26. Ash-Shu'araaالشعراء
The Poets · Meccan · 227 ayahs · 11 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طٰسٓمّٓ﴿1﴾
یہ طسم ہےتِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ﴿2﴾
یہ واضح کتاب کی آیات ہیںلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴿3﴾
شاید تم اپنے آپ کو اس فکر میں بالک کر کے رہو گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے !اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ﴿4﴾
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں پس ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیںوَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ﴿5﴾
اور ان کے پاس خدائے رحمان کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے یہ اس سے اعراض کرنے والے ہی بنے رہتے ہیںفَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿6﴾
کہ انہوں نے جھٹلا دیا تو جس چیز کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں اب اس کی تنبیہات ان کے آگے ظاہر ہوں گیاَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ﴿7﴾
کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی ! ہم نے اس میں کتنی نوع بنوع کی فیض بخش چیزیں اگا رکھی ہیں !اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿8﴾
اس میں بیشک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿9﴾
اور بیشک تمہارا رب غالب بھی ہے۔ مہربان بھیوَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿10﴾
اور جب پکارا تیرے رب نے موسیٰ کو کہ ظالم قوم کے پاس جائوقَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ﴿11﴾
قوم فرعون، کیا وہ ڈریں گے نہیں !قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ﴿12﴾
اس نے کہا، اے میرے رب ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گےوَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ﴿13﴾
اور میرا سینہ بھنچتا ہے اور میری زبان رواں نہیں ہے تو ہارون کے پاس پیغام بھیجوَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ﴿14﴾
اور ان کے ایک گناہ کا بار بھی میرے اوپر ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گےقَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ﴿15﴾
فرمایا، ہرگز نہیں ! پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیںفَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿16﴾
تو فرعون کے پاس جائو اور کہو کہ ہم خدا ند عالم کے رسول ہیںاَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿17﴾
کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دےقَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ﴿18﴾
اس نے کہا، کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر پالا نہیں ؟ اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے اندر بسر کئےوَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿19﴾
اور تم نے اپنی وہ حرکت کی جو کی اور تم ناشکروں میں سے ہو !قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ﴿20﴾
موسیٰ نے جواب دیا کہ میں نے یہ اس وقت کیا اور میں خطاواروں میں سے تھافَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿21﴾
تو جب مجھے تم لوگوں سے اندیشہ ہوا تو میں تم سے بھاگ۔ پھر میرے رب نے مجھے قوت فیصلہ عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے بنایاوَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿22﴾
اور یہ احسان ہے جو تم مجھے جتا رہے ہو جس کے عوض تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے !قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿23﴾
فرعون نے پوچھا اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے !قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ﴿24﴾
اس نے جواب دیا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا خداوند، اگر تم لوگ یقین کرنے والے بنو !قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ﴿25﴾
اس نے اپنے اردگرد والوں سے کہا، سنتے نہیں ہو !قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ﴿26﴾
اس نے کہا، تمہارا بھی رب اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی رب !قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ﴿27﴾
فرعون نے کہا، تمہارا یہ رسول، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، بالکل خبطی ہےقَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿28﴾
موسیٰ نے کہا، مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر تم عقل رکھتے ہوقَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ﴿29﴾
وہ بولا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کر کے رہوں گاقَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ﴿30﴾
موسیٰ نے کہا، کیا اس صورت میں بھی کہ جب میں تمہارے پاس کوئی واضح نشانی لے کر آیا ہوں ؟قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿31﴾
اس نے کہا، وہ پیش کرو اگر تم سچے ہوفَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ﴿32﴾
تو اس نے اپنا عصا ڈال دیا اور وہ دفعتاً ایک صریح اژدھا بن گیاوَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ع﴿33﴾
اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ یکایک دیکھنے والوں کو چٹا نظر آیاقَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ﴿34﴾
فرعون نے اپنے اردگرد کے درباریوں سے کہا، بیشک یہ بڑا ہی ماہر جادوگر ہےیُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ﴿35﴾
یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو !قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ﴿36﴾
انہوں نے کہا کہ اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالیے اور شہروں میں ہر کارے بھیجےیَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ﴿37﴾
جو آپ کے پاس تمام ماہر جادوگروں کو لائیںفَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ﴿38﴾
تو ساحر ایک معین دن کے مقررہ وقت کے لئے جمع کئے گئےوَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ﴿39﴾
اور لوگوں کو منا دی کردی گئی کہ لوگو، جمع ہولَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ﴿40﴾
تا کہ ہم ساحروں کا ساتھ دیں اگر وہ غالب رہنے والے ثابت ہوںفَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ﴿41﴾
تو جب ساحر جمع ہوئے تو انہوں نے فرعون سے کہا، کیا ہمارے لئے کوئی صلہ بھی ہے اگر ہم ہی غالب رہنے والے ہوئے !قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ﴿42﴾
اس نے کہا، ہاں ! اور اس وقت تم مقربین میں سے بھی ہو گےقَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ﴿43﴾
موسیٰ نے ان سے کہا پیش کرو جو کچھ تم پیش کرنے والے ہوفَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ﴿44﴾
انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور بولے کہ فرعون کے اقبال کی قسم، ہم ہی غالب رہنے والے ہوں گے !فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ﴿45﴾
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو یکایک وہ نگلنے لگا اس سوانگ کو جو وہ رچاتے تھےفَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ﴿46﴾
تو ساحر بےتحاشا سجدے میں گر پڑےقَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿47﴾
بولے کہ ہم ایمان لائے خداوند عالمرَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ﴿48﴾
موسیٰ اور ہارون کے رب پرقَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ﴿49﴾
اس نے کہا، تم نے اس کو مان لیا قبل اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں۔ بیشک وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے۔ تو تم عنقریب جان لو گے ! میں تمہارے ہاتھ اور پائوں بےترتبن کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گاقَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ﴿50﴾
انہوں نے جواب دیا کہ کوئی ڈر نہیں، ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹیں گےاِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ع﴿51﴾
ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری غلطایں بخش دے گا کہ ہم پہلے ایمان لانے والے بنےوَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ﴿52﴾
اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی، ہمارے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو۔ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گافَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ﴿53﴾
پس فرعون نے شہروں میں ہر کارے بھیجےاِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ﴿54﴾
کہ یہ لوگ مٹھی بھر ہیںوَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ﴿55﴾
اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیںوَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ﴿56﴾
اور ہم ایک مستعد جمعیت ہیںفَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿57﴾
پس ہم نے نکالا ان کو باغوں اور چشموں سےوَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ﴿58﴾
اور خزانوں اور ایک باعزت مقام سےكَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿59﴾
اسی طرح ہم کرتے ہیں اور ہم نے ان چیزوں کا وارث بنایا بنی اسرائیل کوفَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ﴿60﴾
پس انہوں نے ان کا تعاقب کیا صبح تڑکےفَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ﴿61﴾
تو جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو پکڑے گئے !قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ﴿62﴾
موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ میری رہنمائی فرمائے گافَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ﴿63﴾
پس ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا دریا پر مارو۔ پس وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک عظیم تو دے کے مانند بن گیاوَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ﴿64﴾
اور ہم قریب لائے وہیں دوسروں کووَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ﴿65﴾
اور ہم نے موسیٰ اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو نجات دیثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ﴿66﴾
پھر دوسروں کو غرق کردیااِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿67﴾
بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿68﴾
اور بیشک تیرا رب، وہ عزیز و رحیم ہےوَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ﴿69﴾
اور ان کو ابراہیم کی سرگزشت سنائواِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ﴿70﴾
جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھلا یہ تم لوگ کن چیزوں کی پرستش کرتے ہو !قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ﴿71﴾
انہوں نے جواب دیا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور برابر ان کی پوجا پر جمے رہیں گے !قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ﴿72﴾
اس نے کہا، کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو پکارتے ہواَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ﴿73﴾
یا تمہیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں !قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ﴿74﴾
انہوں نے کہا بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا ہےقَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ﴿75﴾
اس نے کہا، کیا تم نے ان چیزوں پر غور کیا ہے جن کو تم پوجتے ہے ہو ،اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ﴿76﴾
تم بھی اور تمہارے اگلے آباء و اجداد بھی !فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿77﴾
یہ سب میرے تو دشمن ہیں، بجز اللہ رب العالمین کےالَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ﴿78﴾
جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہ میری رہنماء فرماتا ہےوَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ﴿79﴾
اور جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہےوَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ﴿80﴾
اور جب میں بیمار پتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہےوَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ﴿81﴾
اور جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گاوَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ﴿82﴾
اور وہ جس سے میں متوقع ہوں کہ جزا کے دن میرے گناہ معاف کرے گارَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ﴿83﴾
اے میرے رب ! مجھے قوت فیصلہ عطا فرما اور مجھے زمرہ صالحین میں شامل کروَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴿84﴾
اور بعد والوں میں میرا نیک ذکر قائم رکھوَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ﴿85﴾
اور مجھے باغ نعمت کے وارثوں میں سے بناوَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ﴿86﴾
اور میرے باپ کی مغفرت فرما، بیشک وہ گمراہوں میں سے تھاوَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ﴿87﴾
اور جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کو جییَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ﴿88﴾
جس دن نہ مال کام آے اگ اور نہ اولاداِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ﴿89﴾
بس وہ فائز المرام ہوں گے جو تندرست و پاک دل لے کر حاضر ہوں گےوَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ﴿90﴾
اور جنت خدا ترسوں کے لئے قریب لائی جائے گیوَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ﴿91﴾
اور دوزخ گمراہوں کے لئے بےنقاب کی جائے گیوَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ﴿92﴾
اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں !مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ﴿93﴾
کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنا دفاع کریں گے !فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ﴿94﴾
پس وہ اس میں اوندھے جھونک دیئے جائیں گے۔ وہ بھی اور سارے گمراہ بھیوَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ﴿95﴾
اور ابلیس کے سارے لشکر بھیقَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ﴿96﴾
اور وہ اس میں باہم جھگڑتے ہوئے کہیں گے ،تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ﴿97﴾
خدا کی قسم ! ہم کھلی ہوئی گمراہی میں تھےاِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿98﴾
جب کہ تم کو خداوند عالم کا ہمسر ٹھہراتے رہےوَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ﴿99﴾
اور ہم کو تو بس مجرموں نے گمراہ کیافَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ﴿100﴾
تو نہ اب ہمارا کوئی سفارشی ہےوَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ﴿101﴾
اور نہ کوئی سرگرم دسوت !فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿102﴾
پس ہمیں ایک مرتبہ اور لوٹنا نصیب ہو کہ ہم ایمان لانے والوں میں سے بنیںاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿103﴾
بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان میں کے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿104﴾
اور بیشک تیرا رب عزیز و رحیم ہےكَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿105﴾
نوح کی قوم نے بھی رسولوں کی تکذیب کیاِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿106﴾
جب کہ انکے بھائی نوح نے ان کو آگاہ کیا، کیا تم لوگ ڈرتے نہیں !اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿107﴾
میں تمہارے لئے ایک معتبر رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿108﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ﴿109﴾
اور میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتامیرا صلہ تو عالم کے خداوند کے ذمہ ہےفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ﴿110﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانوقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ﴿111﴾
انہوں نے جواب دیا، کیا ہم تمہیں مان لیں اور حال یہ ہے کہ تمہاری پیروی رذیلوں نے کی ہے !قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ﴿112﴾
اس نے کہا، مجھے اس کی کیا خبر جو وہ کرتے رہے ہیں ؟اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ﴿113﴾
ان کا حساب کرنا تو میرے رب ہی کا کام ہے، اگر تم سمجھو !وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿114﴾
اور میں مومنوں کو تو دھتکارنے والا ہوں نہیں ،اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ﴿115﴾
میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوںقَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ﴿116﴾
انہوں نے کہا، اے نوح ! اگر تم باز نہ رہے تو تم سنگسار ہو کر رہو گےقَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ﴿117﴾
اس نے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیافَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿118﴾
تو میرے اور ان کے درمیان بالکل واضح فلہتو فرما دے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان ہیں ان کو نجات دےفَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ﴿119﴾
تو ہم نے اس کو اور اس کے ساتھ والوں کو بھری کشتی میں نجات دیثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ﴿120﴾
پھر اس کے بعد باقیوں کو ہم نے غرق کردیااِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿121﴾
بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اندر کے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿122﴾
اور بیشک تیرا رب عزیز و رحیم ہےكَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿123﴾
قوم نے عاد نے رسولوں کی تکذیب کیاِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿124﴾
جب کہ ان کے بھائی ہود نے ان کو آگاہ کیا کہ کیا تم لوگ ڈرتے نہیں !اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿125﴾
میں تمہارے لئے ایک رسول امین ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿126﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو !وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿127﴾
اور میں اس پر تم سے کسی صلے کا طالب تو ہوں نہیں، میرا اجر تو بس عالم کے رب کے ذمہ ہےاَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ﴿128﴾
کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے رہو گےوَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ﴿129﴾
اور شاندارمحل بناتے رہو گے گویا تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہےوَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ﴿130﴾
اور جب بھی تم کسی پر حملہ آور ہوتے ہو تو حارانہ حملہ آور ہوتے ہوفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿131﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانووَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ﴿132﴾
اور اس اللہ سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہیں مدد پہنچائی جن کو تم جانتے ہواَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ﴿133﴾
اس نے تمہاری مدد کی چوپایوں اور اولاد سےوَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ﴿134﴾
اور باغوں اور چشموں سےاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ﴿135﴾
بیشک میں تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوںقَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ﴿136﴾
انہوں نے جواب دیا، ہمارے لئے یکساں ہے، خواہ تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ بنواِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿137﴾
یہ بات تو بس اگلوں سے چلی آرہی ہےوَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ﴿138﴾
اور ہم پر ہرگز عذاب آنے والا نہیں ہےفَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿139﴾
تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا پس ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿140﴾
اور بیشک تمہارا رب وہ غالب اور مہربان ہےكَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿141﴾
ثمود نے بھی رسولوں کی تکذیب کیاِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿142﴾
جب کہ ان کے بھائی صالح نے ان کو متنبہ کیا کہ کیا تم لوگ خدا سے ڈرتے نہیں !اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿143﴾
میں تمہارے لئے خدا کا ایک امانت دار رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿144﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿145﴾
اور میں تم سے اس پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو بس عالم کے رب ہی کے ذمہ ہےاَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ﴿146﴾
کیا تم انہی نعمتوں میں جن میں یہاں ہو، ہر خطرے سے محفوظ، چھوڑے رکھے جائو گے !فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿147﴾
باغوں اور چشموں میں !وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ﴿148﴾
کھیتیوں اور گتھم گتھا خوشوں والے کھجوروں کے باغوں میں !وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ﴿149﴾
اور پہاڑوں میں تراش تراش کر خوش خوش گھر بناتے رہو گے !فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿150﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانووَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ﴿151﴾
اور حدود سے گزر جانے والوں کی بات نہ مانو، جو ملک میں فساد برپا کر رہے ہیںالَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ﴿152﴾
اور اصلاح نہیں کر رہے ہیںقَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ﴿153﴾
وہ بولے کہ تم تو بس ایک سحر زدہ معلوم ہوتے ہومَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿154﴾
تم تو بس ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو۔ تو کوئی نشانی لائو، اگر تم سچے ہوقَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ﴿155﴾
اس نے کہا، یہ ایک اونٹنی ہے۔ ایک دن پانی پینے کی باری اس کی ہے اور ایک معین دن کی باری تمہارے لئے ہےوَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿156﴾
اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ورنہ تم کو ایک ہولناک دن کا عذاب آپکڑے گافَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ﴿157﴾
پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو انہیں پچھتانا پڑافَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿158﴾
بالآخر ان کو عذاب نے آدبوچا بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿159﴾
اور بیشک تیرا رب عزیز و رحیم ہےكَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿160﴾
قوم لوط نے بھی رسولوں کی تکذیب کیاِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿161﴾
جب کہ ان کے بھائی لوط نے کہا کہ کیا تم لوگ خدا سے ڈرتے نہیں !اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿162﴾
میں تمہارے لئے ایک دیانتدار رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿163﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿164﴾
میں اس پر تم سے کسی صلے کا طالب نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو بس خداوند عالم کے ذمہ ہےاَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿165﴾
کیا تم خلق میں سے مردوں سے شہوت رانی کرتے ہووَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ﴿166﴾
اور تمہارے رب نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑتے ہوچ بلکہ تم لوگ نہایت ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو !قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ﴿167﴾
وہ بولے کہ اے لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو تم لازماً یہاں سے نکال چھوڑے جائو گے۔قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ﴿168﴾
اس نے کہا، میں تمہارے اس عمل سے سخت بیزار ہوںرَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ﴿169﴾
اے رب ! تو مجھے اور میرے اہل کو ان کے عمل کے انجام سے نجات دےفَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ﴿170﴾
تو ہم نے اس کو اور اس کے سارے اہل کو نجات دیاِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ﴿171﴾
صرف ایک بڑھیا پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ چھوڑ دی گئیثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ﴿172﴾
پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیاوَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ﴿173﴾
اور ہم نے ان پر برسایا نہایت ہولناک برسانا تو کیا ہی بری تھی وہ بارش جو ان پر برسی جن کو انجام سے آگاہ کیا جا چکا تھا !اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿174﴾
بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿175﴾
اور بیشک تیرا رب عزیز و رحیم ہےكَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿176﴾
اصحاب الایکہ نے بھی رسولوں کی تکذیب کیاِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ﴿177﴾
جب کہ شعیب ؑ نے ان کو آگاہ کیا، کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں !اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿178﴾
میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوںفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ﴿179﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانووَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿180﴾
اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں طلب کرتا۔ میرا صلہ تو بس خداوند عالم کے ذمہ ہےاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ﴿181﴾
تم لوگ پورا پورا نا پا کرو اور خسارہ پہنچانے والوں میں سے نہ بنووَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ﴿182﴾
اور صحیح ترازو سے تو لا کرووَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ﴿183﴾
اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور زمین میں مفسدبن کر نہ پھیلووَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿184﴾
و اور اس ذات سے ڈرو جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور تم سے پہلوں کو بھیقَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ﴿185﴾
انہوں نے جواب دیا کہ تم تو ایک بالکل سحر زد ہووَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ﴿186﴾
اور تم تو بس ہمارے ہی جیسے ایک بشر ہو اور ہم تو تم کو بالکل جھوٹوں میں سے خیال کرتے ہیںفَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ﴿187﴾
تو اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ٹکڑے گرائوقَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿188﴾
اس نے کہا۔ میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہوفَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿189﴾
تو انہوں نے اس کو ججھٹلا دیا پس ان کو بادل والے دن کے عذاب نے آدبوچا اور بیشک وہ ایک ہولناک دن کا عذاب تھااِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿190﴾
بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور انکے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیںوَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿191﴾
اور بیشک تیرا رب بڑا ہی عزیز و رحیم ہےوَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿192﴾
اور بیشک یہ نہایت اہتمام سے خداوند عالم کا اتارا ہوا ہےنَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ﴿193﴾
اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہےعَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ﴿194﴾
تمہارے قلب پر، تاکہ تم لوگوں کو آگاہ کردینے والوں میں سے بنوبِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ﴿195﴾
واضح عربی زبان میںوَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ﴿196﴾
اور اس کا ذکر اگلوں کے صحیفوں میں بھی ہےاَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿197﴾
کیا ان لوگوں کے لئے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ اس کو علمائے بنی اسرائیل جانتے ہیں ؟وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ﴿198﴾
اور اگر ہم اس کو کسی عجمی پر اتارتےفَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ﴿199﴾
اور وہ ان کو یہ سناتا تو وہ اس پر ایمان لانے نہ بنتےكَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ﴿200﴾
ہم مجرموں کے دلوں میں اس کو اسی طرح داخل کرتے ہیںلَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ﴿201﴾
یہ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دد ناک عذاب نہ دیکھ لیںفَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ﴿202﴾
پس وہ ان پر اچانک آدھمکے گا اور وہ اس سے باخبر نہ ہوں گےفَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ﴿203﴾
اس وقت کہیں گے، کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی !اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ﴿204﴾
کیا وہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں !اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ﴿205﴾
بھلابتائو تو کہ اگر ہم ان کو چند سال اور بہرہ مند رکھیںثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ﴿206﴾
پھر ان پر وہ عذاب آجائے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہےمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ﴿207﴾
تو یہ بہرہ مندی ان کے کس کام آئے گی !وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ﴿208﴾
ہم نے کسی بستی کو بھی ہلاک نہیں کیا مگر اس کے لئے پہلے ہوشیار کرنے والے بھیجےذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿209﴾
یا دہانی کے لئے اور ہم ظالم نہیں ہیںوَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ﴿210﴾
اور اس کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیںوَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ﴿211﴾
نہ یہ ان کے لئے لائق ہے اور نہ یہ ان کے بس کا ہےاِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ﴿212﴾
وہ سن گن لینے سے معزول کئے جا چکے ہیںفَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ﴿213﴾
پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار ناکہ تم بھی سزا وار عذاب ٹھہرووَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ﴿214﴾
اور اپنے قریبی خاندان والوں کو ڈرائووَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿215﴾
اور جن اہل ایمان نے تمہاری پیروی کی ہے ان کے لئے اپنی شفقت کے بازو جھکائے رکھوفَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ﴿216﴾
اگر یہ لوگ تمہاری نافرمانی کر رہے ہیں تو ان کو سنا دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہووَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ﴿217﴾
میں اس سے بری ہوں اور خدائے عزیز و رحیم پر بھروسہ رکھوالَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ﴿218﴾
اس خدا پر تمہیں دیکھتا ہے اس وقت جب تم اٹھتے ہو اور دیکھتا ہےوَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ﴿219﴾
تمہاری آمد و شد کو سجدہ کرنے والوں کے درمیاناِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿220﴾
بیشک وہ سمیع وعلیم ہےهَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ﴿221﴾
کیا میں تمہیں بتائوں کہ شیاطین کن پر اترتے ہیں !تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ﴿222﴾
وہ لپاٹیوں بدکاروں پر اترتے ہیںیُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ﴿223﴾
جو کان لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیںوَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ﴿224﴾
اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیںاَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ﴿225﴾
کیا نہیں دیکھتے کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں !وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ﴿226﴾
اور وہ کہتے ہیں وہ جو کرتے نہیںاِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ع﴿227﴾
بس وہ اس سے مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے جنہوں نے نیک اعمال کئے، جنہوں نے اللہ کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا اور جنہوں نے بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور یہ جنہوں نے ظلم کیا ہے عنقریب جان لیں گے کہ ان کا ٹھکانا کیا ہوتا ہے