Maarif-ul-Quran - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے جانچا سلیمان کو اور ڈال دیا اس کے تخت پر ایک دھڑ پھر وہ رجوع ہوا۔
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے سلیمان ؑ کو (ایک اور طرح سے بھی) امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کے تخت پر ایک دھڑلا ڈالا۔ پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا۔

معارف و مسائل
اس آیت میں باری تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی ایک اور آزمائش کا تذکرہ فرمایا ہے، اور اس سلسلے میں صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ اس آزمائش کے دوران کوئی دھڑ حضرت سلیمان ؑ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ اب وہ دھڑ کیا تھا ؟ اس کے کرسی پر ڈالنے کا کیا مطلب ہے ؟ اور اس سے آزمائش کیونکر ہوئی ؟ یہ تفصیلات نہ قرآن کریم میں موجود ہیں اور نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں۔ اس لئے بعض محقق مفسرین مثلاً حافظ ابن کثیر کا رجحان یہاں بھی اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے جب بات کو مجمل چھوڑا ہے اس کی تفصیلات میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، بس اتنی بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی کوئی آزمائش کی تھی، جس کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے اللہ کی طرف پہلے سے زیادہ رجوع فرمایا اور قرآن کریم کا اصل مقصد اتنے بیان سے پورا ہوجاتا ہے۔
اور بعض مفسرین نے اس آزمائش کی تفصیلات کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں متعدد احتمالات بیان فرمائے ہیں۔ ان میں سے بعض احتمالات تو خالص اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہیں، مثلاً یہ کہ حضرت سلیمان ؑ کی حکومت کا راز ان کی انگوٹھی میں تھا، ایک دن ایک شیطان نے اس انگوٹھی کو قبضہ میں کرلیا اور اس کی وجہ سے وہ حضرت سلیمان ؑ کے تخت پر آپ ہی کی شکل میں حکمران بن بیٹھا۔ چالیس دن کے بعد حضرت سلیمان ؑ کو وہ انگوٹھی ایک مچھلی کے پیٹ میں سے ملی، اس کے بعد آپ نے دوبارہ حکومت پر قبضہ کیا۔ یہ روایت متعدد مزید قصوں کے ساتھ کئی تفسیر کی کتابوں میں آئی ہے لیکن حافظ ابن کثیر اس قسم کی تمام روایات کو اسرائیلیات میں شمار کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ
”اہل کتاب میں ایک جماعت ایسی ہے جو حضرت سلیمان ؑ کو نبی نہیں مانتی، بس ظاہر یہ ہے کہ یہ جھوٹے قصے انہی لوگوں نے گھڑے ہیں۔“ (تفسیر ابن کثیر ص 62 ج 4)
لہٰذا اس قسم کی روایات کو اس قرآنی آیت کی تفسیر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کا ایک اور واقعہ صحیح بخاری وغیرہ میں مذکور ہے، بعض حضرات مفسرین نے اس واقعہ کے بعض حصوں کو قرآن کریم کی اس آیت سے ملتا جلتا دیکھ کر اسے اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے یہ خیال ظاہر فرمایا کہ آج رات میں ازواج کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کروں گا۔ اور ان میں سے ہر بیوی سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ لیکن یہ خیال ظاہر فرماتے وقت آپ ”انشاء اللہ“ کہنا بھول گئے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے جلیل القدر پیغمبر کی یہ فرو گذاشت پسند نہ آئی اور اس نے آپ کے دعوے کو اس طرح غلط ثابت کردیا کہ تمام ازواج مطہرات میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک مردہ بچہ پیدا ہوا۔ جس کا ایک پہلو ندارد تھا۔
بعض مفسرین نے اس واقعہ کو آیت پر منطبق کر کے یہ فرمایا کہ تخت پر دھڑ کے لا ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے کسی خادم نے یہ بچہ آپ کے تخت پر لا کر رکھ دیا۔ حضرت سلیمان ؑ کو اس پر تنبہ ہوا کہ یہ انجام میرے ”انشاء اللہ“ نہ کہنے کا ہے۔ چناچہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع فرمایا اور اپنی اس فروگذاشت پر استغفار کیا۔
اس تفسیر کو متعدد محقق مفسرین مثلاً قاضی ابوالسعود اور علامہ آلوسی وغیرہ نے اختیار کیا ہے حکیم الامت حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں بھی اسی کے مطابق تفسیر کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ کو بھی آیت کی قطعی تفسیر نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے کہ یہ واقعہ جتنی روایتوں میں آیا ہے ان میں کہیں اس بات کی کوئی علامت نہیں ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے اس کو زیر بحث آیت کی تفسیر میں ذکر فرمایا ہو۔ امام بخاری نے بھی یہ حدیث کتاب الجہاد، کتاب الانبیاء اور کتاب الایمان والنذور وغیرہ میں تو متعدد طریقوں سے نقل کی ہے۔ لیکن کتاب التفسیر میں سورة ص کی تفسیر کے تحت اسے کہیں ذکر نہیں کیا، بلکہ (آیت) وھب لی ملکا الخ کے تحت ایک دوسری روایت نقل کی ہے اور اس حدیث کا کوئی حوالہ تک نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک بھی یہ واقعہ آیت زیر بحث کی تفسیر نہیں، بلکہ جس طرح انبیاء (علیہم السلام) کے دوسرے متعدد واقعات آنحضرت محمد ﷺ نے بیان فرمائے ہیں اسی طرح یہ بھی ایک جداگانہ واقعہ ہے۔ جس کا کسی آیت کی تفسیر ہونا کوئی ضروری نہیں۔
ایک تیسری تفسیر امام رازی وغیرہ نے بیان کی ہے، اور وہ یہ کہ حضرت سلیمان ؑ ایک مرتبہ سخت بیمار ہوگئے اور اس کی وجہ سے نقاہت اس درجہ بڑھ گئی کہ جب تخت پر لا کر بٹھائے گئے تو ایک بےروح جسم معلوم ہوتا تھا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت عطا فرمائی۔ اس وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے شکر بھی ادا کیا اور مغفرت بھی طلب فرمائی اور آئندہ کے لئے بےنظیر حکومت کی دعا بھی کی۔
لیکن یہ تفسیر بھی محض قیاسی ہے، قرآن کریم کے الفاظ سے بھی زیادہ مناسبت نہیں رکھتی اور کسی روایت سے بھی اس کا ثبوت نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی یقینی تفصیلات معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے، اور نہ ہم اس کے مکلف ہیں۔ لہٰذا اتنی بات پر ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی کوئی آزمائش کی تھی جس کے بعد ان میں انابت الی اللہ کا جذبہ پہلے سے زیادہ پیدا ہوا اور اس واقعہ کو ذکر کرنے سے قرآن کریم کا اصل مقصد تمام انسانوں کو اس بات کی دعوت دینا ہے کہ وہ کسی مصیبت یا آزمائش میں مبتلا ہوں تو انہیں حضرت سلیمان ؑ کی طرح پہلے سے زیادہ رجوع الی اللہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ رہیں حضرت سلیمان ؑ کی آزمائش کی تفصیلات سو ان کو اللہ کے حوالے کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم۔
Top