Mafhoom-ul-Quran - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور بیشک ہم نے سلیمان کو آزمایا کہ ہم نے اس کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے اللہ کی طرف توجہ کی۔
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش اور بخشش تشریح : اس میں بھی بڑی مختلف آراء ہیں، لہٰذا بیشمار مستند تفاسیر کی روشنی میں اور ترجمہ کی مناسبت سے میری سمجھ میں تو کچھ اس طرح آیا ہے کہ آپ ایک مرتبہ شدید بیمار ہوگئے اور کمزوری کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے یوں لگتا تھا کہ آپ کے تخت پر ایک بےجان جسم پڑا ہوا ہے۔ تب آپ نے اللہ جل شانہ سے دعا کی اور آپ کی صحت و تندرستی واپس آگئی اور آپ نظام حکومت کو پہلے سے بھی زیادہ اچھی طرح چلانے لگے اور سب سے مختلف حکومت آپ کو ملی وہ اس طرح کہ جنات بھی آپ کے تابع کردیئے گئے تھے اور وہ آپ کے حکم کے منتظر رہتے۔ کچھ اور نعمتیں بھی آپ کو دی گئیں ملاحظہ ہو۔
Top