3. Aal-i-Imraanآل عمران

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs · 20 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓمَّٓۙ﴿1﴾

    الف۔ لام۔ میم۔
  2. اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ﴿2﴾

    اللہ وہ ہے کہ کوئی خدا نہیں بجز اس کے۔ زندہ (خدا ہے) سب کا سنبھالنے والا
  3. نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ﴿3﴾

    (خدا ہے) اس نے (یہ) کتاب آپ پر نازل کی ہے قطعیت کے ساتھ۔ ان کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے آچکی ہیں۔ اور اس نے اتارا تھا توریت اور انجیل کو
  4. مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ﴿4﴾

    (اس سے) پیشترلوگوں کی ہدایت کے واسطے۔ اور اس نے فرقان کو اتارا۔ بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں سے کفر کیا ان کے لیے عذاب سخت ہے۔ اور اللہ بڑا زبردست ہے بڑا بدلہ لینے والا ہے۔
  5. اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ﴿5﴾

    بیشک اللہ ایسا ہے کہ اس سے کوئی چیز چھپی نہیں رہتی نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔
  6. هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿6﴾

    وہ وہی (خدا) ہے جو تماری صورت رحموں کے اندر بناتا ہے جس طرح وہ چاہتا ہے۔ کوئی خدا نہیں بجز اس کے۔ وہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  7. هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴿7﴾

    وہ وہی (خدا) ہے جس نے آپ پر کتاب اتاری ہے اس میں محکم آیتیں ہیں اور وہی کتاب کا اصل مدار ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اس کے (اسی حصہ کے) پچھے ہولیتے ہیں جو متشابہ ہے۔ شورش کی تلاش میں اور اس کے (غلط) مطلب کی تلاش میں۔ درآنحالیکہ کوئی اس کا (صحیح) مطلب نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر ایمان لے آئے (وہ) سب ہی ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت تو بس عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔
  8. رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ﴿8﴾

    اے ہمارے پروردگار ہمارے دلوں کو کج نہ کر بعد اس کے کہ تو ہمیں سیدھی راہ دکھا چکا اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا کر۔ بیشک تو ہی بڑا عطا کرنے والا ہے۔
  9. رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ع﴿9﴾

    اے ہمارے پروردگار بیشک تو (تمام) لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن جس کے وقوع میں (ذرا) شک نہیں۔ بیشک اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں جاتا۔
  10. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ﴿10﴾

    بیشک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے اور یہ لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے۔
  11. كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿11﴾

    جیسا کہ معاملہ فرعون والوں کے ساتھ ہوا اور ان سے قبل والوں کے ساتھ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا سو اللہ نے ان کی گرفت کی ان کے گناہوں کے باعث اور اللہ بڑا سخت دینے والا ہے۔
  12. قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ﴿12﴾

    آپ (ان) کے کفر والوں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف اکٹھے کئے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
  13. قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ﴿13﴾

    بیشک تمہارے لئے ایک نشانی (ان) دو گروہوں میں ہے جو باہم مقابل ہوئے ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا کافر۔ یہ اپنے کو کھلی آنکھوں دیکھ رہے تھے ان سے (یعنی مسلمانوں سے) کئی گنا۔ اللہ اپنی نصرت سے جس کی چاہتا ہے مدد کردیتا ہے۔ بیشک اس (واقعہ) میں اہل بصیرت کے لیے (بڑا) سبق ہے۔
  14. زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ﴿14﴾

    لوگوں کے لیے خوشنما کردی گئی ہے مرغوبات کی محبت (خواہ) عورتوں سے ہو یا بیٹوں سے یا ڈھیر لگے ہوئے سونے اور چاندی سے یا نشان پڑے ہوئے گھوڑوں سے یا مویشیوں سے یا زراعت سے۔ یہ (سب) دنیوی زندگی کے سامان ہیں۔ اور حسن انجام تو اللہ ہی کے پاس ہے۔
  15. قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ﴿15﴾

    آپ کہیے کہ کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبردوں جو ان (چیزوں) سے (کہیں) بہتر ہے۔ جو لوگ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس باغ ہیں کہ ان کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اور صاف ستھری کی ہوئی بیویاں ہوں گی۔ اور اللہ کی خوشنودی ہوگی۔ اور اللہ اپنے بندوں کا خوب دیکھنے والا ہے۔
  16. اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ﴿16﴾

    (یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہم یقیناً ایمان لے آئے سو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا دے۔
  17. اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ﴿17﴾

    (یہ) صبر کرنے والے ہیں اور راستباز ہیں اور فروتنی کرنے والے ہیں اور خرچ کرنے والے ہیں اور پچھلی رات میں گناہوں سے بخشش چاہنے والے ہیں۔
  18. شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ﴿18﴾

    اللہ کی گواہی ہے کہ کوئی معبود نہیں ہے بجز اس کے اور فرشتوں اور اہل علم کی (بھی گواہی یہی ہے۔) اور وہ عدل سے انتظام رکھنے والا معبود ہے۔ کوئی معبود نہیں ہے بجز اس زبردست حکمت والے کے۔
  19. اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿19﴾

    یقیناً دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ اور جو اختلاف کیا اس میں اہل کتاب نے سو وہ آپس کی ضد سے کیا بعد اس کے کہ انہیں صحیح علم پہنچ چکا تھا۔ اور جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے انکار کرے گا سو اللہ یقیناً جلد حساب لینے والا ہے۔
  20. فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ع﴿20﴾

    پھر اگر یہ لوگ آپ سے حجت کئے جائیں۔ تو خیر آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اپنا رخ اللہ کی طرف کرچکا اور جو میرے پیرو ہیں (وہ بھی) ۔ اور آپ اہل کتاب سے اور امیوں سے دریافت کیجئے کہ تم اسلام لاتے ہو۔ سو اگر وہ اسلام لے آئیں تو بس راہ ہدایت پر آگئے۔ اور اگر وہ روگردان رہے تو آپ کے ذمہ تو صرف تبلیغ ہی ہے۔ اور اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھتے رہتے والا ہے۔
  21. اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿21﴾

    بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کر ڈالتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو جو عدل کا حکم دیتے ہیں انہیں قتل کر ڈالتے ہیں بس آپ انہیں عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دیجئے۔
  22. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿22﴾

    یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
  23. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿23﴾

    کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب الہی سے حصہ دیا گیا تھا انہیں کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے پھر ان میں سے ایک فریق بےرخی کرتا ہوا منہ پھیر لیتا ہے۔
  24. ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿24﴾

    یہ اس سبب سے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو آگ چھوئے گی بھی نہیں بجز (چند) گنے ہوئے دنوں کے۔ اور جو کچھ یہ تراشتے رہتے ہیں اس نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
  25. فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿25﴾

    سو اس روز جس میں ذرا شک نہیں جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے تو کیا حال ہوگا۔ اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا ہے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر (ذرا) ظلم نہ کیا جائے گا۔
  26. قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿26﴾

    آپ کہیے اے سارے ملکوں کے مالک تو جسے چاہے حکومت دے دے اور تو جس سے چاہے حکومت چھین لے۔ تو جسے چاہے عزت دے۔ اور تو جسے ذلت دے۔ تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔۔
  27. تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿27﴾

    تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور رات میں دن کو داخل کرتا ہے اور تو بےجان سے جاندار کو نکالتا ہے اور تو جاندار سے بےجان کو نکالتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔
  28. لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ﴿28﴾

    مومنوں کو نہ چاہیے کہ مومنوں کے ہوتے ہوئے کافروں کو (اپنا) دوست بنائیں۔ اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ کے ہاں کسی شمار میں نہیں۔ مگر ہاں ایسی صورت میں کہ تم ان سے کچھ اندیشہ (ضرر کا) رکھتے ہو۔ اور اللہ تم کو اپنے سے ڈراتا ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف آنا ہے۔
  29. قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿29﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے تم اسے خواہ پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو اللہ اس کو جانتا ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس (سب) کو جانتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
  30. یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ع﴿30﴾

    جس روز ہر شخص اپنے ہر نیک عمل کو سامنے لایا ہوا پائے گا۔ اور (اسی طرح) ہر برے کام کو بھی (اس روز) تمنا کرے گا کہ کاش اس شخص اور اس دن کے درمیان مسافت بعید ہوتی۔ اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ اور اللہ اپنے پر بڑا شفقت کرنے والا ہے۔
  31. قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿31﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو۔ تو میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ اور تمہارے گناہ بخش دے گا اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
  32. قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ﴿32﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ اس پر بھی اگر وہ رو گردان رہیں تو اللہ کافروں سے (ذرا) محبت نہیں رکھتا۔
  33. اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ﴿33﴾

    بیشک اللہ نے آدم ؑ اور نوح ؑ اور خاندان براہیم ؑ اور خاندان عمران کو سارے دنیا جہاں پر برگزیدہ کیا ہے۔
  34. ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ﴿34﴾

    ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ (خوب) سننے والا ہے (خوب) جاننے والا ہے۔۔
  35. اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿35﴾

    (اور وہ وقت یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا۔ کہ اے میرے پروردگار میں نے تیرے لئے نذر مانی ہے اس (بچہ) کی جو میرے پیٹ میں ہے کہ (وہ) آزاد رکھا جائے گا۔ سو تو (یہ) مجھ سے قبول کر تو تو خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے۔
  36. فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ﴿36﴾

    پھر جب اس نے (مریم علیہ السلام) کو جنا تو بولی کہ اے میرے پیروردگار میں نے تو لڑکی جنی۔ اور اللہ تو خوب جانتا تھا کہ اس نے کیا جنا ہے اور لڑکا (اس) لڑکی جیسا نہیں ہوسکتا تھا۔ اور میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
  37. فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿37﴾

    پھر اس کے پروردگار نے اس کو بوجہ احسن قبول کرلیا۔ اور اس کو اچھا نشوونما دیا۔ اور اس کا سرپرست زکریا ؑ کو بنا دیا۔ جب کبھی زکریا ؑ ان کے پاس حجرہ میں آتے تو ان کے پاس کوئی چیز کھانے (پینے) کی پاتے۔ (ایک بار) بولے کہ مریم یہ کہاں سے تجھے مل جاتی ہیں ؟ ۔ وہ بولیں یہ اللہ کی طرف سے آجاتی ہیں۔ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے۔
  38. هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ﴿38﴾

    (بس) وہیں زکریا ؑ اپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے۔ عرض کی اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے کوئی پاکیزہ اولاد عطا کر۔ بیشک تو دعا کا (بڑا) سننے والا ہے۔
  39. فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿39﴾

    پس انہیں فرشتوں نے آواز دی اس حال میں کہ وہ حجرہ میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے کہ اللہ آپ کو یحییٰ ؑ کی خوشخبری دیتا ہے۔ جو کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے اور مقتداء ہوں گے اور بڑے ضبط نفس کرنے والے ہوں گے اور نبی ہوں گے صالحین میں سے۔۔
  40. قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ﴿40﴾

    (زکریا علیہ السلام) بولے اے میرے پروردگار میرے بیٹا کس طرح ہوگا درآنحالیکہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے اور میری بیوی بانجھ ہیں۔ ارشاد ہوا اسی طرح اللہ کردیتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔
  41. قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ع﴿41﴾

    (زکریا علیہ السلام) بولے اے میرے پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے۔۔ ارشاد ہوا کہ تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا تین دن تک بجز اشارہ کے۔ اور اپنے پروردگار کو بکثرت یاد کرتے رہو اور تسبیح کرتے رہو دن ڈھلے بھی اور صبح بھی۔
  42. وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ﴿42﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بیشک اللہ نے آپ کو برگزیدہ کیا ہے ۔ اور پاک کردیا ہے اور آپ کو دنیا جہان کی بیویوں کے مقابلہ میں برگزیدہ کرلیا ہے۔
  43. یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ﴿43﴾

    اے مریم اپنے پروردگار کی اطاعت کرتی رہ اور سجدہ کرتی رہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہ۔
  44. ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ﴿44﴾

    یہ (واقعات) غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم آپ کے اوپر ان کی وحی کررہے ہیں۔ اور آپ تو ان لوگوں کے پاس تھے نہیں اس وقت جب وہ اپنے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم ؑ کی سرپرستی کرے اور نہ آپ ان کے پاس اس وقت تھے جب وہ باہم اختلاف کررہے تھے۔
  45. اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ﴿45﴾

    (اور وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم ؑ ! اللہ آپ کو خوشخبری دے رہا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی ان کا نام (ولقب) مسیح ؑ عیسیٰ ؑ ابن مریم ؑ ہوگا۔ دنیا وآخرت (دونوں) میں معزز اور مقربوں میں سے۔
  46. وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿46﴾

    اور وہ لوگوں سے گفتگو کریں گے۔ گہواروہ میں بھی اور پختہ عمر میں بھی اور صالحین میں سے ہوں گے۔
  47. قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴿47﴾

    وہ بولیں اے میرے پروردگار میرے لڑکا کسی طرح ہوگا درآنحالیکہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا ہے۔ ارشاد ہوا ایسے ہی اللہ پیدا کردیتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔ جب وہ کسی بات کو پورا کرنا چاہتا ہے تو بس اس سے کہتا ہے کہ ہوجا۔ سو وہ ہوجاتی ہے
  48. وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ﴿48﴾

    اور (اللہ) اسے کتاب اور حکمت اور انجیل سکھا دے گا۔
  49. وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ﴿49﴾

    اور وہ پیغمبر ہوگا بنی اسرائیل کے لئے۔ (اور وہ کہے گا) میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندوں کی مانند صورت بنا دیتا ہوں پھر اس میں دم کردیتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور مبروص کو اچھا کردیتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں اور تم جو کچھ کھاتے ہو اور جو کچھ اپنے گھروں میں ذخیرہ جمع کرتے ہو وہ تمہیں بتلا دیتا ہوں بیشک ان (سارے واقعات) میں تمہارے لئے ایک نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
  50. وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ﴿50﴾

    اور میں تصدیق کرنے والا ہوں اپنے سے پیشتر آئی ہوئی توریت کی اور (اس لئے آیا ہوں) کہ تم پر جو کچھ حرام کردیا گیا تھا اس میں سے تم پر کچھ حلال کردوں۔ اور میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان لے کر آیا ہوں۔ سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
  51. اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿51﴾

    بیشک اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے سو اس کی عبادت کرو یہی میری راہ ہے۔
  52. فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴿52﴾

    پھر جب عیسیٰ ؑ نے ان کی طرف سے انکار ہی پایا۔ تو بولے میرا کون مددگار ہوگا اللہ کے لئے حواری بولے ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور آپ گواہ رہیے گا کا ہم فرمانبردار ہیں۔
  53. رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ﴿53﴾

    اے ہمارے پروردگار ہم ایامن لے آئے ہیں اس پر جو کچھ تو نے نازل کیا ہے اور ہم نے پیروی (اختیار) کرلی رسول کی سو ہم کو بھی گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔
  54. وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ع﴿54﴾

    اور انہوں نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔
  55. اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ﴿55﴾

    (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب اللہ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ میں تم کو موت دینے والا ہوں۔ اور تم کو اپنی طرف (ابھی) اٹھالینے والا ہوں۔ اور ان لوگوں سے جو کافر ہیں تمہیں پاک کرنے والا ہوں۔ اور جو تمہارے پیرو ہیں انہیں قیامت تک ان لوگوں پر غالب رکھنے والا ہوں جو منکر ہیں۔ تم سب کی واپسی میری طرف ہوگی سو میں تمہارے درمیان اس باب میں فیصلہ کردوں گا جس میں تم (باہم) اختلاف کرتے رہتے تھے۔
  56. فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿56﴾

    سو جن لوگوں نے کفر (اختیار) کیا انہیں دنیا اور آخرت میں سخت سزا دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
  57. وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ﴿57﴾

    اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے سو اللہ انہیں ان کے پورے صلے دے گا اور اللہ ناانصافوں کو دوست نہیں رکھتا۔
  58. ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ﴿58﴾

    یہ جسے ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں نشانیوں میں سے ہے اور پر حکمت مضمون میں سے۔
  59. اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴿59﴾

    بیشک عیسیٰ ؑ کا حال اللہ کے نزدیک مثل آدم ؑ کے حال کے ہے اللہ نے ان کو مٹی سے بنایا پھر ان سے کہا وجود میں آجاؤ چناچہ وہ وجود میں آگئے۔
  60. اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ﴿60﴾

    یہ امر حق تیرے رب کی طرف سے ہے سو (کہیں) تو شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔
  61. فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ﴿61﴾

    پھر جو کوئی آپ سے اس باب میں حجت کرے بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم (صحیح) پہنچ چکا ہے۔ تو آپ کہہ دیجئے۔ کہ اچھا آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بھی بلائیں اور تمہارے بیٹوں کو بھی اور اپنی عورتوں کو بھی اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو بھی اور تمہارے تئیں بھی پھر ہم خشوع سے دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
  62. اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿62﴾

    بیشک یہی ہے سچا واقعہ کوئی معبود نہیں ہے بجز اللہ کے اور بیشک اللہ ہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔
  63. فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿63﴾

    سو اگر یہ (اب بھی) سرتابی رکھیں تو بیشک اللہ خوب جاننے والا ہے مفسدوں کا۔
  64. قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴿64﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ایسے قول کی طرف آجاؤ جو ہم میں تم میں مشترک ہے وہ یہ کہ ہم بجز اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے علاوہ پروردگار نہ ٹھہرائے۔ پھر پس اگر وہ روگردانی کریں تو تم لوگ کہہ دو ۔ کہ گواہ رہنا ہم تو فرمانبردار ہیں۔
  65. یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿65﴾

    اے اہل کتاب تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑ رہے ہو۔ درآنحالیکہ توریت وانجیل تو ان کے بعدہی اتری ہیں تو تم کیوں عقل سے کام نہیں لیتے۔
  66. هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿66﴾

    ہاں تم لوگ وہی تو ہو جو اس امر میں جھگڑچکے ہو جس کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
  67. مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿67﴾

    ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ راہ راست والے مسلم تھے اور مشرکوں میں سے بھی نہ تھے۔
  68. اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿68﴾

    بیشک ابراہیم ؑ سے سب سے قریب لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی تھی اور یہ نبی ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ان پر ایمان لائے اور اللہ ایمان لانے والوں کا حامی ہے۔
  69. وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ﴿69﴾

    اہل کتاب میں سے ایک گروہ کو تو یہی پسند ہے کہ تمہیں گمراہ کرکے رہے حالانکہ وہ بجز اپنے اور کسی کو بھی گمراہ نہیں کرتے اور (اس کی بھی) خبر نہیں رکھتے۔
  70. یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ﴿70﴾

    اے اہل کتاب تم اللہ کی آیتوں سے کیوں انکار کئے جاتے ہو حالانکہ تم گواہ ہو۔
  71. یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ع﴿71﴾

    اے اہل کتاب تم حق کی تلبیس باطل کے ساتھ کئے جاتے اور حق کو چھپاجاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہوتے ہو۔
  72. وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ﴿72﴾

    اور اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے۔ کہ ایمان لانے والوں پر جو نازل ہوا ہے اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور دن کے آخر میں اس سے انکار کربیٹھو عجب کیا کہ (وہ بھی) پھرجائیں۔
  73. وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ﴿73﴾

    اور واقع میں بجز اس کے کہ جو تمہارے دین کا پیرو ہو اور کسی پر ایمان نہ لاؤ آپ کہہ دیجئے کہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور یہ سب اس غصہ میں کررہے ہو کہ کسی اور کو وہ چیز مل گئی جو تمہیں ملی تھی یا وہ لوگ تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں غالب آجائیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عطا کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا علم والا ہے۔
  74. یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿74﴾

    اور جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے ہی فضل والا ہے۔
  75. وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿75﴾

    اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر (کا ڈھیر) امانت رکھا دے تو وہ (بھی) تجھے ادا کردے۔ اور ان میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک دینار امانت رکھا دے تو وہ تجھے اس کو واپس نہ کرے بجز اس صورت کے کہ تو اس (کے سر) پر کھڑا رہے۔ یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر امیوں کے باب میں کوئی ذمہ داری ہی نہیں یہ لوگ اللہ کے اوپر جھوٹ گڑھ رہے ہیں درآنحالیکہ خوب جان رہے ہیں۔
  76. بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿76﴾

    کیوں نہیں جو شخص بھی اپنے عہد کو پورا کرے اور (اللہ سے) ڈرے تو بیشک اللہ ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
  77. اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿77﴾

    بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو قلیل قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے لئے کوئی حصہ آخرت میں نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے تو درد ناک عذاب ہے۔
  78. وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿78﴾

    اور انہی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی زبانوں کو کتاب میں کج کرتے ہیں۔ تاکہ تم اس (جزء) کو بھی کتاب میں سے سمجھو در آنحالیکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے درآنحالیکہ وہ اللہ کی جانب سے نہیں ہے اور یہ اللہ پر جھوٹ گڑھتے ہیں درآنحالیکہ (خوب) جانتے ہوتے ہیں۔
  79. مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ﴿79﴾

    کسی بشر سے یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کرے اور وہ لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ تم میرے بندے بن جاؤ علاوہ اللہ کے۔ بلکہ (وہ تو یہی کہے گا) کہ اللہ والے بن جاؤ۔ (یہ) اس لئے (اور بھی) کہ تم پڑھاتے ہو کتاب (آسمانی) کو اور خود بھی (اسے) پڑھتے ہو۔
  80. وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ع﴿80﴾

    اور نہ وہ تمہیں اس کا حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو پروردگار قراردو۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم اسلام لا چکے ہو۔
  81. وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ﴿81﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب اللہ نے انبیاء سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت (کی قسم) سے دوں پھر تمہارے پاس کوئی رسول اس (چیز) کی تصدیق کرنے والا آئے جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس (رسول) پر ایمان لانا اور ضرور اس کی نصرت کرنا۔ (پھر) فرمایا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد قبول کرتے ہو ؟ وہ بولے ہم اقرار کرتے ہیں فرمایا تو گواہ رہنا اور میں (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔
  82. فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿82﴾

    پھر جو کوئی اس کے بعد بھی روگردانی کرے گا سو یہی لوگ تو نافرمان ہیں۔
  83. اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ﴿83﴾

    سو کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ (کسی طریقہ کو) تلاش کررہے ہیں ؟ درآنحالیکہ اس کے فرمانبردار ہیں جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں (خواہ یہ فرمانبرداری) رضا واختیار سے ہو یا بےاختیاری سے اور (سب) اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
  84. قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ﴿84﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر جو ہمارے اوپر اتارا گیا ہے اور اس پر جو ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ اور اولاد یعقوب پر اتارا گیا ہے اور اس پر جو موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ اور (دوسرے) نبیوں کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے۔ ہم ان میں باہم کوئی فرق نہیں کرتے۔ اور ہم تو (اسی) اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
  85. وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿85﴾

    اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش کرے گا سو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔
  86. كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴿86﴾

    اللہ کیسے ایسے لوگوں کو ہدایت دے گا جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر (اختیار) کرلیا اور (بعد اس کے کہ) شہادت دے چکے تھے کہ رسول برحق ہیں اور (بعد اس کے کہ) ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں آچکی تھیں اور اللہ (ایسے) ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
  87. اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ﴿87﴾

    ایسوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہوتی ہے۔
  88. خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ﴿88﴾

    وہ اس میں (ہمیشہ ہمیش) پڑے رہنے والے ہیں نہ ان پر سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
  89. اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿89﴾

    البتہ جو لوگ اس کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنے کو) درست کرلیں سو بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحم والا ہے۔
  90. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ﴿90﴾

    بیشک جن لوگوں نے بعد اپنے ایمان (لانے) کے کفر اختیار کیا پھر کفر میں پڑے رہے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی۔ یہی لوگ تو گمراہ ہیں۔
  91. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠ع﴿91﴾

    بیشک جن لوگوں نے کفر (اختیار) کیا اور وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے سو ان میں سے کسی سے ہرگز نہ قبول کیا جائے گا زمین بھر (بھی) سونا اگرچہ وہ اسے معاوضہ میں دینا چاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے عذاب درد ناک ہے اور جن کے کوئی بھی مددگار نہ ہوں گے
  92. لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ﴿92﴾

    جب تک اپنی محبوب چیزوں کو خرچ نہ کرو گے (کامل) نیکی (کے مرتبہ) کو نہ پہنچ سکو گے۔ اور جو کچھ بھی کسی چیز سے خرچ کرتے رہتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔
  93. كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿93﴾

    ہر کھانا بنی اسرائیل کے لیے حلال تھا بجز اس کے کہ جو خود اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا قبل اس کے کہ توریت اترے۔ تو آپ کہیے کہ توریت لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو۔
  94. فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ﴿94﴾

    سو جو شخص اللہ پر اس کے بعد جھوٹ گڑھ لے تو بس ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔
  95. قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿95﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے سچ بات فرمادی ہے سو تم سیدھی راہ والے ابراہیم ؑ کے دین کی پیروی کرو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔
  96. اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ﴿96﴾

    سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا۔ وہ وہ ہے جو مکہ میں ہے (سب کے لیے) برکت والا اور سارے جہان کے لیے رہنما ہے۔
  97. فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ﴿97﴾

    اس میں کھلے ہوئے نشان ہیں (ان میں سے ایک) مقام ابراہیم ہے۔ اور جو کوئی اس میں داخل ہوجاتا ہے وہ امن سے ہوجاتا ہے۔ اور لوگوں کے ذ مہ ہے حج کرنا اللہ کے لیے اس مکان کا (یعنی) اس شخص کے ذمہ جو وہاں تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ سارے جہاں سے بےنیاز ہے۔
  98. قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ﴿98﴾

    آپ کہیے کہ اے اہل کتاب تم کیوں اللہ کی نشانیوں سے کفر کررہے ہو درآنحالیکہ اللہ تمہارے کرتوتوں کا گواہ ہے۔
  99. قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿99﴾

    آپ کہیے کہ اے اہل کتاب جو ایمان لا چکا اسے تم کیوں اللہ کی راہ سے ہٹا رہے ہو اس (راہ) میں کجی نکال نکال کر درآنحالیکہ تم (خود) گواہ ہو اور اللہ تمہارے کرتوتوں سے بیخبر نہیں۔
  100. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ﴿100﴾

    اے ایمان والو اگر تم ان لوگوں میں سے کسی گروہ کا کہا مان لو گے جنہیں کتاب دی جاچکی ہے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے پیچھے تمہیں کافر بنا چھوڑے گے۔
  101. وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ع﴿101﴾

    اور تم کسی طرح کفر کرسکتے ہو درآنحالیکہ تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان اس کے رسول ﷺ موجود ہیں ؟ ۔ اور جو کوئی اللہ کو مضبوط پکڑتا ہے وہ ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت کیا جاتا ہے۔
  102. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴿102﴾

    اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جو اس کے ڈرنے کا حق ہے۔ اور جان نہ دینا بجز اس حال کے کہ تم مسلم ہو۔
  103. وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ﴿103﴾

    اور اللہ کی رسی مل کر مضبوط تھامے رہو اور باہم نااتفاقی نہ کرو۔ اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ جب تم (باہم) دشمن تھے تو اس نے تمہارے قلوب میں الفت ڈال دی۔ سو تم اس کے انعام سے (آپس میں) بھائی بھائی بن گئے اور تم دوزخ کے گڈھے (گڑھے) کے کنارے پر تھے سو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ اپنے احکام کھول کر سناتا رہتا ہے تاکہ تم راہ یاب رہو
  104. وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿104﴾

    اور ضرور ہے کہ تم میں ایک ایسی جماعت رہے جو نیکی کی طرف بلایا کرے اور بھلائی کا حکم دیا کرے اور بدی سے روکا کرو اور پورے کامیاب یہی تو ہیں۔۔
  105. وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ﴿105﴾

    اور ان لوگوں کی طرف مت ہوجانا جنہوں نے بعد اس کے کہ انہیں شواہد پہنچ چکے تھے باہم تفریق کرلی اور مختلف ہوگئے۔ عذاب عظیم انہی کو تو ہوتا ہے
  106. یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ﴿106﴾

    اس روز (جس رو ز) بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے پھر جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم ہی کافر ہوگئے تھے اپنے ایمان کے بعد ؟ ۔ سو عذاب چکھو اپنے کفر کی پاداش میں
  107. وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿107﴾

    اور جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے۔ اور اسی میں ہمیشہ رہیں گے
  108. تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ﴿108﴾

    یہ اللہ کی آیتیں ہیں ہم انہیں تم کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور اللہ مخلوقات پر ظلم نہیں چاہتا۔
  109. وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ع﴿109﴾

    اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی کی طرف (سارے) امور لوٹائے جائیں گے۔
  110. كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿110﴾

    تم لوگ بہترین جماعت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اور اہل کتاب بھی اگر ایمان لے آتے تو ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا۔ ان میں سے (کچھ تو) ایمان والے ہیں مگر اکثر ان میں سے نافرمان ہیں۔
  111. لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ﴿111﴾

    وہ تم کو بجز خفیف اذیت کے ہرگز کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں گے۔ اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے۔ پھر ان کی مدد بھی کی جائے گی۔
  112. ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ﴿112﴾

    ان پر لیس دی گئی ہے ذلت خواہ کہیں بھی وہ پائے جائیں سوا اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی عہد ہو اور وہ غضب الہی کے مستحق ہوگئے ہیں۔ اور ان پر پستی لیس دی گئی یہ (سب) اس سبب سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کے منکر ہوجاتے تھے اور نبیوں کو بلاوجہ قتل کر ڈالتے تھے۔ یہ (سب) اس سبب سے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حدود سے نکل نکل جاتے تھے۔
  113. لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ﴿113﴾

    سب یکساں نہیں۔ (انہیں اہل کتاب میں ایک جماعت قائم ہے یہ لوگ اللہ کی آیتوں کو اوقات شب میں پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔
  114. یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿114﴾

    یہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بدی سے روکتے ہیں اور اچھی باتوں کی طرف دوڑتے ہیں یہی لوگ نیکو کاروں میں سے ہیں۔
  115. وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ﴿115﴾

    اور جو بھی نیک کام یہ کریں گے اس سے ہرگز محروم نہ کیے جائیں گے اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔
  116. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿116﴾

    بیشک جن لوگوں نے کفر (اختیار) کیا ہرگز ان کے ذرا بھی کام اللہ کے مقابلہ میں نہ ان کے مال آئیں گے نہ ان کی اولاد یہی لوگ دوزخ والے ہیں اس میں (ہمیشہ) پڑے رہیں گے۔
  117. مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿117﴾

    یہ جو کچھ اس دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے ایک ہوا ہے جس میں سخت سردی ہے (اور) وہ ایسے لوگوں کی کھیتی کو لگ جائے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا ہے۔ پھر وہ (ہو ا) اس (کھیتی) کو برباد کردے تو اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
  118. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿118﴾

    اے ایمان والو اپنے سوا (کسی کو) گہرا دوست نہ بناؤ۔ وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد کرنے میں کوئی بات اٹھا نہیں رکھتے اور تمہارے دکھ پہنچنے کی آرزو رکھتے ہیں بغض تو ان کے مونہوں سے ظاہر ہو پڑتا ہے اور جو کچھ ان کے دل چھپائے ہوئے ہیں وہ اور بھی بڑھ کر ہے۔ ہم تو تمہارے لیے نشانیاں کھول کر ظاہر کرچکے ہیں۔ اگر تم عقل سے کام لینے والے ہو
  119. هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿119﴾

    تم تو ایسے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو اور یہ تم سے ذرا محبت نہیں رکھتے تم کتاب (آسمانی) پر ان کے کل کے کل پر ایمان رکھتے ہو۔ اور یہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر (شدت) غیظ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم غیظ میں مررہو بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔
  120. اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ع﴿120﴾

    اگر تمہیں کوئی اچھی حالت پیش آجاتی ہے تو یہ ان لوگوں کو دکھ پہنچاتی ہے اور اگر تم پر کوئی بری حالت آپڑتی ہے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر تم صبر وتقوی اختیار کیے رہو تو تم کو ان کی چالیں ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی بیشک اللہ انکے اعمال پر (پورا) احاطہ رکھتا ہے۔
  121. وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿121﴾

    اور وہ وقت یاد کیجئے جب آپ صبح کو اپنے گھر والوں (کے پاس) سے نکلے مسلمانوں کو قتال کے لیے مناسب مقامات پر لے جاتے ہوئے۔ اور اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔
  122. اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿122﴾

    جب تم سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھی تھیں کہ ہمت ہاردیں۔ درآنحالیکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا۔ اور مسلمانوں کو تو اللہ ہی پر اعتماد رکھنا چاہیے۔
  123. وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿123﴾

    اور یقیناً اللہ نے تمہاری نصرت کی بدر میں حالانکہ تم پست تھے تو اللہ سے ڈرتے رہو عجب کیا کہ شکر گزار بن جاؤ۔
  124. اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ﴿124﴾

    (وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ مومنین سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہ تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری مدد تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں سے کرے۔
  125. بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ﴿125﴾

    کیوں نہیں بشرطیکہ تم نے صبر وتقوی قائم رکھا۔ اور اگر وہ تم پر فورا آپڑیں گے۔ تو تمہارا پروردگار تمہاری مدد پانچ ہزار نشان کیے ہوئے فرشتوں سے کرے گا۔
  126. وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ﴿126﴾

    اور یہ تو اللہ نے اس لیے کیا کہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہیں اس سے دلجمعی حاصل ہوجائے ورنہ نصرت تو بس زبردست اور حکمت والے اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
  127. لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ﴿127﴾

    (اور یہ نصرت اس غرض سے تھی) تاکہ کفر کرنے والوں میں سے ایک گروہ کو ہلاک کردے یا انہیں خوار کردے کہ وہ ناکام ہو کر واپس جائیں۔
  128. لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ﴿128﴾

    آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں (اللہ) خواہ ان کی توبہ قبول کرے خواہ انہیں عذاب دے اس لیے کہ وہ ظالم ہیں۔
  129. وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿129﴾

    اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔
  130. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ﴿130﴾

    اے ایمان والو سود کئی کئی حصہ بڑھا کر نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔
  131. وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ﴿131﴾

    اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
  132. وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ﴿132﴾

    اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
  133. وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ﴿133﴾

    اور مغفرت کی طرف جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے ڈرو اور جنت کی طرف (دوڑو) جس کا عرض سارے آسمان اور زمین ہیں۔ اور جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
  134. الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ﴿134﴾

    یہ وہ لوگ ہیں جو فراغت اور تنگی (دونوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کے ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
  135. وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿135﴾

    اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی بیجا حرکت کربیٹھتے یا اپنے ہی حق میں کوئی ظلم کر ڈالتے ہیں تو اللہ کو یاد کرلیتے ہیں اور اپنے گناہوں سے معافی طلب کرنے لگتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہے کون جو گناہوں کو بخشتا ہو۔ اور یہ (لوگ) اپنے کیے ہوئے پر اصرار نہیں کرتے درآنحالیکہ وہ جان رہے ہوں۔
  136. اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ﴿136﴾

    ایسے لوگوں کی جزا ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے اور (بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ (ہمیش) رہیں گے اور کام کرنے والوں کے لیے کیسا اچھا معاوضہ ہے۔
  137. قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ﴿137﴾

    یقیناً تم سے قبل (مختلف) طریقہ گزر چکے ہیں سو تم روئے زمین پر چلو پھرو اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔
  138. هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ﴿138﴾

    یہ ایک اعلان ہے (سارے) لوگوں کے لیے اور ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ونصیحت ہے۔
  139. وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿139﴾

    اور نہ ہمت ہارو اور نہ غم کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن رہے۔
  140. اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿140﴾

    اگر تمہیں کوئی زخم پہنچ جائے تو ان لوگوں کو بھی تو ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کی الٹ پھیر تو لوگوں کے درمیان کرتے ہی رہتے ہیں۔ تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ کو شہید بنانا تھا اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
  141. وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ﴿141﴾

    اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو میل کچیل سے صاف کردے اور کافروں کو مٹا دے۔
  142. اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ﴿142﴾

    شاید تم اس گمان میں ہو کہ جنت میں جا داخل ہوگے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا اور نہ صبر کرنے والوں کو جانا۔
  143. وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ع﴿143﴾

    اور تم تو موت کی تمنا کررہے تھے قبل اس کے کہ اس کے سامنے آؤ سو اس کو تو اب تم نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا۔
  144. وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن﴿144﴾

    اور محمد ﷺ تو بس ایک رسول ہی ہیں۔ ان کے قبل اور بھی رسول گزر چکے ہیں۔ سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے۔ اور جو کوئی بھی الٹے پاؤں چلا جائے جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا۔ اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔
  145. وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ﴿145﴾

    اور ممکن نہیں کسی کے لیے کہ وہ ایک میعاد مقرر پر حکم خدا کے بغیر مرجائے۔ اور جو کوئی دنیا کا فائدہ چاہتا ہے ہم اس کو دنیا کا حصہ دے دیتے ہیں اور جو کوئی آخرت کا نفع چاہتا ہے تو اسے اس آخرت کا حصہ دے دیں گے اور عنقریب ہم شکر گزاروں کو بدلہ دے دیں گے۔
  146. وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ﴿146﴾

    اور کتنے ہی نبی ہوچکے ہیں کہ ان کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والے لڑے ہیں۔ سو جو کچھ انہیں اللہ کی راہ میں پیش آیا اس سے نہ تو انہوں نے ہمت ہاری اور نہ وہ دبے اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
  147. وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ﴿147﴾

    اور ان کا کہنا تو بس اتنا ہی تھا کہ وہ کہتے رہے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو اور ہمارے باب میں ہماری زیادتی کو بخش دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور ہم کو کافروں پر غالب کر۔
  148. فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ع﴿148﴾

    سو اللہ نے انہیں دنیا کا بھی عوض دیا اور آخر کا بھی عمدہ عوض اور اللہ نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے۔
  149. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ﴿149﴾

    اے ایمان والو اگر تم ان لوگوں کا کہا مانو گے جو کافر ہیں تو وہ تمہیں پیچھلے پیروں واپس کردیں گے اور تم گھاٹے میں آکر رہ جاؤ گے۔
  150. بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ﴿150﴾

    البتہ تمہارا دوست اللہ ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔
  151. سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ﴿151﴾

    ہم ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے اس لیے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ایسی چیز کو ٹھیرایا جس کے لیے کوئی دلیل (اللہ نے) نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیسی بری جگہ ظالموں کے لیے ہے۔
  152. وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ﴿152﴾

    اور یقیناً تم سے اللہ نے سچ کردکھایا اپنا وعدۂ (نصرت) جب کہ تم انہیں اس کے حکم سے قتل کررہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم (خود ہی) کمزور پڑگئے اور باہم جھگڑنے لگے حکم (رسول) کے باب میں اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ نے تمہیں دکھا دیا تھا جو کچھ کہ تم چاہتے تھے۔ بعض تم میں وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے۔ اور بعض تم میں ایسے تھے جو آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے تم کو ان سے ہٹالیاتا کہ تمہاری (پوری) آزمائشیں کرے۔۔ اور اللہ نے یقیناً تم سے درگزر کی۔ اور اللہ ایمان والوں کے حق میں بڑا فضل والا ہے
  153. اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿153﴾

    (وہ وقت یاد کرو) جب تم چڑھے جارہے تھے اور مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے اور رسول ﷺ تم کو پکار رہے تھے تمہارے پیچھے کی جانب سے۔ سو (اللہ نے) تمہیں غم دیا غم کے پاداش میں۔ تاکہ تم رنجیدہ نہ ہوا کرو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس مصیبت سے جو تم پر پڑے اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔
  154. ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿154﴾

    پھر اس نے اس غم کے بعد تمہارے اوپر راحت نازل کی (یعنی) غنودگی کہ اس کا تم میں سے ایک جماعت پر غلبہ ہورہا تھا۔ اور ایک جماعت وہ تھی کہ اسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی یہ اللہ کے بارے میں خلاف حقیقت خیالات جاہلیت کے خیالات قائم کررہے تھے یہ کہہ رہے تھے۔ کہ ہمارا کچھ اختیار چلتا ہے ؟ ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے۔ یہ لوگ دلوں میں ایسی چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہمارا اختیار چلتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم گھروں میں ہوتے (جب بھی) وہ لوگ تو جن کے لیے قتل مقدر ہوچکا تھا اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل ہی پڑتے۔ اور (یہ سب اس لیے ہوا) کہ اللہ تمہارے باطن کی آزمائش کرے اور تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے صاف کردے۔۔ اور اللہ باطن کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔
  155. اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ع﴿155﴾

    یقیناً تم میں سے جو لوگ اس دن پھرگئے تھے جس دن کہ دونوں جماعتیں باہم مقابل ہوئی تھیں۔ تو یہ تو بس اس سبب سے ہوا کہ شیطان نے انہیں ان کے بعض کرتوتوں کے سبب لغزش دے دی تھی۔ اور بیشک اللہ انہیں معاف کرچکا ہے۔ یقیناً اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا حلم والا ہے۔
  156. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿156﴾

    اے ایمان والو ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو حقیقۃ کفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اور اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں جب کہ وہ لوگ زمین پر سفر کرتے ہیں یا کہیں غزوہ کرنے جاتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آئی ہے) تاکہ اللہ اسے ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اور اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا رہتا ہے۔
  157. وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴿157﴾

    اور اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی مغفرت و رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کررہے ہیں۔
  158. وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ﴿158﴾

    اور تم لوگ خواہ مرجاؤ یا مارے جاؤ ضرور اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے۔
  159. فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ﴿159﴾

    پھر یہ اللہ کی رحمت ہی کے سبب سے ہے کہ آپ ان کے ساتھ نرم رہے۔ اور اگر آپ تند خو سخت طبع ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوگئے ہوتے۔ سو آپ ان سے درگزر کیجئے اور ان کے لیے استغفار کردیجئے اور ان سے معاملات میں مشورہ لیتے رہیے۔ لیکن جب آپ پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ رکھیے۔ بیشک اللہ ان سے محبت رکھتا ہے جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
  160. اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿160﴾

    اگر اللہ تمہارے ساتھ دے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو کون ایسا ہے جو اس کے بعد تمہارا ساتھ دے ؟ ۔ اور ایمان والوں کو تو چاہیے کہ صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں
  161. وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿161﴾

    اور کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو کوئی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کی ہوئی چیز کو حاضر کرے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کا پورا عوض ملے گا اور ان پر بالکل ظلم نہ ہوگا۔
  162. اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿162﴾

    کیا جو شخص رضاء الہی کا تابع ہے۔ وہ بھلا اس جیسا ہوجائے گا جو غضب الہی کا مستحق ہے۔ اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے
  163. هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ﴿163﴾

    یہ لوگ اللہ کے نزدیک (مختلف) طبقوں میں ہوں گے اور اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔
  164. لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿164﴾

    حقیقت میں اللہ نے (بڑا) احسان مسلمانوں پر کیا جب کہ انہی میں سے ایک پیغمبر انمیں بھیجا جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک صاف رکھتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور بیشک یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔
  165. اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿165﴾

    اور جب تمہیں ایسی ہار اٹھانی پڑی جس کی دوگنی تم (فریق مقابل پر) ڈال چکے تھے۔ تو تم کہنے لگے یہ کدھر سے ہوئی آپ کہہ دیجئے کہ وہ تمہاری ہی طرف سے ہوئی۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
  166. وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿166﴾

    اور جو مصیبت تم پر اس روز پڑی جب کہ دونوں گروہ باہم مقابل ہوئے سو وہ اللہ کی مشیت سے ہوئی۔ تاکہ اللہ مومنین کو جان لے
  167. وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ﴿167﴾

    اور ان لوگوں کو بھی جان لے جنہوں نے منافقت اختیار کی۔ اور ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا دفعیہ میں جاؤ۔ تو وہ بولے کہ اگر کوئی (ڈھنگ کی) جنگ دیکھتے تو ضرور تمہارے پیچھے ہولیتے۔ یہ لوگ اس روز ایمان سے زیادہ کفر کے نزدیک ہوگئے۔ یہ لوگ اپنے منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپائے ہوئے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے
  168. اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿168﴾

    یہ لوگ درآنحالیکہ (خود) بیٹھے رہے اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے۔ تو نہ مارے جاتے آپ کہہ دیجئے کہ (اچھا تو) اگر تم سچے ہو تو اپنے کو موت سے بچا لینا۔
  169. وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ﴿169﴾

    اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ مت خیال کرو بلکہ وہ لوگ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں زرق پاتے رہتے ہیں۔
  170. فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ﴿170﴾

    ان (نعمتوں) سے مسرور ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہیں اور جو لوگ ان کے بعد والوں سے ابھی ان سے نہیں جاملے ہیں۔ ان کی بھی اس حالت سے خوش ہیں کہ ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
  171. یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ع﴿171﴾

    وہ لوگ خوش ہو رہے ہیں اللہ کے انعام اور فضل پر اور اس پر کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
  172. اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ﴿172﴾

    جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے کہنے کو مان لیا۔ بعد اس کے کہ انہیں ذکم لگ چکا تھا۔ ان میں سے جو نیک اور متقی ہیں ان کے لیے اجر عظیم ہے۔
  173. اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ﴿173﴾

    یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان سے کہنے والوں نے کہا۔ کہ لوگوں نے تمہارے خلاف بڑا سامان اکٹھا کیا ہے۔ ان سے ڈرو لیکن اس نے ان کا (جوش) ایمان اور بڑھا دیا اور یہ لوگ بولے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔
  174. فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ﴿174﴾

    سو یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس آئے کہ انہیں کوئی ناگواری (ذرا) نہ پیش آئی اور یہ لوگ رضاء الہی کے تابع رہے۔ اور اللہ بڑا فضل والا ہے۔
  175. اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿175﴾

    یہ تو شیطان ہی ہے جو تمہیں اپنے دوستوں کے ذریعہ سے ڈراتا ہے۔ سو تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھی سے ڈرو اگر ایمان والے ہو۔
  176. وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿176﴾

    اور آپ کے لیے یہ لوگ جو جلدی سے کفر میں جاپڑتے ہیں باعث غم نہ بنیں۔ یقیناً یہ لوگ اللہ کو ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ کی یہی مشیت ہے کہ ان کے لیے آخرت میں ذرا بھی حصہ نہ رکھے۔ اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے
  177. اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿177﴾

    یقیناً جن لوگوں نے ایمان کے عوض کفر کو خرید لیا ہے وہ اللہ کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
  178. وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿178﴾

    اور جو لوگ کفر کررہے ہیں یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں۔ یہ ان کے حق میں بہتر ہے ہم تو انہیں بس اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ جرم میں اور بڑھ جائیں۔ اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے
  179. مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴿179﴾

    جس حال پر تم ہو اللہ اس پر ایمان والوں کو چھوڑے رکھنے کا نہیں جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کرلے۔ اور نہ اللہ تمہیں غیب پر مطلع کرنے والا ہے۔ البتہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے رسولوں میں سے انتخاب کرلیتا ہے۔۔ تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر تم ایمان لے آئے اور تم نے تقوی اختیار کرلیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے
  180. وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ع﴿180﴾

    اور جو لوگ کہ اس مال میں بخل کرتے رہتے ہیں۔ جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دے رکھا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں۔ کہ یہ ان کے حق میں کچھ اچھا ہے نہیں بلکہ ان کے حق میں (بہت) برا ہے یقیناً انہیں قیامت کے دن طوق پہنایا جائے گا اس (مال) کا جس میں انہوں نے بخل کیا۔ اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور اللہ جو تم کرتے ہو اس سے خبردار ہے۔
  181. لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ﴿181﴾

    بیشک اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ اللہ مفلس ہے اور ہم مالدار ہیں۔ ہم ضرور ان کے کہے ہوئے کو لکھ کر رہیں گے۔ اور ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی۔ اور ہم کہیں گے کہ (اب) ۔ آگ کے عذاب کا مزہ چکھو
  182. ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ﴿182﴾

    یہ ان (حرکتوں) کی وجہ سے ہوا جو تم آگے بھیج چکے ہو اور اس لیے کہ اللہ بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔
  183. اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿183﴾

    (یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے ہیں۔ کہ خدا نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے مواجبہ میں ایسی نیاز نہ پیش کرے جسے آگ کھاجائے۔ آپ کہہ دیجئے کہ مجھ سے پیشتر یقیناً تمہارے پاس رسول دلائل کے ساتھ اور اس (معجزہ) کے ساتھ بھی آچکے جسے تم کہہ رہے ہو تو تم نے انہیں کیوں قتل کرڈالا اگر تم سچے ہو۔
  184. فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ﴿184﴾

    سو اگر یہ آپ کی تکذیب کررہے ہیں تو آپ سے پیشتر بھی پیغمبروں کی تکذیب ہوچکی ہے جو شواہد اور فرشتوں اور روشن کتاب کے ساتھ آئے تھے۔
  185. كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ﴿185﴾

    ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور تم کو تمہاری پوری مزدوری تو بس قیامت ہی کے دن ملے گی۔ تو جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا سو وہی کامیاب ہوا اور دنای کی زندگی تو کچھ بھی نہیں بجز ایک دھوکے کے سودے کے۔
  186. لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ﴿186﴾

    یقیناً تم اپنے مال اور جان سے آزمائے جاؤ گے۔ اور یقیناً تم بہت سی دلآزاری کی باتیں ان سے (بھی) سنوگے جنہیں تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے اور ان سے بھی جو مشرک ہیں۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو یہ تاکیدی احکام میں سے ہے۔
  187. وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ﴿187﴾

    اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ کتاب کو پوری طرح ظاہر کردینا (عام) لوگوں پر اور اسے چھپانا مت۔ سو انہوں نے اس (عہد) کو اپنے پس پشت پھینک دیا اور اس کو ایک حقیر قیمت کے عوض میں بیچ ڈالا۔ سو کیسی بری چیز ہے جسے وہ خرید رہے ہیں
  188. لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿188﴾

    جو لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام نہیں کیے ہیں ان پر بھی ان کی مدح کی جائے۔ سو ایسے لوگوں کے لیے ہرگز نہ خیال کرو کہ وہ عذاب سے حفاظت میں رہیں گے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
  189. وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ع﴿189﴾

    اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
  190. اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ﴿190﴾

    بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے ادل بدل میں اہل عقل کے لیے (بڑی) نشانیاں ہیں۔
  191. الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴿191﴾

    یہ ایسے ہیں کہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر (برابر) یاد کرتے رہتے ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار تو نے یہ (سب) لا یعنی نہیں پیدا کیا ہے۔ تو پاک ہے۔ سو محفوظ رکھ ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔
  192. رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴿192﴾

    اے ہمارے پروردگار تو نے جسے دوزخ میں داخل کردیا اسے واقعی رسوا ہی کردیا اسے واقعی رسوا ہی کردیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں۔
  193. رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ﴿193﴾

    اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا ایمان کی پکار کرتے ہوئے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ سو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہماری خطاؤں کو زائل کردے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے۔
  194. رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ﴿194﴾

    اے ہمارے پروردگار ہمیں عطا کر وہ چیز جس کا تو ہم سے اپنے پیغمبروں کی معرفت وعدہ کرچکا ہے اور ہم کو قیامت کے دن رسوا نہ کرنا۔ بیشک تو تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
  195. فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ﴿195﴾

    سو ان کی دعا کو ان کے پروردگار نے قبول کرلیا۔ اس لیے کہ میں تم میں کسی عمل کرنے والے کے خواہ مرد ہو یا عورت عمل کو ضائع نہیں ہونے دیتا تم آپس میں ایک دوسرے کے جز ہو۔ تو جن لوگوں نے ترک وطن کیا اور اپنے شہروں سے نکالے گئے اور (اور بھی) تکلیفیں انہیں میری راہ میں دی گئیں اور وہ لڑے اور مارے گئے ان کی خطائیں ضرور ان سے معاف کردی جائیں گی۔ اور میں ضرور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی (یہ) اللہ کے پاس سے ثواب ملے گا اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔
  196. لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ﴿196﴾

    (یہ) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔
  197. مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ﴿197﴾

    (یہ) چند روزہ بہار ہے۔ پھر تو ان کو ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسی بری آرام گاہ ہے
  198. لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ﴿198﴾

    البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ (ہمیش) رہیں ٗ گے (یہ تو) مہمانی (ہوگی) اللہ کی طرف سے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے حق میں کہیں بہتر ہے۔
  199. وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿199﴾

    اور اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ضرور ہیں جو اللہ پر اور جو کچھ تم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ان پر اتارا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں اللہ سے ڈرنے والے ہیں اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر سودا نہیں کرتے۔ انہیں ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ضرور ملے گا بیشک اللہ حساب بہت جلد لے لیتا ہے۔
  200. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ع﴿200﴾

    اے ایمان والو (خود) صبر کرو اور مقابلہ میں صبر کرتے رہو اور مقابلہ کے لیے مستعد رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو عجب نہیں جو فلاح پاجاؤ۔