25. Al-Furqaanالفرقان
The Criterion · Meccan · 77 ayahs · 6 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ﴿1﴾
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کردینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ اہل عالم کے لئے ہوشیار کردینے والا بنے !اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا﴿2﴾
وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس نے اپنے لئے کوئی اولاد نہیں بنائی اور اس کی بادشاہی میں کوئی اس کا ساجھی نہیں اور اس نے ہر چیزکو پیدا کیا اور اس کا ایک خاص اندازہ ٹھہرایاوَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا﴿3﴾
اور لوگوں نے اس کے سوا دوسرے معبود بنائے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، وہ خود مخلوق میں اور جو خود اپنے لئے بھی نہ کسی ضرر پر اختیار رکھتے ہیں نہ کسی نفع اور نہ ان کو موت پر کوئی اختیار ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پروَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ﴿4﴾
اور کافر کہتے ہیں کہ یہ محض جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے گھڑا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ کہہ کر اناہوں نے ظلم اور جھوٹ دونوں باتوں کا ارتکاب کیا !وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا﴿5﴾
اور کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کیفسانے ہیں جو اس نے لکھوائے ہیں تو وہ اس کو صبح اور شام لکھ کر تعلیم کئے جاتے ہیںقُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿6﴾
ان سے کہہ دو کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید کو جانتا ہے۔ بیشک وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے !وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ﴿7﴾
اور کہتے ہیں کہ کیا بات ہے اس رسول کی کہ یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ! اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ لوگوں کو ڈرانے والا بنتا !اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا﴿8﴾
یا اس کے لئے کوئی خزانہ اتارا جاتا یا اس کے لئے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرتا ! … اور ان ظالموں نے کہا کہ تم لوگ تو بس ایک سحر زدہ شخص کے پیچھے لگ لئے ہو !اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ع﴿9﴾
دیکھو، تمہارے اوپر کیسی کیسی پھبتیاں چست کر رہے ہیں ! پس یہ بالکل کھوئے گئے ہیں اور کوئی راہ نہیں پا رہے ہیںتَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا﴿10﴾
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جو چاہے تو تمہیں اس سے بھی کہیں بہتر چیزیں بخش دے … ایسے باغ جن کے نیچے نہریں جا رہی ہوں اور تمہارے لئے محل بنوا دےبَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ﴿11﴾
بلکہ ان لوگوں نے قیامت کو جھٹلا دیا ہے اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہےاِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا﴿12﴾
وہ دور ہی سے جب ان کو دیکھے گی تو وہ اس کا بپھرنا اور دھاڑنا بنیں گےوَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ﴿13﴾
اور یہ جب اس کی کسی تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیئے جائیں گے تو اس وقت اپنی ہلاکت کو پکاریں گےلَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا﴿14﴾
آج ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکاروقُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا﴿15﴾
ان سے پوچھو، کیا یہ بہتر ہے یا وہ جنت ابد جس کا خدا ترسوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے ! وہ ان کے لئے صلہ اور ٹھکانا ہو گیلَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا﴿16﴾
اس میں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تیرے رب کا وعدہ ہے جس کے ایفا کی اس پر حتمی ذمہ داری ہےوَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ﴿17﴾
اور اس دن کو خیال کرو جس دن ان کو اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں، وہ اکٹھا کرے گا پس ان سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انہوں نے خود ہی صحیح راہ کھوئی ؟قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا﴿18﴾
وہ جواب دیں گے کہ معاذ اللہ ! ہمیں یہ حق کہاں تھا کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کار ساز بنائیں ! بلکہ تو نے ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو دنیا سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ وہ تیری یاد بھلا بیٹھے اور ہلاک ہونے والے بنےفَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا﴿19﴾
یہ لو، انہوں نے تو تمہاری بات میں جو تم کہتے تھے تمہیں جھوٹا ٹھہرا دیا ! سو اب تم نہ تو عذاب کو ٹال سکتے اور نہ اپنی کوئی مدد کرسکتے اور جو بھی تم میں سے شرک کا مرتکب ہوگا ہم اس کو ایک بڑا عذاب چکھائیں گےوَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ع﴿20﴾
اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں میں سے جن کو بھی بھیجا وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے تو بولو، صبر کرتے ہوچ اور تمہارا رب سب دیکھ رہا ہےوَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا﴿21﴾
اور جو ہمارے حضور پیشی کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب ہی کو دیکھتے ! انہوں نے اپنے جی میں اپنے کو بہت بڑا سمجھا اور بڑا اکڑ دکھائی !یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا﴿22﴾
جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لئے کوئی خوش آئند بات نہیں ہوگی اور وہ پنا پناہ پکار اٹھیں گیوَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا﴿23﴾
اور ہم ان کے ہر اس عمل کی طرف جو انہوں نے کیا ہوگا بڑھیں گے اور اس کو پراگندہ غبار بنا دیں گےاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا﴿24﴾
اس دن جنت والے بہترین ٹھکانے اور نہایت خوب آرام گاہ میں ہوں گےوَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا﴿25﴾
اور جس دن کہ آسمان ایک بدلی کے ساتھ پھٹے گا اور فرشتوں کے پرے کے بعد پرے اتارے جائیں گےاَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا﴿26﴾
اس دن حقیقی بادشاہی خدائے رحمان ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بڑا ہی کٹھن ہوگا !وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا﴿27﴾
اور جس دن اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کی معیت میں راہ اختیار کی ہوتی !یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا﴿28﴾
ہائے میری بدبختی ! کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا !لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا﴿29﴾
اسی نے مجھے گمراہ کر کے اس یاد دہانی سے برگشتہ کیا بعد اس کے کہ وہ میرے پاس آچکی تھی ! اور شیطان انسان کے ساتھ بڑا ہی بےوفائی کرنے والا ہے !وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا﴿30﴾
اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو پس انداز کردہ چیز بنایاوَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا﴿31﴾
اور اسی طرح ہم نے مجرموں میں ہر نبی کے دشمن بنائے اور تیرا رب رہنمائی اور مدد کے لئے کافی ہےوَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا﴿32﴾
اور ان کافروں نے کہا کہ اس کے اوپر پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اتار دیا گیا ؟ ہم نے ایسا ہی کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اس کو تدریج و اہتمام کے ساتھ اتارا ہےوَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ﴿33﴾
اور یہ لوگ جو اعتراض بھی اٹھائیں گے ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ تمہیں بتا دیں گےاَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ع﴿34﴾
جو لوگ جہنم کی طرف اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے وہ اپنے ٹھکانے کے اعتبار سے بدتر اور راہ کے اعتبار سے گمراہ تر ہیںوَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ﴿35﴾
اور ہم نے موسٰی کو کتاب عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو اس کا مددگار بنایافَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ﴿36﴾
پس ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جائو جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے۔ پس ہم نے ان لوگوں کو بالکل ہی پامال کر کے رکھ دیاوَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ﴿37﴾
اور قوم نوح کو بھی ہم نے ہلاک کیا جب کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹالیا ہم نے ان کو غرق کردیا اور ہم نے ان کو لوگوں کے لئے ایک نشان عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لئے ہم نے ایک درد ناک عذاب بھی تیار کر رکھا ہےوَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا﴿38﴾
اور عاد، ثمود، اصحاب رس اور ان کے درمیان بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیاوَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا﴿39﴾
اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کے لئے اپنی تعلیمات حکمت واضح کیں اور بالآخر ہر ایک کو نیست و نابود کردیاوَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا﴿40﴾
اور یہ لوگ تو اس بستی پر سے گزرے بھی ہیں جس پر تباہی کی بارش برسائی گئی کیا یہ اس کو دیکھتے نہیں رہے ہیں ! بلکہ یہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے متوقع نہیں رہے ہیںوَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا﴿41﴾
اور جب بھی یہ تمہیں دیکھتے ہیں بس تمہیں مذاق بنا لیتے ہیں۔ اچھا یہی ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے !اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا﴿42﴾
اس شخص نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے ! اور عنقریب، جب یہ عذاب دیکھیں گے، جان لیں گے کہ سب سے زیادہ بےراہ کون ہےاَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ﴿43﴾
بھلا یہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے تم اس کے ذمہ دار ہو گے !اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ع﴿44﴾
کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ! یہ تو بس چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گم کرداراَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ﴿45﴾
کیا تم نے اپنے رب کی اس قدرت کی طرف نگاہ نہیں کی کہ کس طرح وہ سایہ کو پھیلا دیتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کو اسی طرح ساکن چھوڑ دیتا !ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا﴿46﴾
پھر ہم سورج کو اس پر ایک دلیل راہ بناتے ہیں پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیںوَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا﴿47﴾
اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے شب کو پردہ پوش اور نندہ کو دافع کلفت بنا ای اور دن کو وقت نشود بنایاوَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ﴿48﴾
اور وہی ہے جو اپنے باران رحمت سے پہلے ہوائوں کو خوش خبری بنا کر بیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاکیزہ پانی اتارتے ہیںلِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا﴿49﴾
کہ اس سے مردہ زمین کو از سر نو زندہ کردیں اور اس کو پلائیں اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کووَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا﴿50﴾
اور ہم نے اس کو ان کے درمیان گوناگوں اسلوبوں سے واضح کردیا ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری ہی پر اڑے ہوئے ہیںوَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ﴿51﴾
اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک نذیر بھیج دیتےفَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا﴿52﴾
تو تم ان ناشکروں کی بات کا دھیان نہ کرو اور اسی کے ذریعہ سے ان سے پورا پورا جہاد کرووَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا﴿53﴾
اور وہی ہے جس نے ملایا دو دریائوں کو ایک کا پانی شیریں اور خوشگوار اور دوسرے کا نہایت شور و تلخ اور ان کے درمیان اس نے ایک پردہ اور ایک مضبوط بند کھڑا کردیاوَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا﴿54﴾
اور وہی ہے جس نے انسانوں کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور پھر ان کو نسبی اور سسرالی رشتوں سے جوڑا اور تیرا رب بڑی قدرت رکھنے والا ہےوَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا﴿55﴾
اور یہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی بندگی کرتے ہیں جو نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں نہ کوئی نقصان اور یہ کافر اپنے رب کے حریف بن کر اٹھ کھڑے ہوئےوَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا﴿56﴾
اور ہم نے تو تم کو بس ایک خوشخبری دینے والا اور ایک آگاہ کردینے والا بنا کر بھیجا ہےقُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا﴿57﴾
تم کہہ دو کہ میں تم سے اس کا کوئی صلہ نہیں مانگ رہا ہوں۔ بس یہ ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپن رب تک پہنچانے والی راہ اختیار کرےوَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ﴿58﴾
اور اپنے زندہ خداوند پر، جو مرنے والا نہیں ہے، بھروسہ رکھو اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے آگاہ رہین کے لئے کافی ہےاِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا﴿59﴾
جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ ادوار میں، پھر وہ اپنے عرش پر متکن ہوا۔ وہ رحمان ہے پس اس کی شان باخبر سے پوچھو !وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩۩ع﴿60﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدائے رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں، رحمان کیا ہے ! کیا ہم اس چیز کو سجدہ کریں جس کا حکم تم ہمیں دیتے ہوچ اور یہ چیزان کی نفرت کو اور بڑھاتی ہےتَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا﴿61﴾
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک منور چاند بنایاوَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا﴿62﴾
اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو یکے بعد دیگرے آنے والا بنایا ان کے لئے جو یاد دہانی حاصل کریں یا شکر گزار بننا چاہیےوَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا﴿63﴾
اور خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے الجھتے ہیں تو وہ ان کو سلام کر کے رخصت ہوجاتے ہیںوَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا﴿64﴾
اور جو راتیں اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام میں گزارت یہیںوَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ﴿65﴾
اور جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ بیشک اس کا عذاب بالکل چمٹ جانے والی چیز ہےاِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا﴿66﴾
بیشک وہ نہایت ہی برا مستقر اور نہایت ہی برا مقام ہےوَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴿67﴾
اور جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے اور نہ تنگی اور اس کے درمیان کی معتدل راہ اختیار کرتے ہیںوَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ﴿68﴾
اور جو نہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارتے اور نہ اس جان کو جس کو اللہ نے حرام ٹھہرایا یا بغیر کسی حق کے قتل کرتے اور نہ بدکاری کرتے اور جو کوئی ان باتوں کا مرتکب ہوگا وہ اپنے گناہوں کے انجام سے دوچار ہو گایُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ﴿69﴾
قیامت کے دن اس کے عذاب میں درجہ بدرجہ اضافہ کیا جائے گا اور وہ اس میں خوار ہو کر ہمیشہ رہے گااِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿70﴾
مگر وہ جو توبہ کرلیں گے، ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے تو اللہ ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہےوَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا﴿71﴾
اور جو توبہ کرتا ہے اور عمل صالح اختیار کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی طرف لوٹتا ہےوَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا﴿72﴾
اور جو کسی باطل میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی بےہودہ چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیںوَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا﴿73﴾
اور جن کا حال یہ ہے کہ جب انکو ان کے رب کی آیات کے ذریعہ سے یاد دہانی کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتےوَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا﴿74﴾
اور جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی جانب سے آنکھوں کی ٹھنڈک بخش اور ہم کو پرہیز گاروں کا سربراہ بنااُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ﴿75﴾
یہ لوگ ہیں کہ ان کو ان کی ثبت قدمی کے صلے میں بالاخالے ملیں گے اور ان میں ان کا خیر مقدم تحیت وسلام کے ساتھ ہو گاخٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا﴿76﴾
ان میں ہمیشہ رہیں گے خوب ہوگا وہ مستقر اور مقامقُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ع﴿77﴾
کہہ دو کہ میرے رب کو تمہاری کیا پرواہ ہے اگر تمہیں دعوت دینا مدنظر نہ ہوتا ! سو تم نے اس کی تکذیب کردی تو وہ چیز عنقریب لازم ہو کر رہے گی