Qurtubi - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ
: اور البتہ
فَتَنَّا
: ہم نے آزمائش کی
سُلَيْمٰنَ
: سلیمان
وَاَلْقَيْنَا
: اور ہم نے ڈالا
عَلٰي كُرْسِيِّهٖ
: اس کے تخت پر
جَسَدًا
: ایک دھڑ
ثُمَّ اَنَابَ
: پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
34
۔
40
:۔ وہ لقد فتنا سلیمن ایک قول یہ کیا گیا : حضرت سلیمان علیہ اسلام کو بادشاہ بنے بیس سال گزر چکے تھے کہ آپ کو فتنہ میں ڈالا گیا اور آزمائش کے بعد آپ بیس سال تک حاکم رہے ‘ یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے۔ فتنا یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ہم نے سزا دی (
1
) اس کے سبب وہ روایت ہے جو سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں دو فریق حاضر ہوئے ان میں سے ایک فریق جرادہ کے خاندان سے تھا جو آپ کی بیوی تھی۔ حضرت سلیمان اس سے محبت کرتے تھے تو آپ نے خواہش کی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہو۔ پھر دونوں کے درمیان فیصلہ انصاف سے کیا۔ آپ کو جو بھی مصیبت پہنچی اسی خواہش کی بنا پر تھی۔ سعید بن مسیب نے کہا : حضرت سلیمان علیہ اسلام تین دن تک لوگوں سے حجاب میں رہے آپ نے کسی کے درمیان فیصلہ نہ یا نہ مظلوم کو ظالم سے انصاف دلایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی طرف وحی کی : میں نے تجھے خلیفہ اس لئے نہیں بنایا کہ تو میرے بندوں پر حجاب کرے بلکہ اس لئے خلیفہ بنایا ہے کہ تو ان کے درمیان فیصلہ کرے اور مظلوم کو انصاف دلائے۔ شہر بن حوشب اور روہب بن منبہ نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک بادشاہ کی بیٹی کو گرفتار کیا جس کے ساتھ سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ میں جہاد کیا تھا (
2
) جس بادشاہ کو صیداون کہتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں اس کی محبت ڈال دی گئی جب کہ وہ آپ سے اعراض کرتی تھی ‘ وہ ترچھی نظروں سے آپ کو دیکھتی اور الٹی سیدھی باتیں کرتی تھی ‘ اس کی آنکھوں سے اپنے والد کے غم میں آنسو نہ پھوٹتا تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی پھر اس نے یہ سوال کیا کہ وہ اس کے باپ کا اس کی صورت مطابق بت بنا دے تاکہ وہ اسے دیکھا کرے۔ حضرت سلیمان نے اس کا حکم دیا تو اس کے لئے مجسمہ بنا دیا گیا اس عورت نے اس کی تعظیم کی اور اسے کے سامنے سجدہ کیا اور اس کی لونڈیوں نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا۔ وہ ایک ایسا بن بن گیا جس کی حضرت سلیمان علیہ اسلام کے گھر میں عبادت کی جا رہی تھی مگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم نہ تھا یہاں تک کہ چالیس دن گذر گئے۔ اس کی کبر بنی اسرائیل میں عام ہوگئی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی علم ہوگیا تو آپ نے اسے توڑ دیا پھر اسے جلا دیا پھر اس کے ذرات سمندر میں بکھیر دیئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت سلیمان نے صیدون کی بیٹی و پایا جس کا نام جرادہ تھا جس طرح کہ زمحشری نے ذکر کیا ہے تو وہ عورت آپ کو بہت اچھی لگی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس پر اسلام کو پیش کیا تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے ڈرایا تو اس عورت نے کہا : مجھے قتل کرو دو میں اسلام قبول نہیں کروں گی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے شادی کرلی جب کہ وہ مشرک تھی۔ وہ یاقوت کے بنے بت کی چالیس روزہ تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے پوشیدہ عبادت کرتی رہی یہاں تک وہ مسلمان ہوگئی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چالیس روز تک حکومت کے زوال کے ساتھ سزادی گئی۔ کعب الاحبار نے کہا : کعبہ الاحبار نے کہا : جب حضرت سلیمان علیہ السلما نے گھوڑوں کو قتل کر کے گھوڑوں پر ظلم کیا تو آپ کی حکومت سلب کرلی گئی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حیض یا کسی اور عارضہ کی صورت میں اپنی کسی بیوی کے ساتھ حق زوجیت ادا کیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی عورت سے شادی نہ کریں تو آپ نے ان کے علاوہ کسی اور عورت سے شادی کرلی تو اس جہ سے انہیں سزا دی گی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ والقینا علی کرسیہ جسدا اکثر مفسرین کے نزدیک وہ شیطان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی شبیہ اس پر ڈالی اس کا نام صنحر بن عمیر صاحب السحر تھا یہی وہ تھا جس نے حضرت سلیمان علیہ السما کی رہنمائی الماس) ہیرہ ( پر کی تھی جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بتی المقدس بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ جب پتھروں کو لوہے سے تراشا جاتا ہے تو ان میں آواز پیدا ہوتی انہوں نے الماس) ہیرہ ( لیا اور اس کے ساتھ پتھر ‘ نگینے اور دوسیری چیزیں کاٹنے لگے تو کوئی اواز پیدا نہ ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ سرکش جن تھا تمام شیاطین بھی اس پر غالب نہ آتے وہ ہمیشہ حیلہ سازی کرتا رہتا تھا یہاں تک کہ وہ حضرت سلیمان بن دائود (علیہما السلام) کی انگوٹھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بیت الخلا میں انگوٹھی کے ساتھ داخل نہیں ہوتے تھے۔ صخر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں آیا تو اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عورتوں سے ایک عورت ‘ جسے امینہ کہا جاتا ‘ سے انگوٹھی لی جو آپ کی تھی ‘ یہ شہر بن حوشب اور وہب کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر نے کہا : اس کا نام جرادہ تھا وہ چالیس روز تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت پر قابض رہا جب کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھاگے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انگوٹھی اور بادشاہت انہیں واپس کردی۔ سعید بن مسیب نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی اپنے بستر کے نیچے رکھ دی اور شیطان نے اسے اٹھالیا۔ مجاہد نے کہا : شیطان نے انگوٹھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ سے لے لی تھی کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے شیطان نے پوچھا جب کہ اس کا نام آصف تھا : تم لوگوں کو کس طرح گمراہ کرتے ہو ؟ شیطان نے آپ نے آپ سے کہا : مجھے اپنی انگوٹھی دو تاکہ میں تمہیں بتا دوں تو حضرت سلیمان علیہ اسلام نے اسے اپنی انگوٹھی دے دی۔ جب شیطان نے انگوٹھی لے لی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل بنا کر آپ کی کرسی پر بیٹھ گیا وہ آپ کی بیویوں کے پاس جاتا ناحق فیصلے کرتا اور غلط احکامات دیتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بیوں کے پاس جانے کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور وہب بن منبہ سے مروی ہے کہ وہ ان کے پاس ان کے حیض کے دنوں میں آیا تھا۔ مجاہد نے کہا : اسے آپ کی بیویوں کے پاس آنے سے منع کردیا گیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے حکومت زائل ہوگئی تو آپ ساحل سمندر کی طرف بھاگ نکلے آپ وہاں لوگوں سے ضیافت طلب کرتے اور اجرت پر شکاریوں کی مچھلیاں اٹھایا کرتے تھے جب وہ لوگوں کو بتاتے کہ وہ سلیان بن دائود ہیں تو لوگ انہیں جھٹلاتے تھے۔ قتادہ نے کہا ; جب بنی اسرائیل نے شیطان کے احکامات کو عجیب و غریب جانا تو آپ نے شکاری سے ایک مچھلی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ آپ نے وہ کھانے کے لئے لی تھی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مچھلیاں اٹھانے کی اجرت کے طور پر لی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے شکار کیا تھا ‘ جب اس کے پیٹ کو چیرا تو اپنی انگوٹھی اس میں موجود پائی تھی۔ یہ واقعہ آپ کی بادشاہت کے زائل ہونے سے چالیس دن بعد ہوا تھا یہ دونوں کی وہی تعداد ہے جتنے دنوں میں آپ کے گھر میں بت کی عبادت کی گئی تھی آپ نے وہ انگوٹھی مچھلی کے پیٹ میں پائی تھی کیونکہ شیطان نے وہ انگوٹھی سمندر میں پھینک دی تھی۔ حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے : اسی اثناء میں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے انگوٹھی سے کھیل رہے تھے کہ وہ انگوٹھی سمندر میں گر گئی جب کہ ان کی حکومت اس انگوٹھی میں تھی۔ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کا نقش لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تھا یحییٰ بن ابی عمر و شیبانی نے حکایت بیان کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تو وہاں سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تواضع کی خاطر بیت المقدس کی طرف پیدال گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملک لوٹایا تو آپ نے صنحر کو پکڑ لیا جس نے انگوٹھی لی تھی اس کے لئے چٹان میں سراخ کیا اور اس میں اسے داخل کیا اور دوسری چٹان کے ساتھ اسے بند کردیا اور لوہے اور سکہ کے ساتھ اسے جوڑ دیا اور اس پر اپنی مہر لگائی اور سمندر میں پھینک دیا فرمایا : قیامت تک یہ تیرا قید خانہ ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ ‘ نے کہا : جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے انگوٹھی لے لی تو شیاطین ‘ جن ‘ انسان ‘ پرندے ‘ وحشی جانور اور ہوا اپ کی طرف متوجہ ہوئے اور وہ شیطان بھاگ گیا جو آپ کا نائب بنا تھا وہ سمندر میں ایک جزیرہ میں آیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے شیاطین کو اس کے پاس بھیجا انہوں نے کہا : ہم اس پر قادر نہیں لیکن وہ ہفتہ میں ایک روز جزیرہ کے ایک چشمہ پر آتا ہے ہم اس پر قابو نہیں پا سکتے جب تک وہ نشے میں نہ ہو کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے پانی نکلوایا اور اس میں شراب ڈال دی وہ اس چشمہ پر آنے والے دن اس پر آیا تو اس میں شراب تھی اس نے کہا : اللہ کی قسم ! تو عمدہ مشروب ہے مگر تو حلیم کو جوش دلاتی ہے ‘ جاہل کی جہالت میں اضافہ کرتی ہے پھر اسے شدید پیاس لگی پھر وہ اسی چشمہ کے پاس آیا اور اسی جیسی گفتگو کی پھر اسے پیا تو شراب اس کی عقل پر عالب آگئی ان شیاطین نے اسے انگوٹھی تو اس نے کہا ; ہر حکم سنو گا اور اطاعت بھی کروں گا۔ وہ اسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس لے آئے آپ نے اسے جکڑ دیا اور ایک پہاڑ کی طرف بھیج دیا۔ علماء نے ذکر کیا ہے کہ وہ دھویں کا پہاڑ ہے انہوں نے کہا : وہ دھواں جو تم دیکھتے ہو یہ اس کی سانسیں ہیں اور وہ پانی جو اس پہاڑ سے نکلتا ہے وہ اس کا پیشاب ہے۔ مجاہد نے کہا : اس شیطان کا نام آصف ہے۔ سدی نے کہا اس کا نام جبقیق ہے ‘ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اس قول کو ضعیف قرار دیا گیا ہے کیونکہ شیطان انبیاء کی صورت نہیں اپنا سکتا ‘ پھر یہ بھی محال ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مملکت کے لوگوں پر شیطان حضرت سلماے ن (علیہ السلام) کی صورت اپنا کر معاملہ خلط ملط کر دے یہاں تک کہ وہ اسے یہ گمان کریں کہ یہ نبی برحق اور وہ شیطان کے ساتھ ملک کر باطل کام شروع کردیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جسد سے مراد بچہ ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاں پیدا ہوا جب وہ پیدا ہوا تو شیاطین جمع ہوگئے ان میں سے بعض نے بعض سے کہا : اگر اس کا بیٹا زندہ رہا تو ہم اس کی غلامی اور تسخیر سے آزادنہ ہونگے آئو ہم اس کے بیٹے کو قتل کردیں یا اسے بگاڑ دیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم ہوگیا آپ نے ہوا کو حک دیا تو وہ بچے کو بادلوں میں لے گئی ان کا بیٹا شیاطین کے خاف سے بادلوں میں رہا تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین سے خوفزدہ ہونے کی بنا پر آپ کو سزا دی آپ نے محسوس ہی نہ کیا کہ وہ آپ کے تخت پر مردہ پڑا ہوا تھا ‘ یہ معنی شبعی نے بیان کیا ہے یہی وہ جسد ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے والقینا علی کرسیہ جسدا میں بیان کیا ہے۔ نقاش اور دوسرے علماء نے بیان کیا ہے : اکثر لونڈیاں جن سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس لیے وطی کی تھی کہ ان سے اولاد ہوگی تو آپ کا آدھے جسم والا بچہ پیدا ہوا تو اس کی حیثیت اس جسم والی تھی جس کو آپ کے تخت پر پھینک دیا گیا ہو۔ دائی اسے لائی تھی اور اس نے وہاں پھینک دیا تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : آج رات میں نوے عورتوں کے پاس چکر لگائوں گا ان میں سے ہر ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے گا آپ کے مصاحب نے کہا : انشاء اللہ کہو تو آپ نے انشاء اللہ نہ کہا ‘ آپ نے رات کے وقت اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا تو ایک عورت کے سوا کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی وہ بھی آدھا بچہ لائی اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ! اگر وہ انشاء اللہ کہہ دیتے تو وہ سب شاہسوار کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے “ (
1
) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : جسد سے مراد آصف بر خیا صدیق تھے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کاتب تھے۔ اس کی وجہ یہ نبی جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آزمایا گیا تو انگوٹھی آپ کے ہاتھ سے گر پڑی اس میں آپ کی بادشاہت تھی آپ نے دوبارہ اسے اپنے ہاتھ میں ڈالا تو وہ پھر گر پڑی تو آپ کو آزمائش کا یقین ہوگیا۔ آصف بن برخیا نے آپ سے عرض کی : آپ کو آزمائش میں ڈالا گیا ہے اس لئے وہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ٹھہرتی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تائب ہونے کی حیثیت سے رجوع کرو میں تیری حکومت میں تیرے قائم مقام رہوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کی توبہ قبول کرلے۔ آپ کی آزمائش کے چودہ دور ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔ آصف بن برخیا نے انگوٹھی لے لی اسے اپنے ہاتھ میں رکھا تو وہ وہاں ٹھہر گئی ان کے پاس کتاب کا علم تھا آصف بن برخیا حضرت سلامگن (علیہ السلام) کی خدمت اور آپ کے عیال میں قئام مقام رہے جیسی حال حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تھی ایسی حال چلتے اور جو عمل حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تھا ایسا ہی عمل آصف کا ہوتا یہاں تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے گھر تائب ہو کر لوٹ ائے اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ملک انہیں لوٹا دیا۔ آصف بن برخیا آپ کی مجلس میں رہے آپ کی کرسی پر بیٹھے اور انگوٹھی اپنے ہاتھ میں رکھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جسد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تھا ‘ اس کی وجہ یہ بنی کہ آپ شدید بیمار ہوئے یہاں تک کہ محض ایک جسم کی حیثیت سے ہوگئے ایک کمزور مریض کی یوں صف بیان کی جاتی ہے : کالجسد الملقی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی اور آپ کا ملک حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے چھ سو کرسیاں بچھائی جاتیں پھر انسانوں سے معززین حاضر خدمت ہوتے تو وہ آپ کے قریب بیٹھ جاتے پھر جنوں میں سے معززین آتے تو وہ انسانوں کے قریب بیٹھ جاتے پھر پرندے آتے جو ان کو سایہ کر لتے ھ پھر آپ کو ہوا کو بلاتے جو ان سب کو اٹھا لیتی وہ ایک دن میں ایک ماہ کی مسافت طے کرلیتی۔ وہب ‘ کعب اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب اپنے باپ کے بعد حاکم بنے تو آپ نے کرسی بنانے کا حکم دیا تاکہ فیصلہ کرنے کے لئے اس پر بیٹھیں اور یہ حکم دیا کہ ایسے خوفناک انداز میں بنایا جائے کہ جب باطل پرست یا جھوٹا گواہ اسے دیکھے تو کا نپ جائے اور خوف زدہ ہوجائے آپ نے یہ حکم دیا کہ اس کرسی کو ہاتھی کے دانتوں سے بنایا جائے جس پر موتی ‘ یاقوت اور زبر جد کے نگینے جڑے ہوئے ہوں اسے سونے کے بنے چار درختوں سے گھیرا گیا ہوا سے سونے کی بنی چار کھجوروں کے ساتھ گھیرا گیا جس کی ٹہنیاں سرخ یاقوت اور سبز زبرجد کی تھیں دو کھجوروں کے سروں پر سونے کے دو مور تھے اور دو کھجوروں کے سروں پر سونے کی دو گدھیں تھیں جو ایک دوسرے کے مقابل تھے کرسی بنانے والوں نے کرسی کی دونوں جانب سونے کے دوشیر بنائے ان دونوں میں سے ہر ایک کے سر پر سبز زمرد کا ستون تھا ‘ انہوں نے کھجوروں کے درختوں پر سرخ سونے کی بیلیں جوڑ دیں ان کے گچھے سرخ یا قوت کے تھے اس طرح ان بیلوں نے کھجوروں اور کرسی کو سایہ کیا ہوا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب اس پر چڑھنے کا ارادہ کرتے تو اس کے نیچے والے زینہ پر اپنے دونوں قدم رکھتے تو کرسی اتنی تیزی سے گھوم جاتی جس طرح تیز چکی گھومتی ہے وہ گدھیں اور مور اپنے پر پھیلا دیتے دونوں شیر اپنے ہاتھ پھیلا لیتے اور اپنی دمیں زمین پر مارتے ‘ جس زینے پر بھی آپ چڑھتے یہ چیزیں اس طرح کا ہی عمل کرتیں جب اس کے آخری زینے پر بیٹھ جاتے تو وہ دونوں گدھیں جو کھجور کے درختوں کے اوپر ہوتیں وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تاج پکڑتیں اور اسے آپ کے سر پر رکھ دیتیں پھر کر سی گھوم جاتی اسی کے ساتھ دونوں گدیں ‘ دونوں مور اور دونوں شیر اپنے سروں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جھکاتے ہوئے گھوم جاتے اور اپنے پیٹوں سے کستوری اور عنبر کو چھڑکتے پھر وہ کبوتری
7
جو سونے کی بنی ہوئی تھی جو کرسی کے اوپر موتیوں اور جواہرات سے بنے ستونوں پر ہوتی تو رات حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پکڑاتی حضرت سلیمان (علیہ السلام) اسے کھولتے اسے لوگوں پر پڑھتے اور لوگوں کو فیصلہ کی طرف دعوت دیتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا : بنی اسرائیل کے علماء سونے کی بنی کرسیوں پر بیٹھتے جن پر جواہرات جڑھے ہوتے یہ آپ کی دائیں جانب ہزار کرسیاں تھیں اور جنوں کے معززین چاندی کی کرسیوں پر بیٹھتے جو ہزار کرسیاں تھیں پھر پرندے انہیں سایہ کرتے ہوئے گھیر لیتے لوگ فیصلوں کے لئے آگے بڑھتے جب گواہ گواہیوں کے لئے آگے برھتے تو کرسی اپنے تمام متعلقات کے ساتھ تیز چکی کے گھومنے کے ساتھ گھوم جاتی دونوں شیر اپنے ہاتھوں کو پھیلا لیتے اور اپنی دمیں زمین پر ماتے دونوں گدھیں اور دونوں مور اپنے پروں کو پھیلا لیتے گواہ ڈر جاتے اور حق بات کی گواہی دیتے وہ چیز جو اس کی کرسی کو گھماتی وہ سونے کی بنی مچھلی تھی وہ کرسی اس پر تھی۔ صنحر جنی نے جو آپ کے لئے چیزیں بنائی تھیں ان میں سے یہ ایک عظیم چیز تھی۔ جب کرسی کے گھومنے کا احساس ان گدھوں ‘ شیروں اور موروں کو ہوتا جو کرسی کے اوپر سے نیچے تک تھے تو وہ سب چیزیں گھوم جاتیں جب ٹہھرتیں تو سب چیزیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سر پر ٹھہر جاتیں جب کہ آپ بیٹھے ہوتے پھر ان کے پیٹوں میں مشک اور عنبر میں سے جو ہوتا انہیں آپ پر نچھاور کرتے۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا تو بخت نصر نے آدمی بھیجے جو کرسی کو لے آئے جب اسے انطاکیہ لے جایا گیا اس نے ارادہ کیا کہ اس پر چڑھے اسے یہ علم نہیں تھا کیسے اس پر چڑھنا ہے جب اس نے ایک قدم اس پر رکھا تو شیر نے اس کے پائوں پر ضرب لگا دی اور اسے توڑ دیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب اس چڑھتے تو دونوں قدم رکھتے بخت نصر مرگیا اور کرسی بیت المقدس کی طرف واپس کردی گئی کوئی بادشاہ اس پر نہ بیٹھ سکا لیکن کوئی اس کے انجام سے بھی آگاہ نہیں ممکن ہے اسے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا ہو۔ ثم اناب۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ قال رب اغفرلی یعنی میرے گناہ بخش دو ‘ و ھب لی ملکا لا یتبغی لا حد من بعدی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کیسے دنیا کی طلب کیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت کی ‘ اس سے ناراضگی کی اور اپنی بارگاہ میں اسے حقیر جانا ہے ؟۔ اس کا جواب یہ ہے : علماء کے نزدیک یہ طلب اس پر محمول ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کریں گے ‘ ملک کے امور اچھے انداز میں چلائیں گے ‘ مخلوقات کی منازل کی ترتیب سے رکھیں گے ‘ اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کریں گے ‘ اس کی رسوم کی حفاظت کریں گے ‘ اس کے شعائر کی تعظیم کریں گے ‘ اس کی عبادت ظاہر کریں گے ‘ اس کی اطاعت کو لازم پکڑیں گے جو حکم اس پر نافذ ہوگا ‘ اس کے قانوں کو منظم کریں گے ‘ وعدوں کو ثابت کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ جانتا ہے جسے مخلوقات میں سے کوئی نہیں جانتا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے سامنے تصریح کی ہے : انی اعلم مالا تعلمون۔ ) البقرہ ( حاشاو کلا کہ حضرت سلیان (علیہ السلام) کا یہ سوال محض دنیا کی طلب کے لئے ہو کیونکہ آپ اور انبیاء تمام مخلوقات پر زیادہ زاہد ہوتے ہیں آپ نے مملکت کا سوال محض اللہ تعالیٰ کے لئے کیا تھا جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کی تباہی اور ہلاکت کا سوال اللہ تعالیٰ کے لئے کیا تھا دونوں سوال پسندیدہ تھے اور دونوں مقبول ہوئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عرضداشت مقبول ہوئی تو جو بھی روئے زمین پر تھا اسے ہلاک کردیا گیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو مملکت عطا کردی گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ مطالبہ اللہ تعالیٰ کے امر سے کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ تمام بندوں میں سے صرف آپ ہی ان امور کو چلا سکتے ہیں یا یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ کہیں : عظیم ملک کو تو کہا : لا یتبغی لا حد من بعدی اس میں اعتراض کی گنجائش موجود ہے پہلی تعبیر زیادہ مناسب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : ھذا عطاء و نا فا منن او امسک بغیر حساب۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کوئی بھی آدمی ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا بار ہے مگر حضرت سلیمان بن دائود کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ھذا عطا ئو نا۔ میں کہتا ہوں : یہ چیز اس کو رد کردیتی ہے جو ایک روایت میں مروی ہے کہ جنت میں تمام انبیاء کرام میں سے سب سے آخر میں داخل ہونے والے حضرت دائود (علیہ السلام) ہیں کیونکہ دنیا میں ان کی بادشاہت ملی۔ بعض روایات میں ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) انبیائ کے جنت میں داخل ہونے کے چالیس سال بعد جنت میں داخل ہونگے اسے صاحب قوت نے ذکر کیا ہے۔ یہ ایسی روایت ہے جس کی اصل نہیں کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے تو اس پر کوئی بوجھ نہیں کیونکہ یہ بطریق احسان انہیں نصیب ہوئی ہے تو پھر وہ کیسے جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونگے جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : و ان لہ عندنا لرلفی و حسن ماب۔ صححہ میں ہے لکل نبی دعوۃ مستجابۃ فتعجل کل نبی دعوتہ ہر نبی کے لئے ایک مقبول حاجت بنا دی گئی اس وجہ سے ان پر اس کا کوئی بوجھ نہیں۔ لا ینبغی لا حد من بعدی کا معنی ہے میرے کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اس کا سوال کرے گویا انہوں نے ایسا سوال کیا جس کا سوال بعد میں ممنوع قرار دیا گیا یہاں تک کہ کسی کی امید اس کے ساتھ متعلق نہ ہوئی اور قبولیت کے ممنوع ہونے کی وجہ سے اس نے اس کا سوال بھی نہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان کا بادشاہت کا سوال کرنا آپ کے بعد کسی کے لئے مناسب نہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ آسمان و زمین کی تخلیق میں ظاہر وعیاں رہے کو ین کہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام و مرتبہ میں ایک سبقت موجود ہے ہر ایک پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے خصوصیت ہو ‘ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے مقام و مرتبہ پر استدلال کیا جاسکے یہی وجہ ہے جب نبی کریم ﷺ نے عفریت کو پکڑا جس نے یہ ارادہ کیا تھا کہ آپ کی نماز کو قطع کرے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس عفریت پر آپ کو قدرت بھی دے دی تو حضرت ﷺ نے اسے باندھنے کا ارادہ کیا پھر اپنے بھائی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول یاد آگیا : رب اغفرلی و ھب ملکا لا ینبی لا حد من بعدی (
1
) تو حضور ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد بھی کسی کو یہ حکومت عطا کی جاتی تو خصوصیت ختم ہوجاتی گویا حضرت ﷺ نے اس خصوصیات میں مزاحمت کو ناپسند کیا اس کے بعد کہ آپ نے اس چیز کو جان لیا تھا کہ یہی وجہ ہے جو آپ کی خصوصیت ہے کہ شیاطین کو آپ کے لئے مسخر کردیا گیا ہے اور آپ کی یہ دعا قبول ہوگئی ہے کہ آپ کے بعد کسی کے لئے ایسی حکومت نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ فسخر نا لہ الریح تجری بامرہ رخاء۔ رخاء کا معنی ہے نرم جب کہ اس میں قوت اور شدت موجد ہے یہاں تک کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ ہوا آپ کے چھائونی ‘ آپ کے لشکروں اور آپ کے تخت کو اٹھالیتی تھی جس طرح روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ کا تخف فرسخ در فرسخ تھا اس میں سو (
100
) درجے تھے جو ایک کے اوپر نیچے تھے ہر درجہ میں ایک قسم کے لوگ ہوتے تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سب سے اوپر والے درجہ میں اپنی عورتوں اور خدام کے ساتھ رہتے تھے۔ ابو نعیم حافظ نے ذکر کیا ہے احمد بن جعفر ‘ عبداللہ بن احمد بن خنبل سے وہ احمد بن ایوب وہ ابوبکر بن عیاش سے وہ ادریس بن وہب بن منبہ سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سو کمرے تھے ان میں سے سب سے اونچا شیشے کا تھا اور سب سے نچلے والا لوہے کا تھا ‘ ایک روز آپ ہوا کے دوش پر سوار ہوئے تو آپ ایک کسان کے پاس سے گزرے تو کسان نے ان کی طرف دیکھا تو کہا : آل دائود کو عظیم بادشاہت دی گئی ہے ‘ ہوا نے اس کی گفتگو سن لی ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کان میں ڈالی آپ اترے یہاں تک کہ اس کسان کے پاس آئے فرمایا : میں نے تیری بات سنی ہے میں تیرے پاس اس لیے چل کر آیا ہوں تاکہ تو اس چیز کی تمنا نہ کرے جس پر تو قادر نہیں تیرا ایک دفعہ سبحان اللہ کہنا جسے اللہ تعالیٰ قبول کرلے اس حکومت سے بہتر ہے جو آل دائود کو دی گئی ہے ‘ کسان نے کہا اللہ تعالیٰ تیرے غم کو دور کرے تو نے میرے غم کو دور کیا۔ حیث اصاب۔ اصاب کا معنی ارادہ کیا ‘ یہ مجاہد کا قول ہے عرب کہتے ہیں : اصاب الصواب و اخطا الجواب (
2
) ۔ صحیح کا ارادہ کیا اور جواب میں غلطی کی ‘ یہ ابن عربی کا قول ہے۔ شاعر نے کہا : اصاب الکلام فلم یستطع فاخطا الجواب لدی المفصل اس نے گفتگو کا ارادہ کیا تو اس نے طاقت نہ رکھی اس نے فیصلہ کے وقت جواب میں غلطی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حمیر لی لغت میں اصاب کا معنی اراد ہے۔ قتادہ نے کہا ؟ یہ ہجر کی زبان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؟ حیث اصاب کا معنی ہے حینما قصد یہ اصل میں اصابۃ السھم الغرض المقصود سے ماخوز ہے تیر ٹارگٹ پر جا لگا۔ والشیطین کل بناء و غواص۔ یعنی ہم نے اس کے لئے شیاطین کو مسخر کردیا (
1
) جب کہ اس سے قبل کسی کے لئے یہ مسخر نہ تھے کل بناء یہ شیاطین سے بدل ہیں اصل کلام یوں ہے کل بناء منھم وہ اس کے لئے وہ چیز بناتے ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) چاہتے ہیں۔ شاعر نے کہا الا سلیمان اذ قال الالہ لہ قم فی البریۃ فاحددھا عن الفند و خیس الجن انی قد اذنت لھم یبنون تدمر بالصفاح والعمد مگر سلیمان (علیہ السلام) ‘ جب اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : جنگل میں کھڑے ہو جائو ‘ اسے خطا سے پاک کر دو ‘ جنوں کو ذلیل و رسوا کر دو میں نے انہیں حکم دے دیا ہے وہ باریک پتلے پتھروں اور ستونوں کے ساتھ عمارتیں بنائیں گے۔ و غواص وہ سمندر سے ان کے لئے موتی نکالیں گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پہلے شخص تھے جن کے لئے سمندر سے موتی نکالے گئے۔ آخرین مقرنین فی الاصفاد۔ ہم نے ان کے لئے سرکش شیاطین کو مسخر کیا یہاں تک کہ آپ نے لوہے کی زنجیروں اور بیڑیوں میں انہیں جکڑ دیا ‘ یہ قتادہ نے کہا۔ سدی نے کہا : اس سے مراد طوق ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کرسیاں ہیں ‘ اسی معنی میں شاعر کا عول ہے قابوا بالنھاب و بالشبایا و ابنا بالملوک مصفدینا وہ چھینے ہوئے مال ‘ قیدیوں کے ساتھ لوٹے اور ہم رسیوں میں جکڑے ہوئے بادشاہوں کے بیٹوں کے ساتھ واپس لوٹے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : آپ یہ معاملہ ان کے کفار کے ساتھ کرتے تھے جب وہ ایمان لے آتے تو آپ انہیں آزاد چھوڑ دیتے انہیں اپنا مطیع نہیں بناتے۔ ھذا عطا ئو نا اسم اشارہ سے مراد بادشاہت ہے ‘ یہ بادشاہت ہماری عطا ہے جسے چاہیں آپ عطا کریں اور جسے چاہیں نہ دیں آپ پر کوئی حساب نہیں۔ حضرت حسن بصری ‘ صحاک اور دوسرے علماء سے مروی ہے ‘ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جس پر بھی جو نعمت کی ہے اس پر اس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی بوجھ ہوگا مگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے مستثنی تھے کو ن کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا ہے : ھذا عطا ئونا فامنن او امسک بغیر حساب۔ قتادہ نے کہا : اسم اشارہ سے مراد حقوق زوجیت ادا کرنے پر قوت ہے آپ تین سو بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں آپ کی پشت میں سو آدمیوں کی قوت تھی ‘ یہ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے ‘ اسی کی ہم معنی روایت بخاری میں موجود ہے اس تاویل کی بناء پر فامنن منی سے مشتق ہوگا (
2
) یہ کہا جاتا ہے : امنی یمنی ‘ منی یمنی دونوں لغتیں ہیں جب تو امنی سے امر کا صیغہ بنائے گا تو تو کہے گا امن اور منی یمنی کا صیغہ امن ہوگا جب تو فعل کے نون کے ساتھ خفیہ لائے تو کہے گا امنن۔ جو احسان کی طرف گیا ہے اس نے کہا : یہ من غلیہ سے مشتق ہے ‘ جب وہ اس سے امر کا صیغہ بنائے گا تو دونوں نونوں کو ظاہر کرے گا کیونکہ یہ مضاعف ہے تو اس نے کہا : امنن حدیث میں روایت کیا گیا ہے کہ آپ کے لئے شیاطین کو مسخر کیا گیا جس کے حق میں آپ چاہیں اسے آزاد کردیں اور چھوڑ دیں اور جس کے بارے میں چاہیں اپ اسے روکے رکھیں ‘ یہ قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے جو روایت نقل کی ہے اس کی تعبیر یہ ہے اپنی عورتوں میں سے جس کے ساتھ چاہو حقوق زوجیت ادا کرو اور جس کے بارے چاہو اس کے ساتھ حقوق زوجیت سے رکے رہو آپ پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ و ان لہ عند نا لزلفی و حسن ماب۔ یعنی اگر ہم نے ان پر دنیا میں انعما کیا ہے تو اس کے لئے آخرت میں بھی قربت اور لوٹنے کی بہترین جگہ ہوگی۔
Top