Jawahir-ul-Quran - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے جانچا سلیمان کو31 اور ڈال دیا اس کے تخت پر ایک دھڑ پھر وہ رجوع ہوا
31:۔ ” ولقد فتنا الخ “ سلیمان (علیہ السلام) کو ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ان کے تخت پر ایک جسد ڈالدیا اس آیت میں جسد اور آزمائش کی تعیین نہیں کی گئی اس لیے اس کی تعیین میں بھی اختلاف ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں سے مقاربت کروں گا تو ہر ایک کے بچہ پیدا ہوگا۔ اور ہر بچہ مجاہد ہوگا۔ لیکن انشاء اللہ نہ کہا چناچہ ایک بیوی کے سوا کسی کے بچہ پیدا نہ ہو اور وہ بھی ناقص الخلقت۔ اس کے بعدحضور ﷺ نے فرمایا اگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہہ لیتے تو تمام بیویوں کے بچے پیدا ہوتے اور سب مجاہد و شہسوار ہوتے۔ حدیث کے الفاظ صرف یہاں تک ہیں۔ اس حدیث کو نقل کر کے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ دایہ نے اس کو لاکر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے تخت پر ڈال دیا اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) متنبہ ہوئے کہ یہ انشاء اللہ نہ کہنے کا نتیجہ ہے چناچہ فورًا توبہ و استغفار کیا۔ یہ حدیث صحیح ہے جو صحیح بخاری (ج 1 ص 395، ج 2 ص 994) کے علاوہ دوسری کتابوں میں بھی موجود ہے لیکن اس حدیث کے کسی بھی طریق میں ادنی سا اشارہ بھی ایسا نہیں ملتا جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے حدیث میں جو واقعہ مذکور ہے وہ اپنی جگہ ہے لیکن وہ واقعہ اس آیت کی تفسیر نہیں۔ البتہ مفسرین نے اس کو اس آیت کی تفسیر میں ذکر کردیا ہے بعض مفسرین نے جسد سے خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جسد مراد لیا وہ بیماری سے اس قدر بےہوش اور لاغر ہوگئے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جسد بلا روح ہیں۔ وقال قوم مرض سلیمان مرضا کالاغماء حتی صار علی کرسیہ جسدا کانہ بلا روح (بحر ج 7 ص 397) ۔ ” ولقدفتنا سلیمان “ بسبب مرض شید القاہ اللہ علیہ ” والقینا علی کرسیہ مندہ جسدا “ وذالک لشدۃ المرض و العرب تقول فی الضعیف انہ لحم علی وضم وجسم بلا روح ” ثم اناب “ ای رجع الی حال الصحۃ (کبیر ج 7 ص 203) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جہاد کے گھوڑوں کی دیکھ بھال میں اس قدر محو ہوگئے کہ نماز عصر اپنے اصل وقت سے مؤخر ہوگئی (اگرچہ سورج غروب نہیں ہوا تھا) اللہ تعالیٰ نے اس ادنی تغافل پر بطور تنبیہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے حکومت لے کر ان کی جگہ ایک بیکار شخص کو تخت نشین کردیا۔ جب انہوں نے استغفار کیا تو انہیں ان کا ملک واپس کردیا اور گھوڑوں کے عوض ہوا کو ان کے تابع کردیا۔ جسد سے وہی بیکار شخص مراد ہے۔ اس کے علاوہ بعض مفسرین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کو ایک جن (شیطان) کے قبضے میں لے لینے اور ان کی حکومت پر مسلط ہونے کا قصہ ذکر کیا ہے وہ سراسر جھوٹٓ اور یہود و زنادقہ کا افتراء ہے۔ اس کا ذکر کرنا بھی جائز نہیں۔ قال ابو حیان وغیرہ ان ھذہ المقالۃ من اوضاع وزنادقۃ الرفسطائیۃ ولا ینبغی لعاقل ان یعتقد صحۃ ما فیہا (روح ج 23 ص 199) ۔ قال القاضی عیاض وغیرہ من المحققین لا یصح مانقلہ الاخباریون من تبشیہ الشیطان بہ و تسلیطہ علی ملکہ وتصرفہ فی امتہ بالجور فی حکمہ وانالشیاطین لایسلطون علی مثلہ وقد عصم اللہ تعالیٰ الانبیاء من مثل ھذا (خازن جلد 6 ص 49) ۔ یہ عبارت علامہ خطیب شربینی المتوفی 977 ھ نے امام رازی سے اپنی تفسیر میں نقل کی ہے لیکن تفسیر کبیر کے مطبوعہ نسخہ میں یہ عبارت موجود نہیں۔ یہ نسخوں کا اختلاف ہے۔ یا طباعت کی غلطی ہے واللہ اعلم۔ (سجاد بخاری عفا اللہ عنہ) واما ما یروی من حدیث الخاتم والشیطان وعبادۃ الوثن فی بیت سلیمان (علیہ السلام) فمن اباطیل الیھود (مدارک) ۔
Top