5. Al-Maaidaالمائدة
The Table · Medinan · 120 ayahs · 16 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ﴿1﴾
اے ایمان والو (اپنے) عہدوں کو پورا کرو۔ تمہارے لئے چوپائے مویشی جائز کئے گئے ہیں بجز (ان چیزوں کے) جن کا ذکر (آگے) تم سے کیا جاتا ہے۔ ہاں شکار اس حال میں کہ تم احرام میں ہو جائز نہیں۔ بیشک اللہ جو چاہے حکم دے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿2﴾
اے ایمان والو بےحرمتی نہ کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینوں کی اور نہ (حرم میں) قربانی والے جانوروں کی اور نہ گلے میں پٹے پڑے ہوئے جانوروں کی اور نہ بیت الحرام کے قصد کرنے والوں کی جو اپنے پروردگار کے فضل اور رضا مندی کے طالب رہتے ہیں۔ اور جب تم احرام کھول چکو تو اب تم شکار کرسکتے ہو۔ اور ایسا نہ ہونا چاہیے کہ کسی قوم سے جو تمہیں بیزاری اس بنا پر ہے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روک دیا تھا تو تم (اس بیزاری کے باعث) زیادتی کرنے لگو۔ ایک دوسرے کی مدد نیکی اور تقوی میں کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿3﴾
تم پر حرام کئے گئے ہیں مردار اور خون اور سؤر کا گوشت ۔ اور جو جانور غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا گیا ہو۔ اور جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور جو کسی ضرب سے مرجائے اور جو اونچے سے گر کر مرجائے اور جو کسی کے سینگ سے مرجاے اور جس کو درندے کھانے لگیں سوا اس صورت کے کہ تم اسے ذبح کرڈالو اور جو جانور استھانوں پر بھینٹ چڑھایا جائے۔ اور نیز یہ کہ قرعہ کے تیروں۔ سے تقسیم کیا جائے یہ سب گناہ (کے کام) ہیں۔ آج کافر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھی سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بہ طور دین کے پسند کرلیا۔ ہاں جو کوئی بھوک کی شدت سے بیقرار ہوجائے گناہ کی طرف رغبت کئے بغیر۔ سو اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿4﴾
آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا چیز (کھانے کی) ہم پر حلال کی گئی ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم پر (کل) پاکیزہ جانور حلال ہیں۔ اور تمہارے سدھے ہوئے شکاری جانوروں کا شکار جو شکار پر چھوڑے جاتے ہیں۔ تم انہیں اس طریقہ پر سکھاتے ہو جو تمہیں اللہ نے سکھایا ہے۔ سو کھاؤ اس (شکار) کو جسے (شکاری جانور) تمہارے لیے پکڑے رکھیں۔ اور اللہ کا نام اس (جانور) پر لے لیا کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ حساب جلد کردیتا ہے۔اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ع﴿5﴾
آج جائز کردی گئیں تم پر پاکیزہ چیزیں۔ اور جو لوگ اہل کتاب ہیں ان کا کھانا تمہارے لئے جائز۔ اور تمہارا کھانا ان کے لیے جائز۔ اور (اسی طرح تمہارے لئے جائز ہیں) مسلمان پارسائیں اور ان کی پارسائیں جن کو تم سے قبل کتاب مل چکی ہے جب تم انہیں ان کے مہر دے دو ۔ اور قید نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ (محض) مستی نکالنے والے اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والے۔ اور جو کوئی ایمان سے انکار کرے گا تو اس کا عمل اکارت جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿6﴾
اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھو۔ تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولیا کرو اور اپنے سروں پر مسح کرلیا کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت (دھولیا کرو) ۔ اور اگر تم حالت جنابت میں ہو تو (سارا جسم) پاک صاف کرلو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی استنجا سے آئے یا تم نے عورت سے صبحت کی ہو۔ پھر تم کو پانی نہ ملے۔ تو پاک مٹی سے تیمم کرلیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کرلیا کرو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تمہارے اوپر کوئی تنگی ڈالے۔ بلکہ وہ (تو یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں خوب پاک صاف رکھے۔ اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم شکر گزاری کرو۔وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿7﴾
اور اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو یاد کرلیاکرو۔ اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا اس نے تم سے معاہدہ کیا ہے (یہ اس وقت) جب تم نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ سینوں کے اندر تک کا علم رکھتا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿8﴾
اے ایمان والو اللہ کے لیے پوری پابندی کرنے والے (اور) عدل کے ساتھ شہادت دینے والے رہو۔ اور کسی جماعت کی دشمنی تمہیں اس پر نہ آمادہ کردے کہ تم (اس کے ساتھ) انصاف ہی نہ کرو انصاف کرتے رہو (کہ) وہ تقوی سے بہت قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو اس کی (پوری) خبر ہے کہ تم کیا کرتے رہتے ہو۔وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴿9﴾
جو لوگ کہ ایمان لائے اور اچھے کام کرتے رہے اللہ نے ان سے وعدہ کرلیا ہے کہ ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ﴿10﴾
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا (سو) ایسے لوگ دوزخ والے ہیں۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ع﴿11﴾
اے ایمان والو اللہ کی نعمت کو (جو) تم پر ہے یاد کرو جب ایک قوم نے ٹھان لی تھی کہ تم پر اپنے ہاتھ دراز کریں۔ لیکن اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیئے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور ایمان والوں کو چاہیے کہ بھروسہ اللہ ہی پر رکھیں۔وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ﴿12﴾
اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا۔ اور ہم نے ان میں بارہ سردار مقرر کئے تھے۔ اور اللہ نے (ان سے یہ بھی) کہہ دیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تو اگر نماز کے پابند رہو گے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاتے رہو گے اور ان کی مدد کرتے رہو گے اور اللہ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ ضرور دور کردوں گا اور ضرور تمہیں (بہشت کے) باغوں میں داخل کردوں گا جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی۔ اور جو کوئی تم میں سے اس کے بعد بھی کفر کرے گا تو بیشک اس نے ضائع کردی راہ راست۔فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ﴿13﴾
غرض ان کی پیمان شکنی ہی کی بنا پر ہم نے انہیں رحمت سے دور کردیا۔ اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ کلام کو اس کے موقع ومحل سے بدل دیتے ہیں اور جو کچھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک (بڑا) حصہ بھلا بیٹھے ہیں۔ اور ان میں سے بجز معدودے چند کے آپ کو ان کی خیانت کی اطلاع آئے دن ہوتی رہتی ہے۔ سو آپ ان کو معاف کردیجیے اور (ان سے) درگزر کیجئے۔ بیشک اللہ نیک کاروں کو پسند کرتا ہے۔وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ﴿14﴾
اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں ہم نے ان سے عہد لیا تھا۔ سو جو کچھ انہیں نصیحت کی گئی (اس کا) بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ تو ہم نے ان میں باہم بغض اور عداوت قیامت تک کے لیے ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اللہ انہیں عنقریب وہ جتلا دے گا۔یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ﴿15﴾
اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے (یہ جو) رسول آئے ہیں یہ تمہارے سامنے کتاب (الہی) کے (وہ مضامین) کثرت سے کھول دیتے ہیں جنہیں تم چھپاتے رہے ہو۔ اور بہت سے امور کو نظر انداز بھی کرجاتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آچکی ہے۔یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿16﴾
اس کے ذریعہ سے اللہ انہیں سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کی پیروی کرتے رہتے ہیں۔ اور انہیں اپنی توفیق سے نور کی طرف تاریکیوں سے نکال کر لاتا ہے اور انہیں سیدھی راہ دکھائے رہتا ہے۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿17﴾
وہ لوگ یقیناً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ خدا ہی تو عین مسیح ابن مریم ؑ ہے۔ آپ کہیے کہ۔ اچھا تو اللہ سے کون کچھ بھی بچا سکے اگر وہ ہلاک کردینا چاہے مسیح ابن مریم ؑ اور ان کی والدہ کو۔ اور جو کوئی بھی زمین پر ہے سب کو۔ اور آسمانوں پر اور زمین پر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس (سب) پر اللہ ہی کی حکومت ہے۔ وہ جو کچھ چاہے پیدا کردیتا ہے اور اللہ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے۔وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ﴿18﴾
اور یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ ہم خدا کے لڑکے اور اس کے چہیتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے تو پھر خدا تمہیں گناہوں پر سزا کیوں دیتا ہے۔ نہیں بلکہ تم (محض) بشر ہو مخلوقات میں سے۔ وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔ اور اللہ ہی کی حکومت آسمانوں اور زمین پر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس (سب) پر بھی ہے اور اسی کی طرف واپسی ہے۔یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ع﴿19﴾
اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے (یہ) رسول جو تمہیں صاف صاف بتاتے ہیں آپہنچے ایسے وقت میں کہ رسولوں کا آنا بند تھا۔ کہ کہیں تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس کوئی بھی نہ بشارت دینے والا آیا نہ تنبیہ کرنے والا۔ (اب تو) آگیا تمہارے پاس بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا۔ اور اللہ پر چیز پر (پوری) قدرت رکھتا ہے۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ﴿20﴾
اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا۔ کہ اے میری قوم ! اللہ کا وہ احسان تم اپنے اوپر یاد کرو جب اس نے تمہارے اندر نبی پیدا کیے اور تمہیں خود مختار کیا۔ اور تمہیں وہ یاد جو دنیا جہاں میں کسی (قوم) کو بھی نہیں دیا گیا۔یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ﴿21﴾
اے میری قوم ! اس زمین مقدس میں داخل ہوجاؤ جسے اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ اور پچھلے پیروں واپس نہ ہو ورنہ بالکل خسارہ میں پڑجاؤ گے۔قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ﴿22﴾
وہ بولے کہ اے موسیٰ ؑ اس سرزمین پر تو بڑی زبردست قوم (آباد) ہے۔ اور ہم تو وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نہ نکل جائیں البتہ وہ اگر وہاں سے نکل جائیں تو ہم بیشک داخل ہونے کو تیار ہیں۔قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿23﴾
(اس پر) وہ وہ آدمی جو (اللہ سے) ڈرنے ولوں میں تھے (اور) ان دونوں پر اللہ کا فضل تھا بولے۔ تم ان پر چڑھائی کرکے شہر کے دروازہ تک تو چلو سو جس وقت تم دروازہ میں قدم رکھو گے اسی وقت غالب آجاؤ گے اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ﴿24﴾
وہ لوگ بولے اے موسیٰ ؑ ہم ہرگز وہاں کبھی بھی نہ داخل ہوں گے جب تک وہ لوگ بولے اے موسیٰ ہم ہرگز وہاں کبھی بھی نہ داخل ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ وہاں موجود ہیں سو آپ خود اور آپ کے خداوند چلے جائیں اور آپ دونوں لڑبھڑلیں ہم تو یہاں سے ٹلتے نہیں۔قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ﴿25﴾
(موسی ؑ نے) عرض کی اے میرے پروردگار میں تو سوا اپنے اور اپنے بھائی کے اور کسی پر اختیار رکھتا نہیں سو تو ہی ہمارے اور (اس) بےحکم قوم کے درمیان فیصلہ کردے۔قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ع﴿26﴾
ارشاد ہوا کہ اچھا تو وہ ملک ان پر چالیس سال کے لیے حرام کردیا گیا یہ لوگ زمین پر بھٹکتے پھریں گے۔ سو آپ (اس) بےحکم قوم پر (ذرا) غم نہ کیجئے۔وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ﴿27﴾
اور آپ انہیں آدم ؑ کے دونوں بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھک پڑھ سنائیے۔ (یہ اس وقت ہوا) جب دونوں نے ایک نیاز پیش کی۔ ان میں سے ایک کی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ (اس پر وہ دوسرا) بولا کہ میں تجھ کو قتل کرکے رہوں گا۔ (پہلے نے) کہا اللہ تو متقین کا (عمل) قبول کرتا ہے۔لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ﴿28﴾
تو اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر اٹھائے گا کہ مجھے قتل کرڈالے۔ تو میں (جب بھی) اپنا ہاتھ تجھ پر اٹھانے کا نہیں کہ تجھے قتل کرڈالوں۔ (کیونکہ) میں تو اللہ پروردگار عالم سے ڈرتا ہوں ۔اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ﴿29﴾
میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تو میرے (قتل کا) گناہ اور اپنا (پچھلا) گناہ (دونوں) اپنے سر رکھ لے پھر تو دوزخیوں میں شامل ہوجائے۔ یہی سزا ہے ظلم کرنے والوں کی۔فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿30﴾
غرض اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا تو اس نے اسے مار (ہی) ڈالا۔ جس سے وہ بڑا نقصان اٹھانے والوں میں ہوگیا۔فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ﴿31﴾
اس پر اللہ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کو کھودتا تھا تاکہ اسے دکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے۔ (یہ دیکھ کر) وہ بولا ہائے میری کمبختی کہ میں اس سے بھی گیا گزرا ہوا کہ اس کوے ہی کے برابر ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔ غرض وہ (بہت ہی) شرمندہ ہوا۔مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ﴿32﴾
اسی باعث ہم نے بنی اسرائیل پر یہ مقرر کردیا کہ جو کوئی کسی کو کسی جان کے (عوض کے) یا زمین پر فساد (کے عوض) کے بغیر مار ڈالجے۔ تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو مار ڈالا۔ اور جس نے ایک کو بچا لیا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ اور یقیناً ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر کھلے ہوئے احکام لے کر آئے۔ اس پر بھی ان میں سے بہت سے لوگ ملک میں زیادتی کرنے والے ہی رہے۔اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ﴿33﴾
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلانے میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی سزا بس یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پیر مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ ملک سے نکال دیئے جائیں۔ یہ تو ان کی رسوائی دنیا میں ہوئی۔ اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿34﴾
مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابوپاؤ تو جانے رہو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿35﴾
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو۔ اور اس کا قرب تلاش کرو۔ اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو۔ تاکہ (ہر طرح) فلاح پاؤ۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿36﴾
بیشک جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس ساری دنیا کی چیزیں ہوں اور اتنی ہی ان کے پاس اور بھی ہوں تاکہ وہ انہیں معاوضہ میں دے کر قیامت کے دن عذاب سے چھوٹ جائیں تو وہ ان سے (ہرگز) قبول نہ کی جائے گی اور ان کے لیے عذاب درد ناک (ہی) ہے۔یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ﴿37﴾
چاہیں گے کہ نکل آئیں آگ سے حالانکہ اس سے (کبھی) نہ نکل پائیں گے اور ان کے لیے مستقل عذاب ہے۔وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿38﴾
اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔ ان کے کرتوتوں کے عوض میں اللہ کی طرف سے بہ طور عبرت ناک سزا کے۔ اور اللہ بڑا قوت والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿39﴾
پھر جو شخص اپنی حرکت ناشائستہ کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو بیشک اللہ اس پر توجہ کرے گا۔ بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا مہربان ہے۔اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿40﴾
کیا تو نہیں جانتا کہ بس اللہ ہی کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وہ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کردے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿41﴾
اے پیغمبر ! آپ کو وہ لوگ رنج میں نہ ڈالیں جو دوڑ دوڑ کر کفر میں پڑتے ہیں۔ (خواہ) ان میں سے ہوں جو اپنے منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے۔ (خواہ) ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں جھوٹ کے بڑے سننے والے۔ سننے والے دوسرے لوگوں کی خاطر جو آپ کے پاس نہیں آتے۔ کلام کو اس کے صحیح موقعوں سے بدلتے رہتے ہیں۔ کہتے رہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ ملے تو قبول کرلینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتیاط رکھنا۔ اور جس کے لئے اللہ ہی کو گمراہی منظور ہو تو اس پر تیرا زور اللہ کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں چل سکتا۔ یہی لوگ وہ ہیں جن کے لیے اللہ کو منظور نہ ہوا کہ ان کے دلوں کو پاک (صاف) کرے۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ﴿42﴾
جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں حرام کے بڑے کھانے والے ہیں۔ اور اگر یہ آپ کے پاس آئیں تو (خواہ) ان کے درمیان فیصلہ کردیجیے (خواہ) انہیں ٹال دیجیے۔ اور اگر آپ انہیں ٹال دیں جب بھی یہ آپ کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان (قانون) عدل کے مطابق فیصلہ کریں۔ بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿43﴾
اور آپ سے یہ کیسے فیصلہ کراتے ہیں درآنحالیکہ ان کے پاس توریت موجود ہے۔ اور اس میں اللہ کا حکم (درج) ہے۔ پھر اس کے بعد ہٹ جاتے ہیں۔ اور یہ لوگ ہرگز ایمان والے نہیں۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ﴿44﴾
بےشیک ہم ہی نے توریت نازل کی ہے جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق وہ نبی جو اللہ کے مطیع تھے یہودی لوگوں کا فیصلہ کرتے تھے اور (اسی طرح) ان کے مشائخ وعلماء (بھی) ۔ اس لیے کہ انہیں کتاب اللہ کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا۔ اور وہ اس کے گواہ تھے۔ سو تم انسانوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور میرے احکام کو دنیا کی متاع قلیل کے عوض نہ بیچ ڈالو۔ اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو یہی لوگ تو کافر ہیں۔وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿45﴾
اور ہم نے ان پر اس میں یہ فرض کردیا تھا۔ کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کا آنکھ اور ناک کا ناک اور کان کا کان اور دانت کا دانت۔ اور زخموں میں قصاص ہے سو جو کوئی اسے معاف کردے۔ تو وہ اس کی طرف سے کفارہ ہوجائے گا۔ اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے (احکام) کے موافق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ تو ظالم ہیں۔وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ﴿46﴾
اور ہم نے انکے پیچھے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بھیجا تصدیق کرنے والے اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کے۔ اور ہم نے انہیں انجیل دی جس میں ہدایت اور نور ہے۔ تصدیق کرنے والی اپنے قبل کی کتاب یعنی توریت کی۔ اور پرہیزگاروں کے لئے ایک ہدایت اور نصیحت۔وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿47﴾
اور اہل انجیل پر بھی لازم ہے کہ اللہ نے جو کچھ اس میں نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ﴿48﴾
اور ہم نے آپ پر (یہ) کتاب اتاری ہے سچائی کے ساتھ تصدیق کرنے والی ان کتابوں کی جو اس سے پیشتر اتر چکی ہیں اور ان پر محافظ۔ تو آپ ان لوگوں کے درمیان اللہ کے اتارے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ کیا کیجئے اور ان لوگوں کی خواہشوں پر عمل نہ کیجیے۔ اس سچائی سے الگ ہو کر جو آپ کے پاس آچکی ہے۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک (خاص) شریعت اور راہ رکھی تھی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ لیکن (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ تمہیں آزماتا رہے اس میں جو وہ تمہیں دیتا رہا ہے تو تم نیکیوں کی طرف لپکو۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے تو وہ تمہیں وہ بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ﴿49﴾
اور آپ ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے رہیے اسی (قانون) کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں پر عمل نہ کیجئے۔ اور ان لوگوں سے احتیاط رکھیے کہ کہیں وہ آپ کو بچلا نہ دیں آپ پر اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے۔ پھر اگر یہ روگردانی کریں تو جان لیجئے کہ اللہ کو بس یہی منظور ہے کہ ان کے بعض جرموں پر انہیں پاداش کو پہنچا دے۔ اور یقیناً زیادہ آدمی تو بےحکم ہی ہوتے آئے ہیں۔اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ع﴿50﴾
تو کیا یہ لوگ زمانہ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ۔ اور جو قوم یقین (و ایمان) رکھتی ہے اس کے نزدیک اللہ سے بہترفیصلہ کس کا ہوسکتا ہے ؟ ۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴿51﴾
اے ایمان والو ! یہود ونصاری کو دوست مت بنانا۔ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا وہ ان ہی میں (شمار) ہوگا۔ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ﴿52﴾
اسی لئے تو ایسے لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے ان کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھتا ہے (وہ) کہتے ہیں کہ ہمیں تو یہ اندیشہ رہتا ہے کہ ہم پر کہیں کوئی دقت نہ پڑجائے۔ لیکن کیا عجب کہ اللہ (کامل) فتح ہی دے دے یا (اور کوئی) خاص بات اپنی طرف سے (کردے) تو اس وقت یہ اپنے پوشیدہ دلی خیالات پر شرمندہ ہو کر رہیں۔وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ﴿53﴾
اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (حیرت سے) کہیں گے ارے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی قسمیں بڑے زور وشور سے کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ! ۔ انکے عمل (سب) غارت گئے اور یہ لوگ گھاٹے میں آگئے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿54﴾
اے ایمان والو تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے سو اللہ عنقریب ایسے لوگوں کو (وجود میں) لے آئے گا۔ جنہیں وہ چاہتا ہوگا اور وہ اسے چاہتے ہوں گے ایمان والوں پر وہ مہربان ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ میں سخت ہوں گے وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت گر کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا کرے اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا علم والا ہے۔اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ﴿55﴾
تمہارے دوست تو بس اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور ایمان والے ہیں جو نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں اس حال میں کہ وہ خشوع بھی رکھتے ہیں۔وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ع﴿56﴾
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں سے دوستی رکھے گا سو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿57﴾
اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب (آسمانی) مل چکی ہے اور وہ ایسے ہیں کہ انہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنارکھا ہے ان کو اور کافروں کو دوست نہ بناؤ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم ایمان والے ہو۔وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ﴿58﴾
اور جب تم نماز کے لئے پکار کرتے ہو۔ تو یہ لوگ اس کو ہنسی اور کھیل بنالیتے ہیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ (بالکل) عقل سے کام نہیں لیتے۔قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ﴿59﴾
آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب ! تم ہم سے بس یہی ضد رکھتے ہونا کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ اور جو کچھ ہمارے اوپر اترا ہے اس پر اور جو کچھ ہم سے پیشتر اتر چکا ہے اس پر ؟ ۔ اور یہی کہ تم سے اکثر نافرمان ہیں۔قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ﴿60﴾
آپ کہہ دیجیے کیا میں تمہیں جتلا دوں وہ جو اللہ کے ہاں پاداش کے لحاظ سے اس سے (بھی کہیں) برا ہے۔ وہ ووہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان پر غضب کیا ہے۔ اور ان میں سے بندر اور سؤر بنادیئے۔ اور انہوں نے شیطان کی پوجا کی۔ ایسے لوگ مقام کے اعتبار سے بدتر اور راہ راست سے بہت دور ہیں۔وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ﴿61﴾
اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ وہ کفر کو لے آئے تھے اور اسی کو لے کر چلے گئے اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جسے یہ لوگ چھپاتے ہیں۔وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿62﴾
اور آپ ان میں سے بہتوں کو دیکھتے ہیں گناہ اور ظلم اور حرام کھانے پر لپکتے ہوئے کیسے برے ان لوگوں کے کرتوت ہیں۔لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ﴿63﴾
کیوں ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام کے کھانے سے نہیں روکتے ہیں کیسی بری ان کی کارستانیاں ہیں ! ۔وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ﴿64﴾
اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بند ہوگیا۔ ہاتھ ان ہی کے بند ہوں ! اپنے اس کہنے سے یہ ملعون ہوگئے۔ اللہ کے تو دونوں ہاتھ خوب کھلے ہوئے ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے اترا ہے وہ ان میں سے بہتوں کو سرکشی اور کفر بڑھا دیتا ہے۔ اور ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور کینہ قیامت تک کے لئے ڈال دیا ہے۔ جب جب وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے۔ اور ملک میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں۔ درآنحالیکہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿65﴾
اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کردیتے اور ہم ضرور انہیں نعمت کے باغوں میں داخل کردیتے۔وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ع﴿66﴾
اور اگر وہ توریت اور انجیل کی پابندی کرتے اور اس کی جو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے (اب) نازل ہوا ہے۔ تو یہ لوگ (خوب کھاتے (پیتے) رہتے اوپر سے (بھی) اور اپنے پیروں سے نیچے سے (بھی) ۔ انہی میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے۔ لیکن اکثر ان میں کے ایسے ہیں جو بہت ہی برا کررہے ہیں۔یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ﴿67﴾
اے (ہمارے پیغمبر جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے اترا ہے یہ (سب) آپ (لوگوں تک) پہنچا دیجیے۔ اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے اللہ کا پیغام پہنچایا ہی نہیں۔ اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ یقیناً اللہ کافر لوگوں کو راہ نہ دے گا۔قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ﴿68﴾
آپ کہہ دیجیے کہ اہل کتاب تم کسی راہ (حق) پر بھی نہیں جت تک تم تورتی وانجیل کی پابندی نہ کرو اور اس (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے اوپر اتری ہے۔ اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ یقیناً ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کو بڑھا کر رہے گا۔ تو آپ کافر لوگوں پر افسوس نہ کیجیے۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿69﴾
بیشک جو لوگ ایمان لا چکے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور صابی اور نصرانی (غرض) جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور نیک عمل بھی کرے سوایسوں کو نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ﴿70﴾
یقیناً ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کے پاس (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ جب جب کوئی پیغمبر ان کے پاس (ایسا) حکم لائے جس کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا تو بعض کو جھٹلاتے تھے اور بعض کو قتل ہی کر ڈالتے تھے۔وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ﴿71﴾
اور گماں یہی کرتے رہے کہ وبال کچھ نہ پڑے گا۔ سواندھے اور بہرے ہوگئے۔ پھر اللہ نے ان پر رحمت سے توجہ فرمائی۔ پھر بھی ان میں کے بہت سے اندھے اور بہرے ہی رہے اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے ان کے کرتوت۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴿72﴾
یقیناً وہ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ خدا ہی تو مسیح ابن مریم ؑ ہے۔ حالانکہ (خود) مسیح ؑ نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل میرے پروردگار اورا پنے پروردگار (یعنی) اللہ کی عبادت کرو۔ جو کوئی اللہ کے ساتھ (کسی کو) شریک کرے گا سو اللہ اس پر جنت حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا (دوزخ کی) آگ ہے اور (ایسے) ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿73﴾
یقیناً وہ (بھی) کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے تیسرا ہے۔ حالانکہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے۔ اور اگر یہ لوگ اپنے (ان) اقوال سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر رہیں گے ان پر عذاب درد ناک واقع ہو کر رہے گا۔اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿74﴾
سو یہ لوگ اللہ کے سامنے کیوں توبہ نہیں کرتے اور اس سے معافی نہیں چاہتے ؟ درآنحالیکہ اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحم والا۔مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿75﴾
مسیح ابن مریم ؑ اور کچھ نہیں ہیں بجز ایک رسول کے۔ ان سے قبل بھی (اور) رسول گزر چکے ہیں۔ اور ان کی ماں ایک ولیہ تھیں۔ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو کہ ہم کس کس طرح صاف دلائل ان کے سامنے بیان کررہے ہیں پھر دیکھو کہ وہ کدھر الٹے چلے جارہے ہیں۔قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿76﴾
آپ کہیے کہ کیا اللہ کے سوا ایسے کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نقصان پہنچا سکے نہ نفع اور اللہ ہی (سب کی) سننے والا (سب کچھ) جاننے والا ہے۔قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ع﴿77﴾
آپ کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو۔ اور ان لوگوں کی من مانی باتوں پر نہ چلو۔ جو پہلے (خود بھی) گمراہ ہوچکے ہیں اور بہتوں کو گمراہ کرچکے ہیں اور راہ راست سے (بہت) بھٹک چکے ہیں۔لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ﴿78﴾
بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر اختیار کیا ان پر لعنت ہوئی داؤد ؑ اور عیسیٰ ابن مریم ؑ کی زبان سے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے (برابر) نافرمانی کی اور حد سے آگے نکل نکل جاتے تھے۔كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ﴿79﴾
جو برائی انہوں نے اختیار کر رکھی تھی اس سے باز نہ آتے تھے کیسا بےجا تھا جو کچھ وہ کررہے تھے۔تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ﴿80﴾
آپ ان میں سے بہتوں کو دیکھیں گے کہ کفر کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ کیسا بیجا ہے وہ جسے وہ اپنے آگے بھیج چکے ہیں جس سے اللہ ان سے ناخوش ہوا اور وہ لوگ عذاب میں ہمیشہ پڑے رہیں گے ! ۔وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴿81﴾
اور اگر یہ لوگ ایمان لے آئیں اللہ اور (اس) نبی پر اور جو کچھ اس (نبی) پر نازل ہوا ہے اس پر تو وہ ان لوگوں کو دوست نہ بناتے۔ لیکن ان میں سے اکثر تو نافرمان ہی ہیں۔لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ﴿82﴾
آپ لوگوں میں ایمان والوں کے ساتھ سب سے بڑھ کر دشمنی رکھنے والے یہود اور مشرکین ہی کو پائیں گے۔ اور آپ ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں سب سے زیادہ قریب انہیں پائیں گے جو اپنے کو نصاری کہتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور اس لیے کہ یہ تکبر نہیں کرتے۔وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ﴿83﴾
اور جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو پیغمبر پر اتارا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھیں دیکھیں گے کہ ان سے آنسوبہہ رہے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو تو ہم کو بھی تصدیق کرنے والوں میں لکھ لے۔وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ﴿84﴾
اور آخر کیوں ہم ایمان نہ لائیں اللہ اور (اس) حق پر جو ہمیں (اب) پہنچا ہے اور (پھر) امید اس کی رکھیں کہ ہمارا پروردگار ہم کو صالح لوگوں کی معیت میں داخل کردے گا۔فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ﴿85﴾
تو اللہ ان کو اس قول کے عوض میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں پڑیں بہہ رہی ہوں گی ان میں وہ (ہمیشہ) رہیں گے اور نیکوکاروں کا ایسا ہی معاوضہ ہے۔وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ع﴿86﴾
اور جو لوگ کفر کرتے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے رہے تو وہی دوزخ والے ہیں۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴿87﴾
اے ایمان والو ! اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لئے جائز کی ہیں حرام نہ کرلو اور حدود سے آگے نہ نکلو بیشک اللہ حدود سے آگے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ﴿88﴾
اور اللہ نے جو کچھ تمہیں حلال پاکیزہ چیزیں دے رکھی ہیں ان میں سے کھاؤ (پیو) اور اسی اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿89﴾
اللہ تم سے تمہاری بےمعنی قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا۔ لیکن جن قسموں کو تم مضبوط کرچکے ہو ان پر تم سے مؤاخذہ کرتا ہے۔ سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو دیا کرتے ہو یا انہیں کپڑا دینا یا غلام آزاد کرنا۔ لیکن جس کو (اتنا مقدور نہ ہو تو اس کے لیے تین دن کے روزہ ہیں۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم حلف اٹھا چکے ہو اور اپنی قسموں کو یاد رکھا کرو۔ اور اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر گزار ہو۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿90﴾
اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت اور پانسے تو بس نری گندی باتیں ہیں شیطان کے کام۔ سو اس سے بچے رہو تاکہ فلاح پاؤ۔اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ﴿91﴾
شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ تمہارے آپس میں دشمنی اور کینہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے ڈال دے۔ اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ سو اب بھی تم باز آؤ گے۔وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴿92﴾
اور اطاعت کرتے رہو اللہ کی اور رسول کی اور احتیاط رکھو اور اگر اعراض کروگے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس۔لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ع﴿93﴾
جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ کھاتے ہوں جبکہ وہ لوگ تقوی رکھتے ہوں۔ اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر تقوی کریں۔ اور ایمان رکھتے ہوں اور پھر تقوی کریں اور خوب نیک کاری کریں۔ اور اللہ تو محبت رکھتا ہے خوب نیکوکاری کرنے والوں سے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿94﴾
اے ایمان والو اللہ تمہیں آزمائے گا قدرے شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں۔ تاکہ اللہ معلوم کرلے کہ کون شخص اس سے بےدیکھے ڈرتا ہے۔ سو جو کوئی اس کے بعد حد سے نکلے گا تو اس کے لئے عذاب دردناک ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ﴿95﴾
اے ایمان والوشکار کو مت مارو جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔ اور تم میں سے جو کوئی دانستہ اسے مار دے گا تو اس کا جرمانہ اسی طرح کا ایک جانور ہے جس کو اس نے مار ڈالا ہے۔ (اور) اس کا فیصلہ تم میں دو معتبر شخص کریں گے خواہ وہ جرمانہ چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچائے جاتے ہیں خواہ مسکینوں کا کھانا (کھلا دیاجائے) ۔ یا اس کے مساوی روزہ رکھ لیے جائیں تاکہ وہ اپنے کیے کی شامت کا مزہ چکھے۔ جو کچھ ہوچکا اللہ نے اسے معاف کردیا۔ لیکن جو کوئی پھر یہ حرکت کرے گا اللہ اس سے انتقام لے گا۔ اور اللہ زبر دست ہے انتقام پر قادر ہے۔اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿96﴾
تمہارے لئے دریائی شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا تمہارے نفع کیلئے اور قافلوں کے لیے۔ اور تمہارے اوپر جب تک تم کو حالت احرام میں ہوخش کی کا شکار حرام کیا گیا اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿97﴾
اللہ نے کعبہ کے مقدس گھر کو انسانوں کے باقی رہنے کا مدار ٹھہرایا ہے۔ (نیز) حرمت والے مہینہ کو اور حرم میں قربانی کو اور گلے میں پٹہ پڑے ہوئے جانوروں کو۔ یہ اس لئے کہ تم یقین کرلو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ اس سب کا علم رکھتا ہے اور بیشک اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ﴿98﴾
جانے رہو کہ اللہ بہت سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ اور اللہ بڑا مغفرت والا بڑا رحمت والا بھی ہے۔مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ﴿99﴾
رسول کے ذمہ تو بجز تبلیغ کے اور کچھ نہیں اور اللہ (اس کو بھی) جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور (اس کو بھی) جو کچھ تم چھپاتے ہو۔قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ع﴿100﴾
آپ کہہ دیجئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوسکتے۔ گوتجھے ناپاک کی کثرت حیرت میں ڈالتی ہو۔ سو اے عقل والو ! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (پوری) فلاح پاجاؤ۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴿101﴾
اے ایمان والو ! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ اور اگر تم انہیں دریافت کرتے رہو گے اس زمانہ میں جب کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ اللہ نے ان کی بات درگزر کی اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا حلم والا ہے۔قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ﴿102﴾
لوگ تم سے قبل بھی ایسی ہی پوچھ پاچھ کرچکے ہیں پھر ان سے منکر ہوگئے۔مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ﴿103﴾
اللہ نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو نہ حامی کو۔ البتہ جو لوگ کافر ہیں وہی اللہ پر جھوٹ جوڑتے رہتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ﴿104﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ نازل کیا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ۔ تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے۔ تو کہنا چاہئے کہ انکے بڑے نہ کسی شے کا علم رکھتے ہوں نہ ہدایت ؟ ۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿105﴾
اے ایمان والو ! تم اپنی ہی فکر میں لگے رہو کوئی بھی گمراہ ہوجائے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں جب کہ تم راہ پر چل رہے ہوف۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کی واپسی ہے وہ تمہیں جتلا دے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ﴿106﴾
اے ایمان والو ! جب کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے وصیت کے وقت تمہارے آپس میں گواہ دو شخص تم میں سے معتبر ہوں۔ یا دو گواہ تم میں سے کے علاوہ ہوں۔ جب تم زمین پر سفر کررہے ہو اور تم پر موت کا واقعہ آپہنچے تو اگر تم کو شبہ ہوجائے۔ تو دونوں (گواہوں) کو بعد نماز روک رکھو اور وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہتے خواہ کسی قرابت دار (ہی کیلئے) ہو اور نہ ہم اللہ کی گواہی چھپائیں گے ورنہ ہم بیشک گنہہ گار ہوں گے۔فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿107﴾
پھر اگر خبر ہوجائے کہ وہ دونوں (وصی) حق بات دباگئے۔ تو دو گواہ ان کی جگہ اور مقرر ہوں ان لوگوں میں سے جن کا حق دبا ہے (میت کے) قریب ترلوگوں میں سے۔ اور یہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ درست ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی ہے ورنہ بیشک ہم ہی ظالم ٹھیریں گے۔ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ع﴿108﴾
یہ اس کا قریب ترین (طریقہ) ہے کہ لوگ گواہی ٹھیک دیں یا اس سے ڈرے رہیں کہ ہماری ان کی قسموں کے الٹی پڑیں گی۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے رہو اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ﴿109﴾
(اس دن سے ڈرو) جس دن اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا۔ پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا۔ وہ عرض کریں گے کہ ہم کو علم نہیں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جاننے وال تو بس تو ہی ہے۔اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴿110﴾
(وہ وقت یاد میں رکھو) جب اللہ عیسیٰ ابن مریم ؑ سے کہے گا کہ میرا انعام اپنے اور اپنی والدہ کے اوپر یاد کرو۔ جبکہ میں نے تمہاری تائید روح القدس (کے واسطہ) ۔ سے کی تھی تم آدمیوں سے کلام (ان کی) گود میں بھی کرتے تھے اور بڑی عمر میں بھی۔ اور جب کہ میں نے تمہیں کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل کی تعلیم دی۔ اور جب تم مٹی سے پرندہ جیسی ایک شکل میرے حکم سے وجود میں لاتے تھے پھر تم اس کے اندر پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا۔ اور تم مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کردیتے تھے اور جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑے کرتے تھے۔ اور جبکہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روک رکھا جب تم ان کے پاس روشن (نشانیاں) لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کفر اختیار کئے رہے وہ بولے کہ یہ تو اور کچھ نہیں ایک کھلا ہوا جادو ہے۔وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ﴿111﴾
اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب میں نے حواریوں کو حکم دیا کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر تو وہ بولے کہ ہم ایمان لے آئے اور آپ شاہد رہیے کہ ہم (پورے) فرمانبردار ہیں۔اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿112﴾
اور (وقت قابل ذکر ہے) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ؑ کیا آپ کا پروردگار اس کو جائز رکھتا ہے کہ ہم پر کھانا آسمان سے اتارے۔ (اس پر عیسیٰ ؑ نے) کہا کہ اللہ سے ڈرو ! اگر ایمان رکھتے ہو۔قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ﴿113﴾
وہ لوگ بولے کہ ہم تو (بس) یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور اپنے دلوں کو مطمئن کرلیں اور یقین کرلیں کہ آپ ہم سے سچ بولے ہیں اور اہم اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں۔قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴿114﴾
عیسیٰ ؑ ابن مریم ؑ نے دعا کی کہ اے اللہ۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے لئے ایک (خوان) طعام آسمان سے ایسا اتار دے کہ وہ ہمارے لئے (یعنی) ہم میں سے اگلوں اور پچھلوں کے لئے ایک جشن بن جائے اور تیری طرف سے ایک نشان ہوجائے تو ہمیں عطا کر اور تو ہی بہترین عطا کرنے والا ہے۔قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿115﴾
اللہ نے فرمایا کہ وہ کھانا ضرور تم پر اتار دوں گا۔ لیکن پھر جو کوئی تم میں سے کفر اختیار کرے گا اسے سزا بھی وہ دوں گا کہ وہ سزا دنیا والوں میں سے کسی کو بھی نہ دوں گا۔وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ﴿116﴾
اور (وہ وقت بھی قابل یاد رکھنے کے ہے) جب اللہ فرمائے گا۔ کہ اے عیسیٰ ؑ ابن مریم ؑ کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ ”خدا کے علاوہ مجھے اور میری والدہ کو بھی معبود بنالو“ ؟ ۔ (عیسی علیہ السلام) عرض کریں گے پاک ہے۔ تو میرے لئے یہ کسی طرح بھی ممکن نہ تھا کہ میں ایسی بات کہہ دیتا جس کا مجھے کوئی حق ہی نہ تھا اگر میں نے کہا ہوتا تو یقیناً تجھے اس کا علم ہوتا۔ تو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ تیرے دل میں ہے بیشک تو ہی تو ہے پوشیدہ چیزوں کا خوب جاننے والا۔مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ﴿117﴾
میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں کہا تھا بجز اس کے کہ جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا یعنی یہ کہ میرے اور اپنے پروردگار اللہ کی پرستش کرو۔ میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا پھر جب تو نے مجھے (دنیا سے) اٹھا لیا (جب سے) تو ہی ان پر نگران ہے اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے۔اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿118﴾
تو اگر انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ ۔ اور اگر تو انہیں بخش دے تو بھی تو زبردست ہے حکمت والا ہے۔قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴿119﴾
اللہ فرمائے گا آج وہ دن ہے جب سچوں کے کام ان کا سچ آئے گا۔ ان کیلئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش کو رہیں گے اللہ ان سے خوش رہا اور وہ اللہ سے خوش رہے یہی بڑی کامیابی ہے۔لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ع﴿120﴾
اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ انمیں ہے اس (سب) کی اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔