27. An-Namlالنمل
The Ant · Meccan · 93 ayahs · 7 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ﴿1﴾
یہ طس ہے یہ قرآن اور ایک واضح کتاب کی آیات ہیںهُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿2﴾
یہ ہدایت و بشارت ہے ان ایمان لانے والوں کے لئےالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ﴿3﴾
جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکواۃ دیتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیںاِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ﴿4﴾
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیئے ہیں، پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیںاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ﴿5﴾
یہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے دنیا میں بھی برا عذاب ہے اور آخرت میں وہی ہیں جو بڑے خسارے میں ہوں گےوَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ﴿6﴾
اور بیشک یہ قرآن تم کو ایک حکیم وعلیم کی طرف سے تعلیم کیا جا رہا ہےاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ﴿7﴾
یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا میں نے ایک آگ سی دیکھی ہے میں وہاں سے یا تو کوئی خبر لاتا ہوں یا آگ کا کوئی انگارا تاکہ تم تاپوفَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿8﴾
تو جب وہ اس کے پاس آیاتو اس کو آواز آئی کہ مبارک ہے جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہیں ! اور پاک ہے اللہ عالم کا خداوند !یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ﴿9﴾
اے موسیٰ یہ تو میں ہوں، خدائے عزیز و حکیم !وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ﴿10﴾
اور تم اپن اعصا ڈال دو تو جب اس نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا سانپ ہو تو وہ پیچھے کو مڑا اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ ڈرو نہیں، میرے حضور پیغمبروں کے لئے کوئی اندیشہ نہیں ہوتااِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿11﴾
ہاں مگر جو کسی برائی کا مرتکب ہوا پھر اس نے برائی کے بعد اس کو بھلائی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا اور مہربان ہوںوَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ﴿12﴾
اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ بغیر کسی مرض کے سفید نکلے گا۔ نو نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائو۔ وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیںفَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ﴿13﴾
پس جب ان کے پاس ہماری آنکھیں کھلو دینے والی نشانیاں آئیں انہوں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادو ہےوَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿14﴾
اور انہوں نے ظلم اور گھمنڈ کے سبب سے ان کا انکار کیا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو تسلیم کیا تو دیکھو کیا ہوا ان مفسدین کا انجام !وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿15﴾
اور ہم نے دائود اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا اور انہوں نے کہا کہ شکر ہے اللہ کے لئے جس نے اپنے بہت سے مومن بندوں پر ہمیں فضیلت عطا فرمائیوَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ﴿16﴾
اور دائود کا وارث سلیمان ہوا اور اس نے کہا اے لوگو، ہمیں پرندوں کی بولی کا علم بھی عطا ہوا ہے اور دوسرے بھی سب چیزیں ہمیں بخشی گئی ہیں۔ بیشک یہ نہایت ہی کھلا ہوا فضل ہےوَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ﴿17﴾
سلمان کے جانزے کے لئے اس کا سارا لشکر۔ جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے … اکٹھا کیا گیا اور ان کی درجہ بندی کی جارہی تھیحَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿18﴾
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچنے ایک چیونٹی نے کہا، اے چینٹیو، اپنے سوراخوں میں گھس جائو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا احساس بھی نہ ہوفَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ﴿19﴾
پس وہ اس کی بات سے خوش ہو کر مسکرایا اور دعا کی، اے میرے رب مجھے سنبھالے رکھ کہ میں اس فضل کا شکر گزار ہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور تو اپنے فضل سے مجھے اسے صالح بندوں کے زمرے میں داخل کروَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ﴿20﴾
اور اس نے پرندوں کی فوج کا جائزہ لیا نو بولا کہ کیا بات ہے، میں ہد ہد کو نہیں دیک رہا ہوں اور موجود سے یا عیر صروں میں ہے !لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ﴿21﴾
میں اس کو سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ کوئی واضح عذر میرے سامنے پیش کرفَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ﴿22﴾
زیادہ دیر نہیں گزری کہ وہ آیا اور اس نے کہا کہ میرے علم میں وہ چیز ہے جو آپ کے علم میں نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک سچی خبر لایا ہوںاِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ﴿23﴾
میں نے دیکھا کہ ایک عورت اس پر حکمرانی کر رہی ہے اور اس کو سب کچھ حاصل ہے اور اس کا تحت بہت بڑا ہےوَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ﴿24﴾
میں نے اس کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے سوا سورج کو پوجتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیئے ہیں پس ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے، پس وہ راہ یاب نہیں ہو رہے ہیںاَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ﴿25﴾
(شیطان نے ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے) کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہواَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩۩﴿26﴾
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہےقَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴿27﴾
اس نے کہا، ہم دیکھیں گے کہ تم نے سچ کہا ہے یا تم جھوٹوں میں سے ہواِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ﴿28﴾
یہ میرا نامہ لے کر جائو اور ان کے پاس ڈال دیجیو اور ہٹ کر دیکھیو کہ کیا ردعمل وہ ظاہر کرتے ہیںقَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ﴿29﴾
اس نے کہا، اے اہل دربار، ایک گرامی نامہ میرے پاس ڈالا گیا ہےاِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ﴿30﴾
وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیماَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ع﴿31﴾
تم لوگ میرے مقابل میں سرکشی نہ کرو اور میرے پاس مطیع ہو کر حاضر ہوقَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ﴿32﴾
اس نے کہا، اے درباریو، میرے اس معاملے میں مجھے پرانے دور میں کسی معاملے کا اس وقت تک فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود نہوںقَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ﴿33﴾
انہوں نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور اعلیٰ جنگی صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے تو غور فرما لیجیے کہ کیا حکم دیتی ہیںقَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ﴿34﴾
اس نے کہا، بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں اخل ہوتے ہیں تو اس کو درہم برہم اور اس کے معززین کو ذلیل کر کے چھوڑتے ہیں اور یہی یہ لوگ بھی کریں گےوَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ﴿35﴾
اور میں ان کے پاس اپنے سفیر ہدیہ کے ساتھ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ سفیر کیا جواب لاتے ہیںفَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ﴿36﴾
تو جب سفیر سلیمان کے پاس پہنچا، اس نے کہا کیا تم لوگ میری مدد مال سے کرنا چاہتے ہو ! مجھے خدا نے جو دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تم کو دیا ہے۔ یہ تمہی لوگ ہو کہ اپنے ہدیوں پر خوش ہوتے ہو !اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ﴿37﴾
ان کے پاس واپس جائو، ہم ان پر ایسی فوجوں سے چڑھائی کریں گے کہ وہ ان کے مقابلے کی تاب نہ لا سکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ خوار ہوں گےقَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ﴿38﴾
سلیمان نے کہا، اے درباریو ! تم میں سے کون اس کا تخت ان لوگوں کے میرے حضور میں فرمانبردارانہ حاضر ہونے سے پہلے پہلے لائے گاقَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ﴿39﴾
جنوں میں سے ایک سرہنگ نے کہا، میں اس کو آپ کے پاس آپ کے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں گا۔ اور میں اس کام پر قدرت رکھنے والا اور ایک امانت دار ہوںقَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ﴿40﴾
جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا، میں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کردوں گا۔ پس اس نے اس کو اپنے سامنے موجود دیکھا تو اس نے کہا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ میرا امتحان کرے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو میرا رب بےنیاز و کریم ہےقَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ﴿41﴾
اس نے حکم دیا کہ اس کے تخت کی شکل بدل دو ، دیکھیں وہ پہچانتی ہے یا نہ پہچاننے والوں میں سے ہو کے رہ جاتی ہےفَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ﴿42﴾
پس جب وہ آئی تو اس سے سوال کیا گیا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا، گویا کہ وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے علم حاصل ہوچکا تھا اور ہم فرمانبرداروں میں تھےوَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ﴿43﴾
اور اس کو روک رکھا تھا ان چیزوں نے جن کو اللہ کے ماسوا وہ پوجتی رہی تھی۔ وہ ایک کافر قوم میں سے تھیقِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿44﴾
اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو جائو تو جب اس نے اس کے (کے فرش) کو دیکھا اس کو گہرا پانی گمان کیا اور اپنی دونوں پنڈلایں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ تو شیشوں سے بنا ہوا محل ہے ! اس نے کہا، اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم ڈھایا، اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ رب العلمین کے حوالہ کیاوَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ﴿45﴾
اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو اس پیغام کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا کہ لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تو دو فریق بن کر آپس میں جھگڑنے لگےقَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿46﴾
اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو، تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچائے ہوئے ہو ! تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں مانگتے کہ تم پر رحم کیا جائے۔ !قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ﴿47﴾
انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو یہ سب تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی نحوست سمجھتے ہیں۔ اس نے کہا، تمہارا نصیبہ اللہ کے پاس ہے بلکہ یہ تو تم آزمائے جا رہے ہووَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ﴿48﴾
اور شہر میں نو خاندان تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح پر آمادہ نہیں ہوتے تھےقَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ﴿49﴾
انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر عہد کیا کہ ہم اس کو اور اس کے لوگوں کو چپکے سے ہلاک کردیں گے پھر ہم اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے آدمی کی ہلاکت پر شریک نہیں ہیں اور ہم بالکل سچے ہیںوَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿50﴾
اور انہوں نے بھی چال چلی اور ہم نے بھی تدبیر کی اور وہ باخبر بھی نہ ہوئےفَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿51﴾
تو دیکھو کیسا ہوا ان کی چال کا انجام ! ہم نے ان کو اور ان کی پوری قوم کو ہلاک کردیافَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿52﴾
پس یہ ہیں ان کے گھرویران پڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ! بیشک اس کے اندر بڑا سبق ہے ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیںوَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ﴿53﴾
اور ہم نے نجات دی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جو ڈرتے تھےوَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ﴿54﴾
اور ہم نے لوط کو بھی رسول بنا کر بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو !اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ﴿55﴾
کیا تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو ! بلکہ تم بڑے ہی جاہل ہو !فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ﴿56﴾
تو اس کی قوم کا جواب صرف یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ لوط کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال دو ، یہ لوگ بڑے پارسا بنتے ہیں !فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ﴿57﴾
تو ہم نے اس کو اور اس کے لوگوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے، اس کو ہم نے پیچھے رہ جانے والوں میں شمار کر رکھا تھاوَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠﴿58﴾
اور ہم نے ان پر برسایا ایک ہولناک برسانا، پس کیا ہی برش بارش ہوئی ان لوگوں پر جن کو آگاہ کیا جا چکا تھا !قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕع﴿59﴾
کہہ دو کہ شکر کا سزا اور اللہ ہے اور اس کے ان بندوں پر سلامتی و رحمت ہے جن کو اس نے برگزیدہ کیا کیا اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں !اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ﴿60﴾
(کیا تمہارے یہ معبود بہتر ہیں) یا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لئے جس نے آسمان سے پانی اتارا پس ہم نے اس پانی سے خوش منظر باغ اگائے۔ تمہارے امکان میں نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگا سکتے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ بلکہ یہ راہ حق سے انحراف اختیار کرنے والے لوگ ہیں۔اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ﴿61﴾
(کیا تمہارے یہ اصنام سزا اور شکر ہیں) یا و جس نے زمین کو ٹھکانا بنایا اور جس نے اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے لئے اس نے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان جس نے پردہ ڈال دیا ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ! بلکہ ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے !اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ﴿62﴾
(کیا تمہارے یہ شرکاء مستحق عبادت ہیں) یا وہ جو محتاج کی داد رسی کرتا ہے جب کہ وہ اس کو پکارتا ہے اور اس کے دکھ کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین کی وراثت دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے ! بہت ہی کم تم لوگ یاد دہانی حاصل کرتے ہو !اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ﴿63﴾
(کیا تمہارے یہ دیوی، دیوتا لائق پرستش ہیں) یا وہ جو بحر و بر کی تاریکیوں میں تمہارئی رہنمائی کرتا ہے اور جو ہوائوں کو اپنے باران رحمت سے پہلے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہیں ؟ اللہ بہت ہی برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں !اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿64﴾
(کیا تمہارے مزعومہ شفعاء لائق بندگی ہیں) یا وہ جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرے گا اور جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ! کہو کہ تم اپنی دلیل لائو، اگر تم سچے و !قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ﴿65﴾
کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، اللہ کے سوا کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے اور انہیں پتہ بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گےبَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ع﴿66﴾
بلکہ آخرت کے باب میں عالم الجھا ہوا ہے۔ بلکہ یہ لوگ اس کے بارے میں مبتلائے شک ہیں، بلکہ یہ لوگ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیںوَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ﴿67﴾
اور یہ کافر کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے آبائو اجداد بھی تو کیا ہم دوبارہ نکالے جائیں گے !لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿68﴾
اس کی دھمکی ہمیں بھی دی گئی اور اس سے پہلے ہمارے آباء و اجداد کو بھی یہ محض اگلوں کے فسانے ہیںقُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ﴿69﴾
ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہواوَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ﴿70﴾
اور ان کے حال پر غم نہ کرو اور نہ ان کی چالوں سے جو وہ چل رہے ہیں فکر مند ہووَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿71﴾
اور یہ پوچھتے ہیں کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی اگر تم سچے ہو !قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ﴿72﴾
کہہ دو کہ بہت ممکن ہے کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہووَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ﴿73﴾
اور بیشک تمہارا رب لوگوں پر بڑے فضل والا ہے لیکن ان میں کے اکثر شکر گزار نہیں ہوتےوَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ﴿74﴾
اور تمہارا رب خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے وئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیںوَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ﴿75﴾
اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی مخفی چیز نہیں ہے جو ایک واضح رجسٹری میں درج نہ ہواِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿76﴾
بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر بھی ان بہت سی چیزوں کو واضح کر رہا ہے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیںوَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ﴿77﴾
اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لئےاِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ﴿78﴾
بیشک تیرا رب اپنے حکم ناطق کے ذریعہ سے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور وہ غالب اور علم والا ہےفَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ﴿79﴾
پس اللہ پر بھروسہ رکھو بیشک واضح حق پر تمہی ہواِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ﴿80﴾
تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پگار سنا سکتے جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوںوَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴿81﴾
اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے پھیر کر راہ پر لاننے والے بن سکتے تم تو بس انہی کو سنا سکتے ہو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں۔ پس وہی فرمانبردار بنیں گےوَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ع﴿82﴾
اور جب ان پر بات پوری ہوجائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے کوئی جانور نکال کھڑا کریں گے جو ان کو بتائے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھےوَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ﴿83﴾
اور اس دن کا خیال کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج کا اکٹھا کریں گےحَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿84﴾
جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے تھے پس ان کی گروہ بندی کی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب وہ اکٹھے ہوجائیں گے تو پوچھے گا کہ کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمہارا علم ان کا احاطہ نہ کرسکا تھا یا کیا کرتے رے تھے !وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ﴿85﴾
اور ان پر بات پوری ہوجائے گی بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے پس وہ کچھ نہ بول سکیں گےاَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿86﴾
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو تاریک بنایا تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں کام کریں۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لانا چاہیںوَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ﴿87﴾
اور اس دن کا خیال کرو جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ سب گھبرا اٹھیں گے۔ صرف وہی اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ چاہے گا اور سب اس کے آگے سرفگندہ ہو کر حاضر ہوں گےوَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ﴿88﴾
اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرو گے کہ وہ ٹکے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑا رہے ہوں گے۔ یہ اس خدا کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو محکم کیا۔ بیشک وہ ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم کرے رہومَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ﴿89﴾
جو نیکی کے ساتھ حاضر ہوں گے تو ان کے لئے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن ہر گھبراہٹ سے مامون رہیں گےوَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿90﴾
اور جو برائی کے ساتھ آئیں گے تو وہ اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے کہ تم کو بدلے میں وہی مل رہا ہے جو تم کرتے رہواِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ﴿91﴾
مجھے تو بس یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس کو محترم ٹھہرایا اور جس کے اختیار ہی میں سب کچھ ہے اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں فرماں برداری کرنے والوں ہوںوَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ﴿92﴾
اور قرآن کو سناؤں تو جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرے گا اور جو گمراہی اختیار کرے گا تو تم کہہ دو کہ میں تو بس ایک آگاہ کردینے والا ہوںوَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿93﴾
اور کہہ دو کہ سزا اور شکر اللہ ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان جائو گے اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اس سے تمہارا رب غافل نہیں ہے