3. Aal-i-Imraanآل عمران
The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs · 20 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمَّٓۙ﴿1﴾
یہ الم ہےاللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ﴿2﴾
اللہ ہی معبود ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، زندہ اور قائم رکھنے والا۔نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ﴿3﴾
اس نے تم پر کتاب اتاری حق کے ساتھ مصداق اس کی جو اس کے لیے آگے سے موجود ہے اور اس نے تورات اور انجیل اتاری۔مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ﴿4﴾
اس سے پہلے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر۔ اور پھر فرقان اتارا۔ بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ﴿5﴾
اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میںهُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿6﴾
وہی ہے جو تمہاری صورت گری کرتا ہے رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر وہ، وہ غالب اور حکیم ہےهُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴿7﴾
وہی ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری جس میں محکم آیات ہیں جو اصل کتاب کا درجہ رکھتی ہیں اور دوسری کچھ آیتیں اس میں ایسی ہیں جو متشابہ ہیں۔ تو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اس میں سے متشابہات کے درپے ہوتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان کی حقیقت وماہیت معلوم کریں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تو جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب ہی کے پاس سے ہیں۔ اور یاد دہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں۔رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ﴿8﴾
اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ہدایت بخشنے کے بعد کج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت بخش، تو نہایت بخشنے والا ہے۔رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ع﴿9﴾
اے ہمارے پروردگار ! تو سب لوگوں کو ایک ایسے دن کے لیے جمع کر کے رہے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ﴿10﴾
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا، نہ ان کے مال خدا کے ہاں کچھ کام آئیں گے، نہ ان کی اولاد، اور وہی لوگ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿11﴾
ان کا بھی وہی حال ہونا ہے جو آل فرعون اور ان لوگوں کا ہوا جو ان سے پہلے گزرے۔ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا اور اللہ سخت پاداش والا ہےقُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ﴿12﴾
ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا ہے یہ کہہ دو کہ تم مغلوب ہوگے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤگے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ﴿13﴾
جن دو گروہوں میں مڈبھیڑ ہوئی ان کی سرگزشت میں تمہارے لیے نشانی ہے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا، دوسرا کافر تھا، یہ ان کو کھلم کھلا ان سے دوگنے دیکھتے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی تائید سے مدد فرماتا ہے۔ اس میں آنکھیں رکھنے والوں کے لیے بصیرت ہے۔زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ﴿14﴾
لوگوں کی نگاہوں میں مرغوباتِ دنیا عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان زدہ گھوڑے، چوپائے اور کھیتی کھبا دی گئی ہیں۔ یہ دنیوی زندگی کے سر و سامان ہیں اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ﴿15﴾
ان سے کہو، کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز کا پتہ دوں ؟ جو لوگ تقوی اختیار کریں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی خوشنودی ہوگی۔ اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا ہے۔اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ﴿16﴾
جو یہ دعا کرتے رہتے ہیں، اے ہمارے پر ودگار ! ہم ایمان لائے پس تو ہمارے گناہوں کو بخش اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ﴿17﴾
جو صابر، راستباز، فرمانبردار، راہ خدا میں خرچ کرنے والے اور اوقاتِ سحر میں مغفرت چاہنے والے ہیں۔شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ﴿18﴾
اللہ، فرشتوں اور علم کی گواہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عدل وقسط کا قائم رکھنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿19﴾
اللہ کا اصل دین اسلام ہے۔ اہل کتاب نے تو اس میں اختلاف علم حق کے آجانے کے بعد محض باہمی ضدم ضدا کے سبب سے کیا ہے۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کریں گے تو وہ یاد رکھیں کہ اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ع﴿20﴾
اگر وہ تم سے اس بارے میں جھگڑتے ہیں رہیں تو تم ان سے کہہ دو کہ میں نے اور میرے پیرو وں نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کیا اور اہل کتاب اور امیوں سے پوچھو کہ کیا تم بھی اسی طرح اسلام لاتے ہو ؟ اگر وہ بھی اسی طرح اسلام لائے تو وہ راہ یاب ہوئے اور اگر وہ اعراض کریں تو تمہارے اوپر ذمہ داری صرف پہنچا دینے کی ہے، اللہ اپنے بندوں کا نگران حال ہےاِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿21﴾
جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے ہیں، نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہیں جو لوگوں میں سے عدل و قسط کی دعوت لے کر اٹھے تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿22﴾
یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت گئے اور ان کا کوئی مدد کرنے والا نہ بنے گا۔اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿23﴾
ذرا ان کو تو دیکھو جن کو کتاب الٰہی کا ایک حصہ عطا ہوا، ان کو اللہ کی کتاب ہی کی طرف دعوت دی جا رہی ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، پھر ان کا ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے اور یہ منہ پھیر لینے ہی والے لوگ ہیں۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿24﴾
یہ اس سبب سے ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو دوزخ کی آگ بس گنتی کے چند دن چھوئے گی۔ یہ جو کچھ گھڑتے رہے ہیں اس نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا ہے۔فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿25﴾
اس وقت کیا ہوگا جب ہم ان کو ایک ایسے دن کے لیے اکٹھا کریں گے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر جان کو جو اس نے کمائی کی ہوگی پوری کی جائے گی، ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿26﴾
دعا کرو، اے اللہ، بادشاہی کے مالک، تو ہی جس کو چاہے بادشاہی دے، جس سے چاہے بادشاہی چھینے اور تو ہی جس کو چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں خیر ہے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿27﴾
تو، رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے زندہ کو مردہ سے اور ظاہر کرتا ہے مردہ کو زندہ سے اور تو جس پر چاہتا ہے اپنا بےحساب فضل کرتا ہے۔لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ﴿28﴾
اہل ایمان مومنوں کے برخلاف کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کریں گے تو اللہ سے ان کو کوئی تعلق نہیں، مگر یہ کہ تم ان سے بچو جیسا بچنے کا حق ہے، اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿29﴾
کہہ دو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو چھپا یا ظاہر کرو، اللہ اس سے باخبر ہے اور وہ اس سب کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ع﴿30﴾
جس دن ہر جان اپنی کی ہوئی نیکی کو اپنے سامنے موجود پائے گی اور جو برائی کی ہوگی اس کو بھی موجود پائے گی اور وہ آرزو کرے گی کہ کاش اس کے اور اس کے درمیان ایک زمانہ دراز حائل ہوتا اور اللہ اپنی ذات سے تمہیں ہوشیار کرتا ہے، اللہ اپنے بندوں کے ساتھ بڑا مہربان ہےقُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿31﴾
کہہ دو ، اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم کو دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو بخشے گا، اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ﴿32﴾
کہہ دو کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی، اگر یہ اعراض کریں تو یاد رکھیں کہ اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ﴿33﴾
اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو اہل عالم کی رہنمائی کے لیے منتخب فرمایا۔ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ﴿34﴾
یہ ایک دوسرے کی ذریت ہیں۔ اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿35﴾
یاد کرو جب عمران کی بیوی نے دعا کی کہ اے میرے رب جو بچہ میرے پیٹے میں ہے میں نے اس کو ہر چیز سے چھڑا کر تیرے لیے خاص کیا، سو تو اس کو میری طرف سے قبول فرما، بیشک تو ہی ہے جو سننے والا جاننے والا ہے۔فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ﴿36﴾
تو جب اس نے اس کو جنا تو اس نے کہا کہ اے رب یہ تو میں لڑکی جنی ہوں۔ اور اللہ کو خوب پتا تھا اس چیز کا جو وہ جنی تھی۔ اور لڑکا لڑکی کی مانند تو نہیں ہوتا، اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان رحیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿37﴾
تو اس کے رب نے اس کو اپنی پسندیدگی کی قبولیت سے نوازا، اس کو عمدہ طریقے پر پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنایا۔ جب جب زکریا محراب میں اس کے پاس جاتا وہاں رزق پاتا، اس نے پوچھا اے مریم یہ چیز تمہیں کہاں سے حاصل ہوتی ہے۔ اس نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ بیشک اللہ جس پر چاہے بےحساب فضل فرماتا ہےهُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ﴿38﴾
اس وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا۔ اس نے دعا کی اے میرے پروردگار ! تو مجھے بھی اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو دعا سننے والا ہے۔فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿39﴾
تو فرشتوں نے اس کو ندا دی جب کہ وہ محرب میں نماز میں کھڑا تھا کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے، جو اللہ کے ایک کلمہ کے مصداق، سردار، لذاتِ دنیا سے کنارہ کش اور زمرہ صالحین سے نبی ہوں گے۔قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ﴿40﴾
اس نے کہا اے میرے رب میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، میں تو بوڑھا ہوچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے ؟ فرمایا، اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ع﴿41﴾
اس نے کہا اے میرے رب تو میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دے۔ فرمایا تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا مگر اشارے سے۔ اور اپنے رب کو بہت زیادہ یاد کیجیو اور صبح وشام اس کی تسبیح کیجیووَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ﴿42﴾
اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ نے تم کو برگزیدہ کیا۔ تم کو پاک کیا اور تم کو دنیا کی عورتوں پر ترجیح دی۔یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ﴿43﴾
اے مریم اپنے رب کی فرمانبرداری میں لگی رہو اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرتی رہو۔ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ﴿44﴾
یہ غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم تم کو وحی کر رہے ہیں اور تم ان کے پاس موجود نہیں تھے جب وہ اپنے قرعے ڈال رہے تھے کہ کون مریم کی سرپرستی کرے اور تم اس وقت بھی انکے پاس موجود نہ تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ﴿45﴾
یاد کرو، جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ذی وجاہت اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿46﴾
وہ لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرے گا اور ادھیڑ ہو کر بھی اور وہ صالحین کے زمرے میں سے ہوگا۔قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴿47﴾
وہ بولی کہ اے میرے پروردگار میرے کس طرح لڑکا ہوگا جب کہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ارشاد ہوا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی امر کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہےوَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ﴿48﴾
اور اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور حکمت، تورات اور انجیل سکھائے گا۔وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ﴿49﴾
اور اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ چناچہ اس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ میں تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لیے مٹی سے پرندوں کی صورت کے مانند صورت بناتا ہوں پھر اس میں پھوک مار دیتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتی ہے اور میں اللہ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی کو اچھا اور مردوں کو زندہ کردیتا ہوں اور میں تمہیں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم کھاتے اور ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں۔ بیشک ان باتوں کے اندر تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو۔وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ﴿50﴾
اور میں مصداق ہوں اپنے سے پیشتر سے آئی ہوئی تورات کا اور اس لیے آیا ہوں کہ بعض چیزوں کو تمہارے لیے حلال ٹھہراؤں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں اور میں تمہارے پاس تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿51﴾
بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے، تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴿52﴾
پس جب عیسیٰ نے ان کی طرف سے کفر کو بھانپ لیا تو اس نے دعوت دی کہ کون میرا مددگار بنتا ہے اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار اور آپ گواہ رہئے کہ ہم مسلم ہیں۔رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ﴿53﴾
اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کی پیروی کی سو تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ۔وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ع﴿54﴾
اور انہوں نے خفیہ چالیں چلیں تو اللہ نے بھی ان کا خفیہ توڑ کیا اور اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے۔اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ﴿55﴾
جب کہ اللہ نے کہا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں قبض کرلینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان سے تمہیں پاک کرنے والا ہوں۔ جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ہے ان کو قیامت تک کے لیے ان لوگوں پر غالب کرنے والا ہوں جنہوں نے تمہارا انکار کیا ہے۔ پھر میری طرف تم سب کا پلٹنا ہوگا اور میں تمہارے درمیان ان چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿56﴾
تو جن لوگوں نے کفر کیا ان کو سخت عذاب دوں گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ﴿57﴾
رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ان کو ان کا پورا اجر دے گا اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ﴿58﴾
یہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں اپنی آیات اور اپنی پر حکمت یاد دہانی میں سے۔اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴿59﴾
عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اس کو مٹی سے بنایا، پھر اس کو امر کیا کہ ہوجا تو وہ ہوگیا۔اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ﴿60﴾
یہی بات تمہارے رب کی طرف سے حق ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ﴿61﴾
سو جو تم سے اس بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہارے پاس صحیح علم آچکا ہے تو ان سے کہو کہ آؤ، ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں، تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی عورتوں کو جمع کریں، تم اپنی عورتوں کو جمع کرو، ہم اپنے آپ کو اکٹھا کریں، تم اپنے آپ کو اکٹھا کرو، پھر ہم مل کر دعا کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿62﴾
بیشک یہی سچا بیان ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی عزیز اور حکیم ہے۔فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿63﴾
پس اگر وہ اعراض کریں تو اللہ مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴿64﴾
کہہ دو ، اے اہل کتاب اس چیز کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے۔ اگر وہ اس چیز سے اعراض کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں۔یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿65﴾
اے اہل کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں حجت کرتے ہو۔ در آنحالیکہ تورات اور انجیل نہیں نازل کی گئی ہیں مگر اس کے بعد ؟ کیا تم اس بات کو نہیں سمجھتے ؟هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿66﴾
تمہیں لوگ ہو کہ تم نے حجت کی ان چیزوں کے بارے میں جن کے باب میں تمہیں کچھ علم تھا تو اس چیز کے بارے میں کیوں حجت کرتے ہو جس کے باب میں تمہیں کوئی علم نہیں۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿67﴾
ابراہیم نہ تو یہودی تھا، نہ نصرانی، بلکہ حنیف مسلم تھا، اور وہ مشرکین میں سے بھی نہ تھا۔اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿68﴾
ابراہیم کے ساتھ نسبت کے سب سے زیادہ حقدار وہ ہیں جنہوں نے اس کی پیروی کی، پھر یہ پیغمبر ہیں اور جو ان پر ایمان لائے اور اللہ اہل ایمان کا ساتھی ہے۔وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ﴿69﴾
اہل کتاب کا ایک گروہ یہ آرزو رکھتا ہے کہ کاش تمہیں گمراہ کردیں۔ حالانکہ وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے ہی کو۔ لیکن وہ اس کا احساس نہیں کرتے۔یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ﴿70﴾
اے اہل کتاب اللہ کی آیات کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم گواہ ہو۔یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ع﴿71﴾
اے اہل کتاب تم کیوں حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ کرتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو در آنحالیکہ تم جانتے ہو۔وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ﴿72﴾
اور اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے کہ مسلمانوں پر جو چیز نازل کی گئی ہے اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو اس کا انکار کردیا کرو تاکہ وہ بھی اس سے برگشتہ ہوں۔وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ﴿73﴾
اور تم اپنے دین کی پیروی کرنے والے کے سوا اور کسی کی بات کا اعتبار نہ کیا کرو۔ ان سے کہو کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ کہ مبادا اس طرح کی چیز کسی اور کو بھی مل جائے جس طرح کی چیز تمہیں ملی ہے یا وہ تم سے تمہارے رب کے حضور حجت کرسکیں۔ ان سے کہو کہ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی سمائی رکھنے والا اور علم والا ہے۔یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿74﴾
وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے خاص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿75﴾
اور اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر ان کے پاس امانت کا ڈھیر بھی رکھو تو مانگنے پر لوٹا دیں گے اور ان میں وہ بھی ہیں کہ اگر تم ان کی امانت میں ایک دینار بھی رکھو تو وہ اس وقت تک اس کو لوٹانے والے نہیں ہیں جب تک تم ان کے سر پر سوار نہ ہوجاؤ۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان امیوں کے معاملے میں ہمارے اوپر کوئی الزام نہیں ہے۔ اور یہ جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿76﴾
ہاں، جو لوگ اس کے عہد کو پورا کریں گے اور اللہ سے ڈریں گے تو بیشک اللہ اپنے سے ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿77﴾
جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو ایک حقیر قیمت کے عوض بیچتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور اللہ نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿78﴾
اور ان میں ایک گروہ ان لوگوں کا بھی ہے جو اپنی زبان کو کتاب الٰہی کے ساتھ توڑتا موڑتا ہے تاکہ تم اس کو کتاب الٰہی کا ایک حصہ سمجھو حالانکہ وہ کتاب الٰہی کا حصہ نہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے حالانکہ وہ اللہ کے پاس سے نہیں ہے۔ وہ اللہ پر جانتے بوجھتے جھوٹ باندھتے ہیں۔مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ﴿79﴾
کسی بشر کی شان نہیں کہ اللہ اس کو کتاب، قوتِ فیصلہ اور منصب نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں کو یہ دعوت دے کہ لوگو ! اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو لوگوں کو یہی دعوت دے گا کہ لوگو ! اللہ والے بنو، بوجہ اس کے کہ تم کتاب الٰہی کی دوسروں کو تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اس کو پڑھتے ہو۔وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ع﴿80﴾
اور نہ یہ ممکن ہے کہ وہ تمہیں یہ حکم دے کہ فرشتوں اور نبیوں کو رب بناؤ۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم خدا کے فرمانبردار ہو۔وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ﴿81﴾
اور یاد کرو جب کہ خدا نے تم سے نبیوں کے بارے میں میثاق لیا۔ ہر گاہ میں نے تمہیں کتاب اور حکمت عطا فرمائی، پھر آئے گا تمہارے پاس ایک رسول مصداق بن کر ان پیشین گوئیوں کا جو تمہارے پاس موجود ہیں تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ پوچھا کیا تم نے اس امر کا اقرار کیا اور اس پر میری ڈالی ہوئی ذمہ داری تم نے اٹھائی، بولے کہ ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا کہ تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿82﴾
تو جو لوگ اس عہد کے بعد پھرجائیں گے وہی لوگ نافرمان ٹھہریں گے۔اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ﴿83﴾
کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ جو آسمان و زمین میں ہیں طوعاً و کرہاً سب اسی کے فرمانبردار ہیں اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ﴿84﴾
تم کہہ دو کہ ہم تو اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے جو ہم پر اتاری گئی اور اس چیز پر جو ابراہیم اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور اس چیز پر جو موسیٰ ، عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے دی گئی، ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿85﴾
اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب بنے گا تو وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا۔كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴿86﴾
اللہ ان لوگوں کو کس طرح بامراد کرے گا جنہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا در آنحالیکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں بھی آچکی ہیں اور اللہ ظالموں کو بامراد نہیں کرے گا۔اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ﴿87﴾
ان لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہوگی۔خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ﴿88﴾
وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا، نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿89﴾
البتہ جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ﴿90﴾
جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی اور یہی لوگ اصلی گمراہ ہیں۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠ع﴿91﴾
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی کفر کی حالت میں مر گئے اگر وہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دیں تو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے لیے عذاب دردناک ہے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ﴿92﴾
تم خدا کی وفا داری کا درجہ ہرگز نہیں حاصل کرسکتے جب تک ان چیزوں میں سے نہ خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ اس سے باخبر ہے۔كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿93﴾
کھانے کی ساری چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں، مگر وہ جو اسرائیل نے تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے اپنے اوپر حرام ٹھہرا لی تھیں۔ کہہ دو لاؤ تورات اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو۔فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ﴿94﴾
جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ پر جھوٹ باندھیں وہی لوگ ظالم ہیں۔قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿95﴾
کہہ دو اللہ نے سچ فرمایا تو ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو حنیف تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا۔اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ﴿96﴾
بیشک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے۔ عالم والوں کے لیے برکت اور ہدایت کا مرکز۔فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ﴿97﴾
وہاں واضح نشانیاں ہیں۔ مسکنِ ابراہیم ہے۔ جو اس میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے۔ اور جو لوگ وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان کے اوپر اللہ کے لیے اس گھر کا حج ہے اور جس نے کفر کیا تو اللہ عالم والوں سے بےپروا ہے۔قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ﴿98﴾
پو چھو اے اہل کتاب تم اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو۔ در آنحالیکہ جو کچھ تم کر رہے ہو سب خدا کی نظر میں ہے۔قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿99﴾
کہو، اے اہل کتاب تم ایمان لانے والوں کو اللہ کی راہ سے کیوں روک رہے ہو، تم اس میں کجی پیدا کرنی چاہتے ہو حالانکہ تم گواہ بنائے گئے ہو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ﴿100﴾
اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لوگے تو یہ تم کو تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی طرف پلٹا دیں گے۔وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ع﴿101﴾
اور تمہارا کفر میں پڑنا کس طرح جائز ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے اندر اس کا رسول موجود ہے اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو وہی ہے جس کو صراط مستقیم کی ہدایت ملی۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴿102﴾
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرو تم مگر اس حال میں کہ تم اسلام پر ہو۔وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ﴿103﴾
اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور پراگندہ نہ ہو اور اپنے اوپر اللہ کے اس فضل کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے بالکل کنارے پر کھڑے تھے تو اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی ہدایات کو واضح کرتا ہے تاکہ تم راہ یاب ہو۔وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿104﴾
اور چاہیے کہ تم میں ایک گروہ ایسا ہو جو نیکی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ﴿105﴾
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو پراگندہ ہوگئے اور جنہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں اور وہی ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ﴿106﴾
اس دن جس کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ہے تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں۔وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿107﴾
رہے وہ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت کے سایہ میں ہوں گے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ﴿108﴾
یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ عالم والوں پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا۔وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ع﴿109﴾
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کے لیے اور سارے معاملات اللہ ہی کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں۔كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿110﴾
تم بہترین امت ہو، لوگوں کی رہنمائی کے لیے معبوث کیے گئے ہو، معروف کا حکم دیتے ہو، منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے یہ بہتر ہوتا ان میں سے کچھ تو مومن ہیں اور اکثر نافرمان ہیں۔لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ﴿111﴾
وہ تمہیں تھوڑی سی زبان درازی کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اگر وہ تم سے جنگ کریں گے تو پیٹھ دکھائیں گے پھر ان کی کوئی مدد بھی نہیں ہوگی۔ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ﴿112﴾
وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان پر ذلت تھوپ دی گئی ہے۔ بس اگر کچھ سہارا ہے تو اللہ اور لوگوں کے کسی عہد کے تحت۔ وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں اور ان پر پست ہمتی تھوپ دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کی آیتوں کا انکار اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں کیونکہ یہ نافرمان اور حد سے آگے بڑھنے والے رہے ہیں۔لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ﴿113﴾
سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں ایک گروہ عہد پر قائم ہے۔ یہ رات کے وقتوں میں اللہ کی آیات کی تلاوت اور سجدہ کرتے ہیں۔یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿114﴾
اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، معروف کا حکم دیتے ہیں، منکر سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سبقت کرتے ہیں اور یہ لوگ نیکو کاروں میں سے ہیں۔وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ﴿115﴾
جو نیکی بھی یہ کریں گے تو اس سے محروم نہیں کیے جائیں گے اور اللہ خدا ترسوں سے باخبر ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿116﴾
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے مال اور ان کی اولاد خدا کے مقابل میں کام آنے والے نہیں۔ یہ لوگ دوزخی ہوں گے اور وہ اسی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿117﴾
یہ جو کچھ اس دنیا میں خرچ کرتے ہیں اس کی تمثیل ایسی ہے کہ کسی ایسی قوم کی کھیتی پر جس نے اپنے اوپر ظلم کیا ہو، پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو تباہ کر کے رکھ دے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے ہیں۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿118﴾
اے ایمان والو ! اپنے سے باہر والوں کو اپنا محرم راز نہ بناؤ، یہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ یہ تمہارے لیے زحمتوں کے خواہاں ہیں۔ ان کی عداوت ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی سخت تر ہے۔ ہم نے تمہارے لیے اپنی تنبیہات واضح کردی ہیں اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿119﴾
یہ تمہی ہو کہ تم ان سے دوستی رکھتے ہو، وہ تو تم سے دوستی نہیں رکھتے حالانکہ تم ساری کتاب پر ایمان رکھتے ہو۔ اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں، کہہ دو تم اپنے غصے میں مر جاؤ، اللہ سینوں کے بھید سے خوب واقف ہے۔اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ع﴿120﴾
اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے اور اگر تم کو کوئی گزند پہنچ جاتا ہے تو اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کروگے اور تقوی اختیار کروگے تو ان کی چال تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ اس کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿121﴾
اور یاد کرو جب کہ تم اپنے گھر سے نکلے مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں مامور کرنے کے لیے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿122﴾
جب کہ تم میں سے دو جماعتوں نے حوصلہ چھوڑ دینے کا ارادہ کیا حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا۔ اور اللہ ہی پر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں۔وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿123﴾
اور اللہ نے تو تمہاری مدد بدر میں بھی کی جب کہ تم نہایت کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ اس کے شکر گزار رہ سکو۔اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ﴿124﴾
یاد کرو کہ جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تین ہزار تازہ دم فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے ؟۔بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ﴿125﴾
ہاں اگر تم ثابت قدم رہو گے اور بچتے رہو گے اور وہ تمہارے اوپر بھی آدھمکے، تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا، جو اپنے خاص نشان لگائے ہوئے ہوں گے۔وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ﴿126﴾
اور اللہ نے اس کو نہیں بنایا مگر تمہارے لیے بشارت اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں، اور مدد نہیں آتی مگر خدائے غالب و حکیم ہی کے پاس سے۔لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ﴿127﴾
تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصے کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کردے کہ وہ خوار ہو کر لوٹیں۔لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ﴿128﴾
تمہیں اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں، خدا ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے۔ کیونکہ وہ ظالم ہیں۔وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿129﴾
اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ غفور رحیم ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ﴿130﴾
اے ایمان والو ! سود نہ کھاؤ دگنا چوگنا بڑھتا ہوا۔ اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ﴿131﴾
اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار ہے۔وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ﴿132﴾
اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ﴿133﴾
اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کے لیے مسابقت کرو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے، یہ پرہیز گاروں کے لیے تیار ہے۔الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ﴿134﴾
ان لوگوں کے لیے جو کشادگی اور تنگی ہر حال میں خرچ کرتے رہتے ہیں، غصہ کو ضبط کرنے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے۔وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿135﴾
یہ لوگ جب کسی کھلی برائی کا ارتکاب یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخشے۔ اور یہ جانتے بوجھتے اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ﴿136﴾
یہ لوگ ہیں کہ ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور کیا ہی خوب صلہ ہے کارگزاروں کے لیے !۔قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ﴿137﴾
تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں تو زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ﴿138﴾
یہ تنبیہ ہے لوگوں کے لیے اور ہدایت و نصیحت ہے ڈرنے والوں کے لیے۔وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿139﴾
اور پست ہمت نہ ہو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تمہی غالب رہو گے۔اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿140﴾
اگر تمہیں کوئی چوٹ پہنچے تو اس سے پست ہمت نہ ہو آخر دشمن کو بھی تو اسی طرح کی چوٹ پہنچی ہے۔ یہ ایام اسی طرح ہم لوگوں کے اندر الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان کرے اور ممیز کردے ایمان والوں کو، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ﴿141﴾
اور تاکہ اللہ مومنوں کو چھانٹ کر الگ کردے اور کافروں کو مٹا دے۔اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ﴿142﴾
کیا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں جا داخل ہوگے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو ممیز نہیں کیا جنہوں نے جہاد کیا اور تاکہ ممیز کرے ثابت قدم رہنے والوں کو۔وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ع﴿143﴾
اور تم موت کی تمنا کر رہے تھے اس سے ملنے سے پہلے سو اب تم نے اس کو دیکھ لیا، آنکھیں چار کر کے۔وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن﴿144﴾
محمد تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا گئے یا قتل کردئیے گئے تو تم پیٹھ پیچھے پھر جاؤ گے جو پیٹھ پیچھے پھرجائے گا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر گزاروں کو صلہ عطا فرمائے گا۔وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ﴿145﴾
اور کوئی جان مر نہیں سکتی مگر اللہ کے حکم سے ایک مقررہ نوشتہ کے مطابق۔ جو دنیا کا صلہ چاہتے ہیں ہم انہیں دنیا میں سے دیتے ہیں اور جو اجرِ آخرت کے طالب ہیں ہم انہیں اس میں سے دیں گے اور ہم شکر گزاروں کو بھر پور صلہ دیں گے۔وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ﴿146﴾
اور کتنے انبیا گزرے ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی تو وہ ان مصیبتوں کے سبب سے جو انہیں خدا کی راہ میں پہنچیں نہ تو پست ہمت ہوئے نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ دشمنوں کے آگے گھٹنے ٹیکے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ﴿147﴾
ان کی دعا تو ہمیشہ بس یہ رہی کہ اے رب ہمارے گناہوں اور ہمارے معاملے میں ہماری بےاعتدالیوں کو بخش دے، ہمارے قدم جمائے رکھ اور کافروں کے مقابل میں ہماری مدد فرما۔فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ع﴿148﴾
تو اللہ نے ان کو دنیا کا صلہ بھی عطا فرمایا، اور آخرت کے اچھے اجر سے بھی نوازا۔ اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ﴿149﴾
اے ایمان والو، اگر تم کافروں کی بات مانو گے تو یہ تمہیں پیٹھ پیچھے لوٹا کے رہیں گے اور تم نامراد ہو کے رہ جاؤ گے۔بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ﴿150﴾
تمہارا مولی تو اللہ ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ﴿151﴾
ہم ان کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہےوَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ﴿152﴾
اور اللہ نے تو تم سے جو وعدہ کیا وہ سچ کر دکھایا جب کہ تم ان کو اللہ کے حکم سے تہ تیغ کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم خود ڈھیلے پڑگئے اور حکم میں تم نے اختلاف کی اور رسول کی نافرمانی کی جب کہ اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھا دی تھی جس کے تم تمنائی تھے۔ تم میں کچھ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کے۔ پھر خدا نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائش میں ڈالے اور اللہ مسلمانوں پر فضل فرمانے والا ہے۔اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿153﴾
یاد کرو، جب کہ تم منہ اٹھائے بھاگے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اور خدا کا رسول تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہا تھا تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ تم دل شکستہ نہ ہوا کرو، نہ کسی نقصان پر اور نہ کسی مصیبت پر اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے۔ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿154﴾
پھر خدا نے تم پر غم کے بعد اطمینان نازل فرمایا یعنی نیند جو آ کر تم میں سے ایک گروہ کو چھا لیتی ہے اور ایک گروہ کو اپنی جانوں کی پڑی رہی۔ یہ خدا کے بارے میں خلافِ حقیقت زمانہ جاہلیت کے قسم کی بدگمانیوں میں مبتلا رہے۔ یہ کہتے رہے کہ بھلا ہمیں ان معاملات میں کیا دخل ؟ کہہ دو سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں وہ کچھ چھپائے ہوئے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ وہ دل میں کہتے ہیں کہ اگر اس امر میں کچھ ہمارا بھی دخل ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔ کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے جب بھی جن کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کے رہتے۔ یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تم میں امتیاز کرے، جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اس کو پرکھے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو صاف کرے اور اللہ کے سینوں کے بھیدوں سے خوب واقف ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ع﴿155﴾
دونوں گروہوں کی مڈبھیڑ کے دن جو لوگ تم میں سے پھرگئے ان کو شیطان نے ان کی بعض کرتوتوں کے سب سے پھسلا دیا۔ اللہ نے ان سے درگزر فرمایا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿156﴾
اے ایمان والو ! ان لوگوں کے مانند نہ بن جانا جنہوں نے کفر کیا اور جو اپنے بھائیوں کے بابت، جبکہ وہ سفر یا جہاد میں نکلتے ہیں اور ان کو موت آجاتی ہے، کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے، نہ قتل ہوتے۔ یہ خیال ان کے اندر اس لیے پیدا ہوا کہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں باعث حسرت بنا دے۔ اللہ ہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ خدا کی نگاہوں میں ہے۔وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴿157﴾
اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہوگے یا مروگے تو وہ مغفرت اور رحمت جو تمہیں اللہ کی طرف سے حاصل ہوگی اس سے کہیں بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ﴿158﴾
اور تم مرو یا قتل ہو، بہرحال اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے۔فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ﴿159﴾
یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ تم ان کے لیے نرم خو ہو۔ اگر تم درشت خو اور سخت دل ہوتے تو تمہارے پاس سے یہ منتشر ہوجاتے، سو ان سے درگزر کرو، ان کے لیے مغفرت چاہو اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہو، پس جب تم فیصلہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ بیشک اللہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿160﴾
اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے گا تو کوئی تم پر غالب نہیں ہوسکتا اور اگر وہ چھوڑ دے گا تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے اور اللہ ہی کے اوپر چاہئے کہ بھروسہ کریں اہل ایمان۔وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿161﴾
اور ایک نبی کی شان سے بعد ہے کہ وہ بدخواہی کرے اور جو کوئی بدخواہی کرے گا تو قیامت کے دن وہ اپنی بدخواہی سمیت پیش ہوگا۔ پھر ہر جان کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿162﴾
کیا وہ جو خدا کی خوشنودی کا طالب ہو، اس کے مانند ہوجائے گا جو خدا کا غضب لے کر لوٹا اور جس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے !هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ﴿163﴾
خدا کے ہاں ان کے درجے الگ الگ ہوں گے۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿164﴾
یہ اللہ نے مومنین پر احسان فرمایا ہے کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان کو اس کی آیتیں سناتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ بیشک یہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿165﴾
اور کیا جب تمہیں ایک مصیبت پہنچی جس کی دونی مصیبت تم نے پنچائی تو تم نے کہا کہ یہ کہاں سے آگئی ؟ کہہ دو یہ تمہارے اپنے ہی پاس سے ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿166﴾
اور دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن تمہیں جو مصیبت پہنچی یہ اللہ کے حکم سے پہنچی اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو ممیز کردےوَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ﴿167﴾
اور ان منافقین کو بھی ممیز کردے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا دشمن کو دفع کرو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اندازہ ہوتا کہ جنگ ہونی ہے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ ہوتے۔ یہ لوگ اس دن ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ یہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیز کو خوب جانتا ہے جس کو یہ چھپاتے ہیں۔اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿168﴾
یہ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو یوں نہ قتل ہوتے۔ ان سے کہہ دو کہ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو خود اپنے آپ سے موت کو دفع کرلو۔وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ﴿169﴾
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں ان کو مردہ نہ خیال کرو۔ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں روزی مل رہی ہے۔فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ﴿170﴾
فرحاں و شاداں ہیں اس پر جو اللہ نے اپنے فضل میں سے ان کو دے رکھا ہے اور ان لوگوں کے باب میں بشارت حاصل کر رہے ہیں جو ان کے اخلاف میں سے اب تک ان سے نہیں ملے ہیں کہ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ع﴿171﴾
وہ بشارت حاصل کر رہے ہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی اور اس بات کی کہ اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ﴿172﴾
ان اہل ایمان کے اجر کو جنہوں نے چوٹ کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہی۔ ان میں سے جنہوں نے بھی خوبی کے ساتھ کام کیے اور جو تقوی کی راہ چلے ہیں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ﴿173﴾
یہ وہ ہیں کہ جن کو لوگوں نے سنایا کہ دشمن نے تمہارے لیے بڑی طاقت اکٹھی کی ہے تو اس سے ڈرو تو اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ﴿174﴾
سو یہ لوگ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے، ان کو ذرا گزند نہ پہنچا، اور یہ اللہ کی خوشنودی کے طالب ہوئے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿175﴾
یہ شیطان ہے جو اپنے رفیقوں کے ڈراوے دے رہا ہے تو تم ان سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿176﴾
اور یہ لوگ تمہارے لیے باعث غم نہ بنیں جو کفر کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں۔ یہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿177﴾
بیشک جنہوں نے ایمان سے کفر کو بدلا وہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑیں گے اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿178﴾
اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے یہ نہ گمان کریں کہ یہ جو ہم ان کو ڈھیل دے رہے ہیں تو یہ ان کے حق میں کوئی بہتر بات ہے، ہم تو بس اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں کچھ اور اضافہ کرلیں اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہےمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴿179﴾
اللہ یہ نہیں کرسکتا تھا کہ مسلمانوں کو جس حال پر تم تھے اسی پر، خبیث کو طیب سے الگ کیے بغیر، چھوڑے رکھے اور نہ یہ کرسکتا تھا کہ وہ تمہیں سارے غیب سے باخبر کردے بلکہ اللہ اس کام کے لیے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرتا ہے تو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لائے اور تم نے تقوی اختیار کیا تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ع﴿180﴾
اور جو لوگ بخالت کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ ہی نے ان کو اپنے فضل میں سے بخشی ہے، یہ نہ خیال کریں کہ یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخالت کریں گے اس کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایا جائے گا۔ اور ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی وراثت اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے باخبر ہے۔لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ﴿181﴾
اللہ نے ان لوگوں کی بات سن رکھی ہے جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں۔ ہم ان کی اس بات کو بھی لکھ رکھیں گے اور ساتھ ہی ان کے ناحق قتل انبیا کو بھی اور کہیں گے کہ اب چکھو عذاب آگ کا۔ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ﴿182﴾
یہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت ہے، اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ذرا بھی ناانصافی کرنے والا نہیں۔اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿183﴾
جنہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں یہ ہدایت کر رکھی ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول کی بات باور نہ کریں جب تک یہ وہ قربانی نہ پیش کرے جس کو کھانے کے لیے آگ اترے، ان سے کہو کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس رسول کھلی کھلی نشانیاں اور وہ چیز بھی لے کر آئے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا، اگر تم سچے ہو۔فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ﴿184﴾
پس اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، تم سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے جو کھلی ہوئی نشانیاں، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے۔كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ﴿185﴾
ہر جان کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم پورا پورا اجر تو بس قیامت ہی کے دن پاؤ گے۔ پس جو دوزخ سے بچایا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب رہا اور یہ دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سودا ہے۔لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ﴿186﴾
تمہارے مال اور تمہاری جان میں تمہاری آزمائش ہونی ہے اور تمہیں ان لوگوں کی طرف سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی اور ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے شرک کیا بہت سی تکلیف دہ باتیں سننی پڑیں گی۔ اور اگر تم ثابت قدم رہے اور تم نے تقوی کو ملحوظ رکھا تو بیشک یہ چیز عزیمت کے احوال میں سے ہے۔وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ﴿187﴾
اور یاد کرو جب کہ اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیا جن کو کتاب دی گئی کہ تم لوگوں کے سامنے اس کتاب کو اچھی طرح ظاہر کرنا، اسے چھپانا مت، تو انہوں نے اس کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے میں ایک حقیر قیمت لے لی، کیا ہی بری ہے وہ چیز جسے وہ لے رہے ہیں۔لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿188﴾
جو لوگ اپنی ان کرتوتوں پر مگن ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کاموں پر ان کو سراہا جائے جو انہوں نے کیے نہیں ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو، ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ع﴿189﴾
اور اللہ ہی کے لیے آسمان و زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ﴿190﴾
بیشک آسمانوں اور زمین کی خلقت اور رات دن کی آمد و شد میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیںالَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴿191﴾
ان کے لیے جو کھڑے، بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی خلقت پر غور کرتے رہتے ہیں۔ ان کی دعا یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے پر ودگار، تو نے یہ کارخانہ بےمقصد نہیں پیدا کیا ہے۔ تو اس بات سے پاک ہے کہ کوئی عبث کام کرے، سو تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچارَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴿192﴾
اے ہمارے رب، جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا بیشک اس کو تو نے رسوا کردیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگارَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ﴿193﴾
اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا ایمان کی دعوت دیتے کہ لوگ، اپنے رب پر ایمان لاؤ، تو ہم ایمان لائے اے ہمارے رب، ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمیں موت اپنے وفادار بندوں کے ساتھ دےرَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ﴿194﴾
اے ہمارے رب اور ہمیں بخش وہ کچھ جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیو، بیشک تو اپنے عدے کے خلاف نہیں کرے گافَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ﴿195﴾
تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو، سو جنہوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے اور ہماری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے ہیں ان سے ان کے گناہ دور کردوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، یہ اللہ کے پاس سے ان کا بدلہ ہوگا اور بہترین بدلہ تو اللہ ہی کے پاس ہےلَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ﴿196﴾
اور ملک کے اندر کافروں کی یہ سرگرمیاں تمہیں کسی مغالطہ میں نہ ڈالیںمَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ﴿197﴾
یہ چند دن کی چاندنی ہے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی بری جگہ ہےلٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ﴿198﴾
البتہ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمشیہ رہیں گے، یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے پہلی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس اس کے وفادار بندوں کے لیے ہے وہ کہیں بہتر ہےوَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿199﴾
اور بیشک اہل کتاب میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو تم پر اتارا گیا اور اس پر بھی جو ان پر اتارا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے۔ وہ اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر سودا نہیں کرتے۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ بیشک اللہ جلد حساب چکانے والا ہےیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ع﴿200﴾
اے ایمان والو، صبر کرو، ثابت قدم رہو، مقابلے کے لیے تیار رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب رہو۔