22. Al-Hajjالحج
The Pilgrimage · Medinan · 78 ayahs · 10 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ﴿1﴾
اے لوگو ! اپنے خدا ند سے ڈرو بیشک قیامت کی ہلچل بڑی ہی ہولناک چیز ہےیَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ﴿2﴾
جس دن تم اسے دیکھو گے اس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی بڑی ہولناک چیز !وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ﴿3﴾
اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے خدا کی توحید کے باب میں کٹی حجتی کرتے اور ہر سرکش شیطان خبیث کی پیروی کرتے ہیںكُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ﴿4﴾
جس کی یہ ڈیوٹی ہی مقرر ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اس کو گمراہ کر کے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گایٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ﴿5﴾
اے لوگو ! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر منی کے ایک قطرے سے، پھر ایک جینن سے، پھر ایک لوتھڑے سے، کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص۔ ایسا ہم نے اس لئے کیا تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کردیں اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت معین کے لئے۔ پھر ہم تم کو ایک بچہ کی شکل میں برآمد کرتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے بعض پہلے ہی مر جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخر حد کو پہنچتے ہیں تاآنکہ وہ کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے۔ اور تم زمین کو بالکل خشک دیکھتے ہو تو جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہریں لینے لگتی اور اپجتی ہے اور طرح سرح کی خوش نما چیزیں اگاتی ہےذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ﴿6﴾
یہ سب کچھ اس لئے کہ اللہ ہی پروردگار حقیقی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہےوَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ﴿7﴾
اور قیامت آ کے رہے گی، اس کے آنے میں ذرا شبہ نہیں اور اللہ ان سب کو ایک دن زندہ کر کے اٹھائے گا جو قبروں میں ہیںوَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ﴿8﴾
اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے حجتیں کرتے ہیںثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ﴿9﴾
تکبر سے اینٹھتے ہوئے، کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے برگشتہ کریں، ان کے لئے دنیا میں روسائی ہے اور ہم قیامت کے دن ان کو آگ کا عذاب چکھائیں گےذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ع﴿10﴾
کہ یہ ہے تیرے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت اور اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیںوَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ﴿11﴾
اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں۔ اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچاتب تو ان کا دل خدا پر جمتا ہے اور اگر کوئی آزمائش پیش آگئی تو اوندھے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی۔ کھلا ہوا خسارہ درحقیقت یہی ہےیَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ﴿12﴾
یہ خدا کے سوا ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نقصان پہنچا سکیں اور نہ کوئی نفع پہنچا پائیں۔ یہی بڑی دور کی گمراہی ہےیَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ﴿13﴾
وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جن کا ضرر ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ کیا ہی برے ہیں ان کے یہ مرجع اور کیا ہی برے ہیں ان کے یہ ساتھی ! !اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ﴿14﴾
بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ایسے باغوں میں داخل رکے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ بیشک اللہ جو چاہے گا کر ڈالے گامَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ﴿15﴾
جو یہ گمان رکھتا ہو کہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان تک ایک رسی تانے اور پھر اپنے معاملہ کا فیصلہ کر ڈالے اور دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کے غم کو دور کرنے والی بنتی ہے ؟وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ﴿16﴾
اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کو نہایت واضح دلیلوں کی صورت میں اتارا ہے کہ لوگ ہدایت حاصل کریں اور بیشک اللہ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہےاِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ﴿17﴾
جو لوگ ایمان لائے جنہوں نے یہودیت اختیار کی اور صائبین، نصاریٰ مجوس اور جنہوں نے شرک کیا، اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہےاَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩۩﴿18﴾
کیا نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی کے آگے جھکتے ہیں ج آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج چاند، ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اور لوگوں میں سے بہتیرے اور بہتیرے ایسے ہیں جن پر خدا کا عذاب لازم ہوچکا ہے اور جن کو خدا ذلیل کر دے تو ان کو کوئی دوسرا عزت دینے والا نہیں بن سکتا۔ بیشک اللہ ہی کرتا ہے جو چاہتا ہےهٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ﴿19﴾
یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف کیا تو جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے جامے تراشے جائیں گے۔ ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا پانی بہایا جائے گایُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ﴿20﴾
اس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے سب پگھل جائے گا اور ان کی کھالیں بھیوَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ﴿21﴾
اور ان کی سرکوبی کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گےكُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ع﴿22﴾
جب جب وہ اس کے کسی عذاب سے نکلنے کی کوشش کریں گے اسی میں دھکیلے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کا عذاب ! !اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ﴿23﴾
ہاں، اللہ ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے، ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا پہناوا ایکسر ریشم ہو گاوَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ﴿24﴾
اور ان کی رہنمائی پاکیزہ کلمہ حمد کی طرف اور ان کی رہنمائی خدائے حمید کی راہ کی طرف ہوگی !اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ع﴿25﴾
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ لوگ کی راہ اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جس کو ہم نے لوگوں کے لئے یکساں بنایا، خواہ وہ اس کے شہری ہوں یا آفاقی (تو انہوں نے بہت ظلم کا ارتکاب کیا) اور جو اس میں کسی بےدینی، کسی شرک کے ارتکاب کا ارادہ کریں گے تو ہم ان کو ایک عذاب درد ناک کا مزا چکھائیں گےوَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ﴿26﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے ابراہیم کے لئے ٹھکانا بنایا بیت اللہ کی جگہ کو اس ہدایت کے ساتھ کہ کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھہرائیو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھیو !وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ﴿27﴾
اور لوگوں میں حج کی منادی کرو، وہ تمہارے پاس آئیں گے پیادہ بھی اور نہایت لاغر اونٹنیوں پر بھی جو پہنچیں گی دور دراز گہرے پہاڑی رستوں سےلِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘﴿28﴾
تاکہ لوگ اپنی منفعت کی جگہوں پر بھی پہنچیں اور چند خاص دنوں میں، ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ پس اس میں سے کھائو اور فاقہ کش فقیروں کو کھلائوثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ﴿29﴾
پھر وہ اپنے ملا کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور بیت قدیم کا طواف کریںذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ﴿30﴾
ان امور کا اہتمام رکھو ! اور جو حرمات الٰہی کی تعظیم کرے گا تو اس کے رب کے نزدیک یہ اس کے حق میں بہتر ہے اور تمہارے لئے چو پائے حلال ٹھہرائے گئے ہیں بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنا دیئے گئے ہیں تو بتوں کی گندگی سے اجتناب رکھو اور جھوٹ بات سے بچوحُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ﴿31﴾
اللہ ہی کی طرف یکسو رہو، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو اور جو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے اس کی مثال یوں ہے کہ وہ آسمان سے گرے اور چڑیاں اس کو اچک لیں یا ہوا اس کو کسی دور دراز جگہ میں لے جا پھینکےذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ﴿32﴾
ان امور کا اہتمام رکھو ! اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یاد رکھے کہ یہ چزدل کے تقویٰ سے تعلق رکھنے والی ہےلَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ع﴿33﴾
اور تمہارے لئے ان ہدی کے جانوروں میں ایک خاص وقت تک مختلف قسم کی منفعتیں ہیں پھر ان کو قربانی کے لئے قدیم گھر کی طرف لے جاتا ہےوَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ﴿34﴾
اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مشروع کی تاکہ اللہ نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں ان پر وہ اس کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو اپن آپ کو اسی کے حوالہ کرو اور خوش خبری دو ان کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیںالَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ﴿35﴾
جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے خدا کا ذکر آتا ہے ان کے دل دہل جاتے، ان کو جو مصیبت پہنچتی ہے اس پر صبر کرنے والے، نماز کا اہتمام رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیںوَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿36﴾
اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر الٰہی میں سے ٹھہرایا ہے تمہارے لئے ان میں بڑے خیر ہیں تو ان پر اللہ کا نام لو ان کو صف بستہ کر کے پس جب وہ اپنے پہلوئوں پر گر پڑیں تو ان میں سے کھائو اور کھلائو قانع محتاجوں اور سائلوں کو اسی طرح ہم نے ان کو تمہاری خدمت میں لگادیا ہے تاکہ تم خدا کے شکر گزار رہولَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ﴿37﴾
اور اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون بلکہ اس کو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہم نے ان کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تم اللہ کی ہدایت بخشی پر اس کی تعظیم بجا لائو اور خوب کاروں کو خوش خبری سنا دواِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ع﴿38﴾
بیشک اللہ مدافعت کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے۔ اللہ ہرگز بدعہدوں اور ناشکروں کو پسند نہیں کرتااُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ﴿39﴾
جن سے جنگ کی جائے ان کو جنگ کرنے کی اجازت دی گئی بوجہ اس کے کہ ان ضر ظلم ہوا اور بیشک اللہ ان کی مدد پر پوری طرح قادر ہےاِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ﴿40﴾
جو مظلوم اپنے گھروں سے بےقصور محض اس جرم پر نکالے گئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دور سے سے دفع نہ کرتا رہتا تو تمام خانقاہیں، گرجے، کنیسے اور مسجدیں، جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، ڈھائے جا چکے ہوتے اور بیشک اللہ ان لوگوں کی مدد فرمائے گا جو اس کی مدد کے لئے اٹھیں گے۔ بیشک اللہ قوی اور غالب ہےاَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ﴿41﴾
یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو سر زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکواۃ ادا کریں گے۔ معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے اور انجام کار کا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہےوَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ﴿42﴾
اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے قوم نوح، عاد، ثمود ،وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ﴿43﴾
قوم ابراہیم، قوط لوطوَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ﴿44﴾
اور مدین کے لوگ بھی تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ کی بھی تکذیب کی گئی تو میں نے ان کافروں کو کچھ ڈھیل دی، پھر ان کو دھر لیا تو دیکھو، کیسی ہوئی میری پھٹکار !فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ﴿45﴾
اور کتنی ہی بستایں ہیں، جن کو ان کے ظلم کی حالت میں ہم نے لہاک کردیا تو وہ اپنی چھتوں پر ڈھئی پڑی ہیں اور کتین ناکارہ کنوئیں اور کتنے پختہ محل ہیں جو ویران پڑے ہوئے ہیں !اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ﴿46﴾
کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سمجھتے یا انکے کان ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سنتے کیونکہ آنیں لک اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیںوَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ﴿47﴾
اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی ہرگز خلاف ورزی کرنے والا نہیں ہے اور تمہارے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی طرح کا ہوتا ہےوَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ع﴿48﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ان کے ظلم کے باوجود میں نے ڈھیل دی، پھر ان کو پکڑ لیا اور میری ہی طرف سب کی واپسی ہےقُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ﴿49﴾
کہہ دو ، اے لوگو ! میں تو تمہارے لئے بس ایک کھلا ہوا آگاہی پہنچانے والا ہوںفَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ﴿50﴾
تو جو ایمان لاین اور انہوں نے اچھے عمل کئے ان کے لئے مغفرت اور باعزت روزی ہےوَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ﴿51﴾
اور جن کی تگ و دو ہماری آیات کی مخالفت کی راہ میں ہے وہی دوزخ والے ہیںوَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ﴿52﴾
اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول اور بنی بھی بھیجا تو جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا تو شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے ڈالے۔ پس اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو، پھر اللہ اپنی باتوں کو قرار بخشتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہےلِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ﴿53﴾
یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ شطاپن کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو ان لوگوں کے لئے فتنہ بنائے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو سخت دل ہیں اور بیشک یہ ظالم اپنی مخاصمت میں بہت دور نکل گئے ہیںوَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿54﴾
اور ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کو علم عطا ہوا ہے اچھی طرح جان لیں کہ یہی تیرے رب کی جانب سے حق ہے پس ان کے ایمان اس پر پختہ ہوں اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں اور اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ضرور صراط مستقیم کی ہدایت فرمائے گاوَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ﴿55﴾
اور یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے برابر اس کی طرف سے شک ہی میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آدھمکے یا ایک منحوس دن کا عذاب آجائےاَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿56﴾
اس دن سارا اختیار اللہ ہی کو حاصل ہوگا۔ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ تو جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ہوں گے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گےوَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ع﴿57﴾
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی وہی ہیں جن کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہےوَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴿58﴾
اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا مر گئے تو اللہ انکو اپنے رزق حسن سے نوازے گا۔ اور بیشک اللہ ہی ہے جو بہترین رزق دینے والا ہےلَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ﴿59﴾
وہ ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جس سے وہ راضی و مطمئن ہوں گے اور بیشک اللہ علیم و حلیم ہےذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ﴿60﴾
یہ بات سن لی اور مزید یہ کہ جس نے ویسا ہی بدلہ دا جیسا کہ اس کے ساتھ کیا گیا، پھر اس پر تعدی کی گی تو اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رنجشنے والا ہےذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿61﴾
یہ اس وجہ سے ہوگا کہ اللہ ہی ہے جو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ سننے والا دیکھنے والا ہےذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ﴿62﴾
یہ اس وجہ سے بھی ہوگا کہ اللہ ہی معبود حقیقی ہے اور جن چیزوں کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں سب باطل ہیں اور بیشک اللہ ہی ہے جو برتر اور عظیم ہےاَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ﴿63﴾
دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برساتا ہے تو زمین اس سے سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہےلَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ع﴿64﴾
اسی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی ہے جو بےنیاز اور سزا وار حمد ہےاَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿65﴾
دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو اور کشتی کو بھی، وہ چلتی ہے سمندر میں اس کے حکم سے اور وہ آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ زمین پر گر پڑے، مگر یہ کہ اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ بڑا ہی مہربان اور بڑا ہی رحیم ہےوَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ﴿66﴾
اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر وہ تم کو زندہ کرے گا۔ بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہےلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ﴿67﴾
اور ہم نے ہر امت کے واسطے ایک طریقہ ٹھہرا دیا ہے تو وہ اسی پر چلیں گے۔ تو وہ اس معاملے میں تم سے نزاع کی راہ نہ پائیں اور اپنے رب کی طرف بلاتے رہو۔ بیشک تم ہی سیدھی راہ پر ہووَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿68﴾
اور اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہواَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ﴿69﴾
اللہ فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن اس چیز کا جس میں تم اختلاف کر رہے ہواَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ﴿70﴾
کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ اس کو جانتا ہے۔ یہ سب چیزیں ایک رجسٹر میں درج ہیں۔ بیشک یہ اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہےوَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ﴿71﴾
اور یہ اللہ کے ماسوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور نہ ان کے بارے میں ان کو کوئی علم ہی ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار بننے والا نہیں ہےوَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ع﴿72﴾
اور جب ہماری واضح آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم ان کافروں کے چہروں پر ناگواری پاتے ہ۔ گویا یہ ان لوگوں پر حملہ کر بیٹھیں گے جو ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ ان سے کہو کہ کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر ناگوار چیز کی خبر نہ سنائوں ؟ وہ ہے دوزخ ! اس کا اللہ نے ان لوگوں کے لئے وعدہ کر رکھا ہے جنہوں نے کفر کیا ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے !یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ﴿73﴾
اے لوگو ! ایک تمثیل بیان کی جاتی ہے تو اس کو توجہ سے سنو ! جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کرسکنے پر قادر نہیں ہیں اگرچہ وہ اس کے لئے سب مل کر کوشش کریں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی ناتوان !مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ﴿74﴾
انہوں نے اللہ کی، جیسا کہ اس کا حق ہے، قدر نہیں پہچانی ! بیشک اللہ قوی اور غالب ہےاَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ﴿75﴾
اللہ فرشتوں میں سے اپنے پیغامبر چنتا ہے جس طرح انسانوں میں سے چنتا ہے۔ بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہےیَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ﴿76﴾
وہ جو کچھ ان کے آگی اور ان کے پیچھے ہے سب کو جانتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات لوٹتے ہیںیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩۩﴿77﴾
اے ایمان والو ! رکوع اور سجدہ اور اپنے رب کی بندگی کرتے رہو اور بھلائی کے کام کرو تاکہ فلاح پائووَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ع﴿78﴾
اور اللہ کی راہ میں جدوجہ دکرو جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اسی نے تم کو برگزیدہ کیا اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تمہارے باپ … ابراہیم … کی ملت کو تمہارے لئے پسند فرمایا۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا اس سے پہلے اور اس قرآن میں بھی تمہارا نام مسلم ہے۔ تاکہ رسول تم پر اللہ کے دین کی گواہی دے اور تم دوسرے لوگوں پر اس کی گواہی دو اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط پکڑو۔ وہی تمہارا مرجع ہے اور کیا ہی خوب مرجع اور کیا ہی خوب مددگار ہے ! !