26. Ash-Shu'araaالشعراء
The Poets · Meccan · 227 ayahs · 11 rukus · Nazar Ahmed
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طٰسٓمّٓ﴿1﴾
- طٰسٓمّٓطا۔ سین۔ میم
ط س متِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ﴿2﴾
- تِلْكَیہ
- اٰيٰتُآیتیں
- الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِروشن کتاب
یہ کتاب مبین کی آیات ہیںلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴿3﴾
- لَعَلَّكَشاید تم
- بَاخِعٌہلاک کرلوگے
- نَّفْسَكَاپنے تئیں
- اَلَّا يَكُوْنُوْاکہ وہ نہیں
- مُؤْمِنِيْنَایمان لاتے
اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتےاِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ﴿4﴾
- اِنْ نَّشَاْاگر ہم چاہیں
- نُنَزِّلْہم اتار دیں
- عَلَيْهِمْان پر
- مِّنَ السَّمَآءِآسمان سے
- اٰيَةًکوئی نشانی
- فَظَلَّتْتو ہوجائیں
- اَعْنَاقُهُمْان کی گردنیں
- لَهَااس کے آگے
- خٰضِعِيْنَپست
ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیںوَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ﴿5﴾
- وَاور
- مَا يَاْتِيْهِمْنہیں آتی ان کے پاس
- مِّنْ ذِكْرٍکوئی نصیحت
- مِّنَ(طرف) سے
- الرَّحْمٰنِرحمن
- مُحْدَثٍنئی
- اِلَّامگر
- كَانُوْاہوجاتے ہیں وہ
- عَنْهُاس سے
- مُعْرِضِيْنَروگردان
اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیںفَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿6﴾
- فَقَدْ كَذَّبُوْاپس بیشک انہوں نے جھٹلایا
- فَسَيَاْتِيْهِمْتو جلد آئیں گی ان کے پاس
- اَنْۢبٰٓؤُاخبریں
- مَا كَانُوْاجو وہ تھے
- بِهٖاس کا
- يَسْتَهْزِءُوْنَمذاق اڑاتے
اب کہ یہ جھٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیںاَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ﴿7﴾
- اَوَلَمْ يَرَوْاکیا انہوں نے نہیں دیکھا
- اِلَى الْاَرْضِزمین کی طرف
- كَمْکس قدر
- اَنْۢبَتْنَااگائیں ہم نے
- فِيْهَااس میں
- مِنْ كُلِّہر قسم
- زَوْجٍجوڑا جوڑا
- كَرِيْمٍعمدہ
اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿8﴾
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيَةًالبتہ نشانی
- وَمَا كَانَاور نہیں ہیں
- اَكْثَرُهُمْان میں اکثر
- مُّؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿9﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتمہارا رب
- لَهُوَالبتہ وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھیوَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿10﴾
- وَاِذْاور جب
- نَادٰيپکارا (فرمایا)
- رَبُّكَتمہارا رب
- مُوْسٰٓيموسیٰ
- اَنِ ائْتِکہ تو جا
- الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَظالم لوگ
اِنہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسیٰؑ کو پکارا "ظالم قوم کے پاس جاقَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ﴿11﴾
- قَوْمَ فِرْعَوْنَقوم فرعون
- اَلَا يَتَّقُوْنَکیا وہ مجھ سے نہیں ڈرتے
فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟"قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ﴿12﴾
- قَالَاس نے کہا
- رَبِّاے میرے رب
- اِنِّىْٓ اَخَافُبیشک میں ڈرتا ہوں
- اَنْکہ
- يُّكَذِّبُوْنِوہ مجھے جھٹلائیں گے
اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گےوَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ﴿13﴾
- وَيَضِيْقُاور تنگ ہوتا ہے
- صَدْرِيْمیرا سینہ (دل)
- وَلَا يَنْطَلِقُاور نہیں چلتی
- لِسَانِيْمیری زبان
- فَاَرْسِلْپس پیغام بھیج
- اِلٰىطرف
- هٰرُوْنَہارون
میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیںوَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ﴿14﴾
- وَلَهُمْاور ان کا
- عَلَيَّمجھ پر
- ذَنْۢبٌایک الزام
- فَاَخَافُپس میں ڈرتا ہوں
- اَنْکہ
- يَّقْتُلُوْنِقتل نہ کردیں
اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے"قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ﴿15﴾
- قَالَفرمایا
- كَلَّاہرگز نہیں
- فَاذْهَبَا بِاٰيٰتِنَآپس تم دونوں جاؤ ہماری نشانیوں کے ساتھ
- اِنَّابیشک ہم
- مَعَكُمْتمہارے ساتھ
- مُّسْتَمِعُوْنَسننے والے
فرمایا "ہرگز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گےفَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿16﴾
- فَاْتِيَاپس تم دونوں جاؤ
- فِرْعَوْنَفرعون
- فَقُوْلَآتو اسے کہو
- اِنَّا رَسُوْلُبیشک ہم رسول
- رَبِّ الْعٰلَمِيْنَتمام جہانوں کا رب
فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہےاَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿17﴾
- اَنْکہ
- اَرْسِلْتو بھیج دے
- مَعَنَاہمارے ساتھ
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے"قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ﴿18﴾
- قَالَفرعون نے کہا
- اَلَمْ نُرَبِّكَکیا ہمنے تجھے نہیں پالا
- فِيْنَااپنے درمیان
- وَلِيْدًابچپن میں
- وَّلَبِثْتَاور تو رہا
- فِيْنَاہمارے درمیان
- مِنْ عُمُرِكَاپنی عمر کے
- سِنِيْنَکئی برس
فرعون نے کہا "کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارےوَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿19﴾
- وَفَعَلْتَاور تونے کیا
- فَعْلَتَكَاپنا (وہ) کام
- الَّتِيْ فَعَلْتَجو تونے کیا
- وَاَنْتَاور تو
- مِنَسے
- الْكٰفِرِيْنَناشکرے
اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا، تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے"قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ﴿20﴾
- قَالَموسیٰ نے کہا
- فَعَلْتُهَآمیں وہ کیا تھا
- اِذًاجب
- وَّاَنَااور میں
- مِنَسے
- الضَّآلِّيْنَراہ سے بیخبر (جمع)
موسیٰؑ نے جواب دیا "اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کر دیا تھافَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿21﴾
- فَفَرَرْتُتو میں بھاگ گیا
- مِنْكُمْتم سے
- لَمَّا خِفْتُكُمْجب میں ڈرا تم سے
- فَوَهَبَ لِيْپس عطا کیا مجھے
- رَبِّيْمیرا رب
- حُكْمًاحکم
- وَّاور
- جَعَلَنِيْمجھے بنایا
- مِنَسے
- الْمُرْسَلِيْنَرسول (جمع)
پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل کر لیاوَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿22﴾
- وَتِلْكَاور یہ
- نِعْمَةٌکوئی نعمت
- تَمُنُّهَا عَلَيَّتو اس کا احسان رکھتا ہے مجھ پر
- اَنْ عَبَّدْتَّکہ تونے غلام بنایا
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
رہا تیرا احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا"قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿23﴾
- قَالَ فِرْعَوْنُفرعون نے کہا
- وَمَااور کیا ہے
- رَبُّرب
- الْعٰلَمِيْنَسارے جہان
فرعون نے کہا "اور یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟"قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ﴿24﴾
- قَالَاس نے کہا
- رَبُّ السَّمٰوٰتِرب ہے آسمانوں کا
- وَالْاَرْضِاور زمین
- وَمَا بَيْنَهُمَااور جو ان کے درمیان
- اِنْاگر
- كُنْتُمْتم ہو
- مُّوْقِنِيْنَیقین کرنے والے
موسیٰؑ نے جواب دیا "آسمان اور زمین کا رب، اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو"قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ﴿25﴾
- قَالَاس نے کہا
- لِمَنْانہیں جو
- حَوْلَهٗٓاس کے اردگرد
- اَلَا تَسْتَمِعُوْنَکیا تم سنتے نہیں
فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟"قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ﴿26﴾
- قَالَ(موسی) نے کہا
- رَبُّكُمْتمہارا رب
- وَرَبُّاور رب
- اٰبَآئِكُمُتمہارے باپ دادا
- الْاَوَّلِيْنَپہلے
موسیٰؑ نے کہا "تمہارا رب بھی اور تمہارے ان آباء و اجداد کا رب بھی جو گزر چکے ہیں"قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ﴿27﴾
- قَالَفرعون بولا
- اِنَّبیشک
- رَسُوْلَكُمُتمہارا رسول
- الَّذِيْٓوہ جو
- اُرْسِلَبھیجا گیا
- اِلَيْكُمْتمہاری طرف
- لَمَجْنُوْنٌالبتہ دیوانہ
فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں"قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿28﴾
- قَالَ(موسی) نے کہا
- رَبُّرب
- الْمَشْرِقِمشرق
- وَالْمَغْرِبِاور مغرب
- وَمَااور جو
- بَيْنَهُمَاان دونوں کے درمیان
- اِنْاگر
- كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَتم سمجھتے ہو
موسیٰؑ نے کہا "مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں"قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ﴿29﴾
- قَالَوہ بولا
- لَئِنِالبتہ اگر
- اتَّخَذْتَتونے بنایا
- اِلٰهًاکوئی معبود
- غَيْرِيْمیرے سوا
- لَاَجْعَلَنَّكَتو میں ضرور کردوں گا تجھے
- مِنَسے
- الْمَسْجُوْنِيْنَقیدی (جمع)
فرعون نے کہا "اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو تجھے میں اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں"قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ﴿30﴾
- قَالَ(موسی) نے کہا
- اَوَلَوْ جِئْتُكَخواہ میں لاؤں تیرے پاس
- بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍایک شے (معجزہ) واضح
موسیٰؑ نے کہا "اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟"قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿31﴾
- قَالَوہ بولا
- فَاْتِ بِهٖٓتو لے آ اسے
- اِنْ كُنْتَاگر تو ہے
- مِنَسے
- الصّٰدِقِيْنَسچے
فرعون نے کہا "اچھا تو لے آ اگر تو سچا ہے"فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ﴿32﴾
- فَاَلْقٰىپس موسیٰ نے ڈالا
- عَصَاهُاپنا عصا
- فَاِذَا هِىَتو اچانک وہ
- ثُعْبَانٌاژدہا
- مُّبِيْنٌکھلا (نمایاں
(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدھا تھاوَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ع﴿33﴾
- وَّنَزَعَاور اس نے کھینچا (نکالا)
- يَدَهٗاپنا ہاتھ
- فَاِذَا هِىَتو ناگاہ وہ
- بَيْضَآءُچمکتا ہوا
- لِلنّٰظِرِيْنَدیکھنے والوں کے لیے
پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھاقَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ﴿34﴾
- قَالَفرعون نے کہا
- لِلْمَلَاِسرداروں سے
- حَوْلَهٗٓاپنے گرد
- اِنَّ ھٰذَابیشک یہ
- لَسٰحِرٌجادوگر
- عَلِيْمٌدانا، ماہر
فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہےیُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ﴿35﴾
- يُّرِيْدُوہ چاہتا ہے
- اَنْکہ
- يُّخْرِجَكُمْتمہیں نکال دے
- مِّنْسے
- اَرْضِكُمْتمہاری سرزمین
- بِسِحْرِهٖاپنے جادو سے
- فَمَاذَاتو کیا
- تَاْمُرُوْنَتم حکم (مشورہ) دیتے ہو
چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو ملک سے نکال دے اب بتاؤ تم کیا حکم دیتے ہو؟"قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ﴿36﴾
- قَالُوْٓاوہ بولے
- اَرْجِهْمہلت دے اسے
- وَاَخَاهُاور اس کے بھائی کو
- وَابْعَثْاور بھیج
- فِيمیں
- الْمَدَآئِنِشہروں (جمع)
- حٰشِرِيْنَاکٹھا کرنے والے (نقیب)
انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیےیَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ﴿37﴾
- يَاْتُوْكَلے آئیں تیرے پاس
- بِكُلِّ سَحَّارٍتمام بڑے جادوگر
- عَلِيْمٍماہر
کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں"فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ﴿38﴾
- فَجُمِعَپس جمع کیے گئے
- السَّحَرَةُجادوگر
- لِمِيْقَاتِمقررہ وقت پر
- يَوْمٍایک دن
- مَّعْلُوْمٍجانے پہچانے (معین)
چنانچہ ایک روز مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کر لیے گئےوَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ﴿39﴾
- وَّقِيْلَاور کہا گیا
- لِلنَّاسِلوگوں سے
- هَلْکیا
- اَنْتُمْتم
- مُّجْتَمِعُوْنَجمع ہونے ہو (جمع ہوگے)
اور لوگوں سے کہا گیا "تم اجتماع میں چلو گے؟لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ﴿40﴾
- لَعَلَّنَاتاکہ ہم
- نَتَّبِعُپیروی کریں
- السَّحَرَةَجادوگر (جمع)
- اِنْاگر
- كَانُوْا هُمُہوں وہ
- الْغٰلِبِيْنَغالب (جمع)
شاید کہ ہم جادوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے"فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ﴿41﴾
- فَلَمَّاپس جب
- جَآءَآئے
- السَّحَرَةُجادوگر
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- لِفِرْعَوْنَفرعون سے
- اَئِنَّ لَنَاکیا یقیناً ہمارے لیے
- لَاَجْرًاکچھ انعام
- اِنْاگر
- كُنَّاہم ہوئے
- نَحْنُہم
- الْغٰلِبِيْنَغالب (جمع)
جب جادوگر میدان میں آ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا "ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟"قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ﴿42﴾
- قَالَاس نے کہا
- نَعَمْہاں
- وَاِنَّكُمْاور بیشک تم
- اِذًااس وقت
- لَّمِنَالبتہ۔ سے
- الْمُقَرَّبِيْنَمقربین
اس نے کہا "ہاں، اور تم تو اس وقت مقربین میں شامل ہو جاؤ گے"قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ﴿43﴾
- قَالَکہا
- لَهُمْان سے
- مُّوْسٰٓيموسیٰ
- اَلْقُوْاتم ڈالو
- مَآجو
- اَنْتُمْتم
- مُّلْقُوْنَڈالنے والے
موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے"فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ﴿44﴾
- فَاَلْقَوْاپس انہوں نے ڈالیں
- حِبَالَهُمْاپنی رسیاں
- وَعِصِيَّهُمْاور اپنی لاٹھیاں
- وَقَالُوْااور بولے وہ
- بِعِزَّةِاقبال کی قسم
- فِرْعَوْنَفرعون
- اِنَّا لَنَحْنُبیشک البتہ ہم
- الْغٰلِبُوْنَغالب آنے والے
انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے "فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے"فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ﴿45﴾
- فَاَلْقٰىپس ڈالا
- مُوْسٰيموسیٰ
- عَصَاهُاپنا عصا
- فَاِذَا هِىَتو نگاہ وہ
- تَلْقَفُنگلنے لگا
- مَاجو
- يَاْفِكُوْنَانہوں نے ڈھکوسلا بنایا
پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھافَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ﴿46﴾
- فَاُلْقِيَ السَّحَرَةُپس ڈالدئیے گئے (گر پڑے)
- سٰجِدِيْنَسجدہ کرتے ہوئے
اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑےقَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿47﴾
- قَالُوْٓاوہ بولے
- اٰمَنَّاہم ایمان لائے
- بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَسارے جہانوں کے رب پر
اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کورَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ﴿48﴾
- رَبِّرب
- مُوْسٰيموسیٰ
- وَهٰرُوْنَاور ہارون
موسیٰؑ اور ہارونؑ کے رب کو"قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ﴿49﴾
- قَالَ(فرعون) نے کہا
- اٰمَنْتُمْ لَهٗتم ایمان لائے اس پر
- قَبْلَپہلے
- اَنْکہ میں
- اٰذَنَاجازت دوں
- لَكُمْتمہیں
- اِنَّهٗبیشک وہ
- لَكَبِيْرُكُمُالبتہ بڑا ہے تمہارا
- الَّذِيْجس نے
- عَلَّمَكُمُسکھایا ت میں
- السِّحْرَجادو
- فَلَسَوْفَپس جلد
- تَعْلَمُوْنَتم جان لو گے
- لَاُقَطِّعَنَّالبتہ میں ضرور کاٹ ڈالوں گا
- اَيْدِيَكُمْتمہارے ہاتھ
- وَاَرْجُلَكُمْاور تمہارے پاؤں
- مِّنْسے۔ کے
- خِلَافٍایکدوسرے کے خلاف کا
- وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْاور ضرور تمہیں سولی دوں گا
- اَجْمَعِيْنَسب کو
فرعون نے کہا "تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹواؤں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا"قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ﴿50﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- لَا ضَيْرَکچھ نقصان (حرج) نہیں
- اِنَّآبیشک ہم
- اِلٰى رَبِّنَااپنے رب کی طرف
- مُنْقَلِبُوْنَلوٹ کر جانے والے ہیں
انہوں نے جواب دیا "کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گےاِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ع﴿51﴾
- اِنَّا نَطْمَعُبیشک ہم امید رکھتے ہیں
- اَنْکہ
- يَّغْفِرَبخش دے
- لَنَاہمیں
- رَبُّنَاہمارا رب
- خَطٰيٰنَآہماری خطائیں
- اَنْ كُنَّآکہ ہم ہیں
- اَوَّلَپہلے
- الْمُؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں"وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ﴿52﴾
- وَاَوْحَيْنَآاور ہم نے وحی کی
- اِلٰىطرف
- مُوْسٰٓيموسیٰ
- اَنْ اَسْرِکہ راتوں رات لے نکل
- بِعِبَادِيْٓمیرے بندوں کو
- اِنَّكُمْبیشک تم
- مُّتَّبَعُوْنَپیچھا کیے جاؤگے
ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا"فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ﴿53﴾
- فَاَرْسَلَپس بھیجا
- فِرْعَوْنُفرعون نے
- فِي الْمَدَآئِنِشہروں میں
- حٰشِرِيْنَاکٹھا کرنے والے (نقیب)
اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیےاِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ﴿54﴾
- اِنَّبیشک
- هٰٓؤُلَآءِیہ لوگ ہیں
- لَشِرْذِمَةٌایک جماعت
- قَلِيْلُوْنَتھوڑی سی
(اور کہلا بھیجا) کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیںوَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ﴿55﴾
- وَاِنَّهُمْاور بیشک وہ
- لَنَاہمیں
- لَغَآئِظُوْنَغصہ میں لانے والے ہیں
اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہےوَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ﴿56﴾
- وَاِنَّااور بیشک ہم
- لَجَمِيْعٌایک جماعت
- حٰذِرُوْنَمسلح۔ محتاط
اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے"فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿57﴾
- فَاَخْرَجْنٰهُمْپس ہم نے انہیں نکالا
- مِّنْسے
- جَنّٰتٍباغات
- وَّعُيُوْنٍاور چشمے
اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموںوَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ﴿58﴾
- وَّكُنُوْزٍاور خزانے
- وَّمَقَامٍاور ٹھکانے
- كَرِيْمٍعمدہ
اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائےكَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿59﴾
- كَذٰلِكَاسی طرح
- وَاَوْرَثْنٰهَااور ہم نے وراث بنایا ان کا
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیافَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ﴿60﴾
- فَاَتْبَعُوْهُمْپس انہوں نے پیچھا کیا ان کا
- مُّشْرِقِيْنَسورج نکلتے
صبح ہوتے ہی یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑےفَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ﴿61﴾
- فَلَمَّاپس جب
- تَرَآءَدیکھا ایکدوسرے کو
- الْجَمْعٰنِدونوں جماعتیں
- قَالَکہا (کہنے لگے)
- اَصْحٰبُ مُوْسٰٓيموسیٰ کے ساتھی
- اِنَّایقیناً ہم
- لَمُدْرَكُوْنَپکڑ لیے گئے
جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے"قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ﴿62﴾
- قَالَ كَلَّااس نے کہا ہرگز نہیں
- اِنَّبیشک
- مَعِيَمیرے ساتھ
- رَبِّيْمیرا رب
- سَيَهْدِيْنِوہ جلد مجھے راہ دکھائیگا
موسیٰؑ نے کہا "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا"فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ﴿63﴾
- فَاَوْحَيْنَآپس ہم نے وحی بھیجی
- اِلٰىطرف
- مُوْسٰٓيموسیٰ
- اَنِکہ
- اضْرِبْتو مار
- بِّعَصَاكَاپنا عصا
- الْبَحْرَدریا
- فَانْفَلَقَتو وہ پھٹ گیا
- فَكَانَپس ہوگیا
- كُلُّ فِرْقٍہر حصہ
- كَالطَّوْدِپہاڑ کی طرح
- الْعَظِيْمِبڑے
ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیاوَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ﴿64﴾
- وَاَزْلَفْنَاپھر ہم نے قریب کردیا
- ثَمَّاس جگہ
- الْاٰخَرِيْنَدوسروں کو
اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئےوَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ﴿65﴾
- وَاَنْجَيْنَااور ہم نے بچالیا
- مُوْسٰيموسیٰ
- وَمَنْاور جو
- مَّعَهٗٓاس کے ساتھ
- اَجْمَعِيْنَسب
موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیاثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ﴿66﴾
- ثُمَّپھر
- اَغْرَقْنَاہم نے غرق کردیا
- الْاٰخَرِيْنَدوسروں کو
اور دوسروں کو غرق کر دیااِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿67﴾
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيَةًالبتہ نشانی
- وَمَااور نہ
- كَانَتھے
- اَكْثَرُهُمْان سے اکثر
- مُّؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿68﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتمہارا رب
- لَهُوَالبتہ وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھیوَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ﴿69﴾
- وَاتْلُاور آپ پڑھیں
- عَلَيْهِمْان پر۔ انہیں
- نَبَاَخبر۔ واقعہ
- اِبْرٰهِيْمَابراہیم
اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤاِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ﴿70﴾
- اِذْجب
- قَالَاس نے کہا
- لِاَبِيْهِاپنے باپ کو
- وَقَوْمِهٖاور اپنی قوم
- مَاکیا۔ کس
- تَعْبُدُوْنَتم پرستش کرتے ہو
جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ "یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟"قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ﴿71﴾
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- نَعْبُدُہم پرستش کرتے ہیں
- اَصْنَامًابتوں کی
- فَنَظَلُّپس ہم بیٹھے رہتے ہیں ان کے پاس
- لَهَاان کے پاس
- عٰكِفِيْنَجمے ہوئے
انہوں نے جواب دیا "کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں"قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ﴿72﴾
- قَالَاس نے کہا
- هَلْکیا
- يَسْمَعُوْنَكُمْوہ سنتے ہیں تمہاری
- اِذْجب
- تَدْعُوْنَتم پکارتے ہو
اس نے پوچھا "کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ﴿73﴾
- اَوْ يَنْفَعُوْنَكُمْیا وہ نفع پہنچاتے ہیں تمہیں
- اَوْ يَضُرُّوْنَیا وہ نقصان پہنچاتے ہیں
یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟"قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ﴿74﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- بَلْبلکہ
- وَجَدْنَآہم نے پایا
- اٰبَآءَنَااپنے باپ دادا
- كَذٰلِكَاسی طرح
- يَفْعَلُوْنَوہ کرتے
انہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے"قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ﴿75﴾
- قَالَابراہیم نے کہا
- اَفَرَءَيْتُمْکیا پس تم نے دیکھا
- مَّاکس
- كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَتم پرستش کرتے ہو
اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تماَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ﴿76﴾
- اَنْتُمْتم
- وَاٰبَآؤُكُمُاور تمہارے باپ دادا
- الْاَقْدَمُوْنَپہلے
اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿77﴾
- فَاِنَّهُمْتو بیشک وہ
- عَدُوٌّ لِّيْٓمیرے دشمن
- اِلَّامگر
- رَبَّ الْعٰلَمِيْنَسارے جہانوں کا رب
میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کےالَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ﴿78﴾
- الَّذِيْوہ جس نے
- خَلَقَنِيْمجھے پیدا کیا
- فَهُوَپس وہ
- يَهْدِيْنِمجھے راہ دکھاتا ہے
جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہےوَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ﴿79﴾
- وَالَّذِيْاور وہ جو
- هُوَوہ
- يُطْعِمُنِيْمجھے کھلاتا ہے
- وَيَسْقِيْنِاور مجھے پلاتا ہے
جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہےوَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ﴿80﴾
- وَاِذَااور جب
- مَرِضْتُمیں بیمار ہوتا ہوں
- فَهُوَتو وہ
- يَشْفِيْنِمجھے شفا دیتا ہے
اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہےوَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ﴿81﴾
- وَالَّذِيْاور وہ جو
- يُمِيْتُنِيْمجھے موت دے گا
- ثُمَّپھر
- يُحْيِيْنِمجھے زندہ کرے گا
جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گاوَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ﴿82﴾
- وَالَّذِيْٓاور وہ جس سے
- اَطْمَعُمیں امید رکھتا ہوں
- اَنْ يَّغْفِرَ لِيْکہ مجھے بخش دے گا
- خَطِيْٓئَتِيمیری خطائیں
- يَوْمَ الدِّيْنِبدلہ کے دن
اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا"رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ﴿83﴾
- رَبِّاے میرے رب
- هَبْ لِيْمجھے عطا کر
- حُكْمًاحکم۔ حکمت
- وَّاَلْحِقْنِيْاور مجھے ملا دے
- بِالصّٰلِحِيْنَنیک بندوں کے ساتھ
(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) "اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملاوَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴿84﴾
- وَاجْعَلْاور کر
- لِّيْ لِسَانَمیرے لیے۔ میرا ذکر
- صِدْقٍاچھا۔ خیر
- فِي الْاٰخِرِيْنَبعد میں آنے والوں میں
اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کروَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ﴿85﴾
- وَاجْعَلْنِيْاور تو مجھے بنا دے
- مِنْ وَّرَثَةِوارثوں میں سے
- جَنَّةِبہشت
- النَّعِيْمِنعمتوں والی
اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرماوَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ﴿86﴾
- وَاغْفِرْاور بخشدے
- لِاَبِيْٓمیرے باپ کو
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَوہ ہے
- مِنَسے
- الضَّآلِّيْنَگمراہ (جمع)
اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہےوَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ﴿87﴾
- وَلَا تُخْزِنِيْاور مجھے رسوا نہ کرنا
- يَوْمَ يُبْعَثُوْنَجس دن سب اٹھائے جائیں گے
اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گےیَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ﴿88﴾
- يَوْمَجس دن
- لَا يَنْفَعُنہ کام آئے گا
- مَالٌمال
- وَّلَااور نہ
- بَنُوْنَبیٹے
جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاداِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ﴿89﴾
- اِلَّامگر
- مَنْجو
- اَتَى اللّٰهَاللہ کے پاس آیا
- بِقَلْبٍدل
- سَلِيْمٍپاک
بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو"وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ﴿90﴾
- وَاُزْلِفَتِاور نزدیک کردی جائے گی
- الْجَنَّةُجنت
- لِلْمُتَّقِيْنَپرہیزگاروں کے لیے
(اس روز) جنت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گیوَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ﴿91﴾
- وَبُرِّزَتِاور ظاہر کردی جائے گی
- الْجَحِيْمُدوزخ
- لِلْغٰوِيْنَگمراہوں کے لیے
اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گیوَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ﴿92﴾
- وَقِيْلَاور کہا جائے گا
- لَهُمْانہیں
- اَيْنَ مَاکہاں ہیں وہ جو
- كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَتم پرستش کرتے تھے
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ﴿93﴾
- مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
- هَلْکیا
- يَنْصُرُوْنَكُمْوہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں
- اَوْ يَنْتَصِرُوْنَیا بدلہ لے سکتے ہیں
کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟"فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ﴿94﴾
- فَكُبْكِبُوْا فِيْهَاپھر اوندھے منہ ڈالے جائیں گے اس میں
- هُمْوہ
- وَاور
- الْغَاوٗنَگمراہ
پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگوَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ﴿95﴾
- وَجُنُوْدُاور لشکر (جمع)
- اِبْلِيْسَابلیس
- اَجْمَعُوْنَسب کے سب
اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گےقَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ﴿96﴾
- قَالُوْاوہ کہیں گے
- وَهُمْاور وہ
- فِيْهَااس (جہنم) میں
- يَخْتَصِمُوْنَجھگڑتے ہوں گے
وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گےتَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ﴿97﴾
- تَاللّٰهِقسم اللہ کی
- اِنۡبیشک
- كُنَّاتھے ہم
- لَفِىۡ ضَلٰلٍالبتہ گمراہی میں
- مُّبِيۡنٍۙکھلی کھلی
کہ "خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھےاِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿98﴾
- اِذْجب
- نُسَوِّيْكُمْہم برابر ٹھہراتے تھے تمہیں
- بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَسارے جہانوں کے رب کے ساتھ
جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھےوَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ﴿99﴾
- وَمَآ اَضَلَّنَآاور نہیں گمراہ کیا ہمیں
- اِلَّامگر (صرف)
- الْمُجْرِمُوْنَمجرم (جمع)
اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالافَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ﴿100﴾
- فَمَا لَنَاپس نہیں ہمارے لیے
- مِنْکوئی
- شَافِعِيْنَسفارش کرنے والا (جمع)
اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہےوَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ﴿101﴾
- وَلَا صَدِيْقٍاور نہ کوئی دوست
- حَمِيْمٍغم خوار
اور نہ کوئی جگری دوستفَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿102﴾
- فَلَوْپس کاش
- اَنَّ لَنَاکہ ہمارے لیے
- كَرَّةًلوٹنا
- فَنَكُوْنَتو ہم ہوتے
- مِنَسے
- الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں"اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿103﴾
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيَةًالبتہ ایک نشانی
- وَمَا كَانَاور نہٰں ہیں
- اَكْثَرُهُمْان کے اکثر
- مُّؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿104﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتمہارا رب
- لَهُوَالبتہ وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھیكَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿105﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- قَوْمُ نُوْحِنوح کی قوم
- الْمُرْسَلِيْنَرسولوں کو
قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایااِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿106﴾
- اِذْ قَالَجب کہا
- لَهُمْان سے
- اَخُوْهُمْان کے بھائی
- نُوْحٌنوح
- اَلَاکیا نہیں
- تَتَّقُوْنَتم ڈرتے
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿107﴾
- اِنِّىْبیشک میں
- لَكُمْتمہارے لیے
- رَسُوْلٌرسول
- اَمِيْنٌامانت دار
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿108﴾
- فَاتَّقُوا اللّٰهَپس ڈرو اللہ سے تم
- وَاَطِيْعُوْنِاور میری اطاعت کرو
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ﴿109﴾
- وَاور
- مَآ اَسْئَلُكُمْمیں نہیں مانگتا تم سے
- عَلَيْهِاس پر
- مِنْکوئی
- اَجْرٍجر
- اِنْنہیں
- اَجْرِيَمیرا اجر
- اِلَّامگر (صرف)
- عَلٰيپر
- رَبِّ الْعٰلَمِيْنَرب العالمین
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہےفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ﴿110﴾
- فَاتَّقُواپس ڈرو تم
- اللّٰهَاللہ سے
- وَاَطِيْعُوْنِاور میری اطاعت کرو
پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے) میری اطاعت کرو"قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ﴿111﴾
- قَالُوْٓاوہ بولے
- اَنُؤْمِنُکیا ہم ایمان لے آئیں
- لَكَتجھ پر
- وَاتَّبَعَكَجبکہ تیری پیروی کی
- الْاَرْذَلُوْنَرذیلوں نے
انہوں نے جواب دیا "“کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟"قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ﴿112﴾
- قَالَ(نوح) نے کہا
- وَمَا عِلْمِىْاور مجھے کیا علم
- بِمَااس کی جو
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
نوحؑ نے کہا "میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیںاِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ﴿113﴾
- اِنْنہیں
- حِسَابُهُمْان کا حساب
- اِلَّامگر۔ صرف
- عَلٰي رَبِّيْمیرے رب پر
- لَوْاگر
- تَشْعُرُوْنَتم سمجھو
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لووَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿114﴾
- وَمَآاور نہیں
- اَنَامیں
- بِطَارِدِہانکنے والا (دور کرنے والا)
- الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوںاِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ﴿115﴾
- اِنْ اَنَانہیں میں
- اِلَّامگر۔ صرف
- نَذِيْرٌڈرانے والا
- مُّبِيْنٌصاف طور پر
میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کر دینے والا آدمی ہوں"قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ﴿116﴾
- قَالُوْابولے
- لَئِنْاگر
- لَّمْ تَنْتَهِتم باز نہ آئے
- يٰنُوْحُاے نوح
- لَتَكُوْنَنَّتو ضرور ہوگے
- مِنَسے
- الْمَرْجُوْمِيْنَسنگسار کیے جانے والے
انہوں نے کہا "اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا"قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ﴿117﴾
- قَالَ(نوح نے) کہا
- رَبِّاے میرے رب
- اِنَّبیشک
- قَوْمِيْمیری قوم
- كَذَّبُوْنِمجھے جھٹلایا
نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیافَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿118﴾
- فَافْتَحْپس فیصلہ کردے
- بَيْنِيْمیرے درمیان
- وَبَيْنَهُمْاور ان کے درمیان
- فَتْحًاایک کھلا فیصلہ
- وَّنَجِّنِيْاور نجات دے مجھے
- وَمَنْاور جو
- مَّعِيَمیرے ساتھی
- مِنَسے
- الْمُؤْمِنِيْنَایمان والے
اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے"فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ﴿119﴾
- فَاَنْجَيْنٰهُتو ہم نے نجات دی اسے
- وَمَنْاور جو
- مَّعَهٗاس کے ساتھ
- فِي الْفُلْكِکشتی میں
- الْمَشْحُوْنِبھری ہوئی
آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیاثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ﴿120﴾
- ثُمَّپھر
- اَغْرَقْنَاغرق کردیا ہم نے
- بَعْدُاس کے بعد
- الْبٰقِيْنَباقیوں کو
اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیااِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿121﴾
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيَةًالبتہ نشانی
- وَمَااور نہ
- كَانَتھے
- اَكْثَرُهُمْان کے اکثر
- مُّؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿122﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتمہارا رب
- لَهُوَالبتہ وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھیكَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿123﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- عَادُعاد
- ۨ الْمُرْسَلِيْنَرسول (جمع)
عاد نے رسولوں کو جھٹلایااِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿124﴾
- اِذْ قَالَجب کہا
- لَهُمْان سے
- اَخُوْهُمْان کے بھائی
- هُوْدٌہود
- اَلَا تَتَّقُوْنَکیا تم ڈرتے نہیں
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿125﴾
- اِنِّىْبیشک میں
- لَكُمْتمہارے لیے
- رَسُوْلٌرسول
- اَمِيْنٌامانت دار
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿126﴾
- فَاتَّقُوا اللّٰهَسو تم ڈرو اللہ سے
- وَاَطِيْعُوْنِاور میری اطاعت کرو
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿127﴾
- وَمَآ اَسْئَلُكُمْاور میں نہیں مانگتا تم سے
- عَلَيْهِاس پر
- مِنْ اَجْرٍکوئی اجر
- اِنْنہیں
- اَجْرِيَمیرا اجر
- اِلَّامگر۔ صرف
- عَلٰيپر
- رَبِّ الْعٰلَمِيْنَرب العالمین
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہےاَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ﴿128﴾
- اَتَبْنُوْنَکیا تم تعمیر کرتے ہو
- بِكُلِّ رِيْعٍہر بلندی پر
- اٰيَةًایک نشانی
- تَعْبَثُوْنَکھیلنے کو (بلا ضرورت)
یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہووَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ﴿129﴾
- وَتَتَّخِذُوْنَاور تم بناتے ہو
- مَصَانِعَمضبوط۔ شاندار محل)
- لَعَلَّكُمْشاید تم
- تَخْلُدُوْنَتم ہمیشہ رہو گے
اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہےوَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ﴿130﴾
- وَاِذَااور جب
- بَطَشْتُمْتم گرفت کرتے ہو
- بَطَشْتُمْگرفت کرتے ہو تم
- جَبَّارِيْنَجابر بن کر
اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّار بن کر ڈالتے ہوفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿131﴾
- فَاتَّقُواپس ڈرو
- اللّٰهَاللہ
- وَاَطِيْعُوْنِاور میری اطاعت کرو
پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرووَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ﴿132﴾
- وَاتَّقُوااور ڈرو
- الَّذِيْٓوہ جس نے
- اَمَدَّكُمْمدد کی تمہاری
- بِمَا تَعْلَمُوْنَاس سے جو تم جانتے ہو
ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہواَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ﴿133﴾
- اَمَدَّكُمْتمہاری مدد کی
- بِاَنْعَامٍمویشیوں سے
- وَّبَنِيْنَاور بیٹوں
تمہیں جانور دیے، اولادیں دیںوَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ﴿134﴾
- وَجَنّٰتٍاور باغات
- وَّعُيُوْنٍاور چشمے
باغ دیے اور چشمے دیےاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ﴿135﴾
- اِنِّىْٓ اَخَافُبیشک میں ڈرتا ہوں
- عَلَيْكُمْتم پر
- عَذَابَعذاب
- يَوْمٍ عَظِيْمٍایک بڑا دن
مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے"قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ﴿136﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- سَوَآءٌبرابر
- عَلَيْنَآہم پر
- اَوَعَظْتَخواہ تم نصیحت کرو
- اَمْ لَمْ تَكُنْیا نہ ہو تم
- مِّنَسے
- الْوٰعِظِيْنَنصیحت کرنے والے
انہوں نے جواب دیا "تو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے یکساں ہےاِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿137﴾
- اِنْ ھٰذَآنہیں ہے
- اِلَّامگر
- خُلُقُعادت
- الْاَوَّلِيْنَاگلے لوگ
یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیںوَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ﴿138﴾
- وَمَااور نہیں
- نَحْنُہم
- بِمُعَذَّبِيْنَعزاب دئیے جانیوالوں سے
اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں"فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿139﴾
- فَكَذَّبُوْهُپس انہوں نے جھٹلایا اسے
- فَاَهْلَكْنٰهُمْتو ہم نے ہلاک کردیا انہیں
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيَةًالبتہ نشانی
- وَمَا كَانَاور نہیں تھے
- اَكْثَرُهُمْان کے اکثر
- مُّؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
آخرکار انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿140﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتمہارا رب
- لَهُوَالبتہ وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھیكَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿141﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- ثَمُوْدُثمود
- الْمُرْسَلِيْنَرسول (جمع)
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایااِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿142﴾
- اِذْجب
- قَالَکہا
- لَهُمْان سے
- اَخُوْهُمْان کے بھائی
- صٰلِحٌصالح
- اَلَا تَتَّقُوْنَکیا تم ڈرتے نہیں
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا "کیا تم ڈرتے نہیں؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿143﴾
- اِنِّىْبیشک میں
- لَكُمْتمہارے لیے
- رَسُوْلٌرسول
- اَمِيْنٌامانت دار
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿144﴾
- فَاتَّقُواسو تم ڈرو
- اللّٰهَاللہ
- وَاَطِيْعُوْنِاور تم میری اطاعت کرو
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿145﴾
- وَمَآ اَسْئَلُكُمْاور میں نہیں مانگتا تم سے
- عَلَيْهِاس پر
- مِنْ اَجْرٍکوئی اجر
- اِنْنہیں
- اَجْرِيَمیرا اجر
- اِلَّامگر
- عَلٰيپر
- رَبِّ الْعٰلَمِيْنَرب العالمین
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہےاَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ﴿146﴾
- اَتُتْرَكُوْنَکیا چھوڑ دئیے جاؤگے تم
- فِيْمیں
- مَا هٰهُنَآجو یہاں ہے
- اٰمِنِيْنَبےفکر
کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤ گے؟فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿147﴾
- فِيْ جَنّٰتٍباغات میں
- وَّعُيُوْنٍاور چشمے
اِن باغوں اور چشموں میں؟وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ﴿148﴾
- وَّزُرُوْعٍاور کھیتیاں
- وَّنَخْلٍاور کھجوریں
- طَلْعُهَاان کے خوشے
- هَضِيْمٌنرم و نازک
اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ﴿149﴾
- وَتَنْحِتُوْنَاور تم تراشتے ہو
- مِنَ الْجِبَالِپہاڑوں سے
- بُيُوْتًاگھر
- فٰرِهِيْنَخوش ہوکر
تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہوفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿150﴾
- فَاتَّقُواسو ڈرو تم
- اللّٰهَاللہ
- وَاَطِيْعُوْنِاور میری اطاعت کرو
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرووَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ﴿151﴾
- وَلَا تُطِيْعُوْٓااور نہ کہا مانو
- اَمْرَحکم
- الْمُسْرِفِيْنَحد سے بڑھ جانیوالے
اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کروالَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ﴿152﴾
- الَّذِيْنَجو لوگ
- يُفْسِدُوْنَفساد کرتے ہیں
- فِيمیں
- الْاَرْضِزمین
- وَاور
- لَا يُصْلِحُوْنَاصلاح نہیں کرتے
جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے"قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ﴿153﴾
- قَالُوْٓاانہوں نے کہا
- اِنَّمَآاس کے سوا نہیں
- اَنْتَتم
- مِنَسے
- الْمُسَحَّرِيْنَسحر زدہ لوگ
انہوں نے جواب دیا "تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہےمَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿154﴾
- مَآ اَنْتَتم نہیں
- اِلَّا بَشَرٌمگر۔ صرف۔ ایک بشر
- مِّثْلُنَاہم جیسا
- فَاْتِپس لاؤ
- بِاٰيَةٍکوئی نشانی
- اِنْاگر
- كُنْتَتو
- مِنَسے
- الصّٰدِقِيْنَسچے لوگ
تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے لا کوئی نشانی اگر تو سچّا ہے"قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ﴿155﴾
- قَالَاس نے فرمایا
- هٰذِهٖیہ
- نَاقَةٌاونٹنی
- لَّهَااس کے لیے
- شِرْبٌپانی پینے کی باری
- وَّلَكُمْاور تمہارے لیے
- شِرْبُبایک باری پانی پینے کی
- يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍمعین دن
صالحؑ نے کہا "یہ اونٹنی ہے ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کاوَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿156﴾
- وَلَا تَمَسُّوْهَااور اسے ہاتھ نہ لگانا
- بِسُوْٓءٍبرائی سے
- فَيَاْخُذَكُمْسو (ورنہ) تمہیں آپکڑے گا
- عَذَابُعذاب
- يَوْمٍ عَظِيْمٍایک بڑا دن
اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا"فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ﴿157﴾
- فَعَقَرُوْهَاپھر انہوں نے کونچیں کاٹ دیں اسکی
- فَاَصْبَحُوْاپس رہ گئے
- نٰدِمِيْنَپشیمان
مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئےفَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿158﴾
- فَاَخَذَهُمُپھر انہیں آپکڑا
- الْعَذَابُعذاب
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيَةًالبتہ نشانی
- وَمَااور نہیں
- كَانَہیں
- اَكْثَرُهُمْان کے اکثر
- مُّؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿159﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتمہارا رب
- لَهُوَالبتہ وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھیكَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿160﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- قَوْمُ لُوْطِقومِ لوط
- ۨ الْمُرْسَلِيْنَرسولوں کو
لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایااِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿161﴾
- اِذْجب
- قَالَکہا
- لَهُمْان سے
- اَخُوْهُمْان کے بھائی
- لُوْطٌلوط
- اَلَا تَتَّقُوْنَکیا تم ڈرتے نہیں
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿162﴾
- اِنِّىْبیشک میں
- لَكُمْتمہارے لیے
- رَسُوْلٌرسول
- اَمِيْنٌامانت دار
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿163﴾
- فَاتَّقُواپس تم ڈرو
- اللّٰهَاللہ
- وَاَطِيْعُوْنِاور تم میری اطاعت کرو
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿164﴾
- وَمَآ اَسْئَلُكُمْاور میں نہیں مانگتا تم سے
- عَلَيْهِاس پر
- مِنْ اَجْرٍکوئی اجر
- اِنْنہیں
- اَجْرِيَمیرا اجر
- اِلَّامگر۔ صرف
- عَلٰيپر
- رَبِّ الْعٰلَمِيْنَرب العالمین
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہےاَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿165﴾
- اَتَاْتُوْنَکیا تم آتے ہو
- الذُّكْرَانَمردوں کے پاس
- مِنَسے
- الْعٰلَمِيْنَتمام جہانوں
کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردوں کے پاس جاتے ہووَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ﴿166﴾
- وَتَذَرُوْنَاور تم چھوڑتے ہو
- مَا خَلَقَجو اس نے پیدا کیا
- لَكُمْتمہارے لیے
- رَبُّكُمْتمہارا رب
- مِّنْسے
- اَزْوَاجِكُمْتمہاری بیویاں
- بَلْبلکہ
- اَنْتُمْتم
- قَوْمٌلوگ
- عٰدُوْنَحد سے بڑھنے والے
اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو"قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ﴿167﴾
- قَالُوْابولے وہ
- لَئِنْاگر
- لَّمْ تَنْتَهِتم باز نہ آئے
- يٰلُوْطُاے لوط
- لَتَكُوْنَنَّالبتہ ضرور تم ہوگے
- مِنَسے
- الْمُخْرَجِيْنَمخرج (نکالے جانے والے
انہوں نے کہا“اے لوطؑ، "اگر تو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا"قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ﴿168﴾
- قَالَاس نے کہا
- اِنِّىْبیشک میں
- لِعَمَلِكُمْتمہارے فعل سے
- مِّنَسے
- الْقَالِيْنَنفرت کرنے والے
اس نے کہا "تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوںرَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ﴿169﴾
- رَبِّاے میرے رب
- نَجِّنِيْمجھے نجات دے
- وَاَهْلِيْاور میرے گھر والے
- مِمَّااس سے جو
- يَعْمَلُوْنَوہ کرتے ہیں
اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے"فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ﴿170﴾
- فَنَجَّيْنٰهُتو ہم نے نجات دی اسے
- وَاَهْلَهٗٓاور اس کے گھر والے
- اَجْمَعِيْنَسب
آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیااِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ﴿171﴾
- اِلَّاسوائے
- عَجُوْزًاایک بڑھیا
- فِي الْغٰبِرِيْنَپیچھے رہ جانے والوں میں
بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھیثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ﴿172﴾
- ثُمَّ دَمَّرْنَاپھر ہم نے ہلاک کردیا
- الْاٰخَرِيْنَدوسرے
پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیاوَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ﴿173﴾
- وَاَمْطَرْنَااور ہم نے بارش برسائی
- عَلَيْهِمْان پر
- مَّطَرًاایک بارش
- فَسَآءَپس بری
- مَطَرُبارش
- الْمُنْذَرِيْنَڈرائے گئے
اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئیاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿174﴾
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيَةًالبتہ ایک نشانی
- وَمَااور نہ
- كَانَتھے
- اَكْثَرُهُمْان کے اکثر
- مُّؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿175﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتمہارا رب
- لَهُوَالبتہ وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھیكَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿176﴾
- كَذَّبَجھٹلایا
- اَصْحٰبُ لْئَيْكَةِایکہ (بن) والے
- الْمُرْسَلِيْنَرسول (جمع)
اصحاب الاَیکہ نے رسولوں کو جھٹلایااِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿177﴾
- اِذْ قَالَجب کہا
- لَهُمْانہیں
- شُعَيْبٌشعیب
- اَلَا تَتَّقُوْنَکیا تم ڈرتے نہیں
یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿178﴾
- اِنِّىْبیشک میں
- لَكُمْتمہارے لیے
- رَسُوْلٌرسول
- اَمِيْنٌامانت دار
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿179﴾
- فَاتَّقُواسو ڈرو تم
- اللّٰهَاللہ
- وَاَطِيْعُوْنِاور میری اطاعت کرو
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿180﴾
- وَمَآ اَسْئَلُكُمْاور میں نہیں مانگتا تم سے
- عَلَيْهِاس پر
- مِنْ اَجْرٍکوئی اجر
- اِنْنہیں
- اَجْرِيَمیرا اجر
- اِلَّامگر
- عَلٰيپر
- رَبِّ الْعٰلَمِيْنَرب العالمین
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہےاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ﴿181﴾
- اَوْفُواتم پورا کرو
- الْكَيْلَماپ
- وَلَا تَكُوْنُوْااور نہ ہو تم
- مِنَسے
- الْمُخْسِرِيْنَنقصان دینے والے
پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دووَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ﴿182﴾
- وَزِنُوْااور وزن کرو
- بِالْقِسْطَاسِترازو سے
- الْمُسْتَقِيْمِٹھیک سیدھی
صحیح ترازو سے تولووَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ﴿183﴾
- وَلَا تَبْخَسُوااور نہ گھٹاؤ
- النَّاسَلوگ
- اَشْيَآءَهُمْان کی چیزیں
- وَلَا تَعْثَوْااور نہ پھرو
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- مُفْسِدِيْنَفساد مچاتے ہوئے
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرووَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿184﴾
- وَاتَّقُوااور ڈرو
- الَّذِيْوہ جس نے
- خَلَقَكُمْیدا کیا تمہیں
- وَالْجِبِلَّةَاور مخلوق
- الْاَوَّلِيْنَپہلی
اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے"قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ﴿185﴾
- قَالُوْٓاوہ بولے (کہنے لگے)
- اِنَّمَآاس کے سوا نہیں
- اَنْتَتو
- مِنَسے
- الْمُسَحَّرِيْنَسحر زدہ (جمع)
انہوں نے کہا "تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہےوَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ﴿186﴾
- وَمَآ اَنْتَاور نہیں تو
- اِلَّامگر۔ صرف
- بَشَرٌایک بشر
- مِّثْلُنَاہم جیسا
- وَاِنْ نَّظُنُّكَاور البتہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے
- لَمِنَالبتہ۔ سے
- الْكٰذِبِيْنَجھوٹے
اور تو کچھ نہیں مگر ایک انسان ہم ہی جیسا، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیںفَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ﴿187﴾
- فَاَسْقِطْسو تو گرا
- عَلَيْنَاہم پر
- كِسَفًاایک ٹکڑا
- مِّنَسے۔ کا
- السَّمَآءِآسمان
- اِنْ كُنْتَاگر تو ہے
- مِنَسے
- الصّٰدِقِيْنَسچے
اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے"قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿188﴾
- قَالَفرمایا
- رَبِّيْٓمیرا رب
- اَعْلَمُخوب جانتا ہے
- بِمَاجو کچھ
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
شعیبؑ نے کہا "میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو"فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿189﴾
- فَكَذَّبُوْهُتو انہوں نے جھٹلایا اسے
- فَاَخَذَهُمْپس پکڑا انہیں
- عَذَابُعذاب
- يَوْمِ الظُّلَّةِسائبان والا دن
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَتھا
- عَذَابَعذاب
- يَوْمٍ عَظِيْمٍبڑا (سخت) دن
انہوں نے اسے جھٹلا دیا، آخرکار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آ گیا، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھااِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿190﴾
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيَةًالبتہ نشانی
- وَاور
- مَا كَانَنہ تھے
- اَكْثَرُهُمْان کے اکثر
- مُّؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿191﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتیرا رب
- لَهُوَالبتہ وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھیوَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿192﴾
- وَاِنَّهٗاور بیشک یہ
- لَتَنْزِيْلُالبتہ اتارا ہوا
- رَبِّ الْعٰلَمِيْنَسارے جہانوں کا رب
یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہےنَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ﴿193﴾
- نَزَلَ بِهِاس کے ساتھ (لے کر) اترا
- الرُّوْحُ الْاَمِيْنُجبریل امین
اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہےعَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ﴿194﴾
- عَلٰيپر
- قَلْبِكَتمہارا دل
- لِتَكُوْنَتاکہ تم ہو
- مِنَ الْمُنْذِرِيْنَڈر سنانے والوں میں سے
تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیںبِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ﴿195﴾
- بِلِسَانٍزبان میں
- عَرَبِيٍّعربی
- مُّبِيْنٍروشن (واضح)
صاف صاف عربی زبان میںوَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ﴿196﴾
- وَاِنَّهٗاور بیشک یہ
- لَفِيْمیں
- زُبُرِصحیفے
- الْاَوَّلِيْنَپہلے (پیغمبر)
اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہےاَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿197﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَكُنْنہیں ہے
- لَّهُمْان کے لیے
- اٰيَةًایک نشانی
- اَنْ يَّعْلَمَهٗکہ جانتے ہیں اس کو
- عُلَمٰٓؤُاعلما
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
کیا اِن (اہلِ مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں؟وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ﴿198﴾
- وَلَوْاور اگر
- نَزَّلْنٰهُہم نازل کرتے اسے
- عَلٰي بَعْضِکسی پر
- الْاَعْجَمِيْنَعجمی (غیر عربی)
(لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر ہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتےفَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ﴿199﴾
- فَقَرَاَهٗپھر وہ پڑھتا اسے
- عَلَيْهِمْان کے سامنے
- مَّانہ
- كَانُوْوہ ہوتے
- بِهٖاس پر
- مُؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتےكَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ﴿200﴾
- كَذٰلِكَاسی طرح
- سَلَكْنٰهُیہ چلایا ہے (انکار داخل کردیا ہے)
- فِيْ قُلُوْبِدلوں میں
- الْمُجْرِمِيْنَمجرم (جمع)
اِسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہےلَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ﴿201﴾
- لَا يُؤْمِنُوْنَوہ ایمان نہ لائیں گے
- بِهٖاس پر
- حَتّٰىیہاں تک کہ
- يَرَوُاوہ دیکھ لیں گے
- الْعَذَابَ الْاَلِيْمَدردناک عذاب
وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیںفَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ﴿202﴾
- فَيَاْتِيَهُمْتو وہ آجائے گا ان پر
- بَغْتَةًاچانک
- وَّهُمْاور انہیں
- لَا يَشْعُرُوْنَخبر (بھی) نہ ہوگی
پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آ پڑتا ہےفَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ﴿203﴾
- فَيَقُوْلُوْاپھر وہ کہیں گے
- هَلْکیا
- نَحْنُہم۔ ہمیں
- مُنْظَرُوْنَمہلت دی جائے گی
اُس وقت وہ کہتے ہیں "کہ“کیا اب ہمیں کچھ مُہلت مِل سکتی ہے؟"اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ﴿204﴾
- اَفَبِعَذَابِنَاکیا پس ہمارے عذاب کو
- يَسْتَعْجِلُوْنَوہ جلدی چاہتے ہیں
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ﴿205﴾
- اَفَرَءَيْتَکیا تم نے دیکھا ؟
- اِنْاگر
- مَّتَّعْنٰهُمْہم انہیں فائدہ پہنچائیں
- سِنِيْنَکئی برس۔ برسوں
تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیںثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ﴿206﴾
- ثُمَّپھر
- جَآءَهُمْپہنچے ان پر
- مَّاجو
- كَانُوْا يُوْعَدُوْنَانہیں وعید کی جاتی تھی
اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہےمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ﴿207﴾
- مَآ اَغْنٰىکیا کام ٓئے گا
- عَنْهُمْان کے
- مَّاجو (جس سے)
- كَانُوْا يُمَتَّعُوْنَوہ فائدہ اٹھاتے تھے
تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ﴿208﴾
- وَاور
- مَآ اَهْلَكْنَانہیں ہلاک کیا ہم نے
- مِنْ قَرْيَةٍکسی بستی کو
- اِلَّامگر
- لَهَااس کے لیے
- مُنْذِرُوْنَڈرانے والے
(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھےذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿209﴾
- ذِكْرٰينصیحت کے لیے
- وَمَا كُنَّااور نہ تھے ہم
- ظٰلِمِيْنَظلم کرنے والے
اور ہم ظالم نہ تھےوَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ﴿210﴾
- وَاور
- مَا تَنَزَّلَتْنہیں اترے
- بِهِاسے لے کر
- الشَّيٰطِيْنُشیطان (جمع)
اِس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیںوَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ﴿211﴾
- وَمَا يَنْۢبَغِيْاور سزاوار نہیں
- لَهُمْان کو
- وَمَا يَسْتَطِيْعُوْنَاور نہ وہ کرسکتے ہیں
نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیںاِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ﴿212﴾
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- عَنِسے
- السَّمْعِسننا
- لَمَعْزُوْلُوْنَدور کردئیے گئے ہیں
وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیںفَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ﴿213﴾
- فَلَا تَدْعُپس نہ پکارو
- مَعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
- اِلٰهًا اٰخَرَکوئی دوسرا معبود
- فَتَكُوْنَکہ ہوجاؤ
- مِنَسے
- الْمُعَذَّبِيْنَمبتلائے عذاب
پس اے محمدؐ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گےوَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ﴿214﴾
- وَاَنْذِرْاور تم ڈراؤ
- عَشِيْرَتَكَاپنے رشتہ دار
- الْاَقْرَبِيْنَقریب ترین
اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤوَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿215﴾
- وَاور
- اخْفِضْجھکاؤ
- جَنَاحَكَاپنا بازو
- لِمَنِاس کے لیے جس نے
- اتَّبَعَكَتمہاری پیروی کی
- مِنَسے
- الْمُؤْمِنِيْنَمومنوں
اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤفَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ﴿216﴾
- فَاِنْپھر اگر
- عَصَوْكَوہ تمہاری نافرمانی کریں
- فَقُلْتو کہ دیں
- اِنِّىْ بَرِيْٓءٌبیشک میں بیزار ہوں
- مِّمَّااس سے جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوںوَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ﴿217﴾
- وَتَوَكَّلْاور بھروسہ کرو
- عَلَيپر
- الْعَزِيْزِغالب
- الرَّحِيْمِنہایت مہربان
اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کروالَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ﴿218﴾
- الَّذِيْوہ جو
- يَرٰىكَتمہیں دیکھتا ہے
- حِيْنَجب
- تَقُوْمُتم کھڑے ہوتے ہو
جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہووَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ﴿219﴾
- وَتَقَلُّبَكَاور تمہارا پھرنا
- فِيمیں
- السّٰجِدِيْنَسجدہ کرنے والے (نمازی)
اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہےاِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿220﴾
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَوہی
- السَّمِيْعُسننے والا
- الْعَلِيْمُجاننے والا
وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہےهَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ﴿221﴾
- هَلْکیا
- اُنَبِّئُكُمْمیں تمہیں بتاؤں
- عَلٰي مَنْکسی پر
- تَنَزَّلُاترتے ہیں
- الشَّيٰطِيْنُشیطان (جمع)
لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ﴿222﴾
- تَنَزَّلُوہ اترتے ہیں
- عَلٰيپر
- كُلِّہر
- اَفَّاكٍبہتان لگانے والا
- اَثِيْمٍگنہگار
وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیںیُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ﴿223﴾
- يُّلْقُوْنَڈالدیتے ہیں
- السَّمْعَسنی سنائی بات
- وَاَكْثَرُهُمْاور ان میں اکثر
- كٰذِبُوْنَجھوٹے ہیں
سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیںوَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ﴿224﴾
- وَالشُّعَرَآءُاور شاعر (جمع
- يَتَّبِعُهُمُان کی پیروی کرتے ہیں
- الْغَاوٗنَگمراہ لوگ
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیںاَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ﴿225﴾
- اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
- اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍکہ وہ ہر ادی میں
- يَّهِيْمُوْنَسرگرداں پھرتے ہیں
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیںوَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ﴿226﴾
- وَاَنَّهُمْاور یہ کہ وہ
- يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
- مَاجو
- لَا يَفْعَلُوْنَوہ کرتے نہیں
اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیںاِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ع﴿227﴾
- اِلَّامگر
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
- الصّٰلِحٰتِاچھے
- وَذَكَرُوا اللّٰهَاور اللہ کو یاد کیا
- كَثِيْرًابکثرت
- وَّانْتَصَرُوْااور انہوں نے بدلہ لیا
- مِنْۢ بَعْدِاس کے بعد
- مَا ظُلِمُوْاکہ ان پر ظلم ہوا
- وَسَيَعْلَمُاور عنقریب جان لیں گے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جنہوں نے
- ظَلَمُوْٓاظلم کیا
- اَيَّکس
- مُنْقَلَبٍلوٹنے کی جگہ (کروٹ)
- يَّنْقَلِبُوْنَوہ الٹتے ہیں (انہیں لوٹ کر جانا ہے
بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں