Anwar-ul-Bayan - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا پھر انہوں نے رجوع کیا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ابتلاء اور دعا، شیاطین کا مسخر ہونا، کاموں میں لگنا، اور زنجیروں میں باندھا جانا حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) نے کہا کہ آج کی رات میں ستر عورتوں اور بعض حضرات نے کہا کہ ” توارت “ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ رُدُّوْھَا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے بعض نے کہا ” حجاب “ سے مراد گھوڑوں کے اصطبل ہیں معنی یہ ہوا ” حتیٰ کہ گھوڑے اپنے اصطبلوں میں داخل ہوگئے۔ “ بعض نے کہا حتیٰ کہ دوڑ میں آگے بڑھ کر چھپ گئے کہ نظر آنے سے رہ گئے۔ جن لوگوں نے تو ارت کی ضمیر گھوڑوں کی طرف لوٹائی ہے ان میں سے بعض نے یہاں عَنْ کو تعلیل کے لیے بنایا ہے اور گھوڑوں کی پیٹھوں اور گردنوں کے مسح کو سابقہ معنی میں نہیں لیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اشارہ کیا کہ میں نماز میں ہوں، تو گھوڑے ہٹا لیے گئے حتیٰ کہ اپنے اصطبل میں پہنچ گئے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا میں نے خیر کی محبت کو ترجیح دی یعنی وہ خیر جو میرے ذکر اللہ کے سبب سے اللہ تعالیٰ کے پاس آخرت میں ہے گویا کہ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ کے ذکر نے گھوڑوں کو دیکھنے سے روکا حتیٰ کہ گھوڑے اصطبلوں میں واپس چلے گئے اب انہیں میرے پاس لے آؤ گھوڑے دوبارہ لائے گئے تو آپ ان کی پیٹھوں اور گردنوں پر ان کی محبت ووقعت کی وجہ سے ہاتھ پھیرنے لگے اور مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ہاں مسح اسی طرح ہے اور زہری وابن کیسان کے نزدیک بھی اسی طرح ہے اور طبری نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ بعض نے کہا مسح پانی سے دھونا تھا، اور یہ بات واضح ہے اس گروہ نے آیت سے اپنے قول کو جو تطبیق دی ہے یہ بہت کمزور ہے۔ کے پاس جاؤں گا (یعنی ان سے صحبت کروں گا) ان میں ہر عورت حاملہ ہوگی اور ہر عورت سے ایک شہسوار پیدا ہوگا جو فی سبیل اللہ جہاد کرے گا وہاں جو ان کے پاس فرشتہ موجود تھا اس نے کہا کہ انشاء اللہ کہہ لیجیے لیکن انہوں نے (پھر بھی انشاء اللہ نہ کہا اور دل میں جو اعتقاد خالص تھا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے اسی پر اکتفاء کیا) اس کے بعد یہ ہوا کہ ان عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو حمل قرار پایا اس سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کا ایک طرف کا دھڑ نہ تھا یہ بیان فرما کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو سب صحیح وسالم لڑکے پیدا ہوتے ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔ (رواہ البخاری ص 487: ج 1) آیت بالا کی تفسیر میں مفسرین کرام نے یہ واقعہ نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ آیت شریفہ میں جو سلیمان (علیہ السلام) کے امتحان میں ڈالنے کا ذکر ہے اس سے یہی امتحان مراد ہے کہ انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا تھا اور جو ادھورا بچہ پید ہوتا تھا اسی کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کی کرسی پر ایک جسم پر ڈال دیا، پھر جب انہیں اپنی اس لغزش کا احساس ہوا (کہ انشاء اللہ کیوں نہ کہا تھا) تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور استغفار کیا۔ استغفار بھی کیا اور آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ایسی حکومت اور سلطنت کی دعا کی جو ان کے سوا اور کسی کو نہ ملے، دعاء کے اخیر میں (اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ) کہا کہ اے اللہ آپ بہت بڑے دینے والے ہیں یہ دعاء کے آداب میں سے ہے کہ دعاء کے اول و آخر اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان کی جائیں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی دعا قبول فرمائی پہلے تو گھوڑے ہی قابو میں تھے اب ہوا کو مسخر فرما دیا اور ان کے تابع بنا دیا وہ جہاں جانا چاہتے تھے وہ ہوا انہیں وہاں لے کر چلی جاتی تھی سورة سبا میں فرمایا ہے (غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ) کہ اس ہوا کا چلنا ایک مہینے کی مسافت تھی اور اس کا شام کا چلنا بھی ایک مہینے کی مسافت تھی، ہوا تیز تو چلتی ہی تھی لیکن نرمی کے ساتھ جاتی تھی اس میں ہلانا جلانا نہیں تھا، اب تو طیاروں کی رفتار نے عام اور خاص سب کو یہ بات بتادی ہے کہ تیز چلنا اور بیٹھنے والوں کا آرام سے بیٹھے رہنا دونوں چیزیں جمع ہوسکتی ہیں، سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جس طرح ہوا مسخر کردی گئی تھی جو ان کو لشکروں اور خادموں سمیت حکم کے مطابق لاتی اور لے جاتی تھی اسی طرح اللہ نے شیاطین بھی ان کے لیے مسخر فرما دئیے تھے ان سے وہ عمارتیں بنوانے کا کام لیتے تھے اور انہیں یہ بھی حکم دیتے تھے کہ دریا میں غوطہ لگاؤ اور سمندری چیزیں نکال کر لاؤ نیز ان سے ان کے علاوہ بھی کام لیتے تھے جن کا ذکر سورة انبیاء کے چھٹے رکوع میں اور سورة سبا کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے، بہت سے شیاطین ایسے بھی تھے جنہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) زنجیروں میں جکڑ کر ڈال دیتے تھے یہ قدرت اور قوت اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دی تھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو خدمات سپرد کی جاتی تھیں ان میں سے کسی کام کے کرنے میں اگر جنات میں سے کوئی شیطان پہلو تہی یا کوتاہی کرتا تو اسے قید کرکے ڈال دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو سلطنت دی، بڑی بڑی چیزیں عطا فرمائیں، املاک سے اور ملک سے نوازا شیاطین پر قابو دے دیا اور فرمایا کہ (ھٰذَا عَطَآؤُنَا) کہ یہ ہمارا عطیہ ہے فامْنُنْ سو اس میں سے کسی کو دے کر احسان کردو اَوْاَمْسِکْ یا روکے رکھو یعنی کسی کو کچھ بھی نہ دو تمہیں اختیار ہے تمہیں جو کچھ دیا گیا سب بغیر حساب اور بغیر دارو گیر کے ہے تم اس کے مالک ہو اور آخر میں اسی انعام کا تذکرہ فرمایا جو ان کے والد کے لیے فرمایا تھا (وَاِِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ) فائدہ : مجموعی حیثیت سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جو اللہ تعالیٰ نے حکومت اور سلطنت نصیب فرمائی وہ ان کے بعد کسی کو نہیں ملی انہوں نے جو دعاء میں (لاَ یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ ) کہا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعاء کو قبول فرمایا جنات پر تو قابو پالیا جاتا ہے اور مشاہدہ ہے لیکن ہوا پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علاوہ کسی کا تسلط اور قبضہ ہوا ہو اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنات میں سے ایک عفریت (بڑا خبیث شیطان) رات کو چھوٹ گیا تھا، (وہ میرے پاس آگیا) تاکہ میری نماز کاٹ دے اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا سو میں نے اسے پکڑ لیا میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں تاکہ تم سب اسے دیکھ لو پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی یاد آگئی (رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکاً لاَ یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ ) لہٰذا میں نے اسے ذلیل کرکے دھکا دے دیا۔ (صحیح بخاری ص 487: ج 1) معلوم ہوا کہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کسی شیطان پر قابو دیدے تو یہ کوئی بعید بات نہیں ہے، اور یہ آپس کے اکرام اور احترام کی بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قابو کرلینے کے باوجود شیطان کو چھوڑ دیا اور باندھ کر نہ ڈالا تاکہ اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی انفرادی شان میں فرق نہ آجائے جو انہیں مرغوب تھی اور جس کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی تھی۔
Top