Urwatul-Wusqaa - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو ایک آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا (ایک بغاوت تھی جس کو دبایا گیا) پھر اس نے رجوع کیا
سلیمان (علیہ السلام) کو ایک امتحان میں ڈالا گیا اور بحمد اللہ وہ پاس ہو گیا 34۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کو یہ حکومت اپنے والد ماجد سیدنا دائود (علیہ السلام) سے ملی تھی اور دائود (علیہ السلام) نے اس کو اپنی بہادری اور شجاعت کے بل بوتے اللہ کے خاص فضل و کرم سے حاصل کیا تھا جب کہ آپ طالوت کے لشکر میں شامل ہو کر جالوت کے ساتھ لڑے تھے اور آپ ہی نے جالوت کو قتل کیا تھا۔ اب بنی اسرائیل کی حکومت جو بڑھنے لگی تو جالوت کے سارے علاقے پر پھیل گئی اور ان لوگوں نے جو اس وقت طالوت کے اعوان و انصار تھے اس وقتی حکومت کو تسلیم کرلیا تھا۔ دائود (علیہ السلام) کا زمانہ گزر گیا اور سلامتن (علیہ السلام) کا دور حکومت آیا نہ معلوم ان لوگوں نے کتنی بار کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح سازش کر کے اس ملک کو پھر ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور اپنی قومی حکومت قائم کریں لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے۔ سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں اس قوم کے ایک سپہ سالار نے بغاوت کردی اور یہ بغاوت اتنی زبردست تھی کہ اس نے سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا اور قریب تھا کہ وہ حکومت پر مکمل طور پر قابض ہوجاتا لیکن سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت و قوت کو مکمل طور پر خود قیادت سنبھال کر اس بغاوت کو کچلنے کے لیے پورا زور لگایا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ سے اپنی سستی کی تلافی کرتے ہوئے توبہ و استغفار کی اور رجوع الی اللہ ہوئے اور توبہ کی کہ میری یہ کوتاہی معاف فرما دی جائے جو میں نے اتنی بڑی حکومت کا حکمران ہونے کے باوجود کی کہ ایسے آدمی کو سپہ سالار افواج مقرر کردیا جو دوسری قوم کی ہمدردی اپنے دل میں رکھتا تھا اور میں نے اس بات کو نہ سمجھا اور بلاشبہ یہ غلطیاں بہت بڑے بڑے سمجھداروں اور عقل و فکر کے پہاڑوں سے بھی سرزد ہوجاتی ہیں اور اس سے یہ سمجھ لیا جاسکتا ہے کہ ساری طاقتوں اور قوتوں سے بڑی طاقت و قوت بھی موجود ہے جو ساری طاقتوں اور قوتوں کا منبع ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے کتنے قصے اور کہانیاں بیان کیے ہیں لیکن ہم نے ان سب کی وضاحت سلیمان (علیہ السلام) کی سرگزشت میں کردی ہے جو سورة الانبیاء جلد ششم میں بیان کی گئی ہے۔ تفصیل دیکھنا مطلوب ہو تو وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Top