26. Ash-Shu'araaالشعراء
The Poets · Meccan · 227 ayahs · 11 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طٰسٓمّٓ﴿1﴾
طسمتِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ﴿2﴾
یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴿3﴾
(اے پیغمبر) شاید تم اس غم میں اپنی جان ہلاک کیے جار ہے ہو کہ یہ لوگ ایمان (کیوں) نہیں لاتے۔اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ﴿4﴾
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں۔وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ﴿5﴾
(ان کا حال تو یہ ہے کہ) ان کے پاس خدائے رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے، یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿6﴾
اس طرح انہوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ جن باتوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں، اب عنقریب ان کے ٹھیک ٹھیک حقائق ان کے سامنے آجائیں گے۔اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ﴿7﴾
اور کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر نفیس قسم کی کتنی چیزیں اگائی ہیں ؟اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿8﴾
یقینا ان سب چیزوں میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتےوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿9﴾
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿10﴾
اور اس وقت کا حال سنو جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو آواز دے کر کہا تھا کہ : اس ظالم قوم کے پاس جاؤقَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ﴿11﴾
یعنی فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا ان کے دل میں خدا کا خوف نہیں ہے ؟قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ﴿12﴾
موسیٰ نے کہا کہ : میرے پروردگار ! مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھوٹا بنائیں گے۔وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ﴿13﴾
اور میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے، اور میری زبان نہیں چلتی۔ اس لیے آپ ہارون کو بھی (نبوت کا) پیغام بھیج دیجیے۔وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ﴿14﴾
اور میرے خلاف ان لوگوں نے ایک جرم بھی عائد کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل نہ کر ڈالیںقَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ﴿15﴾
اللہ نے فرمایا کہ : ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ۔ یقین رکھو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ساری باتیں سنتے رہیں گے۔فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿16﴾
اب تم فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ : ہم دونوں رب العالمین کے پیغمبر ہیں۔اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿17﴾
(اور یہ پیغام لائے ہیں) کہ تم بنو اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو۔قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ﴿18﴾
فرعون نے (جواب میں موسیٰ ؑ سے) کہا : کیا ہم نے تمہیں اس وقت اپنے پاس رکھ کر نہیں پالا تھا جب تم بالکل بچے تھے ؟ اور تم نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہمارے یہاں رہ کر گزارے۔وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿19﴾
اور جو حرکت تم نے کی تھی وہ بھی کر گزرے اور تم بڑے ناشکرے آدمی ہو۔قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ﴿20﴾
موسیٰ نے کہا : اس وقت وہ کام میں ایسی حالت میں کر گزرا تھا کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿21﴾
چنانچہ جب مجھے تم لوگوں سے خوف ہوا تو میں تمہارے پاس سے فرار ہوگیا، پھر اللہ نے مجھے حکمت عطا فرمائی، اور پیغمبروں میں شامل فرما دیا۔وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿22﴾
اور وہ احسان جو تم مجھ پر رکھ رہے ہو (اس کی حقیقت) یہ ہے کہ تم نے سارے بنو اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿23﴾
فرعون نے کہا : اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے ؟قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ﴿24﴾
موسیٰ نے کہا : وہ سارے آسمانوں اور زمین کا، اور ان ساری چیزوں کا پروردگار ہے جو ان کے درمیان پائی جاتی ہیں، اگر تم کو واقعی یقین کرنا ہو۔قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ﴿25﴾
فرعون نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے کہا : سن رہے ہو کہ نہیں ؟قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ﴿26﴾
موسیٰ نے کہا : وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پچھلے باپ دادوں کا بھی۔قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ﴿27﴾
فرعون بولا : تمہارا یہ پیغمبر جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے یہ تو بالکل ہی دیوانہ ہے۔قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿28﴾
موسیٰ نے کہا : وہ مشرق و مغرب کا بھی پروردگار ہے، اور ان کے درمیان ساری چیزوں کا بھی، اگر تم عقل سے کام لو۔قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ﴿29﴾
کہنے لگا : یاد رکھو، اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں ضرور ان لوگوں میں شامل کردوں گا جو جیل خانے میں پڑے ہوئے ہیں۔قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ﴿30﴾
موسیٰ بولے : اور اگر میں تمہیں کوئی ایسی چیز لا دکھاؤں جو حق کو واضح کر دے، پھر ؟قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿31﴾
فرعون نے کہا : اچھا، اگر واقعی سچے ہو تو لے آؤ وہ چیز۔فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ﴿32﴾
چنانچہ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھلا ہوا اژدھا بن گیا۔وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ع﴿33﴾
اور انہوں نے اپنا ہاتھ (بغل میں سے) کھینچ کر نکالا تو پل بھر میں وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے سفید ہوگیا۔قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ﴿34﴾
فرعون نے اپنے ارد گرد کے سرداروں سے کہا : یقینا یہ کوئی ماہر جادوگر ہے۔یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ﴿35﴾
یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال باہر کرے۔ اب بتاؤ کیا رائے ہے ؟قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ﴿36﴾
انہوں نے کہا : ان کو اور ان کے بھائی کو کچھ مہلت دیجیے، اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجیے۔یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ﴿37﴾
جو ماہر جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں (اور ان جادوگروں کا مقابلہ کریں)فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ﴿38﴾
چنانچہ ایک دن مقررہ وقت پر سارے جادوگر جمع کرلیے گئے۔وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ﴿39﴾
اور لوگوں سے کہا گیا کہ : کیا تم لوگ جمع ہورہے ہو ؟لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ﴿40﴾
شاید اگر یہ جادو گر ہی غالب آگئے تو ہم انہی کے راستے پر چلیں۔فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ﴿41﴾
پھر جب جادوگر آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا : یہ بات تو یقینی ہے نا کہ اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کوئی انعام ملے گا ؟قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ﴿42﴾
فرعون نے کہا : ہاں ہاں، اور تمہیں اس صورت میں مقرب لوگوں میں بھی ضرور شامل کرلیا جائے گا۔قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ﴿43﴾
موسیٰ نے ان جادوگروں سے کہا : جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے، پھینکوفَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ﴿44﴾
اس پر ان جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اور کہا کہ : فرعون کی عزت کی قسم ! ہم ہی غالب آئیں گے۔فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ﴿45﴾
اب موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو اچانک اس نے (اژدھا بن کر) اس تماشے کو نگلنا شروع کردیا جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ﴿46﴾
بس پھر وہ جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے۔قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿47﴾
کہنے لگے کہ : ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ﴿48﴾
جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ﴿49﴾
فرعون بولا : تم میرے اجازت دینے سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ ثابت ہوا کہ یہ تم سب کا سرغنہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ابھی تمہیں پتہ چل جائے گا۔ میں تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا، اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ﴿50﴾
جادوگروں نے کہا : ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا، ہمیں یقین ہے کہ ہم لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس چلے جائیں گے۔اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ع﴿51﴾
ہم تو شوق سے امیدلگائے ہوئے ہیں کہ ہمارا پروردگار اس وجہ سے ہماری خطائیں بخش دے گا کہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ﴿52﴾
اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ : میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ، تمہارا پیچھا یقینا کیا جائے گا۔فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ﴿53﴾
اس پر فرعون نے شہروں میں ہر کارے بھیج دیے۔اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ﴿54﴾
(اور یہ کہلا بھیجا کہ) یہ (بنی اسرائیل) ایک چھوٹی سی ٹولی کے تھوڑے سے لوگ ہیں۔وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ﴿55﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے دل جلائے ہوئے ہیں۔وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ﴿56﴾
اور ہم سب احتیاطی تدبیریں کیے ہوئے ہیں۔ (لہذا سب ملکر ان کا تعاقب کرو۔فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿57﴾
اس طرح ہم انہیں باہر نکال لائے باغوں اور چشموں سے بھی۔وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ﴿58﴾
اور خزانوں اور باعزت مقامات سے بھی۔كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿59﴾
ان کا معاملہ تو اسی طرح ہوا، اور (دوسری طرف) ان چیزوں کا وارث ہم نے بنی اسرائیل کو بنادیافَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ﴿60﴾
غرض ہوا یہ کہ یہ سب لوگ سورج نکلتے ہی ان کا پیچھا کرنے نکل کھڑے ہوئے۔فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ﴿61﴾
پھر جب دونوں جتھے ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ : اب تو پکی بات ہے کہ ہم پکڑ ہی لیے گئے۔قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ﴿62﴾
موسیٰ نے کہا : ہرگز نہیں، میرے ساتھ یقینی طور سے میرا پروردگار ہے، وہ مجھے راستہ بتائے گا۔فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ﴿63﴾
چنانچہ ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ بس پھر سمندر پھٹ گیا، اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا۔وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ﴿64﴾
اور دوسرے فریق کو بھی ہم اس جگہ کے نزدیک لے آئے۔وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ﴿65﴾
اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے بچالیا۔ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ﴿66﴾
پھر دوسروں کو غرق کرڈالا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿67﴾
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿68﴾
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ﴿69﴾
اور (اے پیغمبر) ان کو ابراہیم کا واقعہ سناؤاِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ﴿70﴾
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ﴿71﴾
انہوں نے کہا کہ : ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں، اور انہی کے آگے دھرنا دیے رہتے ہیں۔قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ﴿72﴾
ابراہیم نے کہا : جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری بات سنتے ہیں ؟اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ﴿73﴾
یا تمہیں کوئی فائدہ یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ﴿74﴾
انہوں نے کہا : اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا ہے۔قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ﴿75﴾
ابراہیم نے کہا : بھلا کبھی تم نے ان چیزوں کو غور سے دیکھا بھی جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو ؟اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ﴿76﴾
تم بھی اور تمہارے پرانے باپ دادے بھی۔فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿77﴾
میرے لیے تو یہ سب دشمن ہیں، سوائے ایک رب العالمین کےالَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ﴿78﴾
جس نے مجھے پیدا کیا ہے، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ﴿79﴾
اور جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ﴿80﴾
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہےوَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ﴿81﴾
اور جو مجھے موت دے گا، پھر زندہ کرے گا۔وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ﴿82﴾
اور جس سے میں یہ امید لگائے ہوئے ہوں کہ وہ حساب و کتاب کے دن میری خطا بخش دے گا۔رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ﴿83﴾
میرے پروردگار ! مجھے حکمت عطا فرما، اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرمالے۔وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴿84﴾
اور آنے والی نسلوں میں میرے لیے وہ زبانیں پیدا فرمادے جو میری سچائی کی گواہی دیں۔وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ﴿85﴾
اور مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نعمتوں والی جنت کے وارث ہوں گے۔وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ﴿86﴾
اور میرے باپ کی مغفرت فرما، یقینا وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ﴿87﴾
اور اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ﴿88﴾
جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا، نہ اولاداِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ﴿89﴾
ہاں جو شخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا (اس کو نجات ملے گی)وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ﴿90﴾
اور جنت متقی لوگوں کے لیے قریب کردی جائے گیوَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ﴿91﴾
اور دوزخ کھلے طور پر گمراہوں کے سامنے کردی جائے گی۔وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ﴿92﴾
اور ان سے کہا جائے گا کہ : کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے ؟مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ﴿93﴾
اللہ کو چھوڑ کر ، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا خود اپنا بچاؤ کرلیں گے ؟فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ﴿94﴾
پھر ان کو اور گمراہوں کو بھی اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ﴿95﴾
اور ابلیس کے سارے لشکروں کو بھی۔قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ﴿96﴾
وہاں یہ سب آپس میں جھگڑتے ہوئے (اپنے معبودوں سے) کہیں گے۔تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ﴿97﴾
کہ : اللہ کی قسم ہم تو اس زمانے میں کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿98﴾
جب ہم نے تمہیں رب العالمین کے برابر قرار دے رکھا تھا۔وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ﴿99﴾
اور ہمیں تو ان بڑے بڑے مجرموں نے ہی گمراہ کیا تھا۔فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ﴿100﴾
نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو ہمیں کسی قسم کی سفارش کرنے والے میسر ہیں۔وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ﴿101﴾
اور نہ کوئی ایسا دوست جو ہمدردی کرسکے۔فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿102﴾
اب کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں واپس جانے کا موقع مل جائے تو ہم مومن بن جائیں۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿103﴾
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿104﴾
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿105﴾
نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿106﴾
جبکہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿107﴾
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿108﴾
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ﴿109﴾
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ﴿110﴾
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ﴿111﴾
وہ لوگ بولے : کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں، حالانکہ بڑے نیچے درجے کے لوگ تمہارے پیچھے لگے ہوئے ہیں ؟قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ﴿112﴾
نوح نے کہا : میں کیا جانوں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں ؟اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ﴿113﴾
ان کا حساب لینا کسی اور کا نہیں، میرے پروردگار کا کام ہے۔ کاش ! تم سمجھ سے کام لو۔وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿114﴾
اور میں ان مومنوں کو دھتکار کر اپنے سے دور نہیں کرسکتا۔اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ﴿115﴾
میں تو بس ایک خبردار کرنے والا ہوں جو (تمہارے سامنے) حقیقت کھول کر رکھ رہا ہے۔قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ﴿116﴾
وہ کہنے لگے : اے نوح اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ﴿117﴾
نوح نے کہا : میرے پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿118﴾
اب آپ میرے اور ان کے در میان دو ٹوک فیصلہ کردیجیے، اور مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لیجیے۔فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ﴿119﴾
چنانچہ ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا۔ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ﴿120﴾
پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیااِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿121﴾
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿122﴾
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿123﴾
عاد کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿124﴾
جبکہ ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿125﴾
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿126﴾
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿127﴾
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ﴿128﴾
کیا تم ہر اونچی جگہ پر کوئی یاد گار بنا کر فضول حرکتیں کرتے ہو ؟وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ﴿129﴾
اور تم نے بڑی کاریگری سے بنائی ہوئی عمارتیں اس طرح رکھ چھوڑی ہیں جیسے تمہیں ہمیشہ زندہ رہنا ہے ؟وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ﴿130﴾
اور جب کسی کی پکڑ کرتے ہو تو پکے ظالم و جابر بن کر پکڑ کرتے ہو۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿131﴾
اب اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ﴿132﴾
اور اس ذات سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے نواز کر تمہاری قوت میں اضافہ کیا ہے جو تم خود جانتے ہو۔اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ﴿133﴾
اس نے تمہیں مویشیوں اور اولاد سے بھی نوازا ہے۔وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ﴿134﴾
اور باغوں اور چشموں سے بھی۔اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ﴿135﴾
حقیقت یہ ہے کہ مجھے تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ﴿136﴾
وہ کہنے لگے : چاہے تم نصیحت کرو، یا نہ کرو، ہمارے لیے سب برابر ہے۔اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿137﴾
یہ باتیں تو وہی ہیں جو پچھلے لوگوں کی عادت رہی ہے۔وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ﴿138﴾
اور ہم عذاب کا نشانہ بننے والے نہیں ہیں۔فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿139﴾
غرض ان لوگوں نے ہود کو جھٹلایا، جس کے نتیجے میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿140﴾
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿141﴾
قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایااِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿142﴾
جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿143﴾
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿144﴾
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿145﴾
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ﴿146﴾
کیا تمہیں اطمینان کے ساتھ ان ساری نعمتوں میں ہمیشہ رہنے دیا جائے گا جو یہاں موجود ہیں ؟فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿147﴾
ان باغوں اور چشموں میں ؟وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ﴿148﴾
اور ان کھیتوں اور ان نخلستانوں میں جن کے خوشے ایک دوسرے میں پیوست ہیں ؟وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ﴿149﴾
اور کیا پہاڑوں کو بڑے ناز کے ساتھ تراش کر تم (ہمیشہ) گھر بناتے رہو گے ؟فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿150﴾
اب اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ﴿151﴾
اور ان حد سے گزرے ہوئے لوگوں کا کہنا مت مانوالَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ﴿152﴾
جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، اور اصلاح کا کام نہیں کرتے۔قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ﴿153﴾
وہ کہنے لگے کہ : تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے۔مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿154﴾
تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو۔ لہذا اگر سچے ہو تو کوئی نشانی لے کر آؤ۔قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ﴿155﴾
صالح نے کہا : (لو) یہ اونٹنی ہے۔ پانی پینے کے لیے ایک باری اس کی ہوگی، اور ایک معین دن میں ایک باری تمہاری۔وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿156﴾
اور اس کو بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا، ورنہ ایک زبردست دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا۔فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ﴿157﴾
پھر ہوا یہ کہ انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، اور آخر کار پشیمان ہوئے۔فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿158﴾
چنانچہ عذاب نے انہیں آپکڑا، یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿159﴾
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿160﴾
لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿161﴾
جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿162﴾
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿163﴾
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿164﴾
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿165﴾
کیا دنیا کے سارے لوگوں میں تم ہو جو مردوں کے پاس جاتے ہو۔وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ﴿166﴾
اور تمہاری بیویاں جو تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں، ان کو چھوڑے بیٹھے ہو ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تم حد سے بالکل گزرے ہوئے لوگ ہو۔قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ﴿167﴾
کہنے لگے : لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے جنہیں (بستی سے) نکال باہر کیا جاتا ہے۔قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ﴿168﴾
لوط نے کہا : یقین جانو، میں ان لوگوں میں سے ہوں جو تمہارے اس کام سے بالکل بیزار ہیں۔رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ﴿169﴾
میرے پروردگار ! جو حرکتیں یہ لوگ کر رہے ہیں، مجھے اور میرے گھر والوں کو ان سے نجات دیدے۔فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ﴿170﴾
چنانچہ ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی۔اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ﴿171﴾
سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل رہی۔ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ﴿172﴾
پھر اور سب کو ہم نے تباہ کردیا۔وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ﴿173﴾
اور ان پر ایک زبردست بارش برسا دی۔ غرض بہت بری بارش تھی جو ان پر برسی جنہیں پہلے سے ڈرا دیا گیا تھا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿174﴾
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿175﴾
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿176﴾
ایکہ کے باشندوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿177﴾
جبکہ شعیب نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿178﴾
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿179﴾
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿180﴾
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ﴿181﴾
پورا پورا ناپ دیا کرو، اور ان لوگوں میں سے نہ بنو جو دوسروں کو گھاٹے میں ڈالتے ہیں۔وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ﴿182﴾
اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ﴿183﴾
اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو، اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿184﴾
اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے، اور پچھلی خلقت کو بھی۔قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ﴿185﴾
کہنے لگے : تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے۔وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ﴿186﴾
تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو اور ہم تمہیں پورے یقین کے ساتھ جھوٹا سمجھتے ہیں۔فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ﴿187﴾
لہذا اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿188﴾
شعیب نے کہا : میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم کیا کررہے ہو۔فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿189﴾
غرض ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا ۔ بیشک وہ ایک زبردست دن کا عذاب تھا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿190﴾
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿191﴾
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿192﴾
بیشک یہ قرآن رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ﴿193﴾
امانت دار فرشتہ اسے لے کر اترا ہے۔عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ﴿194﴾
(اے پیغمبر) تمہارے قلب پر اترا ہے تاکہ تم ان (پیغمبروں) میں شامل ہوجاؤ جو لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ﴿195﴾
ایسی عربی زبان میں اترا ہے جو پیغام کو واضح کردینے والی ہے۔وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ﴿196﴾
اور اس (قرآن) کا تذکرہ پچھلی (آسمانی) کتابوں میں بھی موجود ہے۔اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿197﴾
بھلا کیا ان لوگوں کے لیے یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ بنو اسرائیل کے علماء اس سے واقف ہیں ؟وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ﴿198﴾
اور اگر ہم یہ کتاب عجمی لوگوں میں سے کسی پر نازل کردیتے۔فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ﴿199﴾
اور وہ ان کے سامنے پڑھ بھی دیتا تو یہ لوگ تب بھی اس پر ایمان نہ لاتے۔كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ﴿200﴾
مجرموں کے دلوں میں تو ہم نے اس کو اسی طرح داخل کیا ہے۔لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ﴿201﴾
یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ﴿202﴾
اور وہ ان کے پاس اس طرح اچانک آکھڑا ہو کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے۔فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ﴿203﴾
پھر یہ کہہ اٹھیں کہ کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے ؟اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ﴿204﴾
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ﴿205﴾
بھلا بتاؤ اگر ہم کئی سال تک انہیں عیش کا سامان مہیا کرتے رہیں۔ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ﴿206﴾
پھر وہ (عذاب) ان کے اوپر آکھڑا ہو جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے۔مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ﴿207﴾
تو عیش کا جو سامان ان کو دیا جاتا رہا وہ انہیں (عذاب کے وقت) کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ﴿208﴾
اور ہم نے کسی بستی کو اس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ (پہلے) اس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے۔ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿209﴾
تاکہ وہ نصیحت کریں اور ہم ایسے تو نہیں ہیں کہ ظلم کریں۔وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ﴿210﴾
اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے۔وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ﴿211﴾
نہ یہ قرآن ان کے مطلب کا ہے اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ﴿212﴾
انہیں تو (وحی کے) سننے سے بھی روک دیا گیا ہے۔فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ﴿213﴾
لہذا اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہ مانو، کبھی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ جنہیں عذاب ہوگا۔وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ﴿214﴾
اور (اے پیغمبر) تم اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کرووَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿215﴾
اور جو مومن تمہارے پیچھے چلیں، ان کے لیے انکساری کے ساتھ اپنی شفقت کا بازو جھکا دو۔فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ﴿216﴾
اور اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ : جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ﴿217﴾
اور اس (اللہ) پر بھروسہ رکھو جو بڑا اقتدار والا، بہت مہربان ہے۔الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ﴿218﴾
جو تمہیں اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم (عبادت کے لیے) کھڑے ہوتے ہو۔وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ﴿219﴾
اور سجدہ کرنے والوں کے درمیان تمہاری آمد و رفت کو بھی دیکھتا ہے۔اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿220﴾
یقین رکھو کہ وہی ہے جو ہر بات سنتا ہر چیز جانتا ہے۔هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ﴿221﴾
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اترتے ہیں ؟تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ﴿222﴾
وہ ہر ایسے شخص پر اترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہگار ہو۔یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ﴿223﴾
وہ سنی سنائی بات لا ڈالتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ﴿224﴾
رہے شاعر لوگ، تو ان کے پیچھے تو بےراہ لوگ چلتے ہیں۔اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ﴿225﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ؟وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ﴿226﴾
اور یہ کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ع﴿227﴾
ہاں مگر وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اس کا بدلہ لیا۔ اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔