18. Al-Kahfالكهف
The Cave · Meccan · 110 ayahs · 12 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ﴿1﴾
ساری خوبی اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندۂ (خاص) پر کتاب نازل کی اور اس (ذرا) کجی نہیں رکھی۔قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ﴿2﴾
قائم ومستقیم تاکہ عذاب سخت سے ڈرائے (جو) اللہ کے پاس سے ہوگا اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے رہتے ہیں خوش خبری سنا دے کہ ان کے لئے (بڑا) اچھا اجر ہے۔مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ﴿3﴾
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ﴿4﴾
اور ان لوگوں کو ڈرائیے جو کہتے ہیں کہ خدا نے ایک بیٹابنایا ہے۔مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا﴿5﴾
اس (دعوی) پر کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھی بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے یہ لوگ بالکل ہی جھوٹ بکتے ہیں۔فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا﴿6﴾
سو شاید آپ ان کے (اعراض کئے) پیچھے غم سے اپنی جان دے دیں گے اگر یہ لوگ اس مضمون (قرآنی) پر ایمان نہ لائے۔اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴿7﴾
ہم نے (اس) زمین پر جو کچھ ہے اسے اس کے لئے باعث رونق بنایا تاکہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل کے لحاظ سے۔وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ﴿8﴾
اور ہم اس پر کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان کردیں گے۔اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا﴿9﴾
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور کتبہ والے ہماری نشانیوں میں کچھ تعجب کی چیز تھے ؟۔اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا﴿10﴾
(وہ وقت قابل ذکر ہے) جب ان نوجوانوں نے غار میں جا کر پناہ لی۔ پھر بولے اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنے پاس سے رحمت (وفضل) عطا کر اور ہمارے لئے (اس) کام میں درستی کا سامان کردے۔فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ﴿11﴾
سو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر سالہا سال تک (نیند کا) پردہ ڈالے رکھا۔ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ع﴿12﴾
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ ہم معلوم کریں کہ (ان) دونوں گروہوں میں کون گروہ (اس حالت میں) رہنے کی مدت سے زیادہ واقف ہے۔نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ﴿13﴾
ہم ہی ان کا قصہ آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ یہ لوگ چندنوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے انہیں ہدایت میں ترقی دی تھی۔وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا﴿14﴾
اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب وہ لوگ (پختہ اور) مستعد ہوگئے۔ تو بولے ہمارا پروردگار وہی تو ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہم تو اس کے علاوہ کسی معبود کو نہ پکاریں گے ورنہ پھر تو ہم بڑی ہی بیجا بات کے مرتکب ہوں گے۔هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ﴿15﴾
ان لوگوں (یعنی) ہماری قوم والوں نے اللہ کے علاوہ اور معبود قرار دے رکھے ہیں یہ لوگ ان معبودوں کے وجود پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لائے ؟ سو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگائے ؟۔وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا﴿16﴾
پھر جب تم انہیں بھی چھوڑ چکے اور ان معبودان غیر اللہ کو بھی تو اب (فلاں) غار میں چل کر پناہ لوتم پر تمہارا پروردگار اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے کام میں کامیابی کا سامان درست کردے گا۔وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ع﴿17﴾
اور جب دھوپ نکلتی ہے تو تو اسے دیکھے گا کہ وہ ان کے غار سے داہنی جانب کو بچی رہتی ہے اور جب وہ چھپتی ہے تو وہ ان سے کترا جاتی ہے بائیں جانب اور وہ اس (غار) کے ایک کشادہ موقع میں تھے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت پاتا ہے اور جسے وہ بےراہ کردیتا ہے تو آپ اس کے لئے نہ پائیں گے کوئی مددگار راہ بتانے والا۔وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا﴿18﴾
اور (تو ان کو دیکھتا تو) تو ان کو جاگتا ہوا خیال کرتا درآنحالیکہ وہ سوئے ہوئے تھے۔ ہم ہی انہیں کروٹ دلاتے رہتے ہیں داہنی طرف بھی اور بائیں طرف بھی۔ اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے (بیٹھا) تھا۔ اگر تو انہیں جھانک کر دیکھتا تو تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا اور تیرے اندر ان کا رعب سما جاتا۔وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا﴿19﴾
اور اسی طرح ہم نے انہیں جگا دیا جس سے کہ وہ آپس میں پوچھ پاچھ کریں۔ (چنانچہ) ایک کہنے والے نے ان میں سے کہا کہ تم کتنی دیر ٹھہرے ہوگئے ؟ (بعض ان میں سے) بولے کہ ہم دن بھر ٹھہرے ہوں گے یا دن بھر سے کم (بعض اور) بولے کہ جتنی دیر تم ٹھہرے یہ تو تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے۔ تو اب اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کی طرف بھیجو۔ سو وہ تحقیق کرے کہ کون ساکھانا پاکیزہ ہے۔ پھر اس میں سے کچھ کھانا تمہارے پاس لے آئے اور خوش تدبیری (سے کام) کرے اور کسی کو تمہارے خبر نہ ہونے دے۔اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا﴿20﴾
کہ اگر وہ تمہاری خبر پالیں گے تو تمہیں سنگسار کرڈالیں گے یا تمہیں اپنے طریقہ میں پھر کرلیں گے اور اگر ایسا ہوا تو پھر کبھی تمہیں فلاح نہ ہوگا۔وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا﴿21﴾
اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان مطلع کردیا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں۔ (اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب (اس زمانہ کے لوگ) ان کے معاملہ میں باہم جھگڑ رہے تھے سو ان لوگوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی عمارت بنوا دو۔ ان کا پروردگار ہی (ان کے احوال کو) خوب جانتا تھا جو لوگ اپنے کام پر غالب (و قادر) تھے انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک معبد بنادیں گے۔سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ع﴿22﴾
عنقریب بعض لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا اٹکل کے تکے۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا آپ کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار ہی ان کا شمار خوب جانتا ہے۔ ان (کے شمار) کو کوئی نہیں جانتا بجز قلیل کے پس آپ ان کے باب میں (زیادہ) بحث نہ کیجیے بجز سرسری بحث کے اور آپ ان کے باب میں ان لوگوں سے کسی سے بھی نہ پوچھئے۔وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ﴿23﴾
اور آپ کسی چیز کی نسبت یہ نہ کہا کیجیے کہ میں اسے کل کردوں گااِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا﴿24﴾
سوا اس (صورت) کے کہ اللہ بھی چاہے۔ اور اپنے پروردگار کو یاد کرلیا کیجیے جب آپ بھول جائیے اور آپ کہہ دیجیے کہ عجب نہیں جو میرا پروردگار مجھے باعتبار راہنمائی کے اس سے بھی قریب تر (بات) بتائے۔وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا﴿25﴾
اور وہ (لوگ) اپنے غار میں تین سو برس تک رہے اور نو برس اور رہے۔قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا﴿26﴾
آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی اس کو خوب جانتا ہے کہ وہ کتنا رہے تھے۔ اسی کے لئے (علم) غیب آسمانوں اور زمین کا ہے۔ وہ کیا کچھ دیکھنے والا ہے اور کیا کچھ سننے والا ! ان کا اللہ کے سوا کوئی بھی کار ساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا﴿27﴾
اور آپ پڑھ دیا کیجیے جو کچھ وحی آپ پر آپ کے پروردگار کی کتاب کے ذریعہ سے آئی ہے۔ کوئی بدل اس کی باتوں کا نہیں ہوسکتا اور نہ آپ اس کے سوا کوئی پناہ ہی پائیں گے۔وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا﴿28﴾
اور آپ اپنے کو مقید رکھا کیجیے ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں صبح وشام محض اس کی رضاجوئی کیلئے۔ اور اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹایئے دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے اور اس شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے۔وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا﴿29﴾
اور آپ کہہ دیجیے کہ حق تمہارے پروردگار کی طرف سے آچکا ہے سو جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کیلئے آگ تیار کر رکھی ہے اس کی قناتیں ان کے گھیرے ہوں گی اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا۔ چہروں کو بھون ڈالے گا کیسا برا ہوگا وہ پانی اور کیسی بری ہوگی وہ جگہ۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ﴿30﴾
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے سو ہم اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو عمل اچھے طور پر کرے۔اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ع﴿31﴾
یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہ رہی ہوں گی ان کو اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ سبز رنگ کے کپڑے باریک اور دبیز پہنیں گے اس میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے کیسا اچھا صلہ ہے اور کیسی بہتر جگہ ہے۔وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ﴿32﴾
اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے۔ جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگور کے دے رکھے تھے اور انہیں کھجور (کے درختوں) سے گھیررکھا تھا اور ہم نے ان دونوں کے درمیان کھیتی بھی لگارکھی تھی۔كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ﴿33﴾
دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کی پیداوار میں ذرا کمی نہ رہتی اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ایک ندی جاری کر رکھی تھیوَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا﴿34﴾
اور اس (شخص) کے پاس (اور بھی) تمول تھا۔ سو اس نے اپنے (اس) ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور مجمع میں بھی غالب۔وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ﴿35﴾
اور وہ اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ اور بولا کہ میرا تو یہ خیال نہیں کہ یہ (باغ) کبھی بھی برباد ہو۔وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا﴿36﴾
اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت (کبھی) آئے گی اور اگر میں اپنے پروردگار کے پاس پہنچایا گیا (بھی) تو یقیناً اس (باغ) سے (بھی) بہتر جگہ پاؤں گا۔قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ﴿37﴾
(اس پر) اس کا وہ ساتھی بولا اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ارے ! کیا تو کفر اس (ذات) کے ساتھ کرتا ہے۔ جس نے تجھے (پہلے) مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے (تجھ کو بنایا) پھر تجھے صحیح وسالم آدمی بنایا۔لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا﴿38﴾
لیکن (میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ) وہی اللہ میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتاوَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ﴿39﴾
اور تو جو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ اللہ جو چاہتا ہے (وہی ہوتا ہے) اور (کسی میں) کوئی قوت نہیں بجز اللہ (کی مدد) کے۔ (اور) اگر تو مجھے مال واولاد میں کمتر دیکھتا ہےفَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ﴿40﴾
تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر دے دے۔ اور اس پر آسمان سے کوئی تقدیری مصیبت اتارے جس سے (باغ) ایک چٹیل میدان ہو کر رہ جائے۔اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا﴿41﴾
یا اس سے اس کا پانی بالکل اندر اتر جائے پھر تو اس کی کوشش بھی نہ کرسکے۔وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا﴿42﴾
اور اس (بددین) کی دولت کو (آفت نے) گھیر لیا پس وہ اپنے ہاتھ ملتارہ گیا اس پر کہ جو کچھ اس نے اس (باغ) پر خرچ کیا تھا اور وہ (باغ) اپنی ٹیٹوں پر گرا ہوا پڑا تھا اور وہ (بددین) کہنے لگا کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیراتا۔وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ﴿43﴾
اور کوئی جتھا اس کے ساتھ نہ ہوا کہ اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ (ہم سے) بدلہ لے سکا۔هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ع﴿44﴾
ایسے موقع پر کارسازی اللہ برحق ہی کا کام ہے۔ اسی کا ثواب سب سے بہتر اور (اسی کا) نتیجہ سب سے بہتر۔وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا﴿45﴾
اور آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان کیجیے کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا ہو پھر اس کے ذریعہ سے زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی ہے۔ پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے کہ ہوا اسے اڑائے اڑائے پھرے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا﴿46﴾
مال اور اولاد دنیوی زندگی کی ایک رونق ہیں اور باقی رہ جانے والے اعمال صالحہ آپ کے پروردگار کے ہاں ثواب کے اعتبار سے بھی کہیں بہتر ہے اور امید کے اعتبار سے بھی کہیں بہتر۔وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ﴿47﴾
اور وہ دن (یاد رکھنے کے قابل ہے) جب ہم پہاڑوں کو ہٹا دیں گے اور تو زمین کو دیکھے گا کہ کھلا میدان ہے۔ اور ہم ان (سب) کو جمع کردیں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا﴿48﴾
اور وہ تیرے پروردگار کے رو بروبرابر کھڑے کرکے پیش کئے جائیں گے۔ آخر تم ہمارے ہی پاس آئے جیسا کہ ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ لیکن تم تو یہ خیال کرتے رہے کہ ہم تمہارے لئے وقت موعود نہ لائیں گے۔وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ع﴿49﴾
اور نامہ عمل رکھ دیا جائے گا سو تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہے اس سے ڈر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہائے ہماری کم بختی اس نامہ عمل کی تو عجیب حالت ہے کہ اس نے (کوئی گناہ) نہ چھوٹا چھوڑا نہ بڑا بغیر اس کو قلمبند کئے ہوئے۔ اور انہوں نے جو کچھ بھی کیا تھا اسے وہ (لکھا ہوا) موجود پائیں گے اور تیرا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا﴿50﴾
اور (وہ دن یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے روبرو جھکو سو وہ جھکے البتہ ابلیس (نہ جھکا)۔ وہ جنات میں سے تھا سو اپنے پروردگار کے حکم سے نافرمانی کربیٹھا۔ سو کیا تم اسے اور اس کی نسل کو میرے مقابلہ میں دوست بناتے ہودرآنحالی کہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کے لئے بہت برا بدل ہے۔مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا﴿51﴾
میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت بلایا اور نہ انہیں کی پیدائش کے وقت اور میں گمراہ کرنے والوں کو (اپنا) دست وبازو باننے والا ہی نہ تھا۔وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا﴿52﴾
اور (یادرکھو) وہ دن جب (اللہ) فرمائے گا (اب) پکارو میرے شریکوں کو جنہیں تم مانا کرتے تھے۔ بس وہ انہیں پکاریں گے لیکن وہ انہیں جواب ہی نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ کردیں گے۔وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ع﴿53﴾
اور مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے اور یقین کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے کوئی راہ بچنے کی نہ پائیں گے۔وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا﴿54﴾
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کے (عمدہ) مضمون طرح طرح سے بیان کئے ہیں اور انسان جھگڑنے میں سب سے بڑھ کر ہے۔وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا﴿55﴾
اور لوگوں کو بعد اس کے کہ ان کو ہدایت پہنچ چکی تھی ایمان لانے سے اور اپنے پروردگار سے مغفرت مانگنے سے کوئی امر مانع نہیں رہا تھا بجز اسکے کہ (ان کو اس کا انتظار ہو کہ) انہیں بھی اگلوں کا سامعاملہ پیش آئے یا یہ کہ عذاب در عذاب ان پر نازل ہو۔وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا﴿56﴾
اور ہم رسولوں کو تو صرف خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر) بھیجا کرتے ہیں۔ اور کافر لوگ ناحق جھگڑے نکالتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے حق کو بچلا دیں اور انہوں نے میری نشانیوں کو اور اس کو جس سے انہیں ڈرایا گیا ہے دل لگی بنا رکھا ہے۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا﴿57﴾
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے پروردگار کی نشانیوں کی ذریعہ سے نصیحت کی جائے سو وہ اس سے روگردانی کرے اور جو کچھ اپنے ہاتھوں سمیٹ رہا ہے اسے بھلادے۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اس کے سمجھنے سے اور اس کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے۔ اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو یہ ایسی حالت میں ہرگز راہ پر نہ آئیں۔وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا﴿58﴾
اور آپ کا پروردگار بڑا مغفرت کرنے والا رحمت والا ہے۔ اور اگر ان پر داروگیر ان کے اعمال کی بنا پر کرنے لگتا تو ان پر عذاب فورا ہی واقع کردیتا لیکن اس نے انکے واسطے ایک متعین وقت ٹھہرا رکھا ہے۔ اس کے اوپر یہ کوئی پناہ گاہ نہیں پاسکتے۔وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ع﴿59﴾
اور یہ بستیاں وہ ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کرڈالا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت معین کیا تھا۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا﴿60﴾
اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے فرمایا کہ میں برابر چلتا رہوں گا تاآنکہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں۔ یا (یوں ہی) سالہا سال تک چلا کروں۔فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا﴿61﴾
پھر جب دونوں دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی کو دونوں بھول گئے۔ سو اس نے سرنگ بناتی ہوئی دریا میں اپنی راہ پکڑی۔فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا﴿62﴾
پھر جب دونوں آگے بڑھ گئے تو اپنے خادم سے بولے کہ ہمارا ناشتہ تو لانا ہمیں اس (آج کے) سفر سے بڑی تکلیف پہنچی ہے۔قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا﴿63﴾
وہ بولا کہ لیجیے ہم لوگ جب اس چٹان کے قریب ٹھہرے تھے تو میں اس مچھلی کو بھول ہی گیا اور مجھے بس شیطان ہی نے بھلادیا کہ میں اس کا ذکر کرتا اور اس نے تو دریا میں عجب طرح اپنی راہ لی۔قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ﴿64﴾
موسیٰ ؑ نے) کہا وہی تو وہ (مقام) تھا جس کی ہم کو تلاش تھی۔ پھر دونوں اپنے قدموں کے نشان پر الٹے چلےفَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا﴿65﴾
تو انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ کو پایا جس کو ہم نے اپنا ایک خاص فضل مرحمت کیا تھا اور ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم سکھلایا تھا۔قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴿66﴾
موسیٰ ؑ نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں کہ جو علم (مفید) آپ کو سکھلایا گیا ہے اس میں سے آپ مجھے بھی سکھا دیں۔قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا﴿67﴾
انہوں نے کہا آپ سے میرے ساتھ نباہ نہ ہوسکے گا۔وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا﴿68﴾
اور آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں ایسے امر پر جو آپ کے احاطہ واقفیت میں نہیں ہے۔قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا﴿69﴾
(موسی ؑ نے) کہا آپ انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے حکم کے خلاف نہ کروں گا۔قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ع﴿70﴾
(خضر علیہ السلام) بولے کہ اچھا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کی نسبت پوچھ گچھ نہ کیجیے گا جب تک کہ میں خود ہی اس کے ذکر کی ابتدا نہ کردوں۔فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا﴿71﴾
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو۔ (خضر ؑ نے) اس میں سوراخ کردیا (موسی ؑ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے سوراخ کردیا کہ نتیجہ یہ ہو کہ آپ اس پر بیٹھنے والوں کو غرق کردیں یقیناً آپ نے بہت بری بات کرڈالی۔قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا﴿72﴾
(خضر ؑ نے) کہا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ نباہ نہ کرسکیں گے۔قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا﴿73﴾
(موسی ؑ نے) کہا میری بھول چوک پر گرفت نہ کیجیے اور میرے (اس) معاملہ میں مجھ پر تنگی نہ ڈالیے۔فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا﴿74﴾
(اس کے بعد) پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر ؑ نے) اسے مار ڈالا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا آپ نے ایک بےگناہ جان کو مارا ڈالا بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے یقیناً آپ نے بڑی بےجا حرکت کی۔قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا﴿75﴾
(خضر ؑ نے) کہا میں نے آپ سے کہہ دیا تھا ناکہ آپ سے میرے ساتھ نباہ نہ ہوسکے گا۔قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا﴿76﴾
(موسی ؑ نے) کہا (اچھا اب) اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو آپ مجھ کو اپنے ساتھ نہ رکھئے بیشک آپ میرے بارے میں حد عذر کو پہنچ چکے۔فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا﴿77﴾
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں پر گزر ہوا تو وہاں والوں سے کھانے کو مانگا۔ سو انہوں نے ان کی مہمانی سے انکار کردیا۔ پھر دونوں کو اس (بستی) میں ایک دیوار ملی جو گرا چاہتی تھی سو (خضرعلیہ السلام) نے اسے سیدھا کردیا (موسی ؑ نے) کہا اگر آپ چاہتے تو اس (کام) پر اجرت ہی لے لیتے۔قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا﴿78﴾
) خضرعلیہ السلام) بولے (بس) یہ (وقت) میری آپ کی علیحدگی کا ہے۔ اب میں ان چیزوں کی حقیقت پر آپ کو مطلع کئے دیتا ہوں جن کے بارے میں آپ ضبط نہ کرسکے۔اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا﴿79﴾
وہ جو کشتی تھی سو وہ (چند) غریبوں کی تھی کہ وہ دریا میں کام کرتے تھے۔ سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب پیدا کردوں اور ان کے آگے کی طرف ایک بادشاہ تھا۔ جو ہر (بےعیب) کشتی کو زبردستی پکڑلیتا تھا۔وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ﴿80﴾
اور وہ جو لڑکا تھا سو اس کے ماں باپ ایمان والے تھے۔ سو ہم کو معلوم ہوا کہ وہ ان دونوں پر بھی سرکشی اور کفر کا اثر ڈال دے گا۔فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا﴿81﴾
سو ہم نے یہ چاہا کہ اس کے عوض میں ان کا پروردگار انہیں ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور محبت کرنے میں اس سے بڑھ کر ہو۔وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ع﴿82﴾
اور رہی وہ دیوار سو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس (دیوار) کے نیچے ان کا دفینہ تھا۔ اور ان کا باپ ایک مرد صالح تھا۔ سو آپ کے پروردگار نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی پختگی کو پہنچ جائیں اور اپنا دفینہ نکال لیں۔ (یہ سب) آپ کے پروردگار کی مہربانی سے ہوا اور یہ (کوئی کام) میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ﴿83﴾
اور آپ سے (لوگ) ذوالقرنین کے باب میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان کا ذکر میں ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں۔اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ﴿84﴾
ہم نے انہیں زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو ہر طرح کا سامان دیا تھا۔فَاَتْبَعَ سَبَبًا﴿85﴾
پھر وہ ایک راہ پر ہولئے۔حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا﴿86﴾
یہاں تک کہ جب وہ غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو اسے ایک سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہوا محسوس کیا۔ اور اس کے قریب ایک قوم کو (بھی) پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین (تمہیں اختیار ہے) خواہ انہیں سزا دو خواہ ان کے ساتھ نرمی اختیار کرو۔قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا﴿87﴾
(ذوالقرنین نے) کہا کہ اچھا۔ مگر جو کافر رہے گا سو ہم اسے عنقریب سزا دیں گے پھر وہ اپنے پروردگار کے پاس پہنچایاجائے گا تو وہ اسے بڑا ہی سخت عذاب دے گا۔وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ﴿88﴾
اور جو ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا سو اس کیلئے اچھا معاوضہ ہے اور ہم بھی اپنے برتاؤ میں اس کے ساتھ نرم بات کہیں گے۔ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا﴿89﴾
پھر وہ ایک (اور) راہ پر ہولئے۔حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ﴿90﴾
یہاں تک کہ جب طلوع آفتاب کے موقع پر پہنچے۔ تو اسے ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لئے ہم نے اس کے ادھر کوئی آڑ نہیں رکھی تھی۔كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا﴿91﴾
یہ اسی طرح ہے اور جو کچھ ان کے پاس تھا اس کی ہم کو پوری خبر ہے۔ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا﴿92﴾
پھر وہ ایک (اور) راہ پر ہولئے۔حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا﴿93﴾
یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو ان کے ادھر ایک قوم کو پایا جو گویا کوئی بات ہی نہیں سمجھتے تھے۔قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا﴿94﴾
ان لوگوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین (قوم) یاجوج وماجوج (اس) سرزمین میں بڑا فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم آپ کے لئے کچھ سرمایہ جمع کردیں جس سے آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی روک بنادیں۔قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ﴿95﴾
(ذوالقرنین نے) کہا کہ میرے پروردگار نے مجھے جو کچھ دے رکھا ہے وہ بہت کچھ ہے سو تم میری مدد محنت سے کرو۔ تو میں تمہارے اور ان کے درمیان خوب مضبوط دیوار بنادوں۔اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ﴿96﴾
تم لوگ میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ۔ یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان کو برابر کردیا تو کہا کہ دھونکو یہاں تک کہ جب اسے آگ بنادیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ تو میں اس پر ڈال دوں۔فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا﴿97﴾
سو وہ (قوم یاجوج وماجو ج) نہ اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب ہی لگا سکتے تھے۔قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ﴿98﴾
(تو ذوالقرنین نے) کہا کہ یہ (بھی) میرے پروردگار کی ایک رحمت ہی ہے۔ پھر جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو وہ اسے ڈھا کر برابر کردے گا اور میرے پروردگار کا ہر وعدہ برحق ہے۔وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ﴿99﴾
اور ہم اس روز انہیں ایک دوسرے سے گڈمڈ کردیں گے۔ اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب کو جمع کرلیں گے۔وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ﴿100﴾
اور اس روز ہم دوزخ کو کافروں کے سامنے پیش کردیں گےاِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ع﴿101﴾
جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا اور وہ سن بھی نہیں سکتے تھے۔اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا﴿102﴾
کیا پھر بھی کافروں کا خیال ہے کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو (اپنا) کار ساز قرار دے لیں ؟۔ بیشک ہم نے دوزخ کو کافروں کی مہمانی کے لئے تیار کر رکھا ہے۔قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ﴿103﴾
آپ کہہ دیجیے کہ کیا ہم تمہیں ان لوگوں (کا پتہ) بتائیں جو اعمال کے لحاظ سے بالکل ہی گھاٹے میں ہیں ؟اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا﴿104﴾
یہ لوگ ہیں جن کی (ساری) کوشش دنیا ہی کی زندگی میں (صرف و) غارت ہو کر رہی اور وہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ کوئی بڑے اچھے کام کررہے ہیں۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا﴿105﴾
یہ تو وہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی نشانیوں اور اس کی ملاقات کی طرف سے کفر کئے ہوئے ہیں سو ان کے (سارے) کام غارت گئے سو ہم قیامت کے دن ان (کے اعمال) کا ذرا بھی وزن نہ قائم رکھیں گے۔ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا﴿106﴾
ان کی سزا وہی ہے یعنی دوزخ اس سبب سے کہ انہوں کفر کیا تھا اور میری نشانیوں اور میرے پیغمبروں کی ہنسی اڑائی تھی۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ﴿107﴾
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گےخٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا﴿108﴾
ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے (اور) نہ وہ ان سے کہیں اور نکلنا چاہیں گے۔قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا﴿109﴾
آپ کہہ دیجیے کہ اگر سمندر (سارے کے سارے) روشنائی ہوجائیں میرے پروردگار کی باتیں لکھنے کے لئے تو سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے پروردگار کی باتیں ختم نہ ہوسکیں گی اور اگرچہ ہم ایسا ہی جیسا (اور سمندر) اس کی مدد کے لئے لے آئیں۔قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ع﴿110﴾
آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس تمہارا ہی جیسا بشر ہوں میرے پاس تو بس یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ سو جو کوئی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک کام کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔