43. Az-Zukhrufالزخرف
Ornaments of gold · Meccan · 89 ayahs · 7 rukus · Nazar Ahmed
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حٰمٓۚۛ﴿1﴾
- حٰمٓحا۔ میم
ح موَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ﴿2﴾
- وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِقسم ہے واضح کتاب کی
قسم ہے اِس واضح کتاب کیاِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ﴿3﴾
- اِنَّابیشک ہم نے
- جَعَلْنٰهُبنایا ہم نے اس کو
- قُرْءٰنًاقرآن
- عَرَبِيًّاعربی
- لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَتاکہ تم ، تم سمجھ سکو
کہ ہم نے اِسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اِسے سمجھووَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ﴿4﴾
- وَاِنَّهٗاور بیشک وہ
- فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِام الکتاب میں ہے
- لَدَيْنَاہمارے پاس
- لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌالبتہ بلند ہے، حکمت سے لبریز ہے
اور در حقیقت یہ ام الکتاب میں ثبت ہے، ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاباَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ﴿5﴾
- اَفَنَضْرِبُکیا بھلا ہم چھوڑ دیں
- عَنْكُمُ الذِّكْرَتم سے ذکر کرنا
- صَفْحًادرگزر کرتے ہوئے۔ اعراض کرنے کی وجہ سے
- اَنْ كُنْتُمْکہ ہو تم
- قَوْمًاایک قوم
- مُّسْرِفِيْنَحد سے بڑھنے والی
اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑ دیں صرف اِس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو؟وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ﴿6﴾
- وَكَمْ اَرْسَلْنَااور کتنے ہی بھیجے ہم نے
- مِنْ نَّبِيٍّنبیوں میں سے
- فِي الْاَوَّلِيْنَپہلوں میں
پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیںوَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿7﴾
- وَمَا يَاْتِيْهِمْاور نہیں آیا ان کے پاس
- مِّنْ نَّبِيٍّکوئی نبی
- اِلَّا كَانُوْامگر وہ تھے
- بِهٖساتھ اس کے
- يَسْتَهْزِءُوْنَاتہزاء کرتے۔ مذاق اڑاتے
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی اُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہوفَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ﴿8﴾
- فَاَهْلَكْنَآتو ہلاک کردیا ہم نے
- اَشَدَّ مِنْهُمْسب سے طاقتور کو ان میں سے
- بَطْشًاپکڑ میں
- وَّمَضٰىاور گزر چکی
- مَثَلُ الْاَوَّلِيْنَمثال پہلوں کی
پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کر دیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیںوَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ﴿9﴾
- وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْاور البتہ اگر تم پوچھو ان سے
- مَّنْکس نے
- خَلَقَ السَّمٰوٰتِپیدا کیا آسمانوں کو
- وَالْاَرْضَاور زمین کو
- لَيَقُوْلُنَّالبتہ وہ ضرور کہیں گے
- خَلَقَهُنَّپیدا کیا ان کو
- الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُزبردست۔ غالب، علم والے نے
اگر تم اِن لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اُسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہےالَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ﴿10﴾
- الَّذِيْجس نے
- جَعَلَبنایا
- لَكُمُ الْاَرْضَتمہارے لیے زمین کو
- مَهْدًاگہوارہ
- وَّجَعَلَ لَكُمْاور بنائے تمہارے لیے
- فِيْهَااس میں
- سُبُلًاراستے
- لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَتاکہ تم، تم ہدایت پاؤ
وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکووَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ﴿11﴾
- وَالَّذِيْ نَزَّلَاور وہی ذات ہے جس نے نازل کیا
- مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
- مَآءًۢپانی
- بِقَدَرٍساتھ اندازے کے
- فَاَنْشَرْنَا بِهٖپھر زندہ کیا ہم نے ساتھ اس کے
- بَلْدَةً مَّيْتًامردہ زمین کو
- كَذٰلِكَاسی طرح
- تُخْرَجُوْنَتم نکالو جاؤ گے
جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھایا، اِسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کیے جاؤ گےوَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ﴿12﴾
- وَالَّذِيْاور وہ ذات
- خَلَقَ الْاَزْوَاجَجس نے بنائے جوڑے
- كُلَّهَاسارے کے سارے اس کے
- وَجَعَلَاور اس نے بنایا
- لَكُمْتمہارے لیے
- مِّنَسے
- الْفُلْكِکشتیوں میں (سے)
- وَالْاَنْعَامِاور مویشیوں میں سے
- مَا تَرْكَبُوْنَجو تم سواری کرتے ہو
وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے، اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم اُن کی پشت پر چڑھولِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ﴿13﴾
- لِتَسْتَوٗاتاکہ تم چڑھ بیٹھو
- عَلٰي ظُهُوْرِهٖان کی پشتوں پر
- ثُمَّ تَذْكُرُوْاپھر تم یاد کرو
- نِعْمَةَ رَبِّكُمْاپنے رب کی نعمت کو
- اِذَا اسْتَوَيْتُمْجب سوار ہو تم
- عَلَيْهِاس پر
- وَتَقُوْلُوْااور تم کہو
- سُبْحٰنَ الَّذِيْپاک ہے وہ ذات
- سَخَّرَ لَنَاجس نے مسخر کیا ہمارے لیے
- ھٰذَااس کو
- وَمَا كُنَّااور نہ تھے ہم
- لَهٗاس کے لیے
- مُقْرِنِيْنَقابو میں لانے والے
اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو اور کہو کہ "پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھےوَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ﴿14﴾
- وَاِنَّآاور بیشک ہم
- اِلٰى رَبِّنَااپنے رب کی طرف
- لَمُنْقَلِبُوْنَالبتہ پلٹنے والے ہیں
اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے"وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ع﴿15﴾
- وَجَعَلُوْااور انہوں نے بنادیا
- لَهٗاس کے لیے
- مِنْ عِبَادِهٖاس کے بندوں میں سے
- جُزْءًاایک جزو۔ حصہ
- ۭاِنَّ الْاِنْسَانَبیشک انسان
- لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌالبتہ ناشکرا ہے کھلم کھلا
(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی) اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا، حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہےاَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ﴿16﴾
- اَمِ اتَّخَذَیا اس نے انتخاب کرلیں
- مِمَّا يَخْلُقُاس میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے
- بَنٰتٍبیٹیاں
- وَّاَصْفٰىكُمْاور چن لیا تم کو
- بِالْبَنِيْنَساتھ بیٹوں کے
کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا؟وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ﴿17﴾
- وَاِذَا بُشِّرَحالانکہ جب خوش خبری دی جاتی ہے
- اَحَدُهُمْان میں سے کسی ایک کو
- بِمَاساتھ اس کے جو
- ضَرَبَ للرَّحْمٰنِاس نے بیان کیا رحمن کے لیے
- مَثَلًامثال
- ظَلَّہوجاتا ہے
- وَجْهُهٗاس کا چہرا
- مُسْوَدًّاسیاہ
- وَّهُوَ كَظِيْمٌاور وہ غم کے گھونٹ پینے والا ہوتا
اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمان کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہےاَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ﴿18﴾
- اَوَمَنْکیا بھلا جو
- يُّنَشَّؤُاپالا جاتا ہے
- فِيمیں
- الْحِلْيَةِزیورات (میں)
- وَهُوَ فِي الْخِصَامِاور وہ جھگڑے میں
- غَيْرُ مُبِيْنٍغیر واضح ہو
کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ﴿19﴾
- وَجَعَلُوااور انہوں نے بنا لیے
- الْمَلٰٓئِكَةَفرشتوں کو
- الَّذِيْنَان کو
- هُمْوہ جو
- عِبٰدُ الرَّحْمٰنِبندے ہیں رحمن کے
- اِنَاثًاعورتیں۔ بیٹیاں
- ۭاَشَهِدُوْاکیا وہ گواہ تھے۔ کیا وہ حاضر تھے
- خَلْقَهُمْان کی ساخت۔ ان کی تخلیق کے وقت
- سَتُكْتَبُضرور لکھی جائے گی
- شَهَادَتُهُمْان کی گواہی
- وَيُسْئَلُوْنَاور وہ پوچھے جائیں گے
انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمان کے خاص بندے ہیں، عورتیں قرار دے لیا کیا اُن کے جسم کی ساخت اِنہوں نے دیکھی ہے؟ اِن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گیوَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ﴿20﴾
- وَقَالُوْااور وہ کہتے ہیں
- لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُاگر چاہتا رحمن
- مَا عَبَدْنٰهُمْنہ ہم عبادت کرتے ان کی
- مَا لَهُمْنہیں ان کے لیے
- بِذٰلِكَساتھ اس کے
- مِنْ عِلْمٍکوئی علم
- اِنْ هُمْنہیں وہ
- اِلَّا يَخْرُصُوْنَمگر اندازے لگا رہے ہیں
یہ کہتے ہیں "اگر خدائے رحمٰن چاہتا (کہ ہم اُن کی عبادت نہ کریں) تو ہم کبھی اُن کو نہ پوجتے" یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے، محض تیر تکے لڑاتے ہیںاَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ﴿21﴾
- اَمْ اٰتَيْنٰهُمْیادی ہم نے ان کو
- كِتٰبًاایک کتاب
- مِّنْ قَبْلِهٖاس سے پہلے
- فَهُمْ بِهٖتو وہ اس کو
- مُسْتَمْسِكُوْنَپکڑ رہے ہیں
کیا ہم نے اِس سے پہلے کوئی کتاب اِن کو دی تھی جس کی سند (اپنی اِس ملائکہ پرستی کے لیے) یہ اپنے پاس رکھتے ہوں؟بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿22﴾
- بَلْبلکہ
- قَالُوْٓاانہوں نے کہا
- اِنَّابیشک ہم نے
- وَجَدْنَآپایا ہم نے
- اٰبَآءَنَااپنے آباؤ اجداد کو
- عَلٰٓي اُمَّةٍایک طریقے پر
- وَّ اِنَّااور بیشک ہم
- عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْان کے آچار پر۔ نقش قدم پر
- مُّهْتَدُوْنَہدایت یافتہ ہیں۔ راہ پانے والے ہیں
نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیںوَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ﴿23﴾
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- مَآنہیں
- اَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
- مِنْ قَبْلِكَآپ سے قبل
- فِيْ قَرْيَةٍکسی بستی میں
- مِّنْ نَّذِيْرٍکوئی ڈرانے والا
- اِلَّامگر
- قَالَکہا
- مُتْرَفُوْهَآاس کے خوش حال لوگوں نے
- ۙاِنَّا وَجَدْنَآبیشک ہم نے پایا ہم نے
- اٰبَآءَنَااپنے آباؤ اجداد کو
- عَلٰٓي اُمَّةٍایک طریقے پر
- وَّاِنَّا عَلٰٓياور بیشک ہم، پر
- اٰثٰرِهِمْان کے نقش قدم (پر)
- مُّقْتَدُوْنَپیروی کرنے والے ہیں
اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیںقٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿24﴾
- قٰلَاس نے کہا (نبی نے)
- اَوَلَوْکیا بھلا اگر
- جِئْتُكُمْمیں لایا ہوں تمہارے پاس
- بِاَهْدٰىزیادہ ہدایت والا
- مِمَّااس سے جو
- وَجَدْتُّمْپایا تم نے
- عَلَيْهِ اٰبَآءَكُمْاس پر اپنے آباؤ اجداد کو
- قَالُوْٓاانہوں نے کہا
- اِنَّابیشک ہم
- بِمَآ اُرْسِلْتُمْساتھ اس کے جو بھیجے گئے تم
- بِهٖساتھ اس کے
- كٰفِرُوْنَانکار کرنے والے ہیں
ہر نبی نے ان سے پوچھا، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں اُس راستے سے زیادہ صحیح راستہ تمہیں بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کے کافر ہیںفَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ع﴿25﴾
- فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْپس انتقام لیاہم نے ان سے
- فَانْظُرْتو دیکھو
- كَيْفَ كَانَکس طرح ہوا
- عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَانجام جھٹلانے والوں کا
آخر کار ہم نے اُن کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہواوَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ﴿26﴾
- وَاِذْ قَالَاور جب کہا
- اِبْرٰهِيْمُابراہیم نے
- لِاَبِيْهِاپنے والد سے
- وَقَوْمِهٖٓاور اپنی قوم سے
- اِنَّنِيْبیشک میں
- بَرَآءٌبےزار ہوں
- مِّمَّا تَعْبُدُوْنَاس سے جو تم عبادت کرتے ہو
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ "تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کوئی تعلق نہیںاِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ﴿27﴾
- اِلَّا الَّذِيْمگر وہ ذات
- فَطَرَنِيْجس نے پیدا کیا مجھ کو
- فَاِنَّهٗتو بیشک وہ
- سَيَهْدِيْنِعنقریب رہنمائی کرے گا میری
میرا تعلق صرف اُس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی کرے گا"وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿28﴾
- وَجَعَلَهَااور اس نے بنادیا اس کو
- كَلِمَةًۢ بَاقِيَةًایک بات باقی رہنے والی
- فِيْمیں
- عَقِبِهٖاس کی اولاد میں۔ اس کے پیچھے
- لَعَلَّهُمْشاید کہ وہ
- يَرْجِعُوْنَوہ لوٹ آئیں
اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اِس کی طرف رجوع کریںبَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ﴿29﴾
- بَلْ مَتَّعْتُبلکہ میں نے سامان زندگی دیا
- هٰٓؤُلَآءِان لوگوں کو
- وَاور
- اٰبَآءَهُمْان کے آباؤ اجداد کو
- حَتّٰىیہاں تک کہ
- جَآءَهُمُ الْحَقُّآگیا ان کے پاس حق
- وَرَسُوْلٌ مُّبِيْنٌاور رسول کھول کر بیان کرنے والا
(اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے ان کو مٹا نہیں دیا) بلکہ میں اِنہیں اور اِن کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیاوَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿30﴾
- وَلَمَّااور جب
- جَآءَهُمُ الْحَقُّآگیا ان کے پاس حق
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- ھٰذَا سِحْرٌیہ جادو ہے
- وَّاِنَّااور بیشک ہم
- بِهٖ كٰفِرُوْنَاس کا انکار کرنے والے ہیں
مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو اِنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیںوَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ﴿31﴾
- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- لَوْلَا نُزِّلَکیوں نہیں نازل کیا گیا
- ھٰذَا الْقُرْاٰنُیہ قرآن
- عَلٰي رَجُلٍاوپر کسی شخص کے
- مِّنَسے
- الْقَرْيَتَيْنِدو بستیوں میں
- عَظِيْمٍعظمت والے ۔ بڑے
کہتے ہیں، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا؟اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴿32﴾
- اَهُمْ يَقْسِمُوْنَکیا وہ تقسیم کرتے پھرتے ہیں
- رَحْمَتَ رَبِّكَرحمت تیرے رب کی
- نَحْنُ قَسَمْنَاہم نے تقسیم کی
- بَيْنَهُمْان کے درمیان
- مَّعِيْشَتَهُمْان کی معیشت
- فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی میں
- وَرَفَعْنَااور بلند کیا ہم نے
- بَعْضَهُمْان میں سے بعض کو
- فَوْقَ بَعْضٍبعض پر
- دَرَجٰتٍدرجوں میں
- لِّيَتَّخِذَتاکہ بنائیں
- بَعْضُهُمْان میں سے بعض
- بَعْضًا سُخْرِيًّابعض کو خدمت گار۔ تابع دار
- وَرَحْمَتُ رَبِّكَاور رحمت تیرے رب کی
- خَيْرٌبہتر ہے
- مِّمَّاہراس چیز سے
- يَجْمَعُوْنَجو وہ جمع کررہے ہیں
کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں، اور اِن میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (اِن کے رئیس) سمیٹ رہے ہیںوَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ﴿33﴾
- وَلَوْلَآاور اگر نہ ہو یہ بات
- اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُکہ ہوجائیں گے لوگ
- اُمَّةً وَّاحِدَةًایک ہی امت
- لَّجَعَلْنَاالبتہ ہم کردیں
- لِمَنْواسطے اس کے جو
- يَّكْفُرُکفر کرتا ہے
- بِالرَّحْمٰنِرحمن کے ساتھ
- لِبُيُوْتِهِمْان کے گھروں کے لیے
- سُقُفًاچھتیں
- مِّنْ فِضَّةٍچاندی سے
- وَّمَعَارِجَاور سیڑھیاں
- عَلَيْهَاان پر
- يَظْهَرُوْنَوہ چڑھتے ہوں
اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو خدائے رحمان سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیںوَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ﴿34﴾
- وَلِبُيُوْتِهِمْاور ان کے گھروں کے لیے
- اَبْوَابًادوازے
- وَّسُرُرًااور تخت
- عَلَيْهَااس پر
- يَتَّكِئُوْنَوہ تکیہ لگاتے ہوں
اور اُن کے دروازے، اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیںوَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ع﴿35﴾
- وَزُخْرُفًااور سونے کے
- وَاِنْ كُلُّاور بیشک سب
- ذٰلِكَسامان ہے
- لَمَّااگرچہ
- مَتَاعُسامان ہے
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی کا
- وَالْاٰخِرَةُاور آخرت
- عِنْدَ رَبِّكَتیرے رب کے ہاں
- لِلْمُتَّقِيْنَمتقی لوگوں کے لیے ہے
سب چاندی اور سونے کے بنوا دیتے یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے رب کے ہا ں صرف متقین کے لیے ہےوَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ﴿36﴾
- وَمَنْاور جو
- يَّعْشُغفلت برتتا ہے۔ اندھا بنتا ہے
- عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِرحمن کے ذکر سے
- نُقَيِّضْہم مقرر کردیتے ہیں
- لَهٗاس کے لیے
- شَيْطٰنًاایک شیطان
- فَهُوَ لَهٗتو وہ اس کا
- قَرِيْنٌدوست ہوجاتا ہے
جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہےوَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿37﴾
- وَاِنَّهُمْاور بیشک وہ
- لَيَصُدُّوْنَهُمْالبتہ روکتے ہیں ان کو
- عَنِ السَّبِيْلِراستے سے
- وَيَحْسَبُوْنَاور وہ سمجھتے ہیں
- اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَبیشک وہ ہدایت یافتہ ہیں
یہ شیاطین ایسے لوگو ں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیںحَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ﴿38﴾
- حَتّىٰٓیہاں تک کہ
- اِذَا جَآءَنَاجب وہ آئے گا ہمارے پاس
- قَالَکہے گا
- يٰلَيْتَاے کاش
- بَيْنِيْمیرے درمیان
- وَبَيْنَكَاور تمہارے درمیان
- بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِدوری ہوتی دو مشرقوں کی
- فَبِئْسَ الْقَرِيْنُتو بہت برا ساتھی (نکلا)
آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا، "کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بُعد ہوتا، تُو تو بد ترین ساتھی نکلا"وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ﴿39﴾
- وَلَنْاور ہرگز نہیں
- يَّنْفَعَكُمُنفع دے گا تم کو
- الْيَوْمَآج
- اِذْ ظَّلَمْتُمْجب ظلم کیا تم نے
- اَنَّكُمْبیشک تم
- فِي الْعَذَابِعذاب میں
- مُشْتَرِكُوْنَمشترک ہو
اُس وقت اِن لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کر چکے تو آج یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیںاَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿40﴾
- اَفَاَنْتَکیا بھلا تو
- تُسْمِعُ الصُّمَّتو سنوائے گا بہروں کو
- اَوْ تَهْدِيیا تو راہ دکھائے گا
- الْعُمْيَاندھوں کو
- وَمَنْ كَانَاور کوئی ہو وہ
- فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍکھلی گمراہی میں
اب کیا اے نبیؐ، تم بہروں کو سناؤ گے؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ گے؟فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ﴿41﴾
- فَاِمَّاپھر اگر
- نَذْهَبَنَّہم لے جائیں
- بِكَتجھ کو
- فَاِنَّاتو بیشک ہم
- مِنْهُمْان سے
- مُّنْتَقِمُوْنَانتقام لینے والے ہیں
اب تو ہمیں اِن کو سزا دینی ہے خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیںاَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ﴿42﴾
- اَوْ نُرِيَنَّكَیا ہم دکھائیں آپ کو
- الَّذِيْوہ چیز
- وَعَدْنٰهُمْوعدہ کیا ہم نے ان سے
- فَاِنَّاتو بیشک ہم
- عَلَيْهِمْان پر
- مُقْتَدِرُوْنَقدرت رکھنے والے
یا تم کو آنکھوں سے اِن کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے اِن سے وعدہ کیا ہے، ہمیں اِن پر پوری قدرت حاصل ہےفَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿43﴾
- فَاسْتَمْسِكْپس مضبوط تھام لو
- بِالَّذِيْٓاس چیز کو
- اُوْحِيَجو وحی کی جاتی ہے
- اِلَيْكَآپ کی طرف
- اِنَّكَبیشک آپ
- عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍسیدھے راستے پر ہیں
تم بہر حال اُس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہووَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ﴿44﴾
- وَاِنَّهٗاور بیشک وہ
- لَذِكْرٌالبتہ ذکر ہے
- لَّكَتیرے لیے
- وَلِقَوْمِكَاور تیری قوم کے لیے
- وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَاور عنقریب تم پوچھے جاؤ گے
حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہو گیوَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ع﴿45﴾
- وَسْئَلْاور پوچھ لیجئے
- مَنْ اَرْسَلْنَاجس کو بھیجا ہم نے
- مِنْ قَبْلِكَآپ سے قبل
- مِنْ رُّسُلِنَآاپنے رسولوں میں سے
- اَجَعَلْنَاکیا بنائے ہم نے
- مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِرحمن کے سوا
- اٰلِهَةًکچھ الہ
- يُّعْبَدُوْنَان کی بندگی کی جائے
تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے اُن سب سے پوچھ دیکھو، کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ اُن کی بندگی کی جائے؟وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿46﴾
- وَلَقَدْ اَرْسَلْنَااور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے
- مُوْسٰىموسیٰ کو
- بِاٰيٰتِنَآساتھ اپنی نشانیوں کے
- اِلٰىطرف
- فِرْعَوْنَفرعون کے
- وَمَلَا۟ئِهٖاور اس کے سرداروں کے
- فَقَالَتو اس نے کہا
- اِنِّىْ رَسُوْلُبیشک میں رسول ہوں
- رَبِّ الْعٰلَمِيْنَرب العالمین کا
ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اُس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جا کر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوںفَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ﴿47﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- جَآءَهُمْوہ لایا ان کے پاس
- بِاٰيٰتِنَآہماری آیات ۔ نشانیاں
- اِذَا هُمْتب وہ
- مِّنْهَاان پر۔ سے
- يَضْحَكُوْنَہنستے تھے
پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگےوَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿48﴾
- وَمَا نُرِيْهِمْاور نہیں ہم دکھاتے ان کو
- مِّنْ اٰيَةٍکوئی نشانی
- اِلَّا هِىَ اَكْبَرُمگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی
- مِنْ اُخْتِهَااپنی بہن سے
- وَاَخَذْنٰهُمْاور پکڑ لیا ہم نے ان کو
- بِالْعَذَابِعذاب میں۔ ساتھ عذاب کے
- لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَتاکہ وہ لوٹ آئیں
ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیںوَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ﴿49﴾
- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- يٰٓاَيُّهَ السّٰحِرُاے جادوگر
- ادْعُ لَنَادعا کرو ہمارے لیے
- رَبَّكَاپنے رب سے
- بِمَابوجہ اس کے جو
- عَهِدَ عِنْدَكَاس نے عہد کیا تیرے پاس
- اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَبیشک ہم البتہ ہدایت یافتہ ہیں
ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آ جائیں گےفَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ﴿50﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- كَشَفْنَاکھول دیا ہم نے
- عَنْهُمُ الْعَذَابَان سے عذاب کو
- اِذَا هُمْتب وہ
- يَنْكُثُوْنَپھرجاتے تھے
مگر جوں ہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھےوَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ﴿51﴾
- وَنَادٰىاور پکارا
- فِرْعَوْنُفرعون نے
- فِيْ قَوْمِهٖاپنی قوم میں
- قَالَ يٰقَوْمِکہا اے میری قوم
- اَلَيْسَکیا نہیں ہے
- لِيْمیرے لیے
- مُلْكُ مِصْرَبادشاہت مصر کی
- وَهٰذِهِاور یہ
- الْاَنْهٰرُدریا۔ نہریں
- تَجْرِيْجو بہتی ہیں
- مِنْ تَحْتِيْمیرے نیچے سے
- اَفَلَا تُبْصِرُوْنَکیا پھر نہیں تم دیکھتے
ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا، "لوگو، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا؟اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ﴿52﴾
- اَمْبلکہ
- اَنَامیں
- خَيْرٌبہتر ہوں
- مِّنْ ھٰذَا الَّذِيْاس (شخص) سے جو
- هُوَ مَهِيْنٌوہ حقیر ہے
- وَّلَااور نہیں
- يَكَادُقریب کہ وہ
- يُبِيْنُوہ واضح بات کرے
میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا؟فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ﴿53﴾
- فَلَوْلَآتو کیوں نہیں
- اُلْقِيَاتارے گئے
- عَلَيْهِاس پر
- اَسْوِرَةٌکنگن
- مِّنْ ذَهَبٍسونے کے
- اَوْ جَآءَیا آئے
- مَعَهُاس کے ساتھ
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- مُقْتَرِنِيْنَساتھ رہنے والے
کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا؟"فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ﴿54﴾
- فَاسْتَخَفَّتو ہلکایا پایا اس نے
- قَوْمَهٗاپنی قوم کو
- فَاَطَاعُوْهُتو انہوں نے اطاعت کی اس کی
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاتھے وہ
- قَوْمًا فٰسِقِيْنَفاسق قوم۔ لوگ
اُس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، در حقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگفَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ﴿55﴾
- فَلَمَّآتو جب
- اٰسَفُوْنَاوہ غصے میں لائے
- انْتَقَمْنَاانتقام لیا ہم نے
- مِنْهُمْان سے
- فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِيْنَتو غرق کردیا ہم نے ان سب کو
آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کر دیافَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ع﴿56﴾
- فَجَعَلْنٰهُمْتو بنادیا ہم نے ان کو
- سَلَفًاپیش رو
- وَّمَثَلًااور ایک مثال
- لِّلْاٰخِرِيْنَبعد والوں کے لیے
اور بعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیاوَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ﴿57﴾
- وَلَمَّا ضُرِبَاور جب بیان کیا گیا
- ابْنُ مَرْيَمَمریم کے بیٹے کو
- مَثَلًابطور مثال
- اِذَا قَوْمُكَاچانک تیری قوم
- مِنْهُ يَصِدُّوْنَاس سے تالیاں بجاتی ہے۔ چلاتی ہے
اور جونہی کہ ابن مریم کی مثال دی گئی، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غل مچا دیاوَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ﴿58﴾
- وَقَالُوْٓااور کہنے لگے
- ءَاٰلِهَتُنَاکیا ہمارے الہ
- خَيْرٌبہتر ہیں
- اَمْ هُوَیا وہ
- مَانہیں
- ضَرَبُوْهُ لَكَانہوں نے بیان کیا اس کو تیرے لیے
- اِلَّا جَدَلًامگر جھگڑے کے طور پر
- بَلْ هُمْبلکہ وہ
- قَوْمٌ خَصِمُوْنَایک قوم ہیں جھگڑالو
اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگاِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿59﴾
- اِنْ هُوَنہیں وہ
- اِلَّا عَبْدٌمگر ایک بندہ
- اَنْعَمْنَا عَلَيْهِانعام کیا ہم نے اس پر
- وَجَعَلْنٰهُاور بنادیا ہم نے اس کو
- مَثَلًاایک مثال
- لِّبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَاسرائیل کے لیے
ابن مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیاوَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ﴿60﴾
- وَلَوْ نَشَآءُاور اگر ہم چاہیں
- لَجَعَلْنَاالبتہ ہم بنادیں
- مِنْكُمْتم سے
- مَّلٰٓئِكَةًفرشتوں کو
- فِيمیں
- الْاَرْضِزمین (میں)
- يَخْلُفُوْنَوہ جانشنین ہوں
ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوںوَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿61﴾
- وَاِنَّهٗاور بیشک وہ
- لَعِلْمٌالبتہ ایک علامت ہے
- لِّلسَّاعَةِقیامت کی
- فَلَا تَمْتَرُنَّتو نہ تم شک کرنا
- بِهَاساتھ اس کے
- وَاتَّبِعُوْنِاور پیروی کرو میری
- ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌیہ ہے سیدھا راستہ
اور وہ دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے، پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہےوَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿62﴾
- وَلَا يَصُدَّنَّكُمُاور نہ روکے تم کو
- الشَّيْطٰنُشیطان
- اِنَّهٗبیشک وہ
- لَكُمْتمہارے لیے
- عَدُوٌّ مُّبِيْنٌدشمن ہے کھلا
ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہےوَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ﴿63﴾
- وَلَمَّا جَآءَاور جب لائے
- عِيْسٰىعیسیٰ
- بِالْبَيِّنٰتِکھلی نشانیاں
- قَالَاس نے کہا
- قَدْ جِئْتُكُمْتحقیق میں لایاہوں تمہارے پاس
- بِالْحِكْمَةِحکمت
- وَلِاُبَيِّنَاور تاکہ میں بیان کردوں
- لَكُمْتمہارے لیے
- بَعْضَ الَّذِيْبعض وہ چیز
- تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِتم اختلاف کرتے ہو جس میں
- فَاتَّقُوا اللّٰهَپس ڈرو اللہ سے
- وَاَطِيْعُوْنِاور اطاعت کرو میری
اور جب عیسیٰؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ "میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرواِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿64﴾
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ تعالیٰ
- هُوَ رَبِّيْوہ رب ہے میرا
- وَرَبُّكُمْاور رب تمہارا
- فَاعْبُدُوْهُپس عبادت کرو اس کی
- ھٰذَایہ ہے
- صِرَاطٌراستہ
- مُّسْتَقِيْمٌسیدھا
حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اُسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے"فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ﴿65﴾
- فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُپس اختلاف کیا گروہوں نے
- مِنْۢ بَيْنِهِمْان کے درمیان سے
- فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَپس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے
- ظَلَمُوْاجنہوں نے ظلم کیا
- مِنْ عَذَابِعذاب سے
- يَوْمٍ اَلِيْمٍدردناک دن کے
مگر (اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سےهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿66﴾
- هَلْنہیں
- يَنْظُرُوْنَوہ انتظار کرتے
- اِلَّا السَّاعَةَمگر قیامت کا
- اَنْ تَاْتِيَهُمْکہ آجائے ان کے پاس
- بَغْتَةًاچانک
- وَّهُمْاور وہ
- لَانہ
- يَشْعُرُوْنَشعور رکھتے ہوں
کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ع﴿67﴾
- اَلْاَخِلَّآءُدوست
- يَوْمَئِذٍۢآج کے دن
- بَعْضُهُمْان میں سے بعض
- لِبَعْضٍبعض کے لیے
- عَدُوٌّدشمن ہوں گے
- اِلَّا الْمُتَّقِيْنَمگر تقوی والے
وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گےیٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ﴿68﴾
- يٰعِبَادِاے میرے بندو
- لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُنہیں کوئی خوف تم پر
- الْيَوْمَآج
- وَلَآ اَنْتُمْاور نہ تم
- تَحْزَنُوْنَتم غمگین ہو گے
اُس روز اُن لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھےاَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ﴿69﴾
- اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْاوہ لوگ جو ایمان لائے
- بِاٰيٰتِنَاہماری آیات پر
- وَكَانُوْا مُسْلِمِيْنَاور تھے وہ مسلمان (ان سے کہا جائے گا)
کہا جائے گا کہ "اے میرے بندو، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگااُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ﴿70﴾
- اُدْخُلُوا الْجَنَّةَداخل ہوجاؤ جنت میں
- اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُكُمْتم اور تمہاری بیویاں
- تُحْبَرُوْنَتم خوش رکھے جاؤ گے
داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں، تمہیں خوش کر دیا جائے گا"یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ﴿71﴾
- يُطَافُگردش کرائے جائیں گے
- عَلَيْهِمْان پر
- بِصِحَافٍبڑے پیالے
- مِّنْ ذَهَبٍسونے کے
- وَّاَكْوَابٍاور ساغر
- وَفِيْهَااور اس میں
- مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُجو تمنا کریں گے نفس
- وَتَلَذُّ الْاَعْيُنُاور لذت پائیں گی نگاہیں
- وَاَنْتُمْ فِيْهَااور تم ان میں
- خٰلِدُوْنَہمیشہ رہنے والے ہو
اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی ان سے کہا جائے گا، "تم اب یہاں ہمیشہ رہو گےوَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿72﴾
- وَتِلْكَ الْجَنَّةُور یہ جنت
- الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَاوہ جو تم وارث بنائے گئے ہو اس کے
- بِمَا كُنْتُمْبوجہ اس کے جو تھے تم
- تَعْمَلُوْنَتم عمل کرتے
تم اِس جنت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہےلَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ﴿73﴾
- لَكُمْ فِيْهَاتمہارے لیے اس میں
- فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌپھل ہوں گے بہت سے
- مِّنْهَاان میں سے
- تَاْكُلُوْنَتم کھاؤ گے
تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے"اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ﴿74﴾
- اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَبیشک مجرم لوگ
- فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَجہنم کے عذاب میں
- خٰلِدُوْنَہمیشہ رہنے والے ہیں
رہے مجرمین، تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گےلَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ﴿75﴾
- لَانہ
- يُفَتَّرُکم کیا جائے گا
- عَنْهُمْان سے
- وَهُمْاور وہ
- فِيْهِ مُبْلِسُوْنَاس میں مایوس ہوں گے
کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہو گی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گےوَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ﴿76﴾
- وَمَا ظَلَمْنٰهُمْاور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر
- وَلٰكِنْ كَانُوْالیکن تھے وہ
- هُمُ الظّٰلِمِيْنَوہی ظالم
ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہےوَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ﴿77﴾
- وَنَادَوْااور وہ پکاریں گے
- يٰمٰلِكُاے مالک
- لِيَقْضِچاہیے کہ فیصلہ کردے
- عَلَيْنَا رَبُّكَہم پر تیرا رب
- قَالَ اِنَّكُمْکہے گا بیشک تم
- مّٰكِثُوْنَتم یونہی رہنے والے ہو
وہ پکاریں گے، "اے مالک، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے" وہ جواب دے گا، "تم یوں ہی پڑے رہو گےلَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ﴿78﴾
- لَقَدْ جِئْنٰكُمْالبتہ تحقیق لائے ہم تمہارے پاس
- بِالْحَقِّحق
- وَلٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْلیکن اکثر تمہارے
- لِلْحَقِّحق کے لیے
- كٰرِهُوْنَناگوار تھے
ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا"اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ﴿79﴾
- اَمْ اَبْرَمُوْٓابلکہ انہوں نے مقرر کیا
- اَمْرًاایک کام
- فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَتو بیشک ہم مقرر کرنے والے ہیں
کیا اِن لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیںاَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ﴿80﴾
- اَمْ يَحْسَبُوْنَیا وہ سمجھتے ہیں
- اَنَّابیشک ہم
- لَا نَسْمَعُنہیں ہم سنتے
- سِرَّهُمْان کی راز کی باتیں
- وَنَجْوٰىهُمْاور ان کی سرگوشیاں
- بَلٰىکیوں نہیں
- وَرُسُلُنَااور ہمارے بھیجے ہوئے
- لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَان کے پاس لکھ رہے ہیں
کیا اِنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور اِن کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے اِن کے پاس ہی لکھ رہے ہیںقُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ﴿81﴾
- قُلْکہہ دیجئے
- اِنْاگر
- كَانَ للرَّحْمٰنِہے رحمن کے لیے
- وَلَدٌکوئی بیٹا۔ اولاد
- فَاَنَاتو میں
- اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَسب سے پہلا ہوں عبادت کرنے والوں میں
اِن سے کہو، "اگر واقعی رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا"سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ﴿82﴾
- سُبْحٰنَپاک ہے
- رَبِّ السَّمٰوٰتِرب آسمانوں کا
- وَالْاَرْضِاور زمین کا
- رَبِّ الْعَرْشِرب عرش کا
- عَمَّا يَصِفُوْنَاس سے جو وہ بیان کرتے ہیں
پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیںفَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ﴿83﴾
- فَذَرْهُمْتو چھوڑ دو ان کو
- يَخُوْضُوْابحثیں کریں
- وَيَلْعَبُوْااور کھیلتے رہیں
- حَتّٰى يُلٰقُوْایہاں تک کہ وہ جاملیں
- يَوْمَهُمُاپنے دن سے
- الَّذِيْوہ جو
- يُوْعَدُوْنَوہ وعدہ کیے جاتے ہیں
اچھا، اِنہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہےوَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ﴿84﴾
- وَهُوَ الَّذِيْاور وہ اللہ وہ ذات ہے
- فِي السَّمَآءِجو آسمان میں
- اِلٰهٌالہ ہے
- وَّفِي الْاَرْضِاور زمین میں
- اِلٰهٌالہ ہے
- ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُاور وہ حکمت والا ہے، علم والا ہے
وہی ایک آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا، اور وہی حکیم و علیم ہےوَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿85﴾
- وَتَبٰرَكَاور بابرکت ہے
- الَّذِيْوہ ذات
- لَهٗاس کے لیے ہے
- مُلْكُ السَّمٰوٰتِبادشاہت آسمانوں کی
- وَالْاَرْضِاور زمین کی
- وَمَا بَيْنَهُمَااور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے
- وَعِنْدَهٗاور اسی کے پاس ہے
- عِلْمُ السَّاعَةِقیامت کا علم
- وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَاور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
بہت بالا و برتر ہے وہ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہر اُس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے اور وہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہووَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿86﴾
- وَلَااور نہیں
- يَمْلِكُ الَّذِيْنَمالک ہوسکتے۔ اختیار وہ لوگ رکھتے
- يَدْعُوْنَجن کو وہ پکارتے ہیں
- مِنْ دُوْنِهِاس کے سوا سے
- الشَّفَاعَةَشفاعت کے
- اِلَّامگر
- مَنْ شَهِدَجو گواہی دے
- بِالْحَقِّحق کے ساتھ
- وَهُمْ يَعْلَمُوْنَاور وہ، وہ جانتے ہوں
اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، الا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دےوَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ﴿87﴾
- وَلَئِنْاور البتہ اگر
- سَاَلْتَهُمْپوچھو تم ان سے
- مَّنْ خَلَقَهُمْکس نے پیدا کیا ان کو
- لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُالبتہ ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے
- فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَتو کہاں سے وہ دھوکہ کھا رہے ہیں۔ پھرائے جاتے ہیں
اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ اِنہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیںوَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ﴿88﴾
- وَقِيْلِهٖقسم ہے ان کے قول کی
- يٰرَبِّاے میرے رب
- اِنَّ هٰٓؤُلَآءِبیشک یہ
- قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَقوم ایمان نہیں رکھتی
قسم ہے رسولؐ کے اِس قول کی کہ اے رب، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتےفَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿89﴾
- فَاصْفَحْپس درگزر کرو
- عَنْهُمْان سے
- وَقُلْ سَلٰمٌاور کہو سلام
- ۭ فَسَوْفَپس عنقریب
- يَعْلَمُوْنَوہ جان لیں گے
اچھا، اے نبیؐ، اِن سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا