25. Al-Furqaanالفرقان

The Criterion · Meccan · 77 ayahs · 6 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ﴿1﴾

    بڑی شان ہے اس ذات کی جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کا فیصلہ کردینے والی یہ کتاب نازل کی، تاکہ وہ دنیا جہان کے لوگوں کو خبردار کردے۔
  2. اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا﴿2﴾

    وہ ذات جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کی تنہا مالک ہے اور جس نے نہ تو کوئی بیٹا بنایا ہے، اور نہ اس کی بادشاہت میں کوئی شریک ہے، اور جس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کو ایک نپا تلا انداز عطا کیا ہے۔
  3. وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا﴿3﴾

    اور لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے خدا بنا رکھے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، اور جن کا خود اپنے نقصان یا فائدے پر بھی کوئی بس نہیں چلتا، اور نہ کسی کا مرنا یا جینا ان کے اختیار میں ہے، نہ کسی کو دوبارہ زندہ کرنا۔
  4. وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ﴿4﴾

    اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں، بس ایک من گھڑت چیز ہے جو اس شخص نے گھڑ لی ہے، اور اس کام میں کچھ اور لوگ بھی اس کے مددگار بنے ہیں۔ اس طرح (یہ بات کہہ کر) یہ لوگ بڑے ظلم اور کھلے جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔
  5. وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا﴿5﴾

    اور کہتے ہیں کہ : یہ تو پچھلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیاں ہیں جو اس شخص نے لکھوالی ہیں، اور صبح و شام وہی اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔
  6. قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿6﴾

    کہہ دو کہ : یہ کلام تو اس (اللہ) نے نازل کیا ہے جو ہر بھید کو پوری طرح جانتا ہے، آسمانوں میں بھی، زمین میں بھی۔ بیشک وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
  7. وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ﴿7﴾

    اور یہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے، اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے ؟ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا ؟
  8. اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا﴿8﴾

    یا اس کے اوپر کوئی خزانہ ہی آپڑتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس میں سے یہ کھایا کرتا۔ اور یہ ظالم (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : تم جس کے پیچھے چل رہے ہو، وہ اور کچھ نہیں، بس ایک شخص ہے جس پر جادو ہوگیا ہے۔
  9. اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ع﴿9﴾

    (اے پیغمبر) دیکھو ان لوگوں نے تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں بنائی ہیں۔ چنانچہ ایسے بھٹکے ہیں کہ راستے پر آنا ان کے بس سے باہر ہے۔
  10. تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا﴿10﴾

    بڑی شان ہے اس (اللہ) کی جو اگر چاہے تو تمہیں ان سب سے کہیں بہتر چیز، (ایک باغ کے بجائے) بہت سے باغات دیدے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور تمہیں بہت سے محلات کا مالک بنا دے۔
  11. بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ﴿11﴾

    اصل حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے قیامت کی گھڑی کو جھٹلایا ہوا ہے، اور جو کوئی قیامت کی گھڑی کو جھٹلائے، اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
  12. اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا﴿12﴾

    جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے بپھرنے اور پھنکارنے کی آوازیں سنیں گے۔
  13. وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ﴿13﴾

    اور جب ان کو اچھی طرح باندھ کر اس کی ایک تنگ جگہ میں پھینکا جائے گا تو وہاں یہ موت کی آواز دے کر پکاریں گے۔
  14. لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا﴿14﴾

    (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج تم موت کو صرف ایک بار نہ پکارو، بلکہ بار بار موت کو پکارتے ہی رہو۔
  15. قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا﴿15﴾

    کہو کہ یہ انجام بہتر ہے یا ہمیشہ رہنے والی جنت، جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے ؟ وہ ان کے لیے انعام ہوگی، اور ان کا آخری انجام
  16. لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا﴿16﴾

    وہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ بستے ہوئے ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ یہ وہ ذمہ دارانہ وعدہ ہے جو تمہارے رب نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔
  17. وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ﴿17﴾

    اور وہ دن (انہیں یاد دلاؤ) جب اللہ ان (کافروں) کو بھی حشر میں جمع کرے گا اور ان (معبودوں) کو بھی جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، اور (ان کے معبودوں سے) کہے گا کہ : کیا تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا تھا، یا یہ راستے سے خود بھٹکے تھے ؟
  18. قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا﴿18﴾

    وہ کہیں گے کہ : آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔ ہماری مجال نہیں تھی کہ ہم آپ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالوں کے قائل ہوں، لیکن ہوا یہ کہ آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو دنیا کا سازوسامان دیا، یہاں تک کہ جو بات یاد رکھنی تھی یہ اسے بھلا بیٹھے، اور (اس طرح) یہ خود برباد ہو کر رہے۔
  19. فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا﴿19﴾

    لو (اے کافرو) انہوں نے تو تمہاری وہ ساری باتیں جھٹلا دیں جو تم کہا کرتے ہو۔ اب نہ (عذاب کو) ٹالنا تمہارے بس میں ہے نہ کوئی مدد حاصل کرنا۔ اور تم میں سے جو کوئی ظلم کا مرتکب ہے، ہم اسے بڑے بھاری عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
  20. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ع﴿20﴾

    اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے، وہ سب ایسے تھے کہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے، اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ بتاؤ کیا صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار ہر بات دیکھ رہا ہے۔
  21. وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا﴿21﴾

    جن لوگوں کو یہ توقع ہی نہیں ہے کہ وہ (کسی وقت) ہم سے آملیں گے، وہ یوں کہتے ہیں کہ : ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ؟ یا پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے بڑی سرکشی اختیار کی ہوئی ہے۔
  22. یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا﴿22﴾

    جس دن ان کو فرشتے نظر آگئے، اس دن ان مجرموں کے لیے کوئی خوشی کا موقع نہیں ہوگا، بلکہ یہ کہتے پھریں گے کہ خدایا ! ہمیں ایسی پناہ دے کہ یہ ہم سے دور ہوجائیں۔
  23. وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا﴿23﴾

    اور انہوں نے (دنیا میں) جو عمل کیے ہیں، ہم ان کا فیصلہ کرنے پر آئیں گے تو انہیں فضا میں بکھرے ہوئے گرد و غبار (کی طرح بےقیمت) بنادیں گے۔
  24. اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا﴿24﴾

    اس دن جنتی لوگ ہوں گے جن کا مستقر بھی بہترین ہوگا، اور آرام گاہ بھی خوب ہوگی۔
  25. وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا﴿25﴾

    اور جس دن آسمان پھٹ کر ایک بادل کو راہ دے گا، اور فرشتے اس طرح اتارے جائیں گے کہ ان کا تار بندھ جائے گا۔
  26. اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا﴿26﴾

    اس دن صحیح معنی میں بادشاہی خدائے رحمن کی ہوگی، اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔
  27. وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا﴿27﴾

    اور جس دن ظالم انسان (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائے گا، اور کہے گا : کاش میں نے پیغمبر کی ہمراہی اختیار کرلی ہوتی۔
  28. یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا﴿28﴾

    ہائے میری بربادی ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
  29. لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا﴿29﴾

    میرے پاس نصیحت آچکی تھی، مگر اس (دوست) نے مجھے اس سے بھٹکا دیا، اور شیطان تو ہے ہی ایسا کہ وقت پڑنے پر انسان کو بےکس چھوڑ جاتا ہے۔
  30. وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا﴿30﴾

    اور رسول ﷺ کہیں گے کہ : یا رب ! میری قوم اس قرآن کو بالکل چھوڑ بیٹھی تھی۔
  31. وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا﴿31﴾

    اور ہم نے اسی طرح مجرم لوگوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے۔ اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کے لیے کافی ہے۔
  32. وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا﴿32﴾

    اور یہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ : ان پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ میں کیوں نازل نہیں کردیا گیا ؟ (اے پیغمبر) ہم نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہارا دل مضبوط رکھیں۔ اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھوایا ہے۔
  33. وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ﴿33﴾

    اور جب کبھی یہ لوگ تمہارے پاس کوئی انوکھی بات لے کر آتے ہیں، ہم تمہیں (اس کا) ٹھیک ٹھیک) جواب اور زیادہ وضاحت کے ساتھ عطا کردیتے ہیں۔
  34. اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ع﴿34﴾

    جن لوگوں کو گھیر کر نہ کے بل دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا، وہ بدترین مقام پر ہیں، اور ان کا راستہ بدترین گمراہی کا راستہ ہے۔
  35. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ﴿35﴾

    بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی، اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو مددگار کے طور پر مقرر کیا تھا۔
  36. فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ﴿36﴾

    چنانچہ ہم نے کہا تھا کہ : تم دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو تباہ کر کے نیست و نابود کردیا۔
  37. وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ﴿37﴾

    اور نوح کی قوم نے جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کردیا، اور ان کو لوگوں کے لیے عبرت کا سامان بنادیا۔ اور ہم نے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
  38. وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا﴿38﴾

    اسی طرح ہم نے عاد وثمود اور اصحاب الرس کو اور ان کے درمیان بہت سی نسلوں کو تباہ کیا۔
  39. وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا﴿39﴾

    ان میں سے ہر ایک کو سمجھانے کے لیے ہم نے مثالیں دیں، اور (جب وہ نہ مانے تو) ہر ایک کو ہم نے پیس کر رکھ دیا۔
  40. وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا﴿40﴾

    اور یہ (کفار مکہ) اس بستی سے ہو کر گزرتے رہے ہیں جس پر بری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی بھلا کیا یہ اس بستی کو دیکھتے نہیں رہے ؟ (پھر بھی انہیں عبرت نہیں ہوئی) بلکہ ان کے دل میں دوسری زندگی کا اندیشہ تک پیدا نہیں ہوا۔
  41. وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا﴿41﴾

    اور (اے پیغمبر) جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو ان کا کوئی کام اس کے سوا نہیں ہوتا کہ یہ تمہارا مذاق بناتے ہیں کہ : کیا یہی وہ صاحب ہیں جنہیں اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟
  42. اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا﴿42﴾

    اگر ہم اپنے خداؤں (کی عقیدت) پر مضبوطی سے جمے نہ رہتے تو ان صاحب نے تو ہمیں ان سے بھٹکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ (جو لوگ یہ باتیں کہہ رہے ہیں) جب انہیں عذاب آنکھوں سے نظر آجائے گا تب انہیں پتہ چلے گا کہ کون راستے سے بالکل بھٹکا ہوا تھا ؟
  43. اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ﴿43﴾

    بھلا بتاؤ جس شخص نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہش کو بنا لیا ہو، تو (اے پیغمبر) کیا تم اس کی ذمہ داری لے سکتے ہو ؟
  44. اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ع﴿44﴾

    یا تمہارا خیال یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ نہیں ! ان کی مثال تو بس چار پاؤں کے جانوروں کی سی ہے، بلکہ یہ ان سے زیادہ راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔
  45. اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ﴿45﴾

    کیا تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سائے کو پھیلا تا ہے ؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ایک جگہ ٹھہرا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس کے لیے رہنما بنادیا ہے۔
  46. ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا﴿46﴾

    پھر ہم اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔
  47. وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا﴿47﴾

    اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا، اور نیند کو سراپا سکون اور دن کو دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا ذریعہ بنادیا۔
  48. وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ﴿48﴾

    اور وہی ہے جس نے اپنی رحمت (یعنی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجیں جو (بارش کی) خوشخبری لے کر آتی ہیں، اور ہم نے ہی آسمان سے پاکیزہ پانی اتارا ہے۔
  49. لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا﴿49﴾

    تاکہ ہم اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندگی بخشیں، اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے مویشیوں اور انسانوں کو اس سے سیراب کریں۔
  50. وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا﴿50﴾

    اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے لیے اس (پانی) کی الٹ پھیر کر رکھی ہے، تاکہ وہ سبق حاصل کریں۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کے سوا ہر بات سے انکاری ہیں۔
  51. وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ﴿51﴾

    اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک الگ آگاہ کرنے والا (پیغمبر) بھیج دیتے۔
  52. فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا﴿52﴾

    لہذا (اے پیغمبر) تم ان کافروں کا کہنا نہ مانو، اور اس قرآن کے ذریعے ان کے خلاف پوری قوت سے جدوجہد کرو۔
  53. وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا﴿53﴾

    اور وہی ہے جس نے دریاؤں کو اس طرح ملا کر چلایا ہے کہ ایک میٹھا ہے جس سے تسکین ملتی ہے، اور ایک نمکین ہے، سخت کڑوا۔ اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ اور ایسی رکاوٹ حائل کردی ہے جس کو (دونوں میں سے) کوئی عبور نہیں کرسکتا۔
  54. وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا﴿54﴾

    اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کو نسبی اور سسرالی رشتے عطا کیے، اور تمہارا پروردگار بڑی قدرت والا ہے۔
  55. وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا﴿55﴾

    اور یہ لوگ ہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کر رہے ہیں جو نہ ان کو کوئی فائدہ پہنچاتی ہیں، نہ نقصان، اور کافر انسان نے اپنے پروردگار ہی کی مخالفت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
  56. وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا﴿56﴾

    اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں کسی اور کام کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم لوگوں کو خوشخبری دو ، اور خبردار کرو۔
  57. قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا﴿57﴾

    کہہ دو کہ : میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ہاں جو شخص یہ چاہے کہ اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے (تو یہی میری اجرت ہے)
  58. وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ﴿58﴾

    اور تم اس ذات پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور اسی کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔
  59. اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا﴿59﴾

    وہ ذات جس نے چھ دن میں سارے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں پیدا کیں، پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا وہ رحمن ہے، اس لیے اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھو۔
  60. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩۩ع﴿60﴾

    اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو یہ کہتے ہیں کہ : رحمن کیا ہوتا ہے ؟ کیا جسے بھی تم کہہ دو ، ہم اسے سجدہ کیا کریں ؟ اور اس بات سے وہ اور زیادہ بدکنے لگتے ہیں۔
  61. تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا﴿61﴾

    بڑی شان ہے اس کی جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک روشن چراغ اور نور پھیلانے والا چاند پیدا کیا۔
  62. وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا﴿62﴾

    اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایسا بنایا کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں (مگر یہ ساری باتیں) اس شخص کے لیے (کارآمد ہیں) جو نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو یا شکر بجا لانا چاہتا ہو۔
  63. وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا﴿63﴾

    اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔
  64. وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا﴿64﴾

    اور جو راتیں اس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے آگے (کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں، اور (کبھی) قیام میں۔
  65. وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ﴿65﴾

    اور جو یہ کہتے ہیں کہ : ہمارے پروردگار ! جہنم کے عذاب کو ہم سے دور رکھیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا عذاب وہ تباہی ہے جو چمٹ کر رہ جاتی ہے
  66. اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا﴿66﴾

    یقینا وہ کسی کا مستقر اور قیام گاہ بننے کے لیے بدترین جگہ ہے۔
  67. وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴿67﴾

    اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ تنگی کرتے ہیں، بلکہ ان کا طریقہ اس (افراط وتفریط) کے درمیان اعتدال کا طریقہ ہے۔
  68. وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ﴿68﴾

    اور جو اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے، اور جس جان کو اللہ نے حرمت بخشی ہے، اسے ناحق قتل نہیں کرتے، اور نہ وہ زنا کرتے ہیں، اور جو شخص بھی یہ کام کرے گا، اسے اپنے گناہ کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
  69. یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ﴿69﴾

    قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھا بڑھا کر دگنا کردیا جائے گا، اور وہ ذلیل ہو کر اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
  70. اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿70﴾

    ہاں مگر جو کوئی توبہ کرلے، ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
  71. وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا﴿71﴾

    اور جو کوئی توبہ کرتا اور نیک عمل کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اللہ کی طرف ٹھیک ٹھیک لوٹ آتا ہے۔
  72. وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا﴿72﴾

    اور (رحمن کے بندے وہ ہیں) جو ناحق کاموں میں شامل نہیں ہوتے اور جب کسی لغو چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
  73. وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا﴿73﴾

    اور جب انہیں اپنے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر بہرے اور اندھے بن کر نہیں گرتے۔
  74. وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا﴿74﴾

    اور جو (دعا کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ : ہمارے پروردگار ! ہمیں اپنی بیوی بچوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا سربراہ بنا دے۔
  75. اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ﴿75﴾

    یہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بالاخانے عطا ہوں گے، اور وہاں دعاؤں اور سلام سے ان کا استقبال کیا جائے گا۔
  76. خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا﴿76﴾

    وہ وہاں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کسی کا مستقر اور قیام گاہ بننے کے لیے وہ بہترین جگہ ہے۔
  77. قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ع﴿77﴾

    (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ : میرے پروردگار کو تمہاری ذرا بھی پرواہ نہ ہوتی، اگر تم اس کو نہ پکارے اب جبکہ (اے کافرو) تم نے حق کو جھٹلا دیا ہے تو یہ جھٹلانا تمہارے گلے پڑ کر رہے گا۔