26. Ash-Shu'araaالشعراء
The Poets · Meccan · 227 ayahs · 11 rukus · مولانا عبد السلام بھٹوی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طٰسٓمّٓ﴿1﴾
طٰسۤمۤ۔تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ﴿2﴾
یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴿3﴾
شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ﴿4﴾
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، پھر اس کے سامنے ان کی گردنیں نیچی ہوجائیں۔وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ﴿5﴾
اور ان کے پاس رحمان کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو، مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿6﴾
پس بیشک وہ جھٹلا چکے، سو ان کے پاس جلد ہی اس چیز کی خبریں آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ﴿7﴾
اور کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں کتنی چیزیں ہر عمدہ قسم میں سے اگائی ہیں۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿8﴾
بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿9﴾
اور بیشک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿10﴾
اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو آواز دی کہ ان ظالم لوگوں کے پاس جا۔قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ﴿11﴾
فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں۔قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ﴿12﴾
اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ﴿13﴾
اور میرا سینہ تنگ پڑتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی، سو تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ﴿14﴾
اور ان کا میرے ذمے ایک گناہ ہے، پس میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ﴿15﴾
فرمایا ہرگز ایسے نہ ہوگا، سو تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ، بیشک ہم تمہارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿16﴾
تو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ بلا شبہ ہم رب العالمین کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿17﴾
یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ﴿18﴾
اس نے کہا کیا ہم نے تجھے اپنے اندر اس حال میں نہیں پالا کہ تو بچہ تھا اور تو ہم میں اپنی عمر کے کئی سال رہا۔وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿19﴾
اور تو نے اپنا وہ کام کیا، جو تو نے کیا اور تو ناشکروں میں سے ہے۔قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ﴿20﴾
کہا میں نے اس وقت وہ کام اس حال میں کیا کہ میں خطاکاروں سے تھا۔فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿21﴾
پھر میں تم سے بھاگ گیا جب میں تم سے ڈرا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا۔وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿22﴾
اور یہ کوئی احسان ہے جو تو مجھ پر جتلا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿23﴾
فرعون نے کہا اور رب العالمین کیا چیز ہے ؟قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ﴿24﴾
کہا جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ﴿25﴾
اس نے ان لوگوں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، کیا تم سنتے نہیں ؟قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ﴿26﴾
کہا جو تمہارا رب اور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ﴿27﴾
کہا یقینا تمہارا یہ پیغمبر، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، ضرور پاگل ہے۔قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿28﴾
اس نے کہا جو مشرق و مغرب کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تم سمجھتے ہو۔قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ﴿29﴾
کہا یقینا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے ضرور ہی قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ﴿30﴾
کہا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز لے آؤں ؟قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿31﴾
اس نے کہا تو اسے لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ﴿32﴾
پس موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ واضح اژدہا تھی۔وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ع﴿33﴾
اور اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید (چمکدار) تھا۔قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ﴿34﴾
اس نے ان سرداروں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، یقینا یہ تو ایک بہت ماہر فن جادو گر ہے۔یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ﴿35﴾
جو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ساتھ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے، تو تم کیا حکم دیتے ہو ؟قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ﴿36﴾
انھوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مؤخر رکھ اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے۔یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ﴿37﴾
کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ﴿38﴾
تو جادوگر ایک مقرر دن کے طے شدہ وقت کے لیے جمع کرلیے گئے۔وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ﴿39﴾
اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہونے والے ہو ؟لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ﴿40﴾
شاید ہم ان جادو گروں کے پیروکار بن جائیں، اگر وہی غالب رہیں۔فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ﴿41﴾
پھر جب جادو گر آگئے تو انھوں نے فرعون سے کہا کیا واقعی ہمارے لیے ضرور کچھ صلہ ہوگا، اگر ہم ہی غالب ہوئے ؟قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ﴿42﴾
کہا ہاں اور یقینا تم اس وقت ضرور مقرب لوگوں سے ہو گے۔قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ﴿43﴾
موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ﴿44﴾
تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور انھوں نے کہا فرعون کی عزت کی قسم ! بیشک ہم، یقینا ہم ہی غالب آنے والے ہیں۔فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ﴿45﴾
پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگل رہی تھی جو وہ جھوٹ بنا رہے تھے۔فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ﴿46﴾
تو جادو گر نیچے گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے۔قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿47﴾
انھوں نے کہا ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے۔رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ﴿48﴾
موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ﴿49﴾
کہا تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بلاشبہ یہ ضرور تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، سو یقینا تم جلدی جان لوگے، میں ضرور ہر صورت تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ﴿50﴾
انھوں نے کہا کوئی نقصان نہیں، بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ع﴿51﴾
بیشک ہم لالچ رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے لیے ہماری خطائیں معاف کرے گا، اس لیے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ﴿52﴾
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو رات کو لے چل، یقینا تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ﴿53﴾
تو فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے بھیج دیے۔اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ﴿54﴾
کہ بیشک یہ لوگ تو ایک تھوڑی سی جماعت ہیں۔وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ﴿55﴾
اور بلاشبہ یہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں۔وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ﴿56﴾
اور بیشک ہم یقینا سب چوکنے رہنے والے ہیں۔فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿57﴾
تو ہم نے انھیں باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ﴿58﴾
اور خزانوں سے اور عمدہ جگہ سے۔كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿59﴾
ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ﴿60﴾
تو انھوں نے سورج نکلتے ان کا پیچھا کیا۔فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ﴿61﴾
پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا بیشک ہم یقینا پکڑے جانے والے ہیں۔قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ﴿62﴾
کہا ہرگز نہیں ! بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ﴿63﴾
تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار، پس وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ﴿64﴾
اور وہیں ہم دوسروں کو قریب لے آئے۔وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ﴿65﴾
اور ہم نے موسیٰ کو اور جو اس کے ساتھ تھے، سب کو بچالیا۔ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ﴿66﴾
پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿67﴾
بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿68﴾
اور بیشک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، بےحد رحم والا ہے۔وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ﴿69﴾
اور ان پر ابراہیم کی خبر پڑھ۔اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ﴿70﴾
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ﴿71﴾
انھوں نے کہا ہم کچھ بتوں کی عبادت کرتے ہیں، پس انھی کے مجاور بنے رہتے ہیں۔قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ﴿72﴾
کہا کیا وہ تمہیں سنتے ہیں، جب تم پکارتے ہو ؟اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ﴿73﴾
یا تمہیں فائدہ دیتے، یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ﴿74﴾
انھوں نے کہا بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ وہ ایسے ہی کرتے تھے۔قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ﴿75﴾
کہا تو کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے۔اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ﴿76﴾
تم اور تمہارے پہلے باپ دادا۔فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿77﴾
سو بلاشبہ وہ میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ﴿78﴾
وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ﴿79﴾
اور وہی جو مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے۔وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ﴿80﴾
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ﴿81﴾
اور وہ جو مجھے موت دے گا، پھر مجھے زندہ کرے گا۔وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ﴿82﴾
اور وہ جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ جزا کے دن مجھے میری خطا بخش دے گا۔رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ﴿83﴾
اے میرے رب ! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴿84﴾
اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ﴿85﴾
اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ﴿86﴾
اور میرے باپ کو بخش دے، یقینا وہ گمراہوں میں سے تھا۔وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ﴿87﴾
اور مجھے رسوا نہ کر، جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ﴿88﴾
جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے۔اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ﴿89﴾
مگر جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آیا۔وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ﴿90﴾
اور متقی لوگوں کے لیے جنت قریب لائی جائے گی۔وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ﴿91﴾
اور گمراہ لوگوں کے لیے بھڑکتی آگ ظاہر کردی جائے گی۔وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ﴿92﴾
اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جنھیں تم پوجتے تھے ؟مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ﴿93﴾
اللہ کے سوا۔ کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں، یا اپنا بچاؤ کرتے ہیں ؟فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ﴿94﴾
پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ اس میں اوندھے منہ پھینک دیے جائیں گے۔وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ﴿95﴾
اور ابلیس کے تمام لشکر بھی۔قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ﴿96﴾
وہ کہیں گے جب کہ وہ اس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ﴿97﴾
اللہ کی قسم ! بیشک ہم یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿98﴾
جب ہم تمہیں جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے۔وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ﴿99﴾
اور ہمیں گمراہ نہیں کیا مگر ان مجرموں نے۔فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ﴿100﴾
اب نہ ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں۔وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ﴿101﴾
اور نہ کوئی دلی دوست۔فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿102﴾
تو کاش کہ واقعی ہمارے لیے واپس جانے کا ایک موقع ہو، تو ہم مومنوں میں سے ہوجائیں۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿103﴾
بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿104﴾
اور بیشک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿105﴾
نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿106﴾
جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿107﴾
بیشک میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿108﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ﴿109﴾
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ﴿110﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ﴿111﴾
انھوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تیرے پیچھے وہ لوگ لگے ہیں جو سب سے ذلیل ہیں۔قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ﴿112﴾
اس نے کہا اور مجھے کیا علم کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ﴿113﴾
ان کا حساب تو میرے رب ہی کے ذمے ہے، اگر تم سمجھو۔وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿114﴾
اور میں ایمان والوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں۔اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ﴿115﴾
میں نہیں ہوں مگر ایک کھلم کھلا ڈرانے والا۔قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ﴿116﴾
انھوں نے کہا اے نوح ! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ﴿117﴾
اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿118﴾
پس تو میرے درمیان اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے، کھلا فیصلہ اور مجھے اور میرے ساتھ جو ایمان والے ہیں، انھیں بچالے۔فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ﴿119﴾
تو ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں تھے، بچالیا۔ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ﴿120﴾
پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿121﴾
بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿122﴾
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿123﴾
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿124﴾
جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿125﴾
بیشک میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿126﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿127﴾
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ﴿128﴾
کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو ؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ﴿129﴾
اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ﴿130﴾
اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بےرحم ہو کر پکڑتے ہو۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿131﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ﴿132﴾
اور اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری مدد کی جنھیں تم جانتے ہو۔اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ﴿133﴾
اس نے چوپاؤں اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کی۔وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ﴿134﴾
اور باغوں اور چشموں کے ساتھ۔اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ﴿135﴾
یقینا میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ﴿136﴾
انھوں نے کہا ہم پر برابر ہے کہ تو نصیحت کرے، یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿137﴾
نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی عادت۔وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ﴿138﴾
اور ہم قطعاً عذاب دیے جانے والے نہیں۔فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿139﴾
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا، بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿140﴾
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿141﴾
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿142﴾
جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿143﴾
بیشک میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿144﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿145﴾
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ﴿146﴾
کیا تم ان چیزوں میں جو یہاں ہیں، بےخوف چھوڑ دیے جاؤ گے۔فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿147﴾
باغوں اور چشموں میں۔وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ﴿148﴾
اور کھیتوں اور کھجوروں میں، جن کے خوشے نرم و نازک ہیں۔وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ﴿149﴾
اور تم پہاڑوں سے تراش کر گھر بناتے ہو، اس حال میں کہ خوب ماہر ہو۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿150﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ﴿151﴾
اور حد سے بڑھنے والوں کا حکم مت مانو۔الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ﴿152﴾
وہ جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ﴿153﴾
انھوں نے کہا تو تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿154﴾
تو نہیں ہے مگر ہمارے جیسا ایک آدمی، پس کوئی نشانی لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ﴿155﴾
اس نے کہا یہ ایک اونٹنی ہے، اس کے لیے پانی پینے کی ایک باری ہے اور تمہارے لیے ایک مقرر دن کی باری ہے۔وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿156﴾
اور اسے کسی برائی سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمہیں ایک بڑے دن کا عذاب پکڑلے گا۔فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ﴿157﴾
تو انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر پشیمان ہوگئے۔فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿158﴾
تو انھیں عذاب نے پکڑ لیا۔ بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿159﴾
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿160﴾
لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿161﴾
جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿162﴾
بیشک میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿163﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿164﴾
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿165﴾
کیا سارے جہانوں میں سے تم مردوں کے پاس آتے ہو۔وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ﴿166﴾
اور انھیں چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ﴿167﴾
انھوں نے کہا اے لوط ! بیشک اگر تو باز نہ آیا تو یقینا تو ضرور نکالے ہوئے لوگوں سے ہوجائے گا۔قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ﴿168﴾
اس نے کہا بیشک میں تمہارے کام سے سخت دشمنی رکھنے والوں سے ہوں۔رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ﴿169﴾
اے میرے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو اس سے نجات دے جو یہ کرتے ہیں۔فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ﴿170﴾
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی۔اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ﴿171﴾
سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں سے تھی۔ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ﴿172﴾
پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ﴿173﴾
اور ہم نے ان پر بارش برسائی، زبردست بارش۔ پس ان لوگوں کی بارش بری تھی جنھیں ڈرایا گیا تھا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿174﴾
بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿175﴾
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿176﴾
ایکہ والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿177﴾
جب ان سے شعیب نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿178﴾
بیشک میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿179﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿180﴾
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ﴿181﴾
ماپ پورا دو اور کم دینے والوں میں سے نہ بنو۔وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ﴿182﴾
اور سیدھی ترازو کے ساتھ وزن کرو۔وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ﴿183﴾
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿184﴾
اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور پہلی مخلوق کو پیدا کیا۔قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ﴿185﴾
انھوں نے کہا تو تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ﴿186﴾
اور تو نہیں ہے مگر ہمارے جیسا ایک بشر اور بیشک ہم تو تجھے جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں۔فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ﴿187﴾
سو ہم پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دے، اگر تو سچوں میں سے ہے۔قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿188﴾
اس نے کہا میرا رب زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿189﴾
چناچہ انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو انھیں سائبان کے دن والے عذاب نے آپکڑا۔ یقینا وہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿190﴾
بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿191﴾
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿192﴾
اور بیشک یہ یقینا رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ﴿193﴾
جسے امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ﴿194﴾
تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں سے ہوجائے۔بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ﴿195﴾
واضح عربی زبان میں۔وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ﴿196﴾
اور بیشک یہ یقینا پہلے لوگوں کی کتابوں میں موجود ہے۔اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿197﴾
اور کیا ان کے لیے یہ ایک نشانی نہ تھی کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں۔وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ﴿198﴾
اور اگر ہم اسے غیر عرب لوگوں میں سے کسی پر نازل کرتے۔فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ﴿199﴾
پس وہ اسے ان پر پڑھتا تو بھی وہ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے۔كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ﴿200﴾
اسی طرح ہم نے یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کردی۔لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ﴿201﴾
وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ﴿202﴾
پس وہ ان پر اچانک آپڑے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں۔فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ﴿203﴾
تو وہ کہیں کیا ہم مہلت دیے جانے والے ہیں۔اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ﴿204﴾
تو کیا وہ ہمارا عذاب ہی جلدی مانگتے ہیں۔اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ﴿205﴾
پس کیا تو نے دیکھا اگر ہم انھیں کئی سال فائدہ دیں۔ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ﴿206﴾
پھر ان کے پاس وہ چیز آجائے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے تھے۔مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ﴿207﴾
تو وہ فائدہ جو وہ دیے جاتے تھے، ان کے کس کام آئے گا ؟وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ﴿208﴾
اور ہم نے کوئی بستی تباہ نہیں کی مگر اس کے لیے کئی ڈرانے والے تھے۔ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿209﴾
یاد دہانی کے لیے اور ہم ظالم نہ تھے۔وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ﴿210﴾
اور اسے لے کر شیاطین نہیں اترے۔وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ﴿211﴾
اور نہ یہ ان کے لائق ہے اور نہ وہ یہ کرسکتے ہیں۔اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ﴿212﴾
بلاشبہ وہ تو سننے ہی سے الگ کیے ہوئے ہیں۔فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ﴿213﴾
سو تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکار، ورنہ تو عذاب دیے جانے والوں سے ہوجائے گا۔وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ﴿214﴾
اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿215﴾
اور اپنا بازو اس کے لیے جھکا دے جو ایمان والوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ﴿216﴾
پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے کہ بیشک میں اس سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ﴿217﴾
اور اس سب پر غالب، نہایت رحم والے پر بھروسا کر۔الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ﴿218﴾
جو تجھے دیکھتا ہے، جب تو کھڑا ہوتا ہے۔وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ﴿219﴾
اور سجدہ کرنے والوں میں تیرے پھرنے کو بھی۔اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿220﴾
بیشک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ﴿221﴾
کیا میں تمہیں بتاؤں شیاطین کس پر اترتے ہیں۔تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ﴿222﴾
وہ ہر زبردست جھوٹے، سخت گنہگار پر اترتے ہیں۔یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ﴿223﴾
وہ سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹے ہیں۔وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ﴿224﴾
اور شاعر لوگ، ان کے پیچھے گمراہ لوگ لگتے ہیں۔اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ﴿225﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں۔وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ﴿226﴾
اور یہ کہ بیشک وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ع﴿227﴾
مگر وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ کو بہت یاد کیا اور انتقام لیا، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا اور عنقریب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔